Tameer e Shakhsiat Forum

Call Website Contact the school

Tameer e Shakhsiat Forum Tameer e Shakhsiyat Forum is a platform for career counseling and personality development through workshops, seminars and IQ tests.

19/09/2026

Celebrating my 9th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

04/08/2025

Celebrating my 8th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

02/08/2025

آسان اور دلچسپ آن لائن ٹیسٹ مکمل کریں اور اپنے بارے میں گہرائی سے جانیں!ہر ٹیسٹ کے لیے مختصر وقت درکار ہے۔ٹیسٹ مکمل کرنے...
27/06/2025

آسان اور دلچسپ آن لائن ٹیسٹ مکمل کریں اور اپنے بارے میں گہرائی سے جانیں!
ہر ٹیسٹ کے لیے مختصر وقت درکار ہے۔
ٹیسٹ مکمل کرنے کا طریقہ:
ہماری ویب سائٹ کے اسسمنٹ پیج پر جائیں۔ لنک یہ ہے: https://testmycareer.com/assessments
اپنا مطلوبہ ٹیسٹ منتخب کریں، Start Here پر کلک کر کے ٹیسٹ شروع کریں، اور مکمل کر کے Submit کریں۔
آپ کا ٹیسٹ موصول ہوتے ہی رپورٹ آپ کو بذریعہ ای میل موصول ہو جائے گی۔

31/10/2024
رسول اللہ ﷺ نے ایک بار فرمایا: " مجھے اللہ کی راہ میں اتنی تکلیف دی گئی کہ کسی اور کو نہیں دی گئی۔ اللہ کی راہ میں مجھے ...
09/10/2024

رسول اللہ ﷺ نے ایک بار فرمایا:

" مجھے اللہ کی راہ میں اتنی تکلیف دی گئی کہ کسی اور کو نہیں دی گئی۔ اللہ کی راہ میں مجھے اتنا خوفزدہ کیا گیا کہ کسی اور کو نہیں کیا گیا۔" (سنن ترمذی)

رسول اللہ ﷺکو جسمانی تکلیفوں کے علاوہ اخلاقی اعتبار سے بھی بہت تنگ کیا جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ مکہ کی گلیوں سے گزر رہے ہوں تو آوازیں کسی جاتی ہیں، کوئی کہتا ہے یہ کسی مجنون کا شاگرد ہے جو اسے الٹی سیدھی کہانیاں سناتا ہے، اور یہ سن کر ہمیں سناتا رہتا ہے۔

کوئی کہتا ہے،" محمد آج آسمان سے کوئی نیا حکم نہیں آیا ؟"

کوئی یوں دل دُکھاتا ہے ،" خدا کو رسول بنانے کے لیے تمہارے علاوہ کوئی اور نہیں ملا؟"

نبیّہ اور منبّہ بن حجاج کہتے ہیں ،"ہم جیسے مالدار سردار بیٹوں والے اور ہوشیار لوگ موجود ہیں مگر۔۔۔"

اللہ نے اپنے پیارے رسول کو یوں حوصلہ دیا ہے:

(پیارے رسول) آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا میں نے ایسے انکار کرنے والوں کو مہلت دی( لیکن انہوں نے اس مہلت سے فائدہ نہیں اٹھایا اور اپنی روش پر قائم رہے)، کچھ وقت گزرنے کے بعد میں نے انہیں گرفت میں لے لیا۔( اب بھی ایسا ہی ہوگا )،آپ دیکھ لیں کہ میرا عذاب کیسا سخت تھا ۔(الرعد:32)

رسول اللہ ﷺجب لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اچھے اور برے اعمال کا صلہ مرنے کے بعد ملے گا تو لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان لوگوں کے خیال میں مرنے کے بعد حساب کتاب نہیں ہوگا۔ ابی بن خلف رسول اللہ ﷺکے پاس آیا ہے۔ ابی اُمیّہ بن خلف کا بھائی اور رسول اللہ ﷺسے دشمنی میں پیش پیش ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانی ہڈی ہے جو ریزہ ریزہ ہو رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺسے کہہ رہا ہے :

"محمد! تمہارا خیال ہے کہ اللہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا؟"

یہ کہتے ہوئے اس نے ہڈی کو مسل کر ریزہ ریزہ کر دیا اور پھونک مار کر اُڑا دیا ۔
اب کہہ رہا ہے:

" بھلا اب بتاؤ کہ ہم کیسے زندہ کیے جائیں گے ؟"

رسول اللہ ﷺاُسے سمجھا رہے ہیں کہ جو ربّ پیدا کر سکتا ہے وہ دوبارہ زندہ کیوں نہیں کر سکتا۔ اللہ کریم نے اپنے رسول کی حمایت میں پیغام بھیجا ہے:

"یہ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول گیا ہے۔ کیا ہم نے اسے عدم سے وجود نہیں عطا کیا؟ کیا وہ اپنے ربّ کو مخلوق کی طرح بے بس سمجھتا اور خیال کرتا ہے کہ جس طرح انسان مردے کو زندہ نہیں کر سکتا اللہ کریم بھی ایسا نہیں کر سکتا ؟ یہ کہتا ہے کہ بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ آپ اُسے بتا دیں کہ انہیں وہی ربّ زندہ کرے گا جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ آپ کا ربّ تخلیق کے تمام کام جانتا ہے۔ کیا آپ کے ربّ کے لیے بے جان کو زندہ کرنا مشکل کام ہے؟" (یٰسین:78-79)

ترجمہ: یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ جب یہ نماز کے...
02/10/2024

ترجمہ: یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کود کھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یا د کرتے ہیں۔کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں۔ نہ پورے اِس طرف ہیں نہ پورے اُس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ (النساء:143)

ان کا موقف مذبذب اور ڈانوا ڈول ہے ۔ وہ کسی ایک قطار میں ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ۔ نہ مومنین کی صف میں ہیں اور نہ کافروں کی صف میں ۔ اس سے اہل نفاق کی ذاتی کمزوری بھی سامنے آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کوئی دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی وہ علی الاعلان کسی عقیدے اور رائے کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ نہ اِدھر کے اور نہ اُدھرکے ۔

یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس نے خد اکے کلام اور اس کے رسول ﷺکی سیرت سے ہدایت نہ پائی ہو، جس کو سچائی سے منحرف اور باطل پرستی کی طرف راغب دیکھ کر خدا نے بھی اُسی طرف پھیر دیا ہو جس طرف وہ خود پھرنا چاہتا تھا ، اور جس کی ضلالت طلبی کی وجہ سے خدا نے اس پر ہدایت کے دروازے بند اور صرف ضلالت ہی کے راستے کھول دیے ہوں ، ایسے شخص کو راہِ راست دکھانا درحقیقت کسی انسان کے بس کا کام نہیں ہے۔

اس معاملہ کو رزق کی مثال سے سمجھیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ رزق کے تمام خزانے اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ جس انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے اللہ ہی کے ہاں سے ملتاہے۔ مگر اللہ ہر شخص کو رزق اُس راستہ سے دیتا ہے جس راستے سے وہ خود مانگتا ہو۔ اگر کوئی شخص اپنا رزق حلال راستہ سے طلب کر ے اور اُسی کے لیے کوشش بھِی کرے تو اللہ اس کے لیے حلال راستوں کو کھول دیتا ہے اور جتنی اس کی نیت صادق ہوتی ہے اُسی نسبت سے حرام کے راستے اس کے لیے بند کر دیتا ہے۔ بخلاف اس کے جو شخص حرام خوری پر تُلا ہوا ہوتا ہے اور اسی کے لیے سعی کرتا ہے اس کو خدا کے اذن سے حرام ہی کی روٹی مِلتی ہے اور پھر یہ کسی کے بس کی بات نہیں کہ اس کے نصیب میں رزق حلال لکھ دے۔

بالکل اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ دُنیا میں فکر و عمل کی تمام راہیں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ کوئی شخص کسی راہ پر بھی اللہ کے اذن اور اس کی توفیق کے بغیر نہیں چل سکتا ۔ رہی یہ بات کہ کس انسان کو کس راہ پر چلنے کا اذن ملتا ہے اور کس راہ کی رہروی کے اسباب اس کے لیے ہموار کیے جاتے ہیں ، تو اس کا انحصار سراسر آدمی کی اپنی طلب اور سعی پر ہے۔ اگر وہ خدا سے لگاؤ رکھتا ہے، سچائی کا طالب ہے، اور خالص نیت سے خدا کے راستے پر چلنے کی سعی کرتا ہے، تو اللہ اسی کا اذن اسی کی توفیق اسے عطا فرماتا ہے اور اسی راہ پر چلنے کے اسباب اس کے لیے موافق کر دیتا ہے ۔ بخلاف اس کے جو شخص خود گمراہی کو پسند کرتا ہے اور غلط راستوں ہی پر چلنے کی سعی کرتا ہے ، اللہ کی طرف سے اس کے لیے ہدایت کے دروازےبند ہو جاتے ہیں اور وہی راہیں اس کے لیے کھول دی جاتی ہیں جن کو اس نے آپ اپنے لیے منتخب کیا ہے۔ ایسے شخص کو غلط سوچنے ، غلط کام کرنے اور غلط راہوں میں اپنی قوتیں صرف کرنے سے بچا لینا کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ اپنے نصیب کی راہِ راست جس نے خود کھو دی اور جس سے اللہ نے اس کو محروم کر دیا ، اس کے لیے یہ گم شدہ نعمت کسی کے ڈھونڈے نہیں مِل سکتی۔

کائنات میں کوئی بھی چیز اتفاقیہ پیدا نہیں ہوئی یا بے ترتیب نہیں ہے۔آئیے  ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم سب جانت...
27/09/2024

کائنات میں کوئی بھی چیز اتفاقیہ پیدا نہیں ہوئی یا بے ترتیب نہیں ہے۔آئیے ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ سیب کا درخت سیب کا پھل دیتا ہے اور اس میں سیب کے بیج ہوتے ہیں۔
سب سے پہلےدرخت کو یہ جاننا ہوتا ہے کہ پھول کب بنانا ہے، یعنی اسے موسم بہار، گرمیوں کے وقت اور خزاں یا درجۂ حرارت کا پتہ ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ، درخت کو معلوم ہونا چاہیے کہ کیڑے، مثلاً شہد کی مکھیاں، اس کے پھولوں کا رس پینے آئیں گی، تاکہ اس کے زردانے(Pollens) بارآور ہو سکیں۔ اس کے لیے سیب کے درخت کو شہد جیسا رس بنانے کا فیصلہ بھی کرنا ہے۔
اس کے بعد سیب کے درخت کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسے اپنے بیج بکھیرنے کے لیے پرندوں جیسے جانوروں کی ضرورت ہے۔ انھیں اپنی طرف متوجہ کرنے اور ایک مزے دار پھل پیدا کرنے کے لیے اسے اپنے بیجوں کے اوپر لذیذ سیب کا گُودا چڑھانا چاہیے۔ یہ سب کچھ کرنے کے لیے سیب کے درخت کو یہ علم بھی ہونا چاہیے کہ مٹی سے کیا حاصل کرنا ہے، اسے پتوں میں کیسے بھیجنا ہے اور ان پتوں میں چینی بنا کر سیب کے پھل میں پہنچانی ہے۔
یہ کوئی چھوٹا سا اور معمولی کارنامہ نہیں ہے، اس کے لیے جامع علم اور حیران کن حکمت کی ضرورت ہے۔ یہ بے ترتیب عمل کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔
سیب کے درخت پر صرف ایک سادہ سی نظر ظاہر کرتی ہے کہ ارتقاء اور اتفاقات کا بے ترتیب دعویٰ حقیقت میں کتنا ناممکن ہے۔
عقلی طور پر بھی دیکھا جائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آتی ہے کہ سیب کا درخت، مٹی، پانی، سورج، پرندے وغیرہ سب ایک خالق نے تخلیق کیے ہیں، جو ان سب کو بناتا ہے، ان سب کا جامع علم رکھتا ہے، اور ان سب چیزوں کو ایک دوسرے کے فائدے کے لیے کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔ گویا سورج سیب کے درخت کی خدمت میں لگا ہوا ہے، مٹی سیب کے درخت کی مدد کر رہی ہے، سیب کا درخت پرندوں اور انسانوں کی خدمت کر رہا ہے، اور پرندے اور انسان بیج پھر سے تقسیم کرکے سیب کی افزائش میں مدد کر رہے ہیں۔
وَهُوَ الَّـذِىٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَىْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَـرَاكِبًاۚ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ ۙ وَّجَنَّاتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَالزَّيْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِـهًا وَّغَيْـرَ مُتَشَابِهٍ ۗ اُنْظُرُوٓا اِلٰى ثَمَرِهٓ ٖ اِذَآ اَثْمَرَ وَيَنْعِهٖ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكُمْ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُـوْنَ
ترجمہ: اور اسی نے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس سے ہر چیز اگنے والی نکالی پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی جس سے ہم ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں، اور کھجور کے شگوفوں میں سے پھل کے جھکے ہوئے گچھے ہیں، اور باغ ہیں انگور اور زیتون اور انار کے آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی، دیکھو ہر ایک درخت کے پھل کو جب وہ پھل لاتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو، ان چیزوں میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (الانعام:99)

Address

Rawalpindi

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 12:00

Telephone

+923464640787

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tameer e Shakhsiat Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Tameer e Shakhsiat Forum:

Shortcuts

Share