LEZEN Education System
آئیے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے تعلیم و تربیت میں مصروف
02/08/2025
الحمدللہ
16/01/2024
نـظـریــےکوووٹ دو
اســتـری کو ووٹ دو
_______________08فروری2024____________
پاکستان راہِ حق پارٹی کےنامزد اُمیدوار
• اعلیٰ تعلیم یافتہ
• وکیل ناموسِ صحابہ
مولانا عبداللہ عباسی
[اُمیدوار حلقہ PK-42]
انتخابی نشان #استری
06/09/2023
بچوں کو سزا دینا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم احباب۔۔۔
آئے روز بچوں کو اساتذہ کی جانب سے جسمانی سزا کے واقعات سامنے آتے رھتے ہیں۔اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ھے۔ایسے اساتذہ میری دانست میں نفسیاتی مسائل میں مبتلا ھوتے ہیں۔بہتر تو یہ ھے کہ ان کا علاج کروایا جائے کہ کون سے عوامل ہیں کہ وہ یہ بھیانک طریقہ کار استعمال کرنے پر مجبور ھوئے۔
اعداد و شمار یہ بتا رھے ہیں کہ دنیا کے پچاس سے زائد ممالک ایسے ہیں کہ جہاں بچوں کی مارپیٹ پر پابندی ھے۔
اکابرین اسلام نے بھی بچوں سے متعلق سزاؤں پر تفصیلاً لکھا ھے۔۔۔۔
۔۔ابن خلدون نے اور امام غزالی نے بھی مفصلاً اس موضوع پر لکھا اور بچوں کو جسمانی سزایں دینے کو ناپسندیدہ قرار دیا ھے۔
۔۔مشہور مفکر قاضی ابن جماعہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب۔۔
تذکرة السامع والمتکلم فی آداب العالم والمتعلم۔۔
میں بھی اس موضوع پر خوب راہنمائی کی ھے۔۔
۔۔امام شامی نے درمختار میں بچوں پر تشدد پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ھے اور لکھا ھے کہ قیامت کے دن اس کا قصاص لیا جائے گا ۔۔
۔۔امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بچوں پر جسمانی تشدد کو سخت ناپسند کیا۔اور چھڑی کے استعمال کی نسبت زبان کے استعمال کی ترغیب دی ھے۔۔
۔۔مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں بچوں کو مارنا ایک ایسا حق العبد ھے جسکی معافی مشکل ھے۔
۔۔مولانا زکریا رحمہ الله عليه نے بچوں پر تشدد کے حوالہ سے سائل کو کہا کہ اگر ایسا کرو گے تو قیامت کا انتظار کرو۔۔(گویا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ھونا پڑے گا)
۔۔پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب نے ایک معلم کے پاس پائپ پڑا ھوا دیکھا تو پوچھا ۔۔۔
یہ کس لئے رکھا ھے۔۔؟
معلم نے جواب دیا ۔۔۔۔بچوں کو ڈرانے کے لئے ۔۔۔
تو مولانا نے فرمایا۔۔۔پھر ایک پستول رکھ لیجئے۔۔
محترم احباب۔۔۔
درسگاہ صُفّہ کے بارے میں تاریخ کچھ معلومات فراہم کرتی ھے کہ۔۔۔
اس مدرسہ میں بچوں کو جسمانی سزا دینے کو ناپسندیدگی سے دیکھا گیا۔
مقریزی کا بیان ھے کہ درسگاہ صُفّہ کا ایک کمسن طالب علم جو اُن قیدیوں کے پاس زیرِ تعلیم تھا اپنے مدرسہ سے روتا ھوا گھر واپس چلا گیا۔۔
باپ نے پوچھا کیا ھوا۔۔؟
لڑکے نے جواب دیا۔۔۔۔
میرے معلم نے مجھے مارا ھے۔۔
باپ نے کہا۔۔۔
معلوم ھوتا ھے یہ(قیدی)معلم بچے سے(جنگ) بدر کا انتقام لے رھا ھے۔
اس کے بعد باپ نے بچے کو اس معلم کے پاس بطورِ احتجاج جانے سے روک دیا۔
محترم احباب۔۔۔۔
بچوں کیساتھ معلمین کا رویہ کیسا ھونا چاھیے اس کے لئے معلمین کی تربیت کی اشد ضرورت ھے۔
یہ مارپیٹ والا کلچر بچوں کو حصول علم سے اور اساتذہ سے بھی متنفر کر دے گا۔
ساری دنیا میں بچوں کی تربیت کے لئے نت نئے تجربات کئے جا رھے ہیں ہمیں انھیں study کرنا چاھیے اور ان میں مذید بہتری لانے کے لئے اسلام کی دی گئی تعلیمات سے بھی بھرپور استفادہ کرنا چاھئے۔۔
13/08/2023
علمائے حق
علمائے دیوبند
23/07/2023
اللھم صلی علی محمد وعلی ال محمد وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم
زاد ﷲ شرفہا
30/12/2021
" ہُنر دینا منع ہے "
پچھلے ہفتے چھٹی کے روز دو شاگردوں کا فون آیا کہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ یہ وہ دو بچے تھے جنہوں نے چھ سال قبل میٹرک میں ٹاپ کیا تھا اور پورے شہر اور مضافات میں ان ہونہار طلبا کا چرچا تھا بڑے بڑے پینا فلیکس پر ان کی ادارے کے نام کے ساتھ تصاویر لگی تھیں ، بڑے کالجز کی طرف سے فری ایجوکیشن کی پیش کش ہوئی اور انہوں نے من پسند کالجز کا انتخاب کرکے اس میں داخلہ بھی لیا ، اگلے چار سالوں میں کامیابی کا تناسب بھی قدرے بہتر رہا۔گریڈ میں استحکام رہا ۔ تب ان کو یوں لگا جیسے دنیا فتح کر لیں گے ، ان کے گریڈ ان کی کامیابی کی دلیل اور گارنٹی ہیں ۔ ان کی میڑک کی سند ان کی اعلی ملازمت پر قبولیت کی سند ہے ۔۔۔ لیکن نتائج اس کے برعکس رہے
وہ جس بڑے ادارے میں انٹرویو دینے گئے بہت کم نمبروں سے ٹیسٹ پاس ہوسکے ، تحریری ٹیسٹ پاس کر بھی لیے تو انٹرویو میں رہ گئے ، پینل کے سوالات ان کے سر سے گزر گئے ، اسناد میں اے پلس گریڈ دھرے کے دھرے رہ گئے ، ریک میں رکھی ٹرافی ان کے کسی کام نہ آئی ۔
آج وہ کچھ سنانے آئے تھے اور میں خاموشی سے دونوں کو سن رہی تھی ۔ دونوں کے چہروں پر مایوسی اور انجانا سا عدم تحفظ تھا ، چائے کا کپ رکھ کر ایک نے فرش کو دیکھتے ہوئے آخری جملہ بولا " میڈم تعلیی نظام نے بہت ظلم کیا ہے ہم پر ۔۔۔ "
میں نے مسکرا کر کہا " بیروزگاری تو ہمارا بہت پرانا مسئلہ ہے شہزادے، میرٹ نہیں دیکھا جاتا"
" نہیں میڈم ! " دوسرا تڑپ کر بولا " ہمیں بیروزگاری نے نہیں ، ہماری ڈگریوں نے مارا ہے ، ہمیں وہ کچھ سکھایا ہی نہیں گیا جو اگلے دس سال ہمارے کام آتا ،، میں ایک بار پھر غور سے سننے لگی ۔ آج ان کے بولنے کی باری تھی۔
" ہمیں اعتماد نہیں سکھایا گیا ، انگریزی میں پورے نمبر دے کر انگریزی بولنا نہیں سکھایا گیا ، میتھ میں سو بٹہ سو لینے والے اپنی ہی زمین کا رقبہ نہیں نکال سکتے ، اردو میں پورے نمبر لے کر بھی ہم وزیر اعلی کو عرضی نہیں لکھ سکتے ، میرٹ ہمارے قدموں کی دھول ہے لیکن نالج ہمارے پاس صفر ہے ، آپ نے نمبروں کی مشینیں بنائی ہیں، جینیس نہیں ۔" آواز اس کے گلے میں رندھ گئی ۔
میرے پاس کوئی جواب نہ تھا
" میرے ابو کے زمانے میں ڈاکٹری کا میرٹ %78 فیصد تھا، اب % 91 پر بھی پاکستان کے سب سے تھکے ہوئے کالج میں بھی داخلہ نہیں ملتا۔" اس کے چہرے پر تھکن ہی تھکن تھی ۔
، لگتا تھا نوکریاں ہمارے قدموں میں گریں گی، آج جس کمپنی میں جاتے ہیں وہاں پورے نمبر لینے والے سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن ٹیسٹ اور انٹرویو میں سب رہ جاتے ہیں ، کہاں گئے وہ نمبر؟؟ "
وہ اپنا کتھارسس کر رہے تھے یا سوال ۔۔۔ میرے پاس کوئی جواب نہ تھا ۔ ہم نمبروں کی مشینیں ہی تو بنا رہے ہیں ، میرے نظروں میں اس سال کوویڈ میں میٹرک اور ایف ایس سی میں پورے نمبر لینے والے گیارہ سو ستانوے طلبا گھوم گئے ۔۔۔چار سال بعد اُن کے سوالات اِن سے بھی تلخ ہوں گے۔ گیارہ سو طلبا اپنے ٹیچر کو فون کرکے کہیں گے " آپ سے بات کرنی ہے"
اور جواب میں وہی خاموشی۔۔۔ طویل خاموشی ملے گی ۔
آصفہ عنبرین قاضی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Rawalpindi
44000
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 16:00 |
| Tuesday | 09:00 - 16:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 16:00 |
| Friday | 09:00 - 13:00 |
| Saturday | 09:00 - 16:00 |