06/09/2023
بچوں کو سزا دینا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم احباب۔۔۔
آئے روز بچوں کو اساتذہ کی جانب سے جسمانی سزا کے واقعات سامنے آتے رھتے ہیں۔اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ھے۔ایسے اساتذہ میری دانست میں نفسیاتی مسائل میں مبتلا ھوتے ہیں۔بہتر تو یہ ھے کہ ان کا علاج کروایا جائے کہ کون سے عوامل ہیں کہ وہ یہ بھیانک طریقہ کار استعمال کرنے پر مجبور ھوئے۔
اعداد و شمار یہ بتا رھے ہیں کہ دنیا کے پچاس سے زائد ممالک ایسے ہیں کہ جہاں بچوں کی مارپیٹ پر پابندی ھے۔
اکابرین اسلام نے بھی بچوں سے متعلق سزاؤں پر تفصیلاً لکھا ھے۔۔۔۔
۔۔ابن خلدون نے اور امام غزالی نے بھی مفصلاً اس موضوع پر لکھا اور بچوں کو جسمانی سزایں دینے کو ناپسندیدہ قرار دیا ھے۔
۔۔مشہور مفکر قاضی ابن جماعہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب۔۔
تذکرة السامع والمتکلم فی آداب العالم والمتعلم۔۔
میں بھی اس موضوع پر خوب راہنمائی کی ھے۔۔
۔۔امام شامی نے درمختار میں بچوں پر تشدد پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ھے اور لکھا ھے کہ قیامت کے دن اس کا قصاص لیا جائے گا ۔۔
۔۔امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بچوں پر جسمانی تشدد کو سخت ناپسند کیا۔اور چھڑی کے استعمال کی نسبت زبان کے استعمال کی ترغیب دی ھے۔۔
۔۔مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں بچوں کو مارنا ایک ایسا حق العبد ھے جسکی معافی مشکل ھے۔
۔۔مولانا زکریا رحمہ الله عليه نے بچوں پر تشدد کے حوالہ سے سائل کو کہا کہ اگر ایسا کرو گے تو قیامت کا انتظار کرو۔۔(گویا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ھونا پڑے گا)
۔۔پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب نے ایک معلم کے پاس پائپ پڑا ھوا دیکھا تو پوچھا ۔۔۔
یہ کس لئے رکھا ھے۔۔؟
معلم نے جواب دیا ۔۔۔۔بچوں کو ڈرانے کے لئے ۔۔۔
تو مولانا نے فرمایا۔۔۔پھر ایک پستول رکھ لیجئے۔۔
محترم احباب۔۔۔
درسگاہ صُفّہ کے بارے میں تاریخ کچھ معلومات فراہم کرتی ھے کہ۔۔۔
اس مدرسہ میں بچوں کو جسمانی سزا دینے کو ناپسندیدگی سے دیکھا گیا۔
مقریزی کا بیان ھے کہ درسگاہ صُفّہ کا ایک کمسن طالب علم جو اُن قیدیوں کے پاس زیرِ تعلیم تھا اپنے مدرسہ سے روتا ھوا گھر واپس چلا گیا۔۔
باپ نے پوچھا کیا ھوا۔۔؟
لڑکے نے جواب دیا۔۔۔۔
میرے معلم نے مجھے مارا ھے۔۔
باپ نے کہا۔۔۔
معلوم ھوتا ھے یہ(قیدی)معلم بچے سے(جنگ) بدر کا انتقام لے رھا ھے۔
اس کے بعد باپ نے بچے کو اس معلم کے پاس بطورِ احتجاج جانے سے روک دیا۔
محترم احباب۔۔۔۔
بچوں کیساتھ معلمین کا رویہ کیسا ھونا چاھیے اس کے لئے معلمین کی تربیت کی اشد ضرورت ھے۔
یہ مارپیٹ والا کلچر بچوں کو حصول علم سے اور اساتذہ سے بھی متنفر کر دے گا۔
ساری دنیا میں بچوں کی تربیت کے لئے نت نئے تجربات کئے جا رھے ہیں ہمیں انھیں study کرنا چاھیے اور ان میں مذید بہتری لانے کے لئے اسلام کی دی گئی تعلیمات سے بھی بھرپور استفادہ کرنا چاھئے۔۔