سورۃ البقرۃ (آیات 131-135): ترجمہ اور تفسیر
ترجمہ:
آیت 131:
جب ان کے رب نے کہا: "اسلام لاؤ!" تو ابراہیمؑ نے کہا: "میں نے دنیا و آخرت میں تمام عالموں کے لیے اسلام اختیار کیا۔"
آیت 132:
اور ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے اسماعیلؑ سے کہا: "بیٹے! اللہ نے مجھے اس کام کا حکم دیا ہے، تو کیا تم اس میں میری مدد کرتے ہو؟" اسماعیلؑ نے کہا: "جو کچھ تمہیں حکم دیا گیا ہے، آپ اسے پورا کریں، آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔"
آیت 133:
اور جب ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ دونوں اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے، اور ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کو قربانی کے لیے لٹایا،
آیت 134:
تو ہم نے ان دونوں کو ایک عظیم قربانی کے عوض چھڑا لیا۔
آیت 135:
اور ہم نے ان کے لیے بعد میں آنے والی نسلوں میں یہ بات قائم رکھی کہ: "ابراہیمؑ پر سلام ہو!"
---
تفسیر:
1. آیت 131:
حضرت ابراہیمؑ کا اپنی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا کی خاطر مکمل طور پر اسلام لانا تھا۔ اللہ نے ان سے فرمایا کہ وہ اسلام اختیار کریں، تو انہوں نے دنیا و آخرت میں مکمل طور پر اللہ کے حکم کے سامنے تسلیم ہونے کا عہد کیا۔
2. آیت 132:
حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے اسماعیلؑ سے اللہ کے حکم کی تکمیل کے لیے مدد کی درخواست کی۔ اسماعیلؑ نے اپنے والد کی بات کو قبول کیا اور اللہ کی رضا میں مکمل تسلیم ہونے کا عہد کیا۔
3. آیت 133:
یہ آیت حضرت ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کے قربانی کے عمل کی وضاحت کرتی ہے، جب دونوں نے اللہ کے حکم کو بغیر کسی اعتراض کے قبول کیا اور اس پر عمل کیا۔
4. آیت 134:
اللہ نے حضرت ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کی قربانی کو قبول کیا اور ان کی جگہ ایک عظیم قربانی کے ذریعے ان کی جان بچا لی۔
5. آیت 135:
اللہ نے حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا اور ان کے بعد آنے والوں کو بھی سلام پیش کرنے کا حکم دیا، تاکہ ان کی قربانی کا اثر قائم رہے۔
Quran e Pak
"Spreading the light of Islam, one verse at a time. �
Sharing Quranic wisdom and Islamic teachings. Spread joy wherever you go.”**
1. **“Indeed, with hardship comes ease.”** (Qur'an 94:6)
2. **“When you feel all alone, remember Allah is always with you.”**
3. **“A heart that beats with the love of Allah is always at peace.”**
4. **“Make time for Allah, and He will make time for your heart.”**
5. **“Dua is the most powerful weapon of a believer.”**
6. **“Success is not in what you have, but in how you connect with yo
سورۃ البقرۃ (آیات 126-130): ترجمہ اور تفسیر
ترجمہ:
آیت 126:
اور (یاد کرو) جب ابراہیمؑ نے دعا کی: "اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے، اور اس کے رہنے والوں کو، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائیں، ہر طرح کے پھلوں سے رزق عطا فرما۔" اللہ نے فرمایا: "اور جو کفر کرے گا، اسے بھی میں کچھ مدت کے لیے فائدہ دوں گا، پھر اسے آگ کے عذاب کی طرف دھکیل دوں گا، اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔"
آیت 127:
اور جب ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے، (تو دعا کرتے تھے): "اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے۔"
آیت 128:
"اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک فرمانبردار امت پیدا فرما، اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے دکھا دے، اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔"
آیت 129:
"اے ہمارے رب! ان میں ایک رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے، اور ان کا تزکیہ کرے۔ بے شک تو ہی زبردست، حکمت والا ہے۔"
آیت 130:
اور کون ہے جو ابراہیمؑ کے دین سے منہ موڑے، سوائے اس کے جو اپنے آپ کو بے وقوف بنائے؟ ہم نے دنیا میں اسے چن لیا، اور آخرت میں وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا۔
---
تفسیر:
1. آیت 126:
حضرت ابراہیمؑ کی دعا میں مکہ کو امن کا گہوارہ بنانے اور اہل ایمان کو رزق دینے کی التجا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ دنیاوی رزق کافروں کو بھی ملے گا، لیکن آخرت میں ان کے لیے عذاب ہے۔
2. آیت 127:
یہ آیت بیت اللہ کی تعمیر کی عظیم خدمت کو بیان کرتی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ نے بنیادیں اٹھاتے وقت دعا کی کہ اللہ اس عمل کو قبول فرمائے۔
3. آیت 128:
انہوں نے دعا کی کہ انہیں اور ان کی اولاد کو اللہ کا فرمانبردار بنایا جائے، اور ان کے لیے عبادت کے طریقے واضح کیے جائیں۔ اللہ سے توبہ اور رحم طلب کیا گیا۔
4. آیت 129:
حضرت ابراہیمؑ نے دعا کی کہ ان کی نسل میں ایک رسول مبعوث ہو جو اللہ کی آیات پڑھائے، تعلیم دے، اور لوگوں کا تزکیہ کرے۔ یہ دعا نبی اکرم ﷺ کی بعثت کی بشارت ہے۔
5. آیت 130:
یہ آیت بتاتی ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کے دین کو چھوڑنا عقل و دانش کی خلاف ورزی ہے۔ اللہ نے انہیں دنیا اور آخرت میں عزت عطا کی۔
سورۃ البقرۃ (آیات 121-125): ترجمہ اور تفسیر
ترجمہ:
آیت 121:
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے، وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے۔ یہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو اس کا انکار کریں، وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔
آیت 122:
اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی، اور یہ کہ میں نے تمہیں تمام جہان والوں پر فضیلت دی۔
آیت 123:
اور اس دن سے ڈرو جب کوئی جان کسی دوسرے کے کام نہ آئے گی، نہ اس سے کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا، نہ کوئی سفارش اسے نفع دے گی، اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔
آیت 124:
اور (یاد کرو) جب ابراہیمؑ کو ان کے رب نے چند باتوں میں آزمایا، اور انہوں نے انہیں پورا کر دیا، تو اللہ نے فرمایا: "میں تمہیں لوگوں کا امام بناؤں گا۔" انہوں نے کہا: "اور میری اولاد میں سے بھی؟" فرمایا: "میرا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچتا۔"
آیت 125:
اور (یاد کرو) جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے رجوع کی جگہ اور امن کی جگہ بنایا، اور حکم دیا: "ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ بناؤ۔" اور ہم نے ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کو تاکید کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔
---
تفسیر:
1. آیت 121:
یہ آیت ان اہل کتاب کی تعریف کرتی ہے جو کتاب کو صحیح طرح پڑھتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ حقیقی کامیابی ایمان اور عمل کے ساتھ ہے۔
2. آیت 122:
بنی اسرائیل کو انعامات یاد دلائے جا رہے ہیں، تاکہ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور نافرمانی چھوڑ دیں۔
3. آیت 123:
یہ قیامت کے دن کا ذکر ہے جب کسی کی سفارش یا معاوضہ کسی کام نہیں آئے گا۔ ہر شخص کو اپنے عمل کا حساب دینا ہوگا۔
4. آیت 124:
حضرت ابراہیمؑ کی آزمائش اور ان کی کامیابی کا ذکر ہے۔ اللہ نے انہیں امام بنایا اور واضح کر دیا کہ یہ وعدہ صرف نیک لوگوں کے لیے ہے، ظالموں کے لیے نہیں۔
5. آیت 125:
بیت اللہ کو امن اور عبادت کا مرکز بنایا گیا۔ ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کو حکم دیا گیا کہ اسے عبادت کرنے والوں کے لیے پاکیزہ رکھیں۔ یہ آیت بیت اللہ کی عظمت اور صفائی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
سورۃ البقرۃ (آیات 116-120): ترجمہ اور تفسیر
ترجمہ:
آیت 116:
اور وہ کہتے ہیں: "اللہ نے (اپنے لیے) اولاد بنا رکھی ہے۔" پاک ہے وہ (اس سے)! بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے، سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔
آیت 117:
وہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ جب وہ کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے صرف کہتا ہے: "ہو جا"، پس وہ ہو جاتی ہے۔
آیت 118:
اور جن لوگوں کے پاس علم نہیں، وہ کہتے ہیں: "اللہ ہم سے کیوں کلام نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟" اسی طرح ان لوگوں نے بھی کہا جو ان سے پہلے تھے۔ ان کے دل ایک جیسے ہیں۔ بے شک ہم نے نشانیاں واضح کر دی ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں۔
آیت 119:
بے شک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اور تم سے جہنم والوں کے بارے میں کوئی سوال نہ کیا جائے گا۔
آیت 120:
یہود و نصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چل پڑو۔ کہہ دو: "اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے۔" اور اگر تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے، تو تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔
---
تفسیر:
1. آیت 116:
یہ آیت ان لوگوں کے گمان کی تردید کرتی ہے جو اللہ کے لیے اولاد کا تصور رکھتے ہیں، چاہے وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیں یا حضرت عیسیٰؑ کو اللہ کا بیٹا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے۔
2. آیت 117:
اللہ کی قدرت اور خالقیت کا ذکر ہے۔ جب اللہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ فوراً "کُن" کہہ کر اسے وجود میں لے آتا ہے۔
3. آیت 118:
یہ آیت ان لوگوں کے اعتراض کا ذکر کرتی ہے جو معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن یہ واضح کرتی ہے کہ ایسے لوگوں کے دل ضدی ہیں، اور ان کے اعتراضات پہلے لوگوں کی طرح ہیں۔
4. آیت 119:
اللہ نے نبی کریم ﷺ کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، اور آپؐ کا کام حق کو پہنچانا ہے، نہ کہ انکار کرنے والوں کے انجام کے بارے میں جواب دہ ہونا۔
5. آیت 120:
یہود و نصاریٰ کے بارے میں یہ تنبیہ ہے کہ وہ مسلمانوں سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک مسلمان ان کے طریقوں کو نہ اپنائیں۔ مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے تھامے رہیں اور کسی کے دباؤ میں آ کر دین کو ترک نہ کریں۔
سورۃ البقرۃ (آیات 111-115): ترجمہ اور تفسیر
ترجمہ:
آیت 111:
اور یہ (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ جنت میں ہرگز کوئی داخل نہ ہوگا سوائے اس کے جو یہودی یا عیسائی ہو۔ یہ ان کی اپنی خواہشیں ہیں۔ کہہ دو: "اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔"
آیت 112:
ہاں، جس نے اپنا رخ اللہ کے تابع کر دیا اور وہ نیک عمل کرنے والا ہے، تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے، اور انہیں نہ کسی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
آیت 113:
اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں، اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودیوں کے پاس کچھ نہیں، حالانکہ وہ (سب) کتاب پڑھتے ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی کہا جو علم نہیں رکھتے۔ پس اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔
آیت 114:
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے منع کرے اور ان کی ویرانی کے درپے ہو؟ ایسے لوگوں کو مناسب نہیں کہ وہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔
آیت 115:
اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کے ہیں، تو تم جس طرف بھی رخ کرو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔ بے شک اللہ وسعت والا، علم والا ہے۔
---
تفسیر:
1. آیت 111:
یہ آیت یہودیوں اور عیسائیوں کے اس گمان کو رد کرتی ہے کہ صرف وہی جنت کے حقدار ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ ان کی جھوٹی خواہشات ہیں اور ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔
2. آیت 112:
اللہ فرماتے ہیں کہ جنت کا حقدار وہ ہے جو خالص اللہ کی اطاعت کرے اور نیک عمل کرے، نہ کہ کسی مخصوص مذہب کا دعویدار۔
3. آیت 113:
یہودی اور عیسائی ایک دوسرے پر اعتراض کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی نجات کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ دونوں کتاب کو پڑھتے ہیں۔ اللہ قیامت کے دن ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔
4. آیت 114:
یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اللہ کی عبادت گاہوں کو برباد کرنے یا ان میں اللہ کے ذکر کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ظلم کی انتہا ہے، اور ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب ہے۔
5. آیت 115:
اللہ کی وسعت اور ہمہ گیریت بیان کی گئی ہے کہ زمین کا ہر گوشہ اللہ کا ہے، اور جس سمت بھی رخ کیا جائے، اللہ وہاں موجود ہے۔
سورۃ البقرۃ (آیات 106-110): ترجمہ اور تفسیر
ترجمہ:
آیت 106:
ہم کسی آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی آیت لے آتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے؟
آیت 107:
کیا تم نہیں جانتے کہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہت اللہ ہی کے لیے ہے، اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں؟
آیت 108:
کیا تم اپنے رسول سے اسی طرح سوالات کرنا چاہتے ہو جیسے اس سے پہلے موسیٰؑ سے سوالات کیے گئے تھے؟ اور جو کوئی ایمان کو کفر سے بدل دے، وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
آیت 109:
اہل کتاب میں سے اکثر یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں، حسد کی وجہ سے، حالانکہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے۔ پس تم معاف کر دو اور درگزر کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
آیت 110:
نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور جو بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے پاس پا لو گے۔ بے شک اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔
---
تفسیر:
1. آیت 106:
اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ذکر ہے کہ وہ آیات کو منسوخ کرنے یا ان کے بدلے بہتر آیات لانے پر قادر ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے جواب ہے جو منسوخی کے مسئلے کو اعتراض بناتے تھے۔
2. آیت 107:
یہ آیت اللہ کی بادشاہت اور اختیار کو بیان کرتی ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے، اور انسان کو اللہ کے سوا کوئی حقیقی مددگار نہیں۔
3. آیت 108:
یہ آیت مسلمانوں کو اس رویے سے منع کرتی ہے جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰؑ کے ساتھ اپنایا تھا، یعنی غیر ضروری اور بے جا سوالات کرنا۔
4. آیت 109:
اہل کتاب کے حسد اور عداوت کا ذکر ہے کہ وہ مسلمانوں کو کفر کی طرف لوٹانا چاہتے ہیں۔ اللہ مسلمانوں کو صبر، معافی اور درگزر کا حکم دیتا ہے۔
5. آیت 110:
نماز اور زکوٰۃ کو ایمان کے عملی اظہار کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور یہ کہ انسان جو بھی نیکی کرے گا، اللہ کے پاس اس کا بہترین بدلہ پائے گا۔
سورۃ البقرۃ (آیات 101-105): ترجمہ اور تفسیر
ترجمہ:
آیت 101:
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول آیا جو ان کے پاس موجود کتاب کی تصدیق کرتا تھا، تو اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے ڈال دیا گویا وہ کچھ جانتے ہی نہیں۔
آیت 102:
اور انہوں نے ان چیزوں کے پیچھے لگا دیا جو شیطان سلیمانؑ کی بادشاہت کے بارے میں جھوٹ باندھتے تھے۔ حالانکہ سلیمانؑ نے کبھی کفر نہیں کیا، بلکہ شیطانوں نے کفر کیا، وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور وہ ان باتوں کو سیکھتے تھے جو بابل میں ہاروت اور ماروت پر نازل کی گئی تھیں۔ حالانکہ وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو آزمائش ہیں، لہٰذا تم کفر نہ کرو۔ مگر لوگ ان سے وہ باتیں سیکھتے جن سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں، حالانکہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے، لیکن وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو ان کے لیے نقصان دہ تھیں اور فائدہ مند نہیں تھیں۔ اور وہ یقیناً جانتے تھے کہ جو لوگ یہ چیز خریدیں گے ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور یہ بہت بری چیز تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا، کاش وہ جانتے۔
آیت 103:
اور اگر وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کی طرف سے ان کے لیے بہتر جزا ہوتی۔ کاش وہ جانتے۔
آیت 104:
اے ایمان والو! تم "راعنا" نہ کہا کرو بلکہ "انظرنا" کہا کرو اور (رسول کی بات کو) غور سے سنا کرو، اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
آیت 105:
کافر نہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تمہارے رب کی طرف سے کوئی بھلائی تم پر نازل ہو، نہ اہل کتاب، لیکن اللہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
---
تفسیر:
1. آیت 101:
یہ آیت اہل کتاب کی حالت بیان کرتی ہے کہ جب اللہ کا رسول ان کے پاس آیا، جو ان کی کتاب کی تصدیق کرتا تھا، تو انہوں نے ضد اور ہٹ دھرمی سے اللہ کی ہدایت کو ترک کر دیا۔
2. آیت 102:
اس آیت میں جادو کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ سلیمانؑ پر جادو کا الزام جھوٹ تھا۔ جادو لوگوں کے لیے آزمائش تھا اور اس کا استعمال نقصان دہ تھا۔
3. آیت 103:
یہ آیت ایمان اور تقویٰ اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور بیان کرتی ہے کہ اللہ کے قریب ہونے کا اصل ذریعہ ایمان اور پرہیزگاری ہے۔
4. آیت 104:
یہ آیت مسلمانوں کو ادب سکھاتی ہے کہ رسول سے کیسے بات کی جائے اور احترام کے الفاظ استعمال کیے جائیں۔
5. آیت 105:
یہ آیت بیان کرتی ہے کہ کافر اور اہل کتاب یہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں پر اللہ کی رحمت نازل ہو، لیکن اللہ اپنی رحمت سے جسے چاہے نوازتا ہے۔
سورۃ البقرۃ (آیات 96-100): ترجمہ اور تفسیر
ترجمہ:
آیت 96:
اور تم ان میں سے ہر ایک کو اتنی زندگی چاہتے ہو جتنی ہزار سال کی ہو، حالانکہ وہ (طویل عمر) اسے عذاب سے بچانے والی نہیں، اور اللہ ان کے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے۔
آیت 97:
کہہ دو: "جو شخص جبریلؑ کا دشمن ہو، وہ اللہ کا دشمن ہے، کیونکہ وہ تو اللہ کے حکم سے تمہارے دلوں میں ایمان ڈالنے والے پیغمبروں پر نازل ہوتا ہے، اور جو کچھ تمہارے سامنے پیش آیا، وہ تمہاری ہدایت کے لیے ہے۔"
آیت 98:
جو اللہ اور اس کے رسولوں کا دشمن ہو، یقیناً اللہ بھی کافروں کا دشمن ہے۔
آیت 99:
اور ہم نے تمہارے پاس روشن آیات اور کتاب بھیجی ہے جو تمہیں ہدایت دینے والی ہے۔ پھر بھی اگر تمہیں علم نہیں ہوتا، تو تمہارے لئے انکار اور کفر کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
آیت 100:
اور جب تم نے اپنے عہد سے انحراف کیا، تم نے اللہ کے نازل کردہ کا انکار کیا، تو تمہیں شدید عذاب آ رہا ہے۔
---
تفسیر:
1. آیت 96:
یہ آیت بیان کرتی ہے کہ بنی اسرائیل اپنی زندگی کی طوالت کے خواہشمند تھے، اور وہ ایک طویل عمر کو اپنی حفاظت کا ذریعہ سمجھتے تھے، حالانکہ اللہ کی گرفت سے بچنا ممکن نہیں، اور اللہ ان کے تمام اعمال کا مشاہدہ کر رہا ہے۔
2. آیت 97:
اس آیت میں حضرت جبرائیلؑ کی حقیقت بیان کی گئی ہے، جو اللہ کے حکم سے پیغمبروں پر وحی نازل کرتے ہیں۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے ان لوگوں کو جواب دے رہی ہے جو جبرائیلؑ کو دشمن سمجھتے تھے۔
3. آیت 98:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسولوں کا دشمن ہے، وہ اللہ کا دشمن ہے۔ یہ آیت ایک واضح انتباہ ہے کہ ایمان لانا ضروری ہے، ورنہ اللہ کے عذاب سے بچنا ممکن نہیں۔
4. آیت 99:
یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ اللہ کی طرف سے جو کتاب اور آیات نازل کی گئی ہیں، وہ لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہیں۔ انکار کرنے والے یقیناً کفر میں مبتلا ہیں۔
5. آیت 100:
یہ آیت بنی اسرائیل کے عہد سے انحراف کرنے اور اللہ کی آیات کا انکار کرنے کے نتیجے میں آنے والے عذاب کو ذکر کرتی ہے۔ اللہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کی سخت سزا ہوگی۔
سورۃ البقرۃ (آیات 91-95): ترجمہ اور تفسیر
ترجمہ:
آیت 91:
اور جب ان کے پاس وہ کتاب آئی جو اللہ کے ساتھ کی تصدیق کرتی ہے، اور وہ اسے پہچانتے تھے، تو انہوں نے اس کا انکار کیا۔ تو اللہ کی لعنت ہو ان کافروں پر۔
آیت 92:
اور جب ان کے پاس اللہ کے رسول آ کر انہیں وہ چیز بتانے لگے جسے وہ خود جانتے تھے، تو ان لوگوں نے تکبر کیا اور انکار کر دیا۔
آیت 93:
اور یقیناً ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا اور ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے تھے، اور ہم نے موسیٰؑ سے کہا: "میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز قائم کرو گے اور زکاۃ دو گے اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس پر ایمان لاؤ گے، تو میں تمہارے گناہ معاف کر دوں گا اور تمہیں جنت میں داخل کروں گا۔"
آیت 94:
اور اگر تم اس عہد سے پھر جاؤ گے اور میری آیات کا انکار کرو گے، تو تم میں سے کوئی شخص عذاب میں مبتلا ہو گا۔
آیت 95:
اور تم میں سے جو لوگ تمہارے عہد سے منحرف ہوں گے، ان کو اللہ سخت عذاب دے گا اور وہ عذاب ان کے لئے بہت برا ہوگا۔
---
تفسیر:
1. آیت 91:
یہ آیت بنی اسرائیل کے اس عمل کو بیان کرتی ہے جب اللہ کے نازل کردہ پیغمبروں کی تصدیق کرنے والی کتاب آئی، اور وہ اسے پہچان کر بھی انکار کر گئے۔ اللہ نے ان کے انکار پر ان پر لعنت بھیج دی۔
2. آیت 92:
یہ آیت اس وقت کا ذکر کرتی ہے جب بنی اسرائیل نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ وہ پہلے سے ان کی نبوت کو جانتے تھے۔ ان کا یہ عمل تکبر کی علامت تھا۔
3. آیت 93:
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ وہ ایمان لائیں گے، نماز قائم کریں گے، زکاۃ دیں گے اور اللہ کی آیات پر عمل کریں گے۔ یہ آیت ان کے عہد کی یاد دہانی ہے۔
4. آیت 94:
اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ اگر بنی اسرائیل نے اپنے عہد سے انحراف کیا اور اللہ کی آیات کا انکار کیا، تو وہ عذاب کا شکار ہو جائیں گے۔
5. آیت 95:
یہ آیت بیان کرتی ہے کہ جو لوگ عہد سے منحرف ہوں گے اور اللہ کی آیات کو رد کریں گے، ان پر سخت عذاب آئے گا، اور یہ عذاب بہت برا ہوگا۔
سورۃ البقرۃ (آیات 86-90): ترجمہ اور تفسیر
ترجمہ:
آیت 86:
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی، سو نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں مدد ملے گی۔
آیت 87:
اور یقیناً ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی تھی اور اس کے بعد مسلسل پیغمبر بھیجے، اور ہم نے عیسیٰؑ بن مریم کو واضح نشانیاں دیں اور روح القدس (جبریلؑ) سے اس کی مدد کی۔ پھر بھی جب کبھی تمہارے پاس کوئی پیغمبر اللہ کی طرف سے وہ چیز لے کر آیا جو تمہاری خواہش کے مطابق نہ تھی تو تم نے تکبر کیا اور ایک گروہ کو جھٹلایا اور دوسرے گروہ کو قتل کر ڈالا۔
آیت 88:
انہوں نے کہا: "ہمارے دلوں پر غلاف پڑے ہوئے ہیں۔" بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے بدلے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے، اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے۔
آیت 89:
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کتاب آئی، جو انہوں نے اپنے ساتھ والی کتاب سے موافق پائی، اور وہ اس پر ایمان لاتے، حالانکہ اس سے پہلے وہ کافروں کے خلاف مدد کی دعا کرتے تھے، تو جب ان کے پاس وہ (کتاب) آئی جسے انہوں نے پہچانا، تو اس کا انکار کر دیا۔ اللہ کی لعنت ہو ان کافروں پر۔
آیت 90:
کتنی بری چیز ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچا کہ اللہ کے نازل کردہ پر کفر کریں، اس بات پر کہ اللہ اپنے بندے پر اپنی رضا سے جو چاہے اتارے۔ پھر وہ اس پر بھی راضی نہ ہوئے۔
---
تفسیر:
1. آیت 86:
یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں۔ اللہ کی ہدایات کو رد کر کے وہ دنیا کی فانی خوشیوں کی پیروی کرتے ہیں، اور نتیجتاً ان پر عذاب آئے گا اور وہ مدد سے بھی محروم ہوں گے۔
2. آیت 87:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مختلف پیغمبروں کی بعثت کا ذکر کیا، جن میں حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور دیگر پیغمبر شامل ہیں، اور پھر بھی بنی اسرائیل نے ان پیغمبروں کی باتوں پر تکبر کیا اور بعض کو قتل کیا۔
3. آیت 88:
یہ آیت ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور تکبر کو بیان کرتی ہے جو پیغمبروں کی ہدایت کو رد کرتے ہیں اور اپنی ضد پر قائم رہتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے۔
4. آیت 89:
یہ آیت اس وقت کا ذکر کرتی ہے جب کتابِ اللہ کی حقیقت سامنے آنے کے بعد بھی بنی اسرائیل نے اس پر ایمان نہیں لایا۔ حالانکہ وہ خود اس کی حقیقت جانتے تھے اور اس پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔
5. آیت 90:
یہ آیت بیان کرتی ہے کہ بنی اسرائیل نے اپنے ایمان کو دنیا کے مال و دولت کے بدلے فروخت کر دیا۔ وہ اللہ کے نازل کردہ ہدایت کو رد کرتے ہیں اور اپنی خواہشات کے مطابق چلتے ہیں۔
سورۃ البقرۃ (آیات 81-85): ترجمہ اور تفسیر
ترجمہ:
آیت 81:
یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، وہ اہل جنت ہیں، اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
آیت 82:
اور جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہ دوزخ کے لوگ ہیں، اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
آیت 83:
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان سے کہا: "اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، اور رشتہ داروں، یتیموں، اور مسکینوں کو عطیہ دو، اور لوگوں سے اچھی بات کہو، نماز قائم کرو اور زکاۃ دو، تو تم سب نے عہد توڑ دیا، سوائے تھوڑے سے گروہ کے۔"
آیت 84:
اور جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور تمہارے درمیان کوہ طور کو بلند کیا تھا (اور کہا تھا): "جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور جو اس میں ہے اس پر عمل کرو تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔"
آیت 85:
پھر تم نے اس کے بعد بھی پلٹ کر گناہ کیا اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم یقیناً فسادیوں میں سے ہوتے۔
---
تفسیر:
1. آیت 81:
یہ آیت ایمان اور اچھے عمل کے بدلے جنت میں داخل ہونے والوں کا ذکر کرتی ہے۔ جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں، وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔
2. آیت 82:
اس آیت میں کافروں کا حال بیان کیا گیا ہے، جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔ ان کے لیے دائمی عذاب ہے اور وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔
3. آیت 83:
یہ آیت بنی اسرائیل کے عہد کی یاد دہانی ہے، جب اللہ نے انہیں عبادت کے بارے میں حکم دیا تھا۔ ان سے کہا گیا تھا کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور والدین، رشتہ داروں، یتیموں، اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کریں، لیکن وہ اس عہد کو توڑتے گئے۔
4. آیت 84:
اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اس عہد کی یاد دلاتا ہے جب اللہ نے انہیں تورات دی تھی اور کہا تھا کہ وہ اس پر عمل کریں تاکہ تقویٰ اختیار کر سکیں۔
5. آیت 85:
یہ آیت بنی اسرائیل کی نافرمانی اور گناہ کی طرف پلٹنے کا ذکر کرتی ہے، اور اللہ کی رحمت کا تذکرہ کرتی ہے کہ اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو وہ مزید فساد کا شکار ہو جاتے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
00666