21/06/2025
عید مباہلہ کیا ہے
عید مباہلہ" ایک انتہائی اہم اور فضیلت والا دن ہے جو ہر سال 24 ذی الحجہ کو منایا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایک تاریخی واقعہ کی یادگار ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور نجران کے عیسائیوں کے درمیان پیش آیا تھا۔
عید مباہلہ کیا ہے؟
"مباہلہ" کے لغوی معنی ایک دوسرے پر لعنت یا بددعا کرنا ہے۔ اصطلاح میں، جب دو فریق کسی معاملے میں حق و باطل پر بحث کریں اور دلائل سے مسئلہ حل نہ ہو سکے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کرتے ہیں کہ جو جھوٹا ہو اس پر لعنت اور عذاب نازل ہو۔
واقعہ مباہلہ اور قرآنی آیت:
یہ واقعہ 10 ہجری میں پیش آیا جب نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کے لیے مدینہ آیا۔ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے بارے میں بحث کی، اور جب تمام دلائل بے سود ثابت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
سورہ آل عمران، آیت 61:
"فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ"
ترجمہ: "پھر جو کوئی تم سے اس (عیسیٰ کے معاملے) میں علم آجانے کے بعد جھگڑا کرے، تو کہہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنی عورتوں کو، ہم اپنی جانوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنی جانوں کو، پھر سب مل کر (اللہ سے) دعا کریں اور اللہ کی لعنت جھوٹوں پر ڈالیں۔"
اس آیت کے نزول کے بعد، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مباہلے کے لیے تشریف لائے تو اپنے ساتھ صرف اپنے خاندان کے چند افراد کو لائے: حضرت علی علیہ السلام (آپؐ کی "جان" کے طور پر)، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا (آپؐ کی "عورتوں" میں سے)، اور امام حسن و امام حسین علیہما السلام (آپؐ کے "بیٹوں" میں سے)۔
جب عیسائیوں نے ان مبارک ہستیوں کو دیکھا تو وہ گھبرا گئے اور انہیں یقین ہو گیا کہ اگر مباہلہ ہوا تو ان پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے مباہلہ سے انکار کر دیا اور جزیہ دینے پر راضی ہو گئے۔ یہ واقعہ اسلام کی صداقت اور اہل بیت علیہم السلام کی فضیلت کا ایک واضح ثبوت بن گیا۔
عید مباہلہ کیسے منائی جاتی ہے؟
شیعہ مسلمان اس دن کو اللہ تعالیٰ کی نصرت، اسلام کی فتح، اور اہل بیت علیہم السلام کی عظمت کے اظہار کے طور پر مناتے ہیں۔ اس دن کی مناسبت سے کئی اعمال انجام دیے جاتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
* غسل کرنا: اس دن غسل کرنا مستحب ہے۔
* نماز: دو رکعت نماز ادا کرنا مستحب ہے (جس کا خاص طریقہ روایات میں موجود ہے)۔
* دعائیں اور زیارات: مباہلہ کی مناسبت سے خاص دعائیں پڑھی جاتی ہیں، جن میں مباہلہ کی دعا اور زیارت آل یاسین شامل ہیں۔ اہل بیت علیہم السلام کی فضیلت اور ان کی پاکیزگی کا ذکر کیا جاتا ہے۔
* صدقہ و خیرات: فقراء و مساکین کی مدد کرنا اور صدقہ دینا اس دن کی فضیلت میں اضافہ کرتا ہے۔
* اجتماعات: مختلف مقامات پر مجالس اور محافل کا انعقاد کیا جاتا ہے جہاں واقعہ مباہلہ کے فضائل اور اس کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔
* تبرکات کا تقسیم کرنا: بعض مقامات پر تبرکات اور مٹھائیاں بھی تقسیم کی جاتی ہیں۔
عید مباہلہ اہل بیت علیہم السلام کی عظیم فضیلت اور اسلام کی حقانیت کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ یہ دن اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ حق کا دفاع کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی نصرت حاصل ہوتی ہے اور باطل کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔