اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کے لیے ایچ ای سی کا انڈرگریجویٹ اسٹڈیز ایڈمیشن ٹیسٹ ایک بہترین موقع ہے۔ یہ ٹیسٹ آپ کو پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں اپلائی کرنے کا موقع دیتا ہے اور ایک ہی امتحان سے آپ اپنے داخلے کے امکانات کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ نہ صرف یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے انٹری ٹیسٹ کا متبادل ہے بلکہ کئی اسکالرشپ کے لیے بھی ضروری ہے۔
اس ٹیسٹ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ایک کم خرچ اور فائدہ مند آپشن ہے۔ آپ کو الگ الگ یونیورسٹیوں کے مہنگے ٹیسٹ دینے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ ایک ہی ٹیسٹ سے مختلف اداروں میں اپلائی کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کے وقت اور پیسوں دونوں کی بچت کرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ امتحان انٹری ٹیسٹ کی اچھی پریکٹس بھی ہے۔ اگر آپ مستقبل میں کسی اور ادارے یا اسکالرشپ کے لیے اپلائی کرنا چاہتے ہیں تو USAT کی تیاری آپ کو مزید پراعتماد بنا دے گی۔
تمام طلبہ ہیں جنہوں نے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا ہے یا اپنے امتحانات دے چکے ہیں اور رزلٹ کے منتظر ہیں یہ ٹیسٹ دے سکتے ہیں۔ خواہ آپ پری میڈیکل، پری انجینئرنگ، آرٹس، کامرس یا کمپیوٹر سائنس کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں، آپ اس میں اپلائی کر سکتے ہیں۔
فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 9 ستمبر 2025 ہے جبکہ ٹیسٹ 28 ستمبر 2025 کو ہوگا۔ اس لیے ابھی سے تیاری شروع کریں۔ انٹرمیڈیٹ کی کتب، ریاضی، انگلش اور جنرل نالج پر خاص توجہ دیں اور پچھلے انٹری ٹیسٹ پیپرز سے پریکٹس ضرور کریں تاکہ وقت کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا سیکھ سکیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے لیے یونیورسٹی داخلے کے زیادہ دروازے کھلیں، اسکالرشپس کے مواقع بڑھیں اور آپ کی محنت صحیح سمت میں استعمال ہو تو USAT ضرور دیں۔ یہ ٹیسٹ آپ کے تعلیمی سفر کو آسان، مؤثر اور کامیاب بنانے کے لیے نہایت اہم ہے
Eduvision Career Counselling - درست کیریئر کے انتخاب کے لیے ایجوویژن ایپٹیٹیوڈ اسیسمنٹ دیں اور اپنی شخصیت، صلاحیتوں اور دلچسپیوں کے مطابق صحیح کیرئیر کا فیصلہ کریں 03335766716
QMES
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from QMES, Educational consultant, Rawalpindi.
سرکاری سکولوں میں جماعت نہم کے خراب ترین نتائج کی وجوہات
1. اساتذہ کی کمی، کام اور اضافی ڈیوٹیز کا بوجھ
2. "مار نہیں پیار" کی پالیسی
3. سزا و جزا کا خاتمہ
4. آٹھویں تک سب کو پاس کرنے کی پالیسی
5. استاد کے اختیارات کا خاتمہ
6۔ موبائل کا نشہ اور بے دریغ استعمال
7۔ سوشل میڈیا ایپس
8۔ ان پڑھ ٹک ٹاکرز کی قدر دانی
9۔ اور تعلیم اورتعلیم یافتہ ڈگری ھولڈرز کی ناقدری
10۔ تعلیمی ڈگریوں کا سیاہ مستقبل
11۔ جابز اور ملازمتوں کا فقدان
12۔ اساتذہ کی توھین و اھانت، ناقدر شناسی اور ان کے ساتھ ہتک امیز رویے۔
13۔ سرکاری تنخواہیں لے کر سرکاری اداروں کی اھانت کرنے والے کردار
14۔ سرکاری مراعات، تنخواہیں، پروٹوکولز لے کر سرکاری تعلیمی مراکز کو پرائیویٹ ھاتھوں میں تھمانے والوں کی فلاپ پالیسیاں
15۔ اصلاحات کے نام پر تعلیمی سسٹم کو ناکارہ کرنے کی مذموم سازشیں
16. حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے دل برداشتہ یوتھ
17۔ چھوٹے موٹے ہنر سیکھ کر بیرون ملک جانے کا رجحان
18۔ مستقل چیک اینڈ بیلنس کا فقدان
19۔ قومی و ملی مفاد کے نقوش و اھداف متعین کرنے والے تھنک ٹینکرز کا فقدان
20۔ تعلیمی نصاب کی معاشرتی Needs اور زندگی کے تقاضوں سے عدم مماثلت و عدم ھم آہنگی
21۔ ایک رائے کے مطابق جان بوجھ کر ایسے رزلٹ بنوائے گئے ہیں کہ سرکاری سکولوں کے خلاف فضا بن سکے، اور پرائیویٹ اداروں کو شھرت مل سکے۔
22۔ مستقل بنیادوں پر، مستقبل کی مضبوط بنیادوں پر پلاننگ کا فقدان
23۔ اپنی اور اپنی نسل کی ناکامیوں سے سبق سیکھنے، عبرت حاصل کرنے، اور اصلاح احوال کی بجائے ملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے کی روش۔
24۔ مستقل بنیادوں پر کوئی متوازن تعلیمی نصاب، اور طریقہ امتحان کی بجائے بچوں کو ہر سال نئے نئے تجربوں کی بھینٹ چڑھایا جانا
25۔ محنتی و مشاق اور ریگولر اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کیلئے بھی سب کے ساتھ برابر کا نامناسب لب و لہجہ اختیار کرنا، کھوٹے کھرے کے امتیاز کے بنا سب اساتذہ کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا۔
26۔ تین تین ماہ کے لیے سکولز بند، بچے نصاب و کتاب سے لا تعلق نتائج پر برے اثرات تو پڑنے ہی ہیں۔
27۔ اداروں کی کمزور ھیڈ شیپ اور ترجیحات کا عدم تعین بھی نتائج کو لے ڈوبتا ہے۔
28. پرائیویٹ ادارے، ٹیوشن سینٹرز، اکیڈمی سسٹم کی پروموشن جبکہ عوامی سرکاری اداروں کو ڈی ویلیو کرنا، خامیوں کا شدو مد سے اظہار، اور خوبیوں سے چشم پوشی کی روش۔
29۔ تعلیمی سٹاف اور اساتذہ کی مراعات پر Cut ہی Cut، اور نان ٹیچنگ بیورو کریسی پر مراعات کی بھرمار، مراعات کی غیر منصفانہ تقسیم، اساتذہ اور مربی لوگوں کی تذلیل کا لگاتار سلسلہ۔
30۔ تعلیم تعلیم کی رٹ، رٹہ سسٹم، اور تعلیمی اداروں میں تربیت کا فقدان، غیر نصابی ترجیحات پر وسائل کا خرچ، میوزک، ڈانس اور بے شمار ، قومی و ملی اور اسلامی تہذیب و تمدن کا قتل عام
تربیت سے بدلتا ہے قوموں کا مزاج
صرف علم سے ابو جہل کی جہالت نہیں جاتی
ہم اصلاحات کے بھر پور حامی و داعی ہیں ، ہر بگاڑ کی اصلاح ہونی چاہیے
مگر اداروں کا خاتمہ، یا سورس آوٹ اس کا حل نہیں، بلکہ نظام کے ساتھ ایک ایسا مذاق ہے جس کے اثرات پاکستانی قوم کو صدیوں بھگتنے پڑیں گے۔
یہ وہ اسباب و عوامل ہیں جو ہمیں اور ہمارے نظام تعلیم کو دن بدن زوال کی طرف دھکیل رہے ہیں سور ہم اس کے علاج و اصلاح کی بجائے اس کے خاتمے پر بضد ہیں۔۔۔ یاد رہے
جب تک مخلص ہو کر ان مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، شاید بہتری ممکن نہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.