School Growth with Dr. Ejaz

School Growth with Dr. Ejaz

Share

“I help small private schools in Pakistan increase admissions and modernize using AI and smart system

05/04/2026

ہم سب اساتذہ کی ایک common problem ہے:
👉 بچے class میں بیٹھتے ہیں… مگر engage نہیں ہوتے
👉 ہم پڑھاتے ہیں… مگر وہ جلد بھول جاتے ہیں
یہاں ایک سادہ سا سوال بنتا ہے:
کیا صرف سننے اور لکھنے سے learning مکمل ہو جاتی ہے؟
سچ یہ ہے:
👉 Learning تب ہوتی ہے جب بچہ خود کچھ کرتا ہے
اور یہی وہ جگہ ہے جہاں TPR (Total Physical Response) ایک game changer بن کر سامنے آتا ہے۔
🎯 TPR کیا ہے؟
TPR ایک teaching method ہے جس میں teacher actions (حرکتوں) کے ذریعے بچوں کو سکھاتا ہے۔
یعنی:
👉 Teacher بولتا بھی ہے
👉 اور ساتھ کر کے بھی دکھاتا ہے
مثلاً:
“Stand up” → teacher خود کھڑا ہوتا ہے
“Clap” → teacher تالیاں بجاتا ہے
“Jump” → teacher چھلانگ لگاتا ہے
بچے دیکھتے ہیں… imitate کرتے ہیں… اور سیکھ جاتے ہیں۔
🧠 یہ method کیوں کام کرتا ہے؟
عام teaching میں:
👉 بچے صرف سنتے ہیں
TPR میں:
👉 بچے دیکھتے + سنتے + کرتے ہیں
یہ تینوں چیزیں مل کر learning کو strong بنا دیتی ہیں۔
💡 simple الفاظ میں:
“Jitni zyada senses use hongi… utni learning strong hogi”
👶 کن بچوں کے لیے best ہے؟
✔ Nursery
✔ KG
✔ Primary classes
خاص طور پر ان بچوں کے لیے:
👉 جنہیں English نہیں آتی
👉 جو shy ہوتے ہیں
👉 جو بیٹھ کر bored ہو جاتے ہیں
🧩 Classroom میں کیسے استعمال کریں؟
یہاں کچھ simple examples ہیں:
🔹 Basic Commands
Stand up
Sit down
Open your book
Close your eyes
🔹 Action + Learning
“Touch your nose”
“Show me red color”
“Jump 2 times”
🔹 Game Style Learning
👉 Teacher commands دے
👉 بچے follow کریں
👉 جو غلط کرے وہ funny task کرے
✔ learning + fun دونوں
⚡ TPR کے فوائد (Real Impact)
✔ بچے active ہو جاتے ہیں
✔ class میں discipline بہتر ہوتا ہے
✔ learning fast ہوتی ہے
✔ بچوں کا confidence بڑھتا ہے
✔ English speaking improve ہوتی ہے
⚠️ ایک اہم غلطی (جو اکثر teachers کرتے ہیں)
بہت سے teachers:
👉 صرف commands دیتے ہیں
👉 خود action نہیں کرتے
یہ TPR نہیں ہے ❌
✔ اصل TPR میں:
Teacher = Role Model
یاد رکھیں:
👉 “Bachay woh nahi seekhtay jo aap kehtay hain…
balkay woh seekhtay hain jo woh kartay hain”
اگر آپ چاہتے ہیں کہ:
✔ آپ کی class lively ہو
✔ بچے enjoy کرتے ہوئے سیکھیں
✔ parents impressed ہوں
تو TPR کو آج سے اپنی teaching کا حصہ بنائیں۔
📩 Call to Action
اگر آپ TPR کو detail میں سیکھنا چاہتے ہیں اور اپنی teaching کو next level پر لے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں message کریں:
👉 “TPR”

02/04/2026

کیا سکول صرف کلاس لینے کا نام ہے؟

اگر ہم سکول کو صرف “روزانہ چند گھنٹوں کی کلاس” سمجھتے ہیں تو پھر شاید فیس نہ لینے کی بات درست لگے۔
لیکن حقیقت اس سے کہیں بڑی ہے۔

سکول ایک پورا نظام ہے، جس کے اخراجات صرف اس دن سے نہیں جڑے ہوتے جب بچہ کلاس میں بیٹھتا ہے، بلکہ پورے سال سے جڑے ہوتے ہیں۔

جون اور جولائی میں بھی:

اساتذہ کی تنخواہیں دینی ہوتی ہیں

بلڈنگ کا کرایہ یا قسط ادا ہوتی ہے

بجلی، پانی، گیس کے بل آتے ہیں

مینٹیننس، سیکیورٹی اور دیگر عملہ اپنی ڈیوٹی پر ہوتا ہے

یہ تمام اخراجات چھٹیوں کے ساتھ “چھٹی” پر نہیں جاتے۔

---

ایک سادہ سا سوال

اگر کسی سکول نے جون جولائی کی فیس نہ لی تو وہ اپنے اساتذہ کو تنخواہ کہاں سے دے گا؟

کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ:

اساتذہ کو دو ماہ بغیر تنخواہ گزارنا پڑے؟

یا پھر سکول اخراجات پورے کرنے کے لیے معیارِ تعلیم کم کر دے؟

ہم اکثر اساتذہ سے بہترین کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں، مگر کیا ہم ان کے معاشی تحفظ کے بارے میں بھی سوچتے ہیں؟

---

اصل مسئلہ کہاں ہے؟

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔

مسئلہ “فیس لینے” کا نہیں،
مسئلہ “فیس لینے کے طریقے” کا ہے۔

اگر کوئی سکول:

ایک ساتھ دو دو ماہ کی فیس مانگتا ہے

یا والدین پر اچانک مالی دباؤ ڈال دیتا ہے

تو اس پر سوال اٹھانا بالکل درست ہے۔

لیکن اگر سکول مناسب انداز میں، ماہانہ بنیاد پر فیس لے رہا ہے، تو یہ ایک منظم نظام کا حصہ ہے، نا کہ کوئی زیادتی۔

---

ایک دلچسپ تضاد

یہاں ذرا رک کر ایک اور حقیقت دیکھیں۔

ہم سکولوں کی فیس پر تو آواز بلند کرتے ہیں،
لیکن جب بات یونیورسٹیوں کی آتی ہے تو خاموش ہو جاتے ہیں۔

Higher Education Commission Pakistan کے تحت کام کرنے والی کئی یونیورسٹیز میں:

چھ ماہ کے سمسٹر کی فیس ایک ساتھ لی جاتی ہے

فیس لاکھوں روپے تک پہنچ جاتی ہے

جبکہ عملی طور پر کلاسز تقریباً چار ماہ ہی ہوتی ہیں

لیکن اس پر وہ شور کیوں نہیں ہوتا جو سکولوں کے چند ہزار روپے پر ہوتا ہے؟

---

جذبات یا انصاف؟

ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا:

کیا ہم واقعی انصاف کی بات کر رہے ہیں؟
یا صرف جذبات میں آ کر ایک آسان ہدف کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں؟

سکول، خاص طور پر پرائیویٹ سکول، کسی بڑی کارپوریٹ کمپنی کی طرح نہیں ہوتے۔
ان میں سے زیادہ تر محدود وسائل کے ساتھ ایک نظام کو چلانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

---

ایک متوازن راستہ

یہ بھی ضروری ہے کہ سکولز اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔

والدین پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالیں

فیس کا نظام شفاف رکھیں

اگر ممکن ہو تو آسان اقساط میں سہولت دیں

اسی طرح والدین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ:

فیس صرف “کلاس” کی نہیں، پورے نظام کی ہوتی ہے

اور اس نظام کو قائم رکھنے کے لیے تسلسل ضروری ہے

---

آخری بات

بحث کرنا آسان ہے، نظام چلانا مشکل۔

اگر ہم واقعی بہتری چاہتے ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے ایک دوسرے کو سمجھنا ہوگا۔

سکولز اور والدین دونوں ایک ہی کشتی میں سوار ہیں، اور اس کشتی کا نام ہے بچے کا مستقبل۔

اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے:
ہم اس کشتی کو جذبات کے طوفان میں ڈبونا چاہتے ہیں،
یا سمجھداری کے ساتھ اسے کنارے تک پہنچانا چاہتے ہیں؟

22/03/2026

ہارڈ ورک نہیں، سمارٹ ورک – اساتذہ کے لیے ایک نئی سوچ

ہم سب نے بچپن سے ایک بات سنی ہے: “محنت کامیابی کی کنجی ہے”۔ اور یہ بات غلط بھی نہیں… مگر آج کے دور میں صرف محنت کافی نہیں رہی۔ اب سوال یہ ہے کہ صحیح سمت میں، صحیح طریقے سے محنت کیسے کی جائے؟ یہی وہ جگہ ہے جہاں "سمارٹ ورک" آتا ہے۔

بطور استاد، میں نے خود یہ محسوس کیا ہے کہ ہم دن کا بڑا حصہ تیاری، کاپیاں چیک کرنے، لیسن پلان بنانے اور بچوں کو سمجھانے میں لگا دیتے ہیں۔ تھکن بھی ہوتی ہے، وقت بھی کم پڑتا ہے، اور اکثر دل میں یہ خیال آتا ہے کہ کیا اس سے بہتر طریقہ نہیں ہو سکتا؟

پھر میں نے AI (Artificial Intelligence) کو آزمانا شروع کیا… اور سچ کہوں تو، یہ ایک گیم چینجر ثابت ہوا۔

سمارٹ ورک اصل میں ہے کیا؟
سمارٹ ورک کا مطلب یہ نہیں کہ محنت چھوڑ دی جائے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ محنت کو آسان، تیز اور مؤثر بنایا جائے۔ یعنی وہی کام کم وقت میں، بہتر طریقے سے۔

اساتذہ AI سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

سب سے پہلے تو لیسن پلان۔ پہلے ہم گھنٹوں سوچتے تھے کہ سبق کیسے شروع کریں، کون سی ایکٹیویٹی شامل کریں، بچوں کی دلچسپی کیسے بنائیں۔ اب AI سے صرف ایک سادہ سا سوال کریں، اور چند سیکنڈ میں آپ کو مکمل پلان مل جاتا ہے، جسے آپ اپنی کلاس کے مطابق ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔

پھر آتا ہے سوالات بنانا۔ MCQs، fill in the blanks، short questions — پہلے یہ سب بنانا ایک مشکل اور وقت لینے والا کام تھا۔ اب AI سے کہیں، اور یہ آپ کو مختلف لیول کے سوالات تیار کر دیتا ہے۔ آپ کا وقت بچتا ہے، اور کوالٹی بھی بہتر ہوتی ہے۔

کاپیاں چیک کرنے میں بھی AI مددگار بن سکتا ہے۔ مکمل آٹومیٹک تو نہیں، لیکن آپ answer keys اور rubrics بنوا کر اپنی checking کو زیادہ منظم اور تیز بنا سکتے ہیں۔

ایک اور دلچسپ چیز ہے: بچوں کے لیے کہانیاں، مثالیں اور ایکٹیویٹیز۔ بعض اوقات ہم ایک ہی طریقے سے پڑھاتے رہتے ہیں اور بچے بور ہو جاتے ہیں۔ AI آپ کو نئے آئیڈیاز دیتا ہے — کہانیوں کی شکل میں، گیمز کی شکل میں، یا دلچسپ مثالوں کے ساتھ۔

لیکن ایک اہم بات…
AI استاد کا متبادل نہیں ہے۔ یہ صرف ایک ٹول ہے۔ اصل فرق اب بھی استاد کی نیت، سمجھ اور طریقۂ تدریس سے آتا ہے۔ اگر ہم AI کو صحیح طریقے سے استعمال کریں، تو یہ ہمیں replace نہیں کرتا بلکہ ہمیں مزید طاقتور بنا دیتا ہے۔

میرا ذاتی تجربہ
جب میں نے AI کو اپنی روزمرہ teaching میں شامل کیا، تو میں نے محسوس کیا کہ میرا وقت بچنے لگا۔ میں زیادہ فوکس بچوں پر کر سکا، ان کی سمجھ پر، ان کی دلچسپی پر۔ پہلے میں زیادہ وقت تیاری میں لگاتا تھا، اب میں زیادہ وقت teaching کے اصل مقصد پر دیتا ہوں۔

آخر میں ایک سوچ…
آج کے بچے ایک نئے دور کے ہیں۔ اگر ہم پرانے طریقوں میں ہی پھنسے رہیں گے، تو ہم ان کے ساتھ انصاف نہیں کر پائیں گے۔ ہمیں بھی evolve ہونا ہوگا۔

سمارٹ ورک کا مطلب ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو اپنے ساتھ لے کر چلیں، نہ کہ اس سے ڈریں۔
اور یقین کریں، جب استاد سمارٹ بن جاتا ہے… تو پوری کلاس بدل جاتی ہے۔

اگر آپ ابھی تک AI کو صرف “ایک نئی چیز” سمجھ رہے ہیں، تو ایک بار اسے اپنے کام میں شامل کر کے دیکھیں۔
شاید آپ بھی وہی کہیں جو میں نے کہا تھا:
"یہ تو واقعی میرا کام آسان کر گیا!"

18/03/2026

TPR (Total Physical Response) is a teaching method where students learn language through physical movement and actions instead of just listening or reading.
It was developed by James Asher, based on how children naturally learn their first language.
🧠 Simple Idea
Students hear → understand → act → speak later
Just like a child:
First listens to parents
Then responds physically
Then starts speaking
🎯 How TPR Works in Class
The teacher gives commands, and students respond with actions.
Example:
Teacher says:
“Stand up” → Students stand
“Clap your hands” → Students clap
“Open your book” → Students open book
No pressure to speak at first.
👩‍🏫 Why TPR is Powerful (Especially for Kids)
Since you are working with school students, this method is very useful:
Makes learning fun and active
Improves memory retention
Reduces fear of speaking English
Perfect for Nursery to Grade 3
Helps slow learners understand quickly
📚 Classroom Activity Example (For Your School)
Topic: Actions
Teacher says: “Jump” → Students jump
Teacher says: “Touch your nose” → Students do it
Mix commands:
“Stand up and clap”
“Sit down and open your bag”
👉 Later: Ask students to give commands to each other
⚠️ Important Tip
Don’t rush speaking.
First: ✔ Listening
✔ Action
Then: ✔ Speaking will come naturally

15/03/2026

ہم عام طور پر بچوں کی تعلیم کے بارے میں بات کرتے ہیں تو زیادہ توجہ کتابوں، امتحانات اور نمبروں پر ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں کامیابی صرف نصابی علم سے نہیں آتی۔ اس کے لیے بچوں کو وہ مہارتیں بھی سیکھنی ہوتی ہیں جو انہیں عملی زندگی میں بہتر انسان بناتی ہیں۔ انہی کو ہم Life Skills کہتے ہیں۔
میرے خیال میں اسکول اور والدین دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو عمر کے مطابق ایسی مہارتیں سکھائیں جو انہیں خودمختار، ذمہ دار اور بااعتماد بنائیں۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ Life Skills ہر عمر میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ بچے جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں، ان کی ضروریات اور سیکھنے کی صلاحیت بھی بدلتی رہتی ہے۔ اس لیے اگر ہم بچوں کو ان کی عمر کے مطابق مہارتیں سکھائیں تو اس کا اثر زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
چھوٹی عمر کے بچے (3 سے 6 سال)
اس عمر میں بچے بہت تیزی سے سیکھتے ہیں اور زیادہ تر چیزیں مشاہدے اور عمل سے سیکھتے ہیں۔
اس مرحلے پر بچوں کو سادہ Life Skills سکھائی جا سکتی ہیں جیسے:
اپنی چیزیں خود سنبھالنا
کھلونے استعمال کرنے کے بعد واپس رکھنا
شکریہ اور براہِ کرم کہنا
دوسروں کے ساتھ چیزیں شیئر کرنا
یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں بعد میں بچے کی شخصیت کی بنیاد بنتی ہیں۔
ابتدائی جماعتوں کے بچے (7 سے 10 سال)
جب بچے پرائمری کلاسز میں آتے ہیں تو وہ ذمہ داری کو بہتر سمجھنے لگتے ہیں۔ اس عمر میں انہیں کچھ اور مہارتیں سکھائی جا سکتی ہیں جیسے:
اپنا ہوم ورک خود منظم کرنا
وقت کی اہمیت سمجھنا
چھوٹے مسائل کو خود حل کرنے کی کوشش کرنا
ٹیم ورک اور دوسروں کے ساتھ تعاون
اگر اسکول اس مرحلے پر بچوں کو یہ مہارتیں سکھائے تو ان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔
بڑی عمر کے بچے (11 سے 15 سال)
اس عمر میں بچے سوچنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کرنے لگتے ہیں۔ اس لیے یہاں انہیں زیادہ عملی Life Skills سکھانا ضروری ہو جاتا ہے۔
مثلاً:
فیصلہ کرنے کی صلاحیت
مسئلہ حل کرنے کی مہارت
وقت کی بہتر منصوبہ بندی
دوسروں کی رائے کو سمجھنا اور برداشت کرنا
یہ وہ مہارتیں ہیں جو مستقبل میں ان کی تعلیم، کیریئر اور معاشرتی زندگی میں بہت کام آتی ہیں۔
اسکول کا کردار
اگر اسکول صرف کتابی تعلیم تک محدود رہیں تو بچے شاید امتحان میں اچھے نمبر لے لیں، لیکن زندگی کے بہت سے معاملات میں انہیں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
ایک اچھا اسکول وہ ہوتا ہے جہاں:
بچوں کو سوال پوچھنے کی حوصلہ افزائی کی جائے
گروپ سرگرمیوں کے ذریعے ٹیم ورک سکھایا جائے
بچوں کو چھوٹی ذمہ داریاں دی جائیں
اس طرح بچے صرف پڑھتے نہیں بلکہ سیکھتے بھی ہیں۔
نتیجہ
بچوں کو Life Skills سکھانا کوئی اضافی چیز نہیں بلکہ تعلیم کا ایک ضروری حصہ ہے۔ اگر ہم بچوں کو شروع سے عمر کے مطابق یہ مہارتیں سکھائیں تو وہ نہ صرف اچھے طالب علم بنتے ہیں بلکہ ذمہ دار اور بااعتماد انسان بھی بنتے ہیں۔
میرے خیال میں اسکولوں کو چاہیے کہ وہ اپنے تعلیمی ماحول میں ایسی سرگرمیاں شامل کریں جن سے بچوں کی شخصیت اور عملی زندگی کی صلاحیتیں بھی بہتر ہوں۔
آخر میں سوال یہ ہے:
کیا ہمارے اسکول صرف کتابی تعلیم دے رہے ہیں یا بچوں کو زندگی کے لیے بھی تیار کر رہے ہیں؟

Dr. Ejaz Mahmood

13/03/2026
10/03/2026

EduNest
School Closure to Online Learning System
(سکول بند ہونے کی صورت میں مؤثر آن لائن تعلیمی نظام)
1️⃣ اصل مسئلہ کیا ہوتا ہے
زیادہ تر سکول آن لائن تعلیم اس لیے ناکام نہیں ہوتے کہ آن لائن پڑھانا ممکن نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے کہ ان کے پاس واضح سسٹم نہیں ہوتا۔
عام صورتحال:
• ایک ٹیچر Zoom شروع کر دیتا ہے
• دوسرا صرف وائس نوٹس بھیجتا ہے
• کوئی صرف ورک شیٹ دیتا ہے
• کچھ کلاسز پڑھتی ہیں، کچھ کو صرف ہوم ورک ملتا ہے
نتیجہ:
• حاضری واضح نہیں رہتی
• والدین پریشان ہو جاتے ہیں
• بچے دلچسپی کھو دیتے ہیں
• اساتذہ پر کام کا دباؤ بڑھ جاتا ہے
2️⃣ آن لائن سسٹم کیوں ضروری ہے
سکول بند ہونے پر خطرات بڑھ جاتے ہیں:
طلبہ کے لئے
• روزمرہ کا معمول ٹوٹ جاتا ہے
• پڑھائی میں توجہ کم ہو جاتی ہے
• ہوم ورک سنجیدگی سے نہیں ہوتا
اساتذہ کے لئے
اگر واضح ہدایات نہ ہوں تو الجھن پیدا ہوتی ہے:
• کتنے پیریڈ پڑھانے ہیں
• کلاس کا دورانیہ کتنا ہو
• حاضری کیسے لگانی ہے
• ہوم ورک کیسے چیک کرنا ہے
والدین کے لئے
وہ واضح جواب چاہتے ہیں:
• کلاس کب شروع ہوگی
• کون سا پلیٹ فارم استعمال ہوگا
• اگر انٹرنیٹ نہ ہو تو کیا ہوگا
3️⃣ سکولوں کی عام غلطیاں
• صرف Zoom لنک کو سسٹم سمجھ لینا
• ایک ہی سکول میں مختلف پلیٹ فارم استعمال کرنا
• واضح ٹائم ٹیبل نہ ہونا
• آن لائن کلاس کے بجائے زیادہ ہوم ورک دینا
• حاضری کا کمزور نظام
• کمزور انٹرنیٹ والے بچوں کو نظر انداز کرنا
• اساتذہ کے لئے واضح آن لائن تدریسی معیار نہ ہونا
4️⃣ مؤثر آن لائن تعلیمی نظام کے بنیادی عناصر
ایک مضبوط آن لائن سسٹم میں یہ چیزیں شامل ہوتی ہیں:
• واضح آن لائن ٹائم ٹیبل
• ایک مرکزی پلیٹ فارم (Zoom / Google Meet)
• اسائنمنٹ کے لئے Google Classroom یا LMS
• واضح حاضری نظام
• کمزور انٹرنیٹ کے لئے Fallback پلان
• اساتذہ کی آن لائن ٹریننگ
• والدین کے لئے واضح ہدایات
5️⃣ ایک اچھی آن لائن کلاس کا بنیادی ڈھانچہ
ہر کلاس میں یہ مراحل ہونے چاہئیں:
• سلام اور حاضری
• سبق کا مقصد بتانا
• مختصر وضاحت
• سوالات اور بچوں کی شرکت
• مثال یا مشق
• سبق کا خلاصہ
• واضح ہوم ورک
6️⃣ سکول لیڈرشپ کی ذمہ داری
ایک مؤثر سسٹم میں سکول انتظامیہ کو یہ کام کرنے ہوتے ہیں:
• آن لائن نظام کی نگرانی
• کلاسز کی باقاعدہ مانیٹرنگ
• اساتذہ کی رہنمائی
• کمزور طلبہ کی شناخت
• والدین سے رابطہ
7️⃣ ہفتہ وار جائزہ (Monitoring)
ہر ہفتے یہ چیزیں دیکھی جائیں:
• کتنی کلاسز ہوئیں
• حاضری کی اوسط
• ہوم ورک جمع ہونے کی شرح
• مسلسل غیر حاضر طلبہ
• اساتذہ کی وقت کی پابندی
8️⃣ کامیاب آن لائن تعلیمی نظام کی پہچان
ایک مضبوط سسٹم میں:
• کلاسیں وقت پر شروع ہوتی ہیں
• اساتذہ واضح معیار کے مطابق پڑھاتے ہیں
• طلبہ کی حاضری واضح ہوتی ہے
• ہوم ورک باقاعدگی سے چیک ہوتا ہے
• کمزور طلبہ کو سپورٹ ملتی ہے
• والدین کو مکمل رہنمائی ملتی ہے
EduNest Insight
آن لائن تعلیم صرف Zoom لنک کھولنے کا نام نہیں۔
یہ ایک مکمل Academic Continuity System ہے جو سکول بند ہونے کے باوجود تعلیم کو جاری رکھتا ہے۔

10/03/2026

ایک دن بچے سکول گئے… اور اگلے ہی دن سکول بند!
کہا گیا: “فیول کم استعمال کریں۔”
عجیب بات ہے نا…
جب بات بچوں کی تعلیم کی آتی ہے تو سب سے پہلے سکول ہی بند کر دیے جاتے ہیں۔
کیا کبھی کسی نے سنا؟
کہ شاپنگ مال بند کر دو فیول بچانے کے لیے؟
یا شادی ہال بند کر دو؟
نہیں۔
ہمیشہ آسان حل یہی ہوتا ہے:
بچوں کی تعلیم روک دو۔
ایک دن سکول کھلتے ہیں،
بچے خوشی سے بستے اٹھاتے ہیں،
ماں باپ امید باندھتے ہیں…
اور اگلے ہی دن اعلان آ جاتا ہے: “سکول بند!”
سوال یہ نہیں کہ فیول کیوں بچانا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہر بحران میں قربانی صرف تعلیم ہی کیوں دیتی ہے؟
یاد رکھیں…
جس قوم کے سکول بار بار بند ہوتے ہیں،
وہاں جیلیں اور مسائل کھلتے رہتے ہیں۔
فیصلے کرنے والوں کو سوچنا ہوگا:
اگر آج ہم نے بچوں کی تعلیم کو ہی سب سے آسان قربانی بنا دیا،
تو کل ہمیں اس کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنی پڑے گی۔
By
Sahar imran

09/03/2026

کبھی کبھی ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جب بچوں کا روزانہ سکول آنا ممکن نہیں ہوتا۔ بعض اوقات سکیورٹی، موسمی حالات، یا دیگر وجوہات کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہر گھر میں انٹرنیٹ یا آن لائن کلاس کی سہولت بھی موجود نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں ایک سادہ مگر مؤثر طریقہ “School Assignment System” ہو سکتا ہے۔
اس نظام میں بچے روزانہ سکول آنے کے بجائے ایک مخصوص دن سکول سے اسائنمنٹ حاصل کرتے ہیں، انہیں گھر پر مکمل کرتے ہیں، اور پھر مقررہ وقت پر واپس سکول جمع کروا دیتے ہیں۔ اس طرح تعلیم کا سلسلہ رکتا نہیں بلکہ منظم انداز میں جاری رہتا ہے۔
اسائنمنٹ سسٹم کیا ہے؟
اسائنمنٹ سسٹم ایک ایسا طریقہ ہے جس میں اساتذہ ہر کلاس کے لئے ہفتہ وار یا چند دنوں کے لئے تعلیمی سرگرمیاں تیار کرتے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں شامل ہو سکتے ہیں:
پڑھنے کے لئے مختصر اسباق
لکھنے کی مشق
ورک شیٹس
چھوٹے پراجیکٹس
سوال و جواب
یہ مواد بچوں کو ایک فائل یا لفافے میں دیا جا سکتا ہے تاکہ وہ گھر پر خود یا والدین کی مدد سے مکمل کریں۔
سکول کے لئے اہم تجاویز
1. اسائنمنٹ کو سادہ اور واضح رکھیں
بچوں کو دی جانے والی ہدایات بہت آسان ہونی چاہئیں تاکہ وہ بغیر استاد کے بھی سمجھ سکیں۔ ہر اسائنمنٹ کے ساتھ مختصر ہدایات لکھی ہوں۔
2. ہفتہ وار پیکٹ تیار کریں
ہر ہفتے کے لئے ایک مکمل پیکٹ بنایا جائے جس میں تمام مضامین کی سرگرمیاں شامل ہوں۔ اس سے والدین کو بار بار سکول آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
3. کلاس ٹیچر کی رہنمائی
ہر کلاس ٹیچر اپنے طلبہ کے لئے ایک مختصر رہنمائی نوٹ شامل کرے جس میں یہ بتایا جائے کہ بچے کو کس ترتیب سے کام کرنا ہے۔
4. واٹس ایپ یا فون سپورٹ
اگر ممکن ہو تو سکول ایک واٹس ایپ نمبر یا فون سپورٹ فراہم کرے تاکہ والدین کسی مشکل میں سوال پوچھ سکیں۔
5. جمع کروانے کا واضح نظام
اسائنمنٹ جمع کروانے کے لئے واضح دن مقرر ہوں تاکہ سکول میں بھیڑ نہ ہو اور اساتذہ آسانی سے کام چیک کر سکیں۔
والدین کے لئے اہم مشورے
1. گھر میں پڑھائی کا وقت مقرر کریں
بچوں کے لئے روزانہ ایک مقررہ وقت رکھیں جس میں وہ اسائنمنٹ مکمل کریں۔ اس سے ان کی عادت برقرار رہتی ہے۔
2. مطالعہ کے لئے پرسکون جگہ بنائیں
بچے کے لئے گھر میں ایک چھوٹا سا گوشہ مخصوص کریں جہاں وہ آرام سے پڑھ سکے۔
3. بچے کی حوصلہ افزائی کریں
بچے کو یہ احساس دلائیں کہ یہ عارضی نظام ہے مگر تعلیم کی اہمیت برقرار ہے۔
4. اسائنمنٹ کو خود نہ کریں
والدین صرف رہنمائی کریں۔ اصل کام بچے کو خود کرنے دیں تاکہ اس کی سیکھنے کی صلاحیت بڑھے۔
5. سکول سے رابطہ رکھیں
اگر بچے کو کسی موضوع میں مشکل ہو تو سکول یا ٹیچر سے ضرور رابطہ کریں۔
اس نظام کے فائدے
اسائنمنٹ سسٹم کے کئی فائدے ہیں:
تعلیم کا تسلسل برقرار رہتا ہے
بچوں کی خود سیکھنے کی عادت بنتی ہے
والدین بچے کی تعلیم میں زیادہ شامل ہوتے ہیں
سکول اور گھر کے درمیان رابطہ مضبوط ہوتا ہے
نتیجہ
تعلیم صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہوتی۔ اگر سکول اور والدین مل کر منصوبہ بندی کریں تو مشکل حالات میں بھی بچوں کی تعلیم جاری رکھی جا سکتی ہے۔ اسائنمنٹ سسٹم ایک سادہ، عملی اور مؤثر طریقہ ہے جس کے ذریعے بچوں کو گھر پر بھی منظم انداز میں پڑھایا جا سکتا ہے۔
مستقبل کی تعلیم وہی ہے جو ہر حالت میں جاری رہ سکے۔

09/03/2026

عنوان: کیا سکولوں کو بھی اب اے آئی سیکھ لینی چاہیے؟ ایک سنجیدہ سوال
تعلیم کے شعبے میں کام کرتے ہوئے ایک بات بار بار محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے بہت سے سکولوں میں اساتذہ اور انتظامیہ بے حد محنت کرتے ہیں، لیکن ان کی زیادہ تر توانائی ایسے کاموں میں صرف ہوجاتی ہے جو وقت بھی لیتے ہیں اور تھکا بھی دیتے ہیں۔
مثلاً
پیپر بنانا،
سلیبس ترتیب دینا،
نوٹس تیار کرنا،
ورکشِیٹس بنانا،
اور بعض اوقات تو ایک ہی چیز بار بار لکھنا۔
یہ سارے کام ضروری ہیں، لیکن اگر ہم ایمانداری سے سوچیں تو یہ وہ کام ہیں جن میں بہت زیادہ وقت ضائع ہوجاتا ہے۔ اس وقت کو اگر پڑھانے، بچوں کی رہنمائی کرنے یا سکول کو بہتر بنانے میں لگایا جائے تو شاید زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔
آج دنیا میں ایک نئی چیز تیزی سے تعلیم کے نظام کو بدل رہی ہے، اور وہ ہے Artificial Intelligence (AI)۔
بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ اب اے آئی کی مدد سے اپنے کام کو آسان بنا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک استاد چند منٹ میں کسی بھی جماعت کے لئے MCQs، شارٹ سوالات، ورکشیٹس اور نوٹس تیار کرسکتا ہے۔ اگر کسی مضمون کا سلیبس ترتیب دینا ہو تو اے آئی چند لمحوں میں ایک مکمل خاکہ بھی دے سکتی ہے جسے استاد اپنی ضرورت کے مطابق بہتر بنا سکتا ہے۔
یہ سن کر بعض لوگ فوراً یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اے آئی استاد کی جگہ لے لے گی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اے آئی استاد کی جگہ نہیں لے سکتی، لیکن اے آئی استعمال کرنے والا استاد یقیناً زیادہ مؤثر بن جاتا ہے۔
فرض کریں ایک استاد کو کسی باب کے لئے سوالنامہ تیار کرنا ہے۔ پہلے وہ گھنٹوں کتابیں دیکھتا تھا، سوال لکھتا تھا، دوبارہ پڑھتا تھا، اور پھر اس کو ترتیب دیتا تھا۔ اب یہی کام بہت کم وقت میں ہوسکتا ہے، اور استاد اس وقت کو بچوں کو بہتر سمجھانے میں لگا سکتا ہے۔
اسی طرح اگر کسی سکول کو پورے سیشن کے لئے سلیبس پلاننگ، اسیسمنٹ پلان، یا نوٹس تیار کرنے ہوں تو اے آئی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرسکتی ہے جس پر استاد اپنی مہارت سے مزید بہتری لا سکتا ہے۔
اصل بات یہ نہیں کہ اے آئی کیا کرسکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سے فائدہ اٹھانا سیکھ رہے ہیں یا نہیں۔
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ آنے والے چند سالوں میں وہ سکول آگے ہوں گے جو نئی ٹیکنالوجی کو سمجھ کر استعمال کرنا شروع کردیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا نظام بدل دیا جائے، بلکہ صرف یہ کہ ہم اپنے روزمرہ کے کام کو زیادہ ذہانت کے ساتھ کرنا سیکھیں۔
تصور کریں اگر اساتذہ کو یہ معلوم ہو کہ
چند منٹ میں پیپر کیسے تیار کیا جائے،
بچوں کے لئے نوٹس کس طرح جلدی بنائے جائیں،
اور سلیبس کو بہتر انداز میں کیسے ترتیب دیا جائے۔
تو نہ صرف اساتذہ کا وقت بچے گا بلکہ سکول کا تعلیمی معیار بھی بہتر ہوگا۔
میرا ماننا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لئے اب یہ سمجھنا ضروری ہوگیا ہے کہ اے آئی صرف ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ ایک نیا طریقہ کار ہے۔ جو لوگ اسے سمجھ لیں گے ان کا کام آسان ہوجائے گا، اور جو اسے نظرانداز کریں گے وہ شاید غیر ضروری محنت کرتے رہیں گے۔
ہوسکتا ہے کہ آج ہم اس پر صرف سوچ رہے ہوں، لیکن بہت ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں یہی مہارتیں سکولوں کے کام کرنے کا انداز بدل دیں۔
اور شاید سب سے اہم سوال یہی ہے:
کیا ہمارے سکول اس تبدیلی کے لئے تیار ہیں؟

07/03/2026

ہمارے ملک میں بہت سے ایسے چھوٹے سکول ہیں جو بڑی محنت سے چل رہے ہیں۔ اکثر سکول مالکان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ صبح سے شام تک اپنے ادارے کو سنبھالنے میں لگے رہتے ہیں۔ کبھی فیسوں کی فکر، کبھی اساتذہ کی تنخواہوں کی فکر، کبھی بچوں کی تعداد کم ہونے کا دباؤ۔
سچ یہ ہے کہ بہت سے سکول بامشکل اپنا نظام چلا رہے ہوتے ہیں۔
عام حالات میں بھی سکول چلانا آسان کام نہیں۔ لیکن جب حالات ناموافق ہوجائیں، جیسے مہنگائی، معاشی دباؤ، کسی وجہ سے سکول بند ہونا، یا طلبہ کی تعداد میں کمی، تو سکول مالک کے سامنے دوہری پریشانی کھڑی ہوجاتی ہے۔ ایک طرف سکول کو بچانے کی فکر اور دوسری طرف گھر کی روزی روٹی کی ذمہ داری۔
میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم صرف ایک آمدنی پر انحصار نہ کریں۔
میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ سکول مالکان کو آن لائن ارننگ کے ذرائع سیکھنے چاہئیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ سکول چھوڑ دیں۔ بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے پاس ایک ایسا متبادل ذریعہ بھی ہو جو عام حالات میں آپ کے سکول کو مضبوط کرے اور مشکل حالات میں آپ کو معاشی دباؤ سے بچا سکے۔
آج کے دور میں آن لائن دنیا میں بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اگر کوئی شخص تھوڑا سا سیکھنے اور مستقل مزاجی سے کام کرنے کے لئے تیار ہو تو وہ آہستہ آہستہ ایک اچھی اضافی آمدنی بنا سکتا ہے۔
مثال کے طور پر یوٹیوب ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اگر آپ تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ بچوں کے لئے تعلیمی ویڈیوز بنا سکتے ہیں، والدین کے لئے رہنمائی دے سکتے ہیں، یا اساتذہ کے لئے تربیتی مواد تیار کرسکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف آمدنی کا موقع بنتا ہے بلکہ آپ کی پہچان بھی بنتی ہے۔
اسی طرح بلاگنگ ایک ایسا میدان ہے جہاں آپ اپنی معلومات اور تجربات کو تحریر کی شکل میں دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔ اگر آپ تعلیم، بچوں کی تربیت، یا سکول مینجمنٹ جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں تو وقت کے ساتھ آپ کی تحریریں بھی آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
ایک اور اچھا راستہ لوکل ای کامرس ہے۔ یعنی اپنے شہر یا علاقے میں چھوٹے پیمانے پر آن لائن کاروبار شروع کرنا۔ آج کل سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کی مدد سے چھوٹا کاروبار شروع کرنا پہلے کے مقابلے میں بہت آسان ہوگیا ہے۔
میری نظر میں اس سب کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب آپ کے پاس آمدنی کے ایک سے زیادہ ذرائع ہوتے ہیں تو آپ ذہنی طور پر بھی زیادہ مطمئن ہوتے ہیں۔ پھر آپ سکول کو صرف فیسوں کے دباؤ کے تحت نہیں چلاتے بلکہ بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔
اگر خدانخواستہ کبھی ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ سکول عارضی طور پر بند ہوجائیں یا آمدنی کم ہوجائے تو آپ مکمل طور پر پریشان نہیں ہوتے کیونکہ آپ کے پاس ایک اور راستہ موجود ہوتا ہے۔
میں یہ بات بطور تنقید نہیں بلکہ ایک مخلصانہ مشورے کے طور پر کہنا چاہتا ہوں۔
ہم سب نے اپنی زندگیاں تعلیم کے شعبے کے لئے وقف کی ہوئی ہیں۔ لیکن آج کے دور میں سمجھداری اسی میں ہے کہ ہم وقت کے ساتھ خود کو بھی بدلیں اور نئی مہارتیں بھی سیکھیں۔
ہوسکتا ہے کہ آج آپ جو سیکھیں وہ کل آپ کے سکول کو بھی ایک نئی طاقت دے دے۔
اور ہوسکتا ہے کہ مشکل وقت میں یہی مہارتیں آپ کے لئے ایک مضبوط سہارا بن جائیں۔

06/03/2026

اگر کل سکول بند ہو جائیں تو کیا آپ کا سکول پڑھائی جاری رکھ سکے گا؟
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔
بین الاقوامی حالات، توانائی کے مسائل اور معاشی دباؤ کی وجہ سے کئی ممالک میں تعلیمی اداروں کو اچانک بند کرنے کے فیصلے کیے جاتے رہے ہیں۔
پاکستان میں بھی اگر پیٹرول یا ٹرانسپورٹ کا بحران پیدا ہو جائے تو حکومت کو مجبوراً آن لائن تعلیم کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔
ایسی صورت میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ سکول بند ہوں گے یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے:
اگر کل سکول بند ہو جائیں تو کیا آپ کا سکول تعلیم جاری رکھ سکے گا؟
روایتی سکول کا مسئلہ
ہمارے زیادہ تر سکول اس سوچ پر چل رہے ہیں کہ:
بچے سکول آئیں گے
کلاس روم میں پڑھائی ہوگی
اساتذہ بورڈ پر لکھیں گے
اور سارا نظام اسی پر منحصر ہوگا
لیکن اگر کسی وجہ سے سکول کی عمارت بند ہو جائے تو پھر تعلیم بھی رک جاتی ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں جدید دور کے سکول مختلف ہوتے ہیں۔
جدید سکول کی سوچ
مستقبل کے سکول صرف عمارتوں میں نہیں ہوتے۔
وہ ایک تعلیمی نظام ہوتے ہیں جو کسی بھی صورتحال میں جاری رہ سکتا ہے۔
مثال کے طور پر:
ایک تیار سکول کے پاس پہلے سے یہ چیزیں موجود ہوتی ہیں:
آن لائن کلاسز کا نظام
اساتذہ کی ڈیجیٹل ٹریننگ
گوگل کلاس روم یا لرننگ پلیٹ فارم
طلبہ کے لئے آن لائن اسائنمنٹس
والدین کے ساتھ ڈیجیٹل رابطہ
ایسے سکولوں کے لئے اگر کل حکومت آن لائن تعلیم کا اعلان کر دے تو
ان کے لئے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں ہے
اکثر سکول سمجھتے ہیں کہ آن لائن تعلیم کے لئے بہت مہنگا سسٹم چاہیے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔
آج کے دور میں ایک سکول بہت کم وسائل میں بھی یہ چیزیں شروع کر سکتا ہے:
WhatsApp Learning Groups
Google Classroom
Zoom یا Google Meet کلاسز
Recorded Lectures
Digital Worksheets
اصل ضرورت سوچ بدلنے کی ہے۔
سکولوں کو آج ہی کیا کرنا چاہیے؟
اگر سکول سربراہان واقعی مستقبل کے لئے تیار ہونا چاہتے ہیں تو انہیں ابھی سے کچھ اقدامات شروع کرنے چاہئیں۔
1. اساتذہ کو ڈیجیٹل ٹریننگ دیں
اساتذہ کو سکھائیں کہ
آن لائن کلاس کیسے لینی ہے
پریزنٹیشن کیسے بنانی ہے
اسائنمنٹ کیسے دینی ہے
2. ایک سادہ آن لائن لرننگ سسٹم بنائیں
شروع میں پیچیدہ سسٹم کی ضرورت نہیں۔
Google Classroom
WhatsApp
Zoom
یہی کافی ہیں۔
3. طلبہ اور والدین کو آہستہ آہستہ عادی بنائیں
ہفتے میں ایک دن
آن لائن ہوم ورک
ڈیجیٹل اسائنمنٹ
ویڈیو لیکچر
شروع کر دیں۔
مستقبل کے سکول کون سے ہوں گے؟
آنے والے وقت میں کامیاب سکول وہ ہوں گے جو:
AI کو استعمال کریں گے
ڈیجیٹل لرننگ اپنائیں گے
Life Skills سکھائیں گے
اور تعلیم کو کلاس روم سے باہر لے جائیں گے
جو سکول صرف روایتی طریقے پر چلتے رہیں گے
وہ آہستہ آہستہ پیچھے رہ جائیں گے۔
ایک اہم سوال
ہر سکول سربراہ کو اپنے آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہیے:
اگر کل حکومت آن لائن تعلیم کا اعلان کر دے تو کیا میرا سکول اگلے دن کلاس شروع کر سکتا ہے؟
اگر جواب نہیں ہے
تو ابھی سے تیاری شروع کرنے کا وقت ہے۔
اختتامیہ
تعلیم صرف کتاب پڑھانے کا نام نہیں رہا۔
یہ اب ایک نظام ہے جس میں
ٹیکنالوجی
ڈیجیٹل مہارتیں
اور مستقبل کی سوچ
سب شامل ہیں۔
جو سکول آج خود کو اپ ڈیٹ کریں گے
وہی کل تعلیمی میدان میں آگے ہوں گے۔
✍️
Dr. Ijaz Mahmood
Education Development Consultant
Future Ready Schools | AI in Education | Digital Learning

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

HPS
Rawalpindi