On the occasion of Happy Mother's Day, the Students of Iqra Education System..🌷
Children's feelings for their mothers
سکول کے بچے والدہ کے لیے مختلف کارڈز کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے
Iqra Education System
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Iqra Education System, School, Rawalpindi.
Brain games today, brilliant minds tomorrow! 🧠💡
جماعت پریپ کے بچوں کی سرگرمی اور مسکراہٹیں
کیا آپ جانتے ہیں؟ 🤔
ہمارے مونٹیسوری بچے بھی جانتے ہیں!
آج کی جنرل نالج سرگرمی میں بچوں نے کمال کا اعتماد دکھایا 👏
پھولوں کی طرح کھلے ہمارے طلبہ!
Syed Hamza Ali & Mahnoosh Azam recite Surah Al-Fatiha with Urdu & English translation 🎶✨ Pride of Iqra!
السلام علیکم
Teachers Required
for Montessori Class
👉Intermediate/Graduation +
2Years Experience
👉 B.S + 2Years Experience
صرف صادق آباد کے رہائشی رابطہ کریں
*Iqra Education System*
Near Muhammadi Masjid Sadiqabad Rawalpindi
0345-5055975
Prep Class Literary Presentation
نظم پیش کش میں پریپ کے طالب علموں نے شاندار مہارت کا مظاہرہ کیا۔ تعلیمی سفر کا اہم سنگِ میل۔
*Focused reading time*
Students reading individually and improving their concentration and confidence. 📚✨
انفرادی طور پر پڑھنے کی عادت نہ صرف بچوں کی Concentration کو بہتر بناتی ہے بلکہ ان میں Confidence بھی پیدا کرتی ہے۔
*ہر بچہ اپنی رفتار سے سیکھ رہا ہے۔*
Students of Class Two
*Turning grammar into fun!*
کلاس میں Nouns کا تصور کچھ اس انداز سے سمجھایا گیا کہ طلباء کے لیے "Naming Words" کی پہچان ایک دلچسپ کھیل بن گئی۔ 🎯📖
Class One Students
پاکستان بھر کے تمام نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں پر مشتمل ’جوائنٹ ایکشن کمیٹی‘ کی جانب سے یہ محض ایک بیان یا تحریر نہیں، بلکہ ریاست کے اربابِ اختیار، پالیسی سازوں اور مقتدر حلقوں کی خدمت میں ایک تفصیلی چارج شیٹ اور قوم کے تاریک ہوتے مستقبل کا نوحہ ہے۔
یہ کیسی بدقسمتی اور کیسا قومی المیہ ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پر جب بھی کوئی مہرہ ہلتا ہے، موسم کے ذرا سے تیور بگڑتے ہیں، یا کوئی ہنگامی اور معاشی مسئلہ درپیش آتا ہے، تو اس کا سب سے پہلا اور آسان ترین نشانہ پاکستان کے تعلیمی ادارے بنتے ہیں۔ حکمرانوں کی عیاشی ہو، بسنت کے ہنگامے ہوں، سردیوں کی سموگ ہو یا اب عالمی سطح پر پٹرول کا بحران؛ غرض جب بھی، جہاں بھی بیٹھے ہوئے کسی حکمران یا بیوروکریٹ کے ذہن میں کوئی مسئلہ ابھرتا ہے، اس کا واحد حل سکول بند کرنے کی صورت میں نکالا جاتا ہے۔ دنیا جس آپشن کو ریاست کی تباہی سمجھ کر سب سے آخر میں سوچنے سے بھی گھبراتی ہے، پاکستان کا سب سے پہلا اور حتمی آپشن وہی ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور توانائی کا شدید بحران سر اٹھا رہا ہے۔ دنیا بھر کی ریاستیں اس معاشی آفت سے نمٹنے کے لیے اپنی اپنی انتظامی اور مالیاتی حکمتِ عملیاں مرتب کر رہی ہیں۔ مگر ریاستِ پاکستان نے اپنی روایتی عاقبت نااندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے توانائی کا سارا بوجھ تعلیمی اداروں کی بندش پر ڈال دیا ہے، گویا سکول بند کرنے سے عالمی پٹرول کا سارا بحران حل ہو جائے گا۔
اس حالیہ بندش کے اثرات کا جائزہ لینے سے پہلے ریاست کو اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام پہلے ہی کس نہج پر کھڑا ہے۔ اس وقت پاکستان میں 2 کروڑ 60 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں جو کہ دنیا میں آؤٹ آف سکول بچوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ ہماری شرحِ خواندگی بمشکل 58 سے 60 فیصد کے درمیان رینگ رہی ہے اور ریاست اپنی جی ڈی پی کا بمشکل ڈیڑھ سے دو فیصد تعلیم پر خرچ کرتی ہے۔ ایک ایسا ملک جو پہلے ہی تعلیمی ایمرجنسی کے کٹہرے میں کھڑا ہو، وہاں جو بچے اپنے والدین کی قربانیوں سے سکول پہنچ بھی رہے ہیں، ان کے تعلیمی تسلسل پر بار بار کلہاڑا چلانا ایک قومی خودکشی کے مترادف ہے۔ ریاست کو عالمی منظر نامے پر ذرا ایک نظر دوڑانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دیکھ سکے کہ مہذب دنیا تعلیم کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ سے لے کر موجودہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران تک، یورپ توانائی کے شدید ترین مسائل کا شکار رہا ہے۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے اس کا مقابلہ مارکیٹوں کے اوقات محدود کر کے، سٹریٹ لائٹس کم کر کے، اور عوام کو ذاتی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کی طرف راغب کرنے کے لیے کرایوں میں بھاری سبسڈی دے کر کیا، لیکن ایک دن کے لیے بھی اپنے تعلیمی اداروں کو بند نہیں کیا۔ جاپان اور سنگاپور جیسے ممالک، جو پٹرول کی ایک ایک بوند درآمد کرنے پر مجبور ہیں اور جن کی معیشت عالمی بحرانوں سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے، وہاں آج بھی سکول معمول کے مطابق کھل رہے ہیں۔ اسی طرح ان برف پوش ممالک کا تصور کریں جہاں ہڈیاں جما دینے والی سردی پڑتی ہے۔ فن لینڈ اور کینیڈا میں جب درجہ حرارت منفی 30 ڈگری تک گر جاتا ہے، تب بھی حکومتیں برف کاٹ کر راستے بناتی ہیں اور بچے سکول جاتے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ سڑکیں بند ہونے سے معیشت رکتی ہے، لیکن سکول بند ہونے سے نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
ہمیں اس بات کا بخوبی ادراک ہے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی حکومتِ وقت کے ان حالیہ اقدامات کو کھلے دل سے سراہتی ہے جن میں عالمی توانائی بحران کے تناظر میں سرکاری محکموں میں ورک فرام ہوم کی پالیسی متعارف کروائی گئی ہے اور افسر شاہی کے پٹرول کوٹے میں کٹوتی کے اعلانات کیے گئے ہیں۔ بحیثیتِ قوم ہم ان فیصلوں کو انتہائی بالغ نظری اور خوش آئند قرار دیتے ہیں۔ لیکن ہمارا دکھ، کرب اور احتجاج اس مقام سے شروع ہوتا ہے جب اسی پٹرول اور توانائی کی بچت کے نام پر دن کے اجالے میں قدرتی روشنی پر چلنے والے سکولوں کو تالے لگا دیے جاتے ہیں۔ یہ استدلال کہ سکول بند کرنے سے ریاست کا پٹرول بچتا ہے، ایک ایسا بودا استدلال ہے جس پر نظرِ ثانی کی شدید ضرورت ہے۔ اگر ریاست کو واقعی پٹرول بچانا ہے تو رات گئے تک پوری آب و تاب سے روشن شاپنگ مالز کیوں کھلے ہیں؟ وی آئی پی پروٹوکولز کی سینکڑوں گاڑیاں سڑکوں پر کیوں دوڑ رہی ہیں؟ دن کے وقت چلنے والے سکولوں کو بند کر کے ہم شاید چند لیٹر پٹرول بچا لیں، لیکن درحقیقت ہم قوم کے ذہنوں کو تاریک کر رہے ہیں۔
ریاست ذرا اس ہوشربا ریاضیاتی حساب پر غور کرے کہ ہمارا تعلیمی کلینڈر کس طرح تباہی کے دہانے پر ہے۔ ایک سال کے 365 دنوں میں سے، اگر ہم صرف ہفتہ اور اتوار کی دو تعطیلات گنیں تو 104 دن سیدھے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ موسمِ گرما کی تقریباً 75 اور موسمِ سرما کی 15 چھٹیاں ملا کر 90 دن منہا ہو گئے۔ مذہبی، قومی اور گزٹڈ تعطیلات اوسطاً 15 دن بنتی ہیں۔ سالانہ اور ششماہی امتحانات، ان کی تیاری اور سپورٹس کی سرگرمیاں کم از کم 20 دن نگل جاتی ہیں۔ اس حساب کے بعد کاغذوں پر ایک پاکستانی طالب علم کے پاس بمشکل 135 تدریسی دن بچتے ہیں۔ اب اس میں نومبر اور دسمبر کی سموگ، سیاسی دھرنوں اور حالیہ پٹرول بچت مہم کی چھٹیاں شامل کر لیں۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک طالب علم سال میں بمشکل 110 سے 115 دن ہی سکول جا پاتا ہے۔ جبکہ دنیا کے بہترین تعلیمی ماڈلز اس بات پر متفق ہیں کہ ایک تعلیمی سال کم از کم 200 سے 220 خالص تدریسی دنوں پر محیط ہونا چاہیے۔ 110 دنوں کی پڑھائی تعلیم نہیں، محض نصاب کو رٹا لگانے کی ایک بے روح مشق ہے۔
ریاست کو اس بحران سے نکالنے کے لیے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی اربابِ اختیار کے سامنے یہ ٹھوس اور حتمی مطالبات رکھتی ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے تعلیم کو ہسپتالوں، ریسکیو اور دفاع کی طرح لازمی سروس قرار دیا جائے تاکہ کوئی بھی بیوروکریٹ یا حکمران کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سکول بند کرنے کا حکم جاری نہ کر سکے۔ تعلیمی اداروں میں دو چھٹیوں کی عیاشی فوری ختم کر کے صرف اتوار کی ایک چھٹی بحال کی جائے تاکہ ہمیں تعلیمی سال میں کم از کم 50 اضافی تدریسی دن مل سکیں۔ توانائی بچت کا حقیقی حل کمرشل اور تجارتی مراکز کو مغرب کے بعد ہر صورت بند کرنے میں ہے، لہٰذا توانائی اور پٹرول کی اصل بچت رات کی روشنیوں اور غیر ضروری کمرشل سرگرمیوں کو روک کر کی جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ واشنگٹن، تہران اور تل ابیب کے درمیان جاری جنگ کا تاوان پاکستان کی آنے والی نسلوں کے ذہنوں پر تالے لگا کر وصول کرنا بند کیا جائے اور ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے فی الفور کھولے جائیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی واضح کرتی ہے کہ اگر ان مطالبات پر فوری غور نہ کیا گیا تو ہم اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر ہر قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔
جب ریاضی بن جائے مزے دار! 🎉
Maths Activity 🧮✨
کھیل ہی کھیل میں ٹیبلز یاد،
سوچنے کی صلاحیت مضبوط،
اور اعتماد میں نمایاں اضافہ! 💪📚
🌟 اقراء ایجوکیشن سسٹم، راولپنڈی 🌟
ہم بچوں کو صرف کتابی علم نہیں دیتے،
بلکہ عملی سرگرمیوں کے ذریعے ذہنی نشوونما، تیز رفتار سیکھنے اور پُراعتماد شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔
یہاں ہر سبق ہے دلچسپ، ہر دن ہے سیکھنے کا نیا موقع!
📢 داخلے جاری ہیں — آج ہی اپنے بچے کا داخلہ یقینی بنائیں۔
#ریاضی
ایک طرف بسنت دوسری طرف پولیس کے چھاپے صوبہ بھر میں تعلیمی ادارے بند بچوں کو چھٹیاں،
سمجھ سے بالاتر فیصلے
Click here to claim your Sponsored Listing.