24/05/2026
اس کتاب کی کوئی خاص بات جو آپ کے مطالعہ میں آئی ۔ اس کتاب بارے اپ کیا کہیں گے
علم، ادب، روحانیت اور تحقیق کی روشنی سے منور —
A platform showcasing Bhera Sharif’s scholars, authors, educators & spiritual legacy.
Darul Uloom Muhammadiyah Ghousia | Pir Karam Shah RA | Literary & social heritage | Voices that inspire!
24/05/2026
اس کتاب کی کوئی خاص بات جو آپ کے مطالعہ میں آئی ۔ اس کتاب بارے اپ کیا کہیں گے
24/05/2026
تاریخ شاہد ہے کہ حضرت غوث العالمین بہاو الحق والدین زکریا ملتانی اور سلسلہ چشتیہ کے مہر عالمتاب فرید الدین مسعود گنج شکر کی خانقاہی تحریک نے عظیم فکری و روحانی انقلاب پیدا کیا ۔اس تحریک میں مدرسہ وخانقاہ کئی صدیوں تک عالم اسلام کی توجہ کے مرکز بنے رہے ۔مگر انگریزی استعمار کی منظم سازش نے اس مقدس تحریک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔اللہ کریم نے اس مقدس مشن کو حیات تازہ بخشنے کے لیے ایک ایسے مردِ کامل کا انتخاب فرمایا جو خانوادہ چشت اہلِ بہشت کے روشن چراغ حضرت امیر السالکین،پیر محمد امیر شاہؒ کے پوتے اور حضرت پیر محمد شاہ ؒکے فرزندِ ارجمندہیں میری مراد،حضور ضیاءالامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ ہیں۔
آپؒ کی ولادت 21رمضان المبارک 1336ھ بمطابق یکم جولائی1918ءشب دوشنبہ بھیرہ شریف ضلع سرگودھامیں ہوئی۔1936ءمیں گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا علوم متداولہ کی تکمیل کے بعد دورہ حدیث شریف کیلئے علم و طریقت کے حسین سنگھم حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی کی بارگاہ میں حاضری دی ۔حضرت صدر الافاضل کی آغوش تربیت نے اس عظیم شخصیت کو گوہرشاہسوار بنا دیا اور فرمایا !میں آج مطمئن ہوں کہ میرے پاس جو امانت تھی وہ میں نے موزوں فرد تک پہنچا دی ہے۔1945ءمیں پنجاب یونیورسٹی سے B.Aکیا۔1951ءمیں مزید تحصیل علم کیلئے جامعہ الازھر (مصر)تشریف لے گئے۔وہاں بھرپور محنت کے بل بوتے پر6سال کا کورس ساڑھے تین سال کے عرصہ میں مکمل کر لیا اور علوم ومعرفت کی ان بلند یوں پر محوپروازہوئے کہ اساتذہ کرام جناب محمد مصطفی شبلی، جناب محمد ابو زہرہ،جناب احمد ذکی بھی آپ کوقابل رشک نگاہوں سے دیکھا کرتے ۔زمانہ طفولیت میں آپکے والدین نے حضرت خواجہ ضیاءالدین صاحب سیالوی سے آپ کو بیعت کرایا بعد ازاں شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین صاحب سیالوی ؒ نے تجدید بیعت فرما کر آپ کو خرقہءخلافت عطاءفرمایا ۔حضورضیاءالامت کے سامنے جب بھی خانوادئہ پیر سیال کا تذکرہ ہوتا آپ کی گردن فرط ادب و احترام سے جھک جایا کرتی۔
Get Alerts
پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ دینی و دنیاوی علوم کا حسین امتزاج
پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ دینی و دنیاوی علوم کا حسین امتزاج
رابعہ رحمن
Jul 31, 2015
مضامین, اہم خبریں
تاریخ شاہد ہے کہ حضرت غوث العالمین بہاو الحق والدین زکریا ملتانی اور سلسلہ چشتیہ کے مہر عالمتاب فرید الدین مسعود گنج شکر کی خانقاہی تحریک نے عظیم فکری و روحانی انقلاب پیدا کیا ۔اس تحریک میں مدرسہ وخانقاہ کئی صدیوں تک عالم اسلام کی توجہ کے مرکز بنے رہے ۔مگر انگریزی استعمار کی منظم سازش نے اس مقدس تحریک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔اللہ کریم نے اس مقدس مشن کو حیات تازہ بخشنے کے لیے ایک ایسے مردِ کامل کا انتخاب فرمایا جو خانوادہ چشت اہلِ بہشت کے روشن چراغ حضرت امیر السالکین،پیر محمد امیر شاہؒ کے پوتے اور حضرت پیر محمد شاہ ؒکے فرزندِ ارجمندہیں میری مراد،حضور ضیاءالامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ ہیں۔
آپؒ کی ولادت 21رمضان المبارک 1336ھ بمطابق یکم جولائی1918ءشب دوشنبہ بھیرہ شریف ضلع سرگودھامیں ہوئی۔1936ءمیں گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا علوم متداولہ کی تکمیل کے بعد دورہ حدیث شریف کیلئے علم و طریقت کے حسین سنگھم حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی کی بارگاہ میں حاضری دی ۔حضرت صدر الافاضل کی آغوش تربیت نے اس عظیم شخصیت کو گوہرشاہسوار بنا دیا اور فرمایا !میں آج مطمئن ہوں کہ میرے پاس جو امانت تھی وہ میں نے موزوں فرد تک پہنچا دی ہے۔1945ءمیں پنجاب یونیورسٹی سے B.Aکیا۔1951ءمیں مزید تحصیل علم کیلئے جامعہ الازھر (مصر)تشریف لے گئے۔وہاں بھرپور محنت کے بل بوتے پر6سال کا کورس ساڑھے تین سال کے عرصہ میں مکمل کر لیا اور علوم ومعرفت کی ان بلند یوں پر محوپروازہوئے کہ اساتذہ کرام جناب محمد مصطفی شبلی، جناب محمد ابو زہرہ،جناب احمد ذکی بھی آپ کوقابل رشک نگاہوں سے دیکھا کرتے ۔زمانہ طفولیت میں آپکے والدین نے حضرت خواجہ ضیاءالدین صاحب سیالوی سے آپ کو بیعت کرایا بعد ازاں شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین صاحب سیالوی ؒ نے تجدید بیعت فرما کر آپ کو خرقہءخلافت عطاءفرمایا ۔حضورضیاءالامت کے سامنے جب بھی خانوادئہ پیر سیال کا تذکرہ ہوتا آپ کی گردن فرط ادب و احترام سے جھک جایا کرتی۔
مدارس اسلامیہ کی ایک حسین کڑی دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف ضلع سرگودھا ہے جس کی بنیاد غازی اسلام حضرت پیر محمد شاہ ؒ نے 1925ءمیں رکھی۔ علوم جدیدہ و قدیمہ پر مشتمل نصاب مرتب فرمایا ۔خدائے بزرگ و برتر کے فضل وکرم سے یہاں سے فارغ التحصیل علماءزندگی کے مختلف شعبوں میں بطریق احسن فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
آپ نے اعلائے کلمة الحق کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے اپنے بہار آفریں قلم سے نام نہادمصلح اورتجدد پسندغلام احمد پرویز کے رد میں معرکة الآراءکتاب ”سنت خیر الانام “ پیش کی ۔آپ ؒنے 19سال کی طویل مدت میں 3500صفحات پر مشتمل قرآن کریم کی تفسیربنام ”ضیاءالقرآن “پانچ جلدوں پر مکمل فرمائی یہ تفسیرعلم وبصیرت کا بیش بہا سرمایہ اور عظیم علمی سرمایہ میں گراں قدر اضافہ ہے حضور اکرم کی سیرت پاک پر مشتمل”ضیاءالنبی“سات جلدوں میں مکمل فرمائی جس کے ہر ہر لفظ میں عشق خیر الانام کے سوتے پھوٹتے ہیں اس کے قاری کو محبت رسول کی چاشنی نصیب ہو تی ہے ۔ آپ کا قائم کردہ ادارہ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف آج پوری آب و تاب سے اکناف و اطراف عالم میں خدمت دین مبین سر انجام دے رہا ہے اسکی سینکڑوں برانچزاندرون و بیرون ممالک میں مصروف عمل ہیں ۔ طالبات کیلئے الکلیة الغوثیہ للبنات کے نام سے ادارے قائم ہیں۔ پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب مد ظلہ العالی کی سر پرستی میں جانب منزل رواں دواں ہیں ۔
اسی سلسلہ کی ایک حسین ترین کڑی دارالعلوم محمدیہ غوثیہ ضیاءالقرآن کیمپس سعید آباد بوکن شریف گجرات ہے ۔ ادارہ ھذا کے مہتمم سفیر ضیاءالامت حضرت پیر سید زاہد صدیق شاہ بخاری مدظلہ العالی ہیں ۔آپ کی محنت شاقہ ،جذبہ صادق اور اخلاص کے نتیجہ میں ضلع گجرات میں 53ادارے قائم ہو چکے ہیں جن میں سلسلہ قیل و قال جاری ہے اس ادارے کے طلباءجامعہ الازھر (مصر)سے بھی فارغ التحصیل ہیں طلباءو طالبات کا جذبہ محنت قابل داد ہے نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سر گرمیوں پر بھی بھر پور توجہ مرکوز کی جاتی ہے طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے الکلیة الغوثیہ للبنات (الفاطمہ کیمپس )بوکن شریف قائم ہے۔علوم قدیمہ ہوں یا جدیدہ یہ ادارہ مرور وقت کے ساتھ ساتھ ساحل مراد سے آشنا ہوتا جا رہا ہے مرکزی دارالعلوم کی برانچزمیں سے ادارہ ھذا کے طلباءو طالبات تو اکثر و بیشترپوزیشنز حاصل کرتے رہتے ہیں۔
مگر بحمدہ تعالیٰ اعزاز کی بات یہ ہے کہ بورڈز اور یونیورسٹیزمیں بھی یہ مادر علمی اپنی ثقاہت منوا رہی ہے ۔خالق ارض و سماکے فضل و کرم سے اس سال اسی ادارہ کے طالب علم ”حافظ عبد اللہ جمیل “نے میٹرک کے امتحان میں گوجرانوالہ بورڈ سے 1006نمبرزحاصل کرکے اول پوزیشن حاصل کی اور گولڈ میڈل کے مستحق قرار پائے ۔ادارے کی سابقہ کارکردگی پر ذرا طائرانہ نظر دوڑائیں ۔
علما ء کرام کیا آپ کو یاد ہے آپ نے سب سے پہلی عید کی نماز کس سال اور کس مسجد میں پڑھائی ۔ ذرا اپنی پہلی مسجد کی یاد تازہ کیجیے
24/05/2026
تصویر ہم نے شئیر کر دی : عنوان آپ نے دینا ہے ۔
24/05/2026
کچھ شخصیات تعارف کی محتاج نہیں ہوتیں، ان کی موجودگی ہی ان کا حوالہ بن جاتی ہے۔ استادِ محترم ذوالفقار علی ساقی صاحب بھی ایسی ہی نادر ہستی ہیں۔ زبانوں پر عبور، فکر کی پختگی اور لہجے کی شائستگی ان کی شخصیت کا پہلا تاثر ہے، مگر قریب جا کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض علم نہیں بانٹتے، دلوں کی آبیاری بھی کرتے ہیں۔ ان کا وقار شور میں نہیں، خاموشی میں بولتا ہے؛ ان کی گفتگو میں نرمی ہے مگر وزن کے ساتھ، اور ان کی نگاہ میں سنجیدگی ہے مگر اجنبیت کے بغیر۔ علم کے طالب ہوں یا تربیت کے خواہاں، ہر شخص ان کے پاس خود کو محفوظ اور معتبر محسوس کرتا ہے۔
ان کا مسکرانا دل پر دستک نہیں دیتا، اتر جاتا ہے؛ اور ان کی تنبیہ زخم نہیں لگاتی، راستہ دکھا دیتی ہے۔ تصنیف، ترجمہ اور تحقیق ان کے لیے محض مشاغل نہیں بلکہ ذمہ داری ہیں، جنہیں وہ دیانت اور خلوص کے ساتھ نبھاتے ہیں۔ استاد ہونے کے ساتھ وہ رہبر بھی ہیں، اور مقرر ہونے کے باوجود متواضع مفکر۔ ان کی مجلس میں علم وقار سیکھتا ہے اور شاگرد احترام۔ یہی وجہ ہے کہ وہ طلبہ کے دلوں میں مقام بھی رکھتے ہیں اور اعتماد بھی—اور یہی کسی استاد کی سب سے بڑی سند ہے۔
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم
24/05/2026
آ گئے ہو بیٹا ، چلو اب اتنے اچھے سے پڑھو کہ تمھارے لفظ دوسروں کو احساس دلائیں کہ ایک عالم دین بات کر رہا ہے ۔ اتنے اچھے انسان بنو کہ تمھارا کردار بتائے کہ ایک عالم ایسا ہوتا ہے ۔تمھیں خود اپنا تعارف نا کروانا پڑے ۔
24/05/2026
*پیش لفظ شرح قصیدہ بردہ شریف*
شارح : فقیر محمد اسلم رضوی چشتی خلیفہ مجاز آستانہ عالیہ بھیرہ شریف*
*مرکزی ناظم تبلیغ وتعلیم جماعت اہلسنت پاکستان*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اجمالی طور پر اللہ کریم نے انسان کو تین طرح کے ذرائع علم سے نوازا ہے:
*حواس خمسہ قوت باصرہ،قوت سامعہ،قوت شامہ، قوت ذائقہ، قوت لامسہ۔
اشیاء میں چونکہ تنوع تھا، اس لیے اللّٰه نے پانچ حواس عطا فرمائے تاکہ جس نوعیت کی چیز ہو اسی ذریعہ سے اس کا علم حاصل کیا جائے۔
جس دائرے میں یہ پانچ حواس کام کرتے ہیں اس کو *عالم محسوسات* کہا جاتا ہے۔
*عقل:-* کچھ علوم ایسے ہیں جو حواس خمسہ کی اپروچ سے باہر ہیں ان کے لیے اللّٰه کریم نے انسان کو قوت عقلیہ یا نور عقلی عطا فرمایا ہے۔ مثلاً 15613 کو 17 پر تقسیم کریں تو کیا جواب آئے گا؟ اس کا جواب دینا حواس خمسہ کا کام نہیں بلکہ عقل کا کام ہے۔
جس دائرے میں عقل کام کرتی ہے اس کو *عالم معقولات* کہتے ہیں۔
*نبوت:-* بہت سارے حقائق ایسے ہیں جو عام انسانوں کے حواس اور عقل کی اپروچ سے بہت بالا تر ہیں۔ ان کے بارے میں آگاہی دینے کے لیے اللہ کریم نے گروہِ انسانیت میں چنی ہوئی برگزیدہ ہستیوں کو منصبِ نبوت سے نوازا ہے۔ مثلاً
حضرت جبرائیل کون ہیں، ان کی شان کیا ہے؟
میکائیل کون ہیں، ان کی شان کیا ہے؟
اسرافیل کون ہیں، ان کی شان کیا ہے؟
عزرائیل کون ہیں، ان کی شان کیا ہے؟
کراماً کاتبین کون ہیں، انکا کام کیا ہے؟
جنت کیا ہے، کیسی ہے؟
حوران بہشتی کون ہیں، کیسی ہیں؟
غلمان جنت کون ہیں، کیسے ہیں؟
جنت کی نہریں کیسی ہیں؟
جنت کے محلات کیسے ہیں؟
جنت کی زندگی کیسی ہے؟
کون لوگ جنت کا استحقاق رکھتے ہیں؟
دوزخ کیا ہے، اس کے درکات کتنے ہیں؟
کون لوگ جہنم میں جائیں گے؟
برزخی زندگی کیسی ہے؟
قبر کے سوالات و جوابات کی نوعیت کیا ہے؟
کلمہ پڑھنے کا کیا فائدہ ہے؟
نماز پڑھنے کا فائدہ کیا ہے؟
روزہ رکھنے کا فائدہ کیا ہے؟
حج و زکوٰۃ کا طریقہ کیا ہے؟
ثواب کیا ہے؟
سدرۃ المنتہیٰ کیا ہے؟
عرش کی معلومات کیا ہیں؟
سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی ذات، جو غیب الغیب ہے اس کی شان و عظمت کیا ہے، وہ کن چیزوں سے پاک ہے؟
آج تک کتنے انبیائے کرام تشریف لائے، ان کے پیغامات کیا ہیں؟
پہلی قوموں کے کافروں کی داستانیں کیا ہیں؟
پہلی قوموں کے مومنوں کی عظمت کیا تھی؟
اس قسم کے بے شمار سوالوں کے جوابات کیلئے اللہ کریم نے نبیوں کو مبعوث فرمایا ہے۔
یاد رکھیں! نبوت جس دائرے میں کام کرتی ہے وہ *عالم غیب* کا دائرہ ہے اور کوئی بھی نبی یہ علم بذاتِ خود نہیں جانتا بلکہ اللّٰه تعالیٰ کی عطا اور بخشش سے اس کو علم حاصل ہوتا ہے۔
*حسنِ ترتیب اور کمال نتیجہ
حواس خمسہ،عقل اور نبوت میں اگر حسنِ ترتیب قائم رہے تو بڑا خوبصورت نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔
انسانی حواس کبھی غلطی کر جاتے ہیں۔ جیسے دور سے ریت کے میدان کا بصورت سراب نظر آنا، چلتی گاڑی پر مکانوں کا یوں لگنا جیسے وہ بھاگ رہے ہیں۔
حواس غلطی کریں تو عقل آگے بڑھتی ہے اور غلطی کی اصلاح کرتی ہے۔ لہٰذا حواس خمسہ کو قوتِ عقل یا نورِ عقلی کے تابع رکھنا ضروری ہے۔
کبھی عقل بھی غلطی کر جاتی ہے جیسے ابو الحکم سے ابو جہل بننا، غلام احمد سے محدث، مجدد، مسیح موعود،ظلی نبی ،بروزی نبی تشریعی نبی، عین محمد، فضیلت محمد اور پھر عین خدا ہونے کا منحوس سفر، کفر کے اتنے زینے، پھر گرتے گرتے اسفل السافلین میں چلے جانا، یہ سب عقل کی مت ماری جانے کی دلیلیں ہیں۔ کافر، منافق، مشرک، زندیق یہ سب عقل کے فتور سے ہی بنتے ہیں۔
عقل کی غلطیاں بعض اوقات بڑی سنگین قسم کی ہوتی ہیں تو عقل کو درست سمت میں رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو نورِ نبوت کے تابع کر دیا جائے۔ جب حواس خمسہ عقل کے تابع ہوں اور عقل اور اس کی صلاحیتیں نوِر نبوت کے تابع ہوں تو پھر جو کردار منصۂ شہود پہ طلوع ہوتے ہیں ان کو صدیق اکبر، فاروق اعظم، عثمان ذوالنورین، علی حیدر کرار، صحابہ کرام، اہل بیت اطہار، تابعین، تبع تابعین اور سلف صالحین رضی اللّٰہ عنھم ورحمتہ اللہ علیہم کے خوبصورت ٹائٹل سے یاد کیا جاتا ہے۔
حضرت امام شرف الدین البوصیری رحمتہ اللّٰه علیہ کا شمار انہی خوش خصال اور با کمال لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے عقل و شعور کی ساری صلاحیتوں کو ہمیشہ نورِ مصطفی صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم کے تابع رکھا ہے بلکہ آپ نے مخلوق کے ایک انبوہ کثیر کو یہ سلیقہ بھی سکھایا ہے کہ اپنی دانش کو مریدِ مصطفی صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم کیسے بنانا ہے۔ آپ کے نوکِ خامہ سے نکلنے والا عظیم قصیدہ *"الکواکب الدریہ فی مدح خیر البریة"* المعروف *"قصیدہ بردہ شریف"* اس حقیقت پر شاہد عادل ہے۔
حضرت امام بوصیری رحمۃ اللّٰه علیہ ساتویں صدی ہجری کی بلند پایہ علمی شخصیت ہیں۔ آپ یکم شوال ٦٠٨ ھ بمطابق ٧ مارچ ١٢١٣ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش البوصیر نامی شہر میں ہوئی۔
امام جلال الدین السیوطی کی روایت کے مطابق آپ الدلاص شہر میں پیدا ہوئے۔ اسی وجہ سے آپ کو دلاصی بھی کہا جاتا ہے۔
بعض نے کہا کہ آپ کے والدین میں سے ایک شخصیت البوصیر سے اور دوسری شخصیت الدلاص سے تعلق رکھتی تھی۔ اس لیے آپ کو البوصیری الدلاصی کہا جاتا ہے آپ کی زندگی کے اکثر واقعات پردہ سکوت میں ہیں۔
آپ کی زندگی کے دس سال بیت المقدس کے پڑوس میں گزرے۔ پھر قسمت نے ایک اور انگڑائی لی اور آپ اس شہر شفاء و رحمت میں پہنچے جہاں رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہیں جس شہر نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قدم بوسی کا اعزاز پاکر غبار المدینہ شفاء کی سند حاصل کرلی۔ جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قدوم میمنت لزوم سے یثرب سے مدینہ طیبہ بن گیا۔ امام بوصیری نے ایک عرصہ تک اس شہرجمال کی خنک فضاؤں میں اپنے شب و روز گزارے۔ پھر فروغِ علم کے مقصد کے لیے مکہ مکرمہ میں صحن حرم میں جاڈیرہ لگایا اور تیرہ سال اللہ تعالیٰ کے گھر کے سائے میں تعلیم قرآن کا فریضہ ادا کرتے رہے۔ یاد رہے کہ آپ قرآن وحدیث کے جیدعالم تھے۔ بہت سے لوگوں نے آپ سے علمی استفادہ کیا۔ بعد ازاں سرکاری ملازمت کے سلسلے میں بلبیس تشریف لے گئے۔ حیات مستعار کے آخری حصے میں اسکندریہ میں قیام پذیر تھے۔ بالآخر حاجی خلیفہ کی روایت کے مطابق 694 ھ میں اور امام سیوطی کی روایت کے مطابق 695 ھ اور مقریزی اور ابن شاکر کی روایت کے مطابق 696 ھ میں اسکندریہ میں وفات پائی۔ فسطاط میں امام شافعی کے مزار کے قریب آپ کو سپردِ خاک کیا گیا۔
آپ کے تذکرہ کی کتابوں میں موجود ہے کہ آپ فن خطاطی کے ماہر تھے۔ کتابوں کی نقل کر کے اپنی روزی رزق کا سامان کیا کرتے تھے۔شعر و ادب کی دنیا میں آپ بلند ترین مقام پر فائز تھے۔آپ کا کلام دیوان بوصیری کے نام سے قاہرہ سے چھپ چکا ہے جس میں کئ قصائد اور نظمیں شامل ہیں ۔آپ کا سب سے مشہور قصیدہ الکواکب الدریہ فی مدح خیر البریہ المعروف قصیدہ بردہ شریف ہے جس کا دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ موجود ہے اور سینکڑوں شروح موجود ہیں۔عربی، فارسی، اردو، لاطینی، پنجابی اور فرانسیسی زبانوں میں اس پر قابلِ قدر کام ہو چکا ہے۔
مولانا فیاض الدین نظامی حیدرآبادی دکنی فرماتے ہیں کہ اس قصیدہ کو میں نے 1956ء میں مسجد نبوی کی چھت کے گنبدوں میں خوش خط لکھا ہوا دیکھا ہے۔ یہاں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہل محبت کے ہاں اس قصیدہ کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔قصیدہ بردہ شریف کی وجہ تصنیف کے متعلق آپ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ "مجھ پر فالج کا شدید حملہ ہوا آدھا جسم بالکل بے حس و حرکت ہو گیا۔ حکیموں طبیبوں نے بہت علاج کیا لیکن فائدہ نہ ہوا۔ تو انتہائی پریشانی کے عالم میں میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے آقا کریم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کروں اور پھر اس کے توسل سے اللہ کی بارگاہ میں صحت کے لیے دعا کروں۔ اللہ کریم کی توفیقات سے میں نے یہ سعادت حاصل کی۔ پھرایک دن میں سویا تو قسمت جاگ گئی۔ خواب میں دیکھتا ہوں کہ آقا کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں آپ نے اپنا دست مبارک میرے جسم پر پھیرا اور اپنی چادر رحمت میرے اوپر ڈال دی۔ آپ کے دست شفا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت عطا فرمائی۔جب میں نیند سے بیدار ہوا تو میں نے اپنے آپ کو صحت مند پایا۔ جب میں صبح باہر نکلا تو ایک درویش سے میری ملاقات ہو گئی جن کو میں جانتا نہیں تھا اس نے مجھ سے کہا قصیدہ سناؤ۔ میں نے کہا کون سا قصیدہ تو وہ کہنے لگا جس کی ابتدا
امن تذكر جيران بذي سلم
سے ہوتی ہے۔ اللہ کی قسم میں نے تمہیں اس قصیدہ کو رسول انور صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کے دربار میں پڑھتے سنا ہے۔"
آہستہ آہستہ اس قصیدے کی شہرت اس قدر ہوئی کے اس وقت کے وزیر بہاؤ الدین جو عاشقِ رسول تھے ان تک بھی بات پہنچ گئی۔ انہوں نے اپنے زیر نگرانی قصیدے کو نقل کروایا اور اپنے آپ سے یہ عہد کیا کہ وہ ہمیشہ اس قصیدہ کو کھڑا ہو کر پاؤں سے جوتے اتار کر اور سر ڈھانپ کر سناکریں گے۔ انہوں نے پھر اس چیز کو اپنے معمولات میں شامل کیا اور اس قصیدے کی بدولت ان کے خاندان کو اللہ تعالیٰ نے ڈھیروں فیوض و برکات سے نوازا۔
راقم الحروف کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں اپنے آقا کریم، روف و رحیم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ کریمانہ کے حصول کے لیے اس قصیدہ شریف کا ترجمہ اور شرح لکھوں اور دست بستہ عرض کروں کہ
"یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیک و سلم جس طرح آپ نے حضرت امام شرف الدین بوصیری کو نوازا ہے، اسی طرح اپنی چادر مبارک کے دو دھاگوں کا سایہ مجھے بھی عنایت فرما دیں تاکہ مجھ غریب العمل کی نجات اخروی کا سامان ہو سکے میرے کریم!
؏ تشنہ لب چڑیا کے منہ میں گر نمی آجائے گی
تیرے دریائے کرم میں کیا کمی آجائے گی
یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم! کسی قسم کے دعویٰ علم کے ساتھ حاضر نہیں ہوا۔ میں آپ کے در کا ادنیٰ فقیر اور زمین کے سینے پر آپ کا سب سے زیادہ گناہ گار غلام ہوں اور رحمت کی خیرات کا سوالی ہوں۔
؏ شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را
آخر میں اللہ ربّ العزت کی بارگاہ بےکس پناہ میں دعا ہے کہ اللّٰہ کریم حضرت امیر السالکین رحمتہ اللہ علیہ،حضرت غازی اسلام رحمتہ اللہ علیہ حضورضیاءالامت رحمتہ اللہ علیہ،حضرت حافظ عبد الجلیل المعروف بابا جی گدڑی والی سرکار رحمتہ اللہ علیہ،میرےوالدین رحمتہ اللہ علیہمااور میرے وہ اساتذہ کرام جووصال فرماچکےہیں اللّٰہ تعالیٰ سب کے درجات میں ترقی عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ناچیز
ذرہ خاک محمد اسلم رضوی چشتی
5 اپریل 2026ء
24/05/2026
کتنا پیارا منظر ہے
اللہ آپ کو بھی یہاں لے جائے
آج آپ اپنے کسی استاد محترم کا ایسا جملہ کمنٹ کریں جو انہوں نے آپ کے لیے اسپیشل کہا یا صرف آپ کو کہا
دارالعلوم محمدیہ غوثیہ میں اپنے کلاس فیلوز کا نام کمنٹ کریں جو ابھی تک آپ کو یاد ہیں ۔ دیکھتے ہیں کتنی یاداشت ہے ۔ بے شک سال بھی شامل کر دیں