Jadoon Academy

Jadoon Academy

Share

Future best coaching academy in all fields

Jadoon's Of Abbottabad 27/01/2026

*chatgpt* ka answer

Jadoon caste / قبِیلہ – تعارف اور پس منظر
📌 Jadoon (اردو: جدون) ایک معروف پشتون (Pashtun) قبیلہ ہے، جو خاص طور پر پاکستان کے کچھ علاقوں میں آباد ہے، جیسے **سوات، سواتی کے جنوبی پہاڑ، سواتی کے جنوبی سلطنتی علاقے، سوات اور ضلع سوات کے باہر Gadoon علاقہ (خصوصاً Swabi) میں، نیز Abbottabad اور Haripur میں بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ کچھ Jadoon افراد افغانستان (خاص طور پر Nangarhar اور Kunar کے علاقوں) میں بھی بستے ہیں۔�
Wikipedia +1
🔹 نسلی و لسانی شناخت
نسل: Jadoon بنیادی طور پر پشتون (Pashtun) قبیلہ تصور کیے جاتے ہیں۔�
Wikipedia
زبانیں:
Pashto: زیادہ تر Swabi اور افغانستان کے Jadoon بولتے ہیں۔
Hindko: Hazara (Abbottabad/Haripur) میں رہنے والے Jadoon عام طور پر Hindko بولتے ہیں۔�
Wikipedia +1
مذہب: اسلام۔�
Wikipedia
📌 اصل اور نسب (Origin & Genealogy)
Jadoon قبیلہ پشتونوں کی بڑی شاخوں یعنی Ghurghusht / Panni قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کا نسب عام طور پر Ashraf (Jadoon/Gadoon) تک جاتا ہے، جو Panni قبیلے سے پیدا ہوا۔�
jadatd.blogspot.com +1
تاریخی لحاظ سے بعض ماخذ بتاتے ہیں کہ پشتون نسل میں اکثر قبائل کے جیسے Jadoon بھی Durand لائن کے پار افغانستان سے آئے اور پھر مختلف علاقوں میں بس گئے۔�
History of Pashtuns
🪶 کلانز اور ذیلی قبائل
Jadoon قبیلے میں کچھ بڑے ذیلی گروہ یا کلانز ہیں، جیسے:
Salar
Mansoor
Hassazai / Hassa’zai
یہ کلانز مزید چھوٹے خاندانوں میں تقسیم ہیں۔�
hindkopoint +1
📌 جغرافیائی پھیلاو
Jadoon قبائل کا بُنیادی رہائشی دائرہ کچھ اس طرح ہے:
✔ Swabi (Gadoon area) – جنوبی پہاڑی علاقوں میں۔
✔ Abbottabad & Haripur – Hazara کے علاقوں میں۔
✔ افغانستان کے کچھ حصے – خاص طور پر Nangarhar اور Kunar۔�
Wikipedia +1
🛡️ تاریخ اور سماجی کردار
تاریخ میں Jadoon افراد نے اپنے علاقے میں مختلف جنگیں لڑیں، جن میں سکھ دور اور انگریز دور کی مزاحمت بھی شامل ہے (یہ روایتی روایات میں بتاتا ہے کہ قیدی جنگجوؤں میں ان کا حصہ رہا ہے)۔�
jadoonarts.synthasite.com
آج کے دور میں وہ مختلف شعبوں میں فعال ہیں، جیسا کہ سیاست، انتظامیہ، فوج اور دیگر پیشوں میں۔�
purehost.bath.ac.uk
📌 خلاصہ
✨ Jadoon ایک پشتون قبیلہ ہے، جس کی جڑیں Ghurghusht/Panni نسل میں ملتی ہیں۔
✨ یہ اپنے مختلف علاقوں میں بسے ہوئے ہیں اور زبانیں Pashto اور Hindko بولتے ہیں۔
✨ ان کی تاریخ روایتی پشتون ثقافت، قبائلی تنظیم، اور برصغیر کی سیاسی و سماجی ساخت سے جڑی ہے۔�
Wikipedia +1
۔

Jadoon's Of Abbottabad

21/01/2026

والدین سکول کو قصوروار کیوں سمجھتے ہیں؟

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بچہ ہمارا ہوتا ہے، مگر ذمہ داری دوسروں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ جیسے ہی بچہ صبح اسکول کے دروازے میں داخل ہوتا ہے، کئی والدین ذہنی طور پر خود کو فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اب فیس ادا ہو چکی ہے، لہٰذا باقی تمام فرائض بھی ادا ہو گئے۔

اب یہ اسکول کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو تعلیم بھی دے، اخلاق بھی سکھائے، تربیت بھی کرے، تمیز بھی دے، ہنر بھی دے، اور اگر ممکن ہو تو ایک مکمل “اچھا انسان” پیک کر کے شام کو واپس کر دے۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ یہ سوچ والدین کو اپنی اصل ذمہ داری سے بری الذمہ کر دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسکول کے پاس بچے کے دن کے صرف چند گھنٹے ہوتے ہیں، اور وہ بھی ایک محدود دائرے میں، ایک طے شدہ نظام کے تحت۔ اسکول نصاب پڑھا سکتا ہے، کچھ عادات سکھا سکتا ہے، کچھ حدود متعین کر سکتا ہے، مگر وہ بچے کی پوری شخصیت نہیں بنا سکتا۔ انسان کی تعمیر کوئی ایک جگہ، ایک ادارہ یا ایک فرد نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں بچے کے اردگرد موجود ہر چیز شامل ہوتی ہے۔ بچہ جو کچھ دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جس ماحول میں سانس لیتا ہے، وہ سب اس کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے۔

بچہ اصل میں گھر میں بنتا ہے۔ ماں باپ کے رویّے، ان کی گفتگو، ان کا غصہ، ان کی برداشت، ان کا سچ، ان کا جھوٹ، یہ سب لاشعوری طور پر بچے کے اندر منتقل ہوتا ہے۔ بہن بھائیوں کا لہجہ، رشتہ داروں کا انداز، گھر کا مجموعی ماحول، یہ سب بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد گلی محلہ آتا ہے، جہاں وہ مختلف لوگوں کو دیکھتا ہے، مختلف زبانیں سنتا ہے، مختلف رویّے سیکھتا ہے۔ بازار سے گزرتے ہوئے، ٹرانسپورٹ میں بیٹھتے ہوئے، دکانوں کے سامنے رکتے ہوئے، وہ ایسی آوازیں اور مناظر دیکھتا ہے جو اس کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔

پھر ہمارے دور کا سب سے طاقتور استاد آتا ہے: اسکرین۔ موبائل فون، ٹی وی، کارٹون، یوٹیوب اور سوشل میڈیا۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو دن کے کئی گھنٹے بچے کی سوچ، زبان، ردعمل اور رویّے کو شکل دیتے ہیں۔ ایک بچہ جب موبائل کے سامنے بیٹھتا ہے تو وہ صرف وقت ضائع نہیں کر رہا ہوتا، وہ ایک خاص قسم کی دنیا اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے۔ وہ دنیا جس میں چیخ ہے، جلدی ہے، ضد ہے، غصہ ہے اور غیر ضروری خواہشات ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر بچہ یہ سب کچھ چوبیس گھنٹوں میں جذب کر رہا ہے تو کیا صرف چھ گھنٹے کا اسکول اس سب کا توڑ کر سکتا ہے؟

یہاں ذرا انصاف سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر گھر کا ماحول خراب ہو، گفتگو تلخ ہو، والدین خود موبائل میں گم ہوں، بچے کو وقت نہ دیا جائے، اس کے سوال نہ سنے جائیں، اس کے احساسات کو نظر انداز کیا جائے، اور پھر یہ توقع رکھی جائے کہ اسکول جا کر وہ خودبخود سدھر جائے گا، تو یہ ایک فریب ہے۔

اسکول ذمہ دار ضرور ہے، مگر وہ والدین کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ استاد بچے کو راستہ دکھا سکتا ہے، مگر اس راستے پر چلانا والدین کا کام ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ یہ بچہ اسکول کا نہیں، آپ کا ہے۔ اس کا مستقبل فیس سے نہیں بنتا، ماحول سے بنتا ہے۔ اس کی زبان، اس کی سوچ، اس کا رویّہ، اس کا اخلاق — یہ سب کچھ اس وقت بنتا ہے جب وہ اسکول سے باہر ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ہر کمی، ہر خرابی اور ہر ناکامی کا الزام صرف اسکول پر ڈال دیں گے تو نہ بچہ سنورے گا، نہ نظام بہتر ہو گا، اور نہ ہی معاشرہ آگے بڑھے گا۔

یاد رکھئے، تعلیم اسکول دیتا ہے، مگر انسان گھر بناتا ہے۔ جب تک والدین یہ حقیقت تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ہم اسکول کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہیں گے اور خود بری الذمہ بنتے رہیں گے۔ اور یہ رویّہ سب سے زیادہ نقصان اسی بچے کو پہنچاتا ہے، جس کے نام پر ہم سب ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے ہوتے ہیں۔

17/01/2026
13/01/2026

‏پیرودھائی جنرل بس اسٹینڈ سمیت تمام پبلک ٹرانسپورٹ کو رنگ روڈ راولپنڈی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
◀️اسلام آباد کی سبزی منڈی بھی رنگ روڈ پر شفٹ کی جائے گی۔
◀️فیض آباد، 26 نمبر چونگی اور دیگر تمام بس اڈے بھی منتقل ہوں گے۔
◀️آئندہ ہیوی ٹرانسپورٹ کو راولپنڈی شہر کے اندر داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔
◀️پیرودھائی بس اسٹینڈ حکومتِ پنجاب کی مکمل ملکیت میں آ جائے گا۔
◀️پیرودھائی سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے لوکل بس سروس چلائی جائے گی۔
◀️لوکل بسوں کا کرایہ 20 سے 50 روپے کے درمیان ہو گا۔
◀️مسافر ایک ہی بس سروس کے ذریعے شہر کے مختلف علاقوں تک جا سکیں گے۔
◀️پشاور سے آنے والی ٹرانسپورٹ کے لیے ممکنہ طور پر اسلام آباد ایئرپورٹ کے قریب اڈہ قائم کیا جائے گا۔
◀️پنجاب سے آنے والی تمام ٹرانسپورٹ رنگ روڈ پر جائے گی، چاہے موٹر وے سے آئے یا جی ٹی روڈ سے۔
◀️رنگ روڈ موٹر وے اور جی ٹی روڈ دونوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔
◀️آزاد کشمیر سے آنے والی ٹریفک (براستہ مری) کو بہارہ کہو کے قریب روکا جائے گا۔
◀️آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع سے آنے والی ٹریفک روات رنگ روڈ استعمال کرے گی۔
◀️اس وقت رنگ روڈ روات سے نئے اسلام آباد ایئرپورٹ تک مکمل کی جا رہی ہے۔

◀️جب رنگ روڈ ایئرپورٹ سے بہارہ کہو تک مکمل ہو جائے گی تو بہارہ کہو کی ٹریفک بھی روات کے ذریعے رنگ روڈ پر منتقل کر دی جائے گی۔

◀️مجموعی طور پر یہ منصوبہ ٹریفک مینجمنٹ کے لحاظ سے بہترین پلاننگ قرار دیا جا رہا ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Moon Plaza Main Airport Road Jhanda Chichi RAWAlPINDI
Rawalpindi
46000