Bhera Enlightened Voices

Bhera Enlightened Voices علم، ادب، روحانیت اور تحقیق کی روشنی سے منور —
A platform showcasing Bhera Sharif’s scholars, authors, educators & spiritual legacy.
(1)

Darul Uloom Muhammadiyah Ghousia | Pir Karam Shah RA | Literary & social heritage | Voices that inspire!

26/07/2026
26/07/2026
26/07/2026
26/07/2026
ماشاءاللہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ
25/07/2026

ماشاءاللہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ

25/07/2026
قوم کے عظیم ہیرو کے لیے خوبصورت الفاظ میں کچھ لکھیے
25/07/2026

قوم کے عظیم ہیرو کے لیے خوبصورت الفاظ میں کچھ لکھیے

25/07/2026

ربیع الاول سے پہلے کن موضوعات پر جمعہ کی تقاریر کرنی چاہیے ۔ اپنی تجاویز دیں

حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت علامہ صاحبزادہ پروفیسر ریاض محمود صاحب کی برمنگھم...
25/07/2026

حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت علامہ صاحبزادہ پروفیسر ریاض محمود صاحب کی برمنگھم میں 1985ء کی ایک یادگار اور تاریخی تصویر۔

یہ تصویر علم، روحانیت اور محبتِ رسول ﷺ سے وابستہ دو عظیم شخصیات کی ایک حسین یاد کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جو آج بھی اہلِ محبت کے دلوں میں عقیدت و محبت کے جذبات تازہ کر دیتی ہے۔

آسان تشریح کے ساتھ : حضور ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ فرماتے ہیں :" یہ ایک روشن حقیقت اور ناقابل تردید صد...
24/07/2026

آسان تشریح کے ساتھ :
حضور ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ فرماتے ہیں :
" یہ ایک روشن حقیقت اور ناقابل تردید صداقت ہے کہ عزت قوت اور کامرانی اتحاد و اتفاق سے میسر آتی ہے اور جو خاندان اس نعمت سے محروم کر دیا جائے اس کے مقدر میں ذلت اور رسوائی اور غیروں کی کشف برداری رقم کر دی جاتی ہے۔"
آسان تشریح : ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم (چئیرمین گلوبل ہینڈز پاکستان )
محبت ایک ایسا پاکیزہ اور لطیف جذبہ ہے جو دلوں کو ایک دوسرے سے وابستہ کرتا، قربانی کا حوصلہ پیدا کرتا اور انسان کو اپنے ذاتی مفاد سے بلند ہو کر دوسروں کی خوشی، بھلائی اور وفاداری کا احساس دلاتا ہے۔ محبت دلوں کی وہ روشنی ہے جو نفرت کی تاریکیوں کو مٹا کر زندگی کو امن، سکون اور حسن سے آراستہ کر دیتی ہے۔اتفاق دلوں اور ارادوں کی وہ ہم آہنگی ہے جس میں افراد اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے باہمی تعاون اور خیر خواہی کے ساتھ قدم بڑھاتے ہیں۔ اتفاق معاشرے کی وہ مضبوط زنجیر ہے جو بکھرے ہوئے افراد کو ایک طاقتور جماعت میں تبدیل کر دیتی ہے۔یکجہتی دل، فکر اور عمل کی وہ مضبوط وابستگی ہے جس کے ذریعے افراد ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے، ایک دوسرے کا سہارا بنتے اور ہر آزمائش میں متحد رہتے ہیں۔ یہ وہ اجتماعی قوت ہے جو قوموں کو استحکام، عزت اور ترقی کی راہوں پر گامزن کرتی ہے اور انہیں ہر طوفان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔
دنیا میں عزت، طاقت، ترقی اور کامیابی صرف اس قوم، خاندان یا معاشرے کو نصیب ہوتی ہے جس کے افراد آپس میں محبت، اتفاق اور یکجہتی کے ساتھ رہتے ہوں۔ اتحاد وہ مضبوط رشتہ ہے جو دلوں کو جوڑتا، اعتماد پیدا کرتا اور مشترکہ مقصد کے لیے سب کو ایک صف میں کھڑا کر دیتا ہے۔ جب افراد ذاتی اختلافات، حسد، انا اور مفاد پرستی کو چھوڑ کر ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں تو وہ ہر مشکل کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔اس کے برعکس، اگر کسی خاندان یا قوم سے اتحاد ختم ہو جائے، آپس میں نفرت، جھگڑے اور انتشار پیدا ہو جائیں تو اس کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے۔ ایسے لوگ اپنی عزت، وقار اور خودمختاری کھو بیٹھتے ہیں۔ پھر دوسروں کو ان کے معاملات میں مداخلت کرنے کا موقع مل جاتا ہے، اور وہ دوسروں کے محتاج اور تابع بن جاتے ہیں۔ یہی ذلت، رسوائی اور غلامی کی ابتدا ہوتی ہے۔پیر کرم شاہ صاحب ؒ نے "غیروں کی کفش برداری" ایک نہایت بلیغ ادبی استعارہ استعمال کیا ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ کوئی واقعی کسی کے جوتے اٹھائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اتحاد ختم ہو جاتا ہے تو انسان یا قوم اپنی آزادی، عزتِ نفس اور خودداری سے محروم ہو کر دوسروں کی خوشامد، تابع داری اور حکم برداری پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اتحاد صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ عزت، طاقت، آزادی اور کامیابی کی بنیاد ہے۔ جو خاندان یا قوم اتحاد کی دولت کو سنبھال کر رکھتی ہے وہ ہمیشہ باوقار، مضبوط اور ترقی یافتہ رہتی ہے، جبکہ اختلاف، انتشار اور باہمی دشمنی اسے کمزور، بے وقعت اور دوسروں کا محتاج بنا دیتی ہے۔جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ کے اس قول سے ہمیں درج ذیل چار بنیادی اور عملی اسباق حاصل ہوتے ہیں:
1. جو خاندان، قوم یا معاشرہ باہمی اتحاد، محبت اور تعاون کو اپنا شعار بناتا ہے، وہ عزت، ترقی، قوت اور استحکام حاصل کرتا ہے۔ اجتماعی کامیابی ہمیشہ اتحاد کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔
2. جب افراد آپس کے جھگڑوں، حسد، انا اور نفرت میں مبتلا ہو جائیں تو ان کی طاقت کمزور ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ ذلت، رسوائی، ناکامی اور زوال کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
3. جو قوم یا خاندان متحد ہوتا ہے وہ اپنی عزتِ نفس، خودمختاری اور وقار کو برقرار رکھتا ہے، جبکہ منتشر قومیں دوسروں کی محتاج، محکوم اور تابع بن جاتی ہیں۔
4. انسان کو اپنی انا، ذاتی خواہشات اور معمولی اختلافات سے بالاتر ہو کر خاندان، قوم اور معاشرے کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ اجتماعی بھلائی ہی ہر فرد کی حقیقی کامیابی اور عزت کی ضامن ہوتی ہے۔
اہم نوٹ : ہم روزانہ کا ایک قول آسان مفہوم کے ساتھ پیش کر رہے ہیں چونکہ حضور ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کے اقوال علم، حکمت، قرآن و سنت کے عمیق فہم اور طویل عملی تجربے کا نچوڑ ہیں۔اس لیے ہماری خواہش ہے کہ ہر خاص و عام اس کو سمجھے اور ہر ایک تک یہ پہنچیں ۔آپ شئیر کریں رو ز کا ایک قول پیج پر لگایا جاتا ہے ۔ ان کی تشریح کا مقصد ان الفاظ کی توضیح نہیں، بلکہ ان میں پنہاں فکری، تربیتی اور اصلاحی پیغام کو عصرِ حاضر کے قاری کے لیے عام فہم اور قابلِ عمل انداز میں پیش کرنا ہے۔ یہ کاوش کسی حتمی شرح کا دعویٰ نہیں، بلکہ ایک طالبِ علم کی عاجزانہ کوشش ہے کہ اس عظیم مفکر کی فکر سے زیادہ سے زیادہ لوگ فیض یاب ہو سکیں۔ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم (چئیرمین گلوبل ہینڈز پاکستان )

Address

Street 4 Sir Syed Chowk Rwp
Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bhera Enlightened Voices posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share