13/01/2025
سورۃ البقرۃ (آیات 131-135): ترجمہ اور تفسیر
ترجمہ:
آیت 131:
جب ان کے رب نے کہا: "اسلام لاؤ!" تو ابراہیمؑ نے کہا: "میں نے دنیا و آخرت میں تمام عالموں کے لیے اسلام اختیار کیا۔"
آیت 132:
اور ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے اسماعیلؑ سے کہا: "بیٹے! اللہ نے مجھے اس کام کا حکم دیا ہے، تو کیا تم اس میں میری مدد کرتے ہو؟" اسماعیلؑ نے کہا: "جو کچھ تمہیں حکم دیا گیا ہے، آپ اسے پورا کریں، آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔"
آیت 133:
اور جب ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ دونوں اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے، اور ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کو قربانی کے لیے لٹایا،
آیت 134:
تو ہم نے ان دونوں کو ایک عظیم قربانی کے عوض چھڑا لیا۔
آیت 135:
اور ہم نے ان کے لیے بعد میں آنے والی نسلوں میں یہ بات قائم رکھی کہ: "ابراہیمؑ پر سلام ہو!"
---
تفسیر:
1. آیت 131:
حضرت ابراہیمؑ کا اپنی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا کی خاطر مکمل طور پر اسلام لانا تھا۔ اللہ نے ان سے فرمایا کہ وہ اسلام اختیار کریں، تو انہوں نے دنیا و آخرت میں مکمل طور پر اللہ کے حکم کے سامنے تسلیم ہونے کا عہد کیا۔
2. آیت 132:
حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے اسماعیلؑ سے اللہ کے حکم کی تکمیل کے لیے مدد کی درخواست کی۔ اسماعیلؑ نے اپنے والد کی بات کو قبول کیا اور اللہ کی رضا میں مکمل تسلیم ہونے کا عہد کیا۔
3. آیت 133:
یہ آیت حضرت ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کے قربانی کے عمل کی وضاحت کرتی ہے، جب دونوں نے اللہ کے حکم کو بغیر کسی اعتراض کے قبول کیا اور اس پر عمل کیا۔
4. آیت 134:
اللہ نے حضرت ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کی قربانی کو قبول کیا اور ان کی جگہ ایک عظیم قربانی کے ذریعے ان کی جان بچا لی۔
5. آیت 135:
اللہ نے حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا اور ان کے بعد آنے والوں کو بھی سلام پیش کرنے کا حکم دیا، تاکہ ان کی قربانی کا اثر قائم رہے۔