Tameer e Shakhsiat Forum

Tameer e Shakhsiat Forum

Share

Tameer e Shakhsiyat Forum is a platform for career counseling and personality development through workshops, seminars and IQ tests.

04/08/2025

Celebrating my 8th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

02/08/2025

27/06/2025

آسان اور دلچسپ آن لائن ٹیسٹ مکمل کریں اور اپنے بارے میں گہرائی سے جانیں!
ہر ٹیسٹ کے لیے مختصر وقت درکار ہے۔
ٹیسٹ مکمل کرنے کا طریقہ:
ہماری ویب سائٹ کے اسسمنٹ پیج پر جائیں۔ لنک یہ ہے: https://testmycareer.com/assessments
اپنا مطلوبہ ٹیسٹ منتخب کریں، Start Here پر کلک کر کے ٹیسٹ شروع کریں، اور مکمل کر کے Submit کریں۔
آپ کا ٹیسٹ موصول ہوتے ہی رپورٹ آپ کو بذریعہ ای میل موصول ہو جائے گی۔

31/10/2024
09/10/2024

رسول اللہ ﷺ نے ایک بار فرمایا:

" مجھے اللہ کی راہ میں اتنی تکلیف دی گئی کہ کسی اور کو نہیں دی گئی۔ اللہ کی راہ میں مجھے اتنا خوفزدہ کیا گیا کہ کسی اور کو نہیں کیا گیا۔" (سنن ترمذی)

رسول اللہ ﷺکو جسمانی تکلیفوں کے علاوہ اخلاقی اعتبار سے بھی بہت تنگ کیا جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ مکہ کی گلیوں سے گزر رہے ہوں تو آوازیں کسی جاتی ہیں، کوئی کہتا ہے یہ کسی مجنون کا شاگرد ہے جو اسے الٹی سیدھی کہانیاں سناتا ہے، اور یہ سن کر ہمیں سناتا رہتا ہے۔

کوئی کہتا ہے،" محمد آج آسمان سے کوئی نیا حکم نہیں آیا ؟"

کوئی یوں دل دُکھاتا ہے ،" خدا کو رسول بنانے کے لیے تمہارے علاوہ کوئی اور نہیں ملا؟"

نبیّہ اور منبّہ بن حجاج کہتے ہیں ،"ہم جیسے مالدار سردار بیٹوں والے اور ہوشیار لوگ موجود ہیں مگر۔۔۔"

اللہ نے اپنے پیارے رسول کو یوں حوصلہ دیا ہے:

(پیارے رسول) آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا میں نے ایسے انکار کرنے والوں کو مہلت دی( لیکن انہوں نے اس مہلت سے فائدہ نہیں اٹھایا اور اپنی روش پر قائم رہے)، کچھ وقت گزرنے کے بعد میں نے انہیں گرفت میں لے لیا۔( اب بھی ایسا ہی ہوگا )،آپ دیکھ لیں کہ میرا عذاب کیسا سخت تھا ۔(الرعد:32)

رسول اللہ ﷺجب لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اچھے اور برے اعمال کا صلہ مرنے کے بعد ملے گا تو لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان لوگوں کے خیال میں مرنے کے بعد حساب کتاب نہیں ہوگا۔ ابی بن خلف رسول اللہ ﷺکے پاس آیا ہے۔ ابی اُمیّہ بن خلف کا بھائی اور رسول اللہ ﷺسے دشمنی میں پیش پیش ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانی ہڈی ہے جو ریزہ ریزہ ہو رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺسے کہہ رہا ہے :

"محمد! تمہارا خیال ہے کہ اللہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا؟"

یہ کہتے ہوئے اس نے ہڈی کو مسل کر ریزہ ریزہ کر دیا اور پھونک مار کر اُڑا دیا ۔
اب کہہ رہا ہے:

" بھلا اب بتاؤ کہ ہم کیسے زندہ کیے جائیں گے ؟"

رسول اللہ ﷺاُسے سمجھا رہے ہیں کہ جو ربّ پیدا کر سکتا ہے وہ دوبارہ زندہ کیوں نہیں کر سکتا۔ اللہ کریم نے اپنے رسول کی حمایت میں پیغام بھیجا ہے:

"یہ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول گیا ہے۔ کیا ہم نے اسے عدم سے وجود نہیں عطا کیا؟ کیا وہ اپنے ربّ کو مخلوق کی طرح بے بس سمجھتا اور خیال کرتا ہے کہ جس طرح انسان مردے کو زندہ نہیں کر سکتا اللہ کریم بھی ایسا نہیں کر سکتا ؟ یہ کہتا ہے کہ بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ آپ اُسے بتا دیں کہ انہیں وہی ربّ زندہ کرے گا جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ آپ کا ربّ تخلیق کے تمام کام جانتا ہے۔ کیا آپ کے ربّ کے لیے بے جان کو زندہ کرنا مشکل کام ہے؟" (یٰسین:78-79)

02/10/2024

ترجمہ: یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کود کھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یا د کرتے ہیں۔کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں۔ نہ پورے اِس طرف ہیں نہ پورے اُس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ (النساء:143)

ان کا موقف مذبذب اور ڈانوا ڈول ہے ۔ وہ کسی ایک قطار میں ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ۔ نہ مومنین کی صف میں ہیں اور نہ کافروں کی صف میں ۔ اس سے اہل نفاق کی ذاتی کمزوری بھی سامنے آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کوئی دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی وہ علی الاعلان کسی عقیدے اور رائے کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ نہ اِدھر کے اور نہ اُدھرکے ۔

یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس نے خد اکے کلام اور اس کے رسول ﷺکی سیرت سے ہدایت نہ پائی ہو، جس کو سچائی سے منحرف اور باطل پرستی کی طرف راغب دیکھ کر خدا نے بھی اُسی طرف پھیر دیا ہو جس طرف وہ خود پھرنا چاہتا تھا ، اور جس کی ضلالت طلبی کی وجہ سے خدا نے اس پر ہدایت کے دروازے بند اور صرف ضلالت ہی کے راستے کھول دیے ہوں ، ایسے شخص کو راہِ راست دکھانا درحقیقت کسی انسان کے بس کا کام نہیں ہے۔

اس معاملہ کو رزق کی مثال سے سمجھیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ رزق کے تمام خزانے اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ جس انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے اللہ ہی کے ہاں سے ملتاہے۔ مگر اللہ ہر شخص کو رزق اُس راستہ سے دیتا ہے جس راستے سے وہ خود مانگتا ہو۔ اگر کوئی شخص اپنا رزق حلال راستہ سے طلب کر ے اور اُسی کے لیے کوشش بھِی کرے تو اللہ اس کے لیے حلال راستوں کو کھول دیتا ہے اور جتنی اس کی نیت صادق ہوتی ہے اُسی نسبت سے حرام کے راستے اس کے لیے بند کر دیتا ہے۔ بخلاف اس کے جو شخص حرام خوری پر تُلا ہوا ہوتا ہے اور اسی کے لیے سعی کرتا ہے اس کو خدا کے اذن سے حرام ہی کی روٹی مِلتی ہے اور پھر یہ کسی کے بس کی بات نہیں کہ اس کے نصیب میں رزق حلال لکھ دے۔

بالکل اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ دُنیا میں فکر و عمل کی تمام راہیں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ کوئی شخص کسی راہ پر بھی اللہ کے اذن اور اس کی توفیق کے بغیر نہیں چل سکتا ۔ رہی یہ بات کہ کس انسان کو کس راہ پر چلنے کا اذن ملتا ہے اور کس راہ کی رہروی کے اسباب اس کے لیے ہموار کیے جاتے ہیں ، تو اس کا انحصار سراسر آدمی کی اپنی طلب اور سعی پر ہے۔ اگر وہ خدا سے لگاؤ رکھتا ہے، سچائی کا طالب ہے، اور خالص نیت سے خدا کے راستے پر چلنے کی سعی کرتا ہے، تو اللہ اسی کا اذن اسی کی توفیق اسے عطا فرماتا ہے اور اسی راہ پر چلنے کے اسباب اس کے لیے موافق کر دیتا ہے ۔ بخلاف اس کے جو شخص خود گمراہی کو پسند کرتا ہے اور غلط راستوں ہی پر چلنے کی سعی کرتا ہے ، اللہ کی طرف سے اس کے لیے ہدایت کے دروازےبند ہو جاتے ہیں اور وہی راہیں اس کے لیے کھول دی جاتی ہیں جن کو اس نے آپ اپنے لیے منتخب کیا ہے۔ ایسے شخص کو غلط سوچنے ، غلط کام کرنے اور غلط راہوں میں اپنی قوتیں صرف کرنے سے بچا لینا کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ اپنے نصیب کی راہِ راست جس نے خود کھو دی اور جس سے اللہ نے اس کو محروم کر دیا ، اس کے لیے یہ گم شدہ نعمت کسی کے ڈھونڈے نہیں مِل سکتی۔

27/09/2024

کائنات میں کوئی بھی چیز اتفاقیہ پیدا نہیں ہوئی یا بے ترتیب نہیں ہے۔آئیے ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ سیب کا درخت سیب کا پھل دیتا ہے اور اس میں سیب کے بیج ہوتے ہیں۔
سب سے پہلےدرخت کو یہ جاننا ہوتا ہے کہ پھول کب بنانا ہے، یعنی اسے موسم بہار، گرمیوں کے وقت اور خزاں یا درجۂ حرارت کا پتہ ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ، درخت کو معلوم ہونا چاہیے کہ کیڑے، مثلاً شہد کی مکھیاں، اس کے پھولوں کا رس پینے آئیں گی، تاکہ اس کے زردانے(Pollens) بارآور ہو سکیں۔ اس کے لیے سیب کے درخت کو شہد جیسا رس بنانے کا فیصلہ بھی کرنا ہے۔
اس کے بعد سیب کے درخت کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسے اپنے بیج بکھیرنے کے لیے پرندوں جیسے جانوروں کی ضرورت ہے۔ انھیں اپنی طرف متوجہ کرنے اور ایک مزے دار پھل پیدا کرنے کے لیے اسے اپنے بیجوں کے اوپر لذیذ سیب کا گُودا چڑھانا چاہیے۔ یہ سب کچھ کرنے کے لیے سیب کے درخت کو یہ علم بھی ہونا چاہیے کہ مٹی سے کیا حاصل کرنا ہے، اسے پتوں میں کیسے بھیجنا ہے اور ان پتوں میں چینی بنا کر سیب کے پھل میں پہنچانی ہے۔
یہ کوئی چھوٹا سا اور معمولی کارنامہ نہیں ہے، اس کے لیے جامع علم اور حیران کن حکمت کی ضرورت ہے۔ یہ بے ترتیب عمل کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔
سیب کے درخت پر صرف ایک سادہ سی نظر ظاہر کرتی ہے کہ ارتقاء اور اتفاقات کا بے ترتیب دعویٰ حقیقت میں کتنا ناممکن ہے۔
عقلی طور پر بھی دیکھا جائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آتی ہے کہ سیب کا درخت، مٹی، پانی، سورج، پرندے وغیرہ سب ایک خالق نے تخلیق کیے ہیں، جو ان سب کو بناتا ہے، ان سب کا جامع علم رکھتا ہے، اور ان سب چیزوں کو ایک دوسرے کے فائدے کے لیے کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔ گویا سورج سیب کے درخت کی خدمت میں لگا ہوا ہے، مٹی سیب کے درخت کی مدد کر رہی ہے، سیب کا درخت پرندوں اور انسانوں کی خدمت کر رہا ہے، اور پرندے اور انسان بیج پھر سے تقسیم کرکے سیب کی افزائش میں مدد کر رہے ہیں۔
وَهُوَ الَّـذِىٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَىْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَـرَاكِبًاۚ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ ۙ وَّجَنَّاتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَالزَّيْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِـهًا وَّغَيْـرَ مُتَشَابِهٍ ۗ اُنْظُرُوٓا اِلٰى ثَمَرِهٓ ٖ اِذَآ اَثْمَرَ وَيَنْعِهٖ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكُمْ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُـوْنَ
ترجمہ: اور اسی نے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس سے ہر چیز اگنے والی نکالی پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی جس سے ہم ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں، اور کھجور کے شگوفوں میں سے پھل کے جھکے ہوئے گچھے ہیں، اور باغ ہیں انگور اور زیتون اور انار کے آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی، دیکھو ہر ایک درخت کے پھل کو جب وہ پھل لاتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو، ان چیزوں میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (الانعام:99)

25/09/2024

ہم چند سوالات سے بات شروع کرتے ہیں:
سوال نمبر1: کیا زمین پر زندگی کی ابتداء کے بارے میں سائنسی طور پر کوئی ثابت شدہ اور متفقہ نقطۂ نظر موجود ہے؟
جواب: نہیں، زمین پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا، اس کے بارے میں سائنسی طور پر کوئی واحد، عالمی سطح پر متفقہ نقطۂ نظر موجود نہیں ہے۔ سائنس دانوں نے اس بارے میں کئی دلچسپ نظریات اور مفروضے پیش کیے ہیں، لیکن حقیقت میں کیا ہوا، اس پر تحقیق اور بحث جاری ہے۔
سوال نمبر2: زمین پر زندگی کی ابتداء کے بارے میں سائنسدانوں کے پیش کردہ اہم نظریات کا خلاصہ کیا ہے؟
جواب: Primordial Soup تھیوری بتاتی ہے کہ زندگی زمین کے ابتدائی سمندروں میں سادہ مالیکیولوں سے پیدا ہوئی۔ ہائیڈرو تھرمل وینٹ مفروضہ تجویز کرتا ہے کہ زندگی سمندروں کی تہہ میں بہنے والے معدنیاتی گرم پانی کے قریب شروع ہوئی۔ Panspermia نظریہ بتاتا ہے کہ زندگی کائنات میں کسی اور جگہ سے آئی ہے۔ آر این اے ورلڈ تھیوری کے مطابق آر این اے، جو جینیاتی معلومات کو ذخیرہ کرنے اور کیمیائی رد عمل کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ایک مالیکیول ہے، نے زندگی کی ابتدا میں بہت اہم کردار ادا کیا۔
سوال نمبر3: مندرجہ بالا نظریات اور مفروضوں کی روشنی میں کیا سائنسدان قطعی طور پر جانتے ہیں کہ پہلے پہل وجود میں آنے والے جاندار خلیات کی کیمیائی ساخت کیا تھی؟
جواب: نہیں، سائنس دانوں کو قدیم جاندار خلیوں کی صحیح ساخت کی حتمی سمجھ نہیں ہے۔ اگرچہ سائنسدانوں کے نظریات ان ممکنہ حالات اور تعاملات کے بارے میں کچھ اندازے لگاتے ہیں جو زندگی کے ظہور کا باعث بنے ہوں گے، تاہم وہ ابتدائی خلیوں کی ٹھیک ٹھیک مالیکیولی ساخت کے بارے میں مخصوص تفصیلات پیش نہیں کرتے۔
سوال نمبر4: ماضی اور حال کے حاصل کردہ کُل علم اور تحقیق کو استعمال کرتے ہوئے کیا سائنسدان مصنوعی طور پر ایسا خلیہ بنانے میں کامیاب ہو سکے ہیں جو ایک قدرتی جاندار خلیے جیسے افعال سرانجام دے سکے؟
جواب: نہیں! اگرچہ سائنس دانوں نے حیاتیاتی نظام کو سمجھنے اور ان میں رد وبدل کرنے میں اہم پیشرفت کی ہے، تاہم ایک زندہ خلیہ بنانا جو قدرتی خلیے کے تمام افعال کو مکمل طور پر انجام دے سکے ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ کوشش بنی ہوئی ہے۔
سوال نمبر5: کسی ایسے جاندار کا نام بتائیں جو سائنسدانوں نے مصنوعی طور پر تیار کیا ہو اور وہ قدرتی طور پر پائے جانے والے کسی جاندار جیسے افعال سر انجام دیتا ہو۔
جواب: ابھی تک سائنسدان مصنوعی طور پر کوئی ایسا جاندار تخلیق کرنے سے قاصر ہیں جو کسی قدرتی جاندار جیسے تمام افعال سر انجام دیتا ہو۔ اگرچہ محققین نے مصنوعی خلیات اور حیاتیاتی نظام بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن وہ ابھی تک قدرتی زندگی کی پیچیدگی اور خود کار نظام کو مکمل طور پر نقل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
دوسری طرف دیکھیے! قرآن نے تقریباً ساڑھے چودہ صدیاں قبل کس قطعیت اور جامعیت کے ساتھ کائنات، انسان اور جانداروں کی تخلیق کی بات کی ہے، جب کہ موجودہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے باوجود انسان ابھی تک ایک سادہ سے خلیے جیسا جاندار بھی نہیں بنا سکا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ کا علم لامحدود ہے اور وہی ہر چیز کا خالق ہے۔ قرآن مجید میں مختلف آیات میں اللہ کی قدرت اوراس کے خالق ہونے کی عظمت کا ذکر ملتا ہے۔چند آیات ملاحظہ ہوں:
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ
ترجمہ: اور کیا جن لوگوں نے کفر کیا یہ نہیں دیکھا کہ بے شک سارے آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے تو ہم نے انھیں پھاڑ کر الگ کیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی، تو کیا یہ لوگ ایمان نہیں لاتے؟ (الانبیاء:30)
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ
ترجمہ: اور بلاشبہ یقیناً ہم نے انسان کو ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے تھی۔ (الحجر:26)
وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ السَّمُومِ
ترجمہ: اور جانّ (یعنی جنوں) کو اس سے پہلے لوکی آگ سے پیدا کیا۔ (الحجر:27)
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ
ترجمہ: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا بے شک میں ایک بشر ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے ہوگی۔ (الحجر:28)
فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ
ترجمہ: تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ۔ (الحجر:29)
ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاۗ-ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَؕ-فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ
ترجمہ: پھر ہم نے اس قطرے کو ایک جما ہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک بوٹی بنایا، پھر ہم نے اس بوٹی کو ہڈیاں بنایا، پھر ہم نے ان ہڈیوں کو کچھ گوشت پہنایا، پھر ہم نے اسے ایک اور صورت میں پیدا کردیا، سو بہت برکت والا ہے اللہ جو سب سے اچھا بنانے والا ہے۔ (المومنون:14)
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ
ترجمہ: یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا (التین:4)
وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِّن مَّاءٍ ۖ فَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ بَطْنِهِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ رِجْلَيْنِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ أَرْبَعٍ ۚ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ: اور اللہ نے ہر چلنے والا (جاندار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو چار پر چلتا ہے، اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، یقیناً اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ (النور:45)
خلاصۂ کلام یہ کہ بلاشبہ دین ہمیں اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے تحقیق و جستجو کی ترغیب دیتا ہے، تاکہ ہم انسانیت کو ترقی کی بلندیوں پر لے جائیں۔ تاہم ہمیں اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ترقی کی اصل معراج اور علم اور تحقیق کا اصل مقصد اپنے خالق کی عظمت کو پہچاننا اور اس کی راہ پر چلنا ہے۔

24/09/2024

کروموسوم کے ٹرمینل حصوں کو ٹیلومیئرز کہا جاتا ہے۔ یہ ڈی این اے کا تسلسل جاری رکھنے کی ترتیب کو ظاہر کرتے ہیں۔جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو ان کی تکرار سب سے طویل ہوتی ہے، اور ہر خلیے کی تقسیم کے بعد یہ کم ہوتی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، ہم 100 ٹیلومیئر کی تکرار کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے یہ تعداد 60، 50، 40 تک گر تی جاتی ہے اور آخر کار ہماری عمر کے اختتام کے ساتھ صفر پر چلی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہم پیدا ہوتے ہی بوڑھے ہو نا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر ٹیلومیئر ز کے مختصر ہونے کا عمل رک جائے تو یہ ان خلیوں میں کینسر کی علامت ہے۔ تو یہ بات واضح ہے کہ مرنا ہمارا مقدر ہے۔ اگر ہر جاندار اپنی مرضی سے اپنی پروگرامنگ کو تبدیل کر سکتا اور اپنی "بقاء" کی خاطرپروگرامنگ کو بہتر کرنے پر قدرت رکھتا تو ہمارے ڈی این اے میں ایسا پروگرام کیوں ہوتا جو ہمیں وقت کے ساتھ ساتھ موت کی طرف لے کر جاتا ہے؟ اگر ہمارے ڈی این اے نے بہتر بقاء کے لیےخود کو تیار کیا ہوا ہے تو ہم ایسے پودوں کی طرح کیوں نہیں ہیں جو سینکڑوں سال زندہ رہ سکتے ہیں اور ہم بوڑھے کیوں ہو رہے ہیں؟ میرے نزدیک یہ حقیقت تب ہی معنی رکھتی ہے جب ہم اتفاقات کے نظریے کے برعکس قرآنی نظریے کی تصدیق کریں کہ ہمیں ایک خالق نے تخلیق کیا ہے اور اس طرح بنایا ہے کہ ہم اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے نہیں رہیں گے۔
( ڈاکٹر الحان ایکن، پی ایچ ڈی، مائیکرو بائیولوجی)

كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
ترجمہ: تم کیسے اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہو، حالانکہ تم بے جان تھے تو اس نے تمھیں زندگی بخشی، پھر وہ تمھیں موت دے گا، پھر تمھیں زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔(البقرہ:28)

18/08/2024

جشن آزادی پاکستان 2024 کے موقع پر منعقدہ مقابلۂ مضمون نویسی بعنوان "ترقی یافتہ پاکستان … مگر کیسے؟" کے موضوع پر مقابلۂ مضمون نویسی کا اہتمام کیا گیا!
یہ مقابلہ افکار https://afkaar.pk/ ، پریس فار پیس فاؤنڈیشن https://pressforpeace.org.uk/product-tag/press-for-peace-foundation/ اور تعمیر شخصیت فورم https://shorturl.at/JG9wh کے اشتراک سے منعقد کیا گیا ،جس میں ہمیں مضامین کی ایک بڑی تعداد موصول ہوئی ۔شرکاء کے مضامین نے یقیناً مقابلے کو رونق بخشی اور اس کی افادیت کو دو چند کیا۔
مقابلے کے نتائج مرتب کرنا ایک دلچسپ لیکن چیلنجنگ مرحلہ تھا۔کئی مضامین ایسے تھے جن کی درجہ بندی کا فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ہر مضمون نویس نے اپنے طور پر بہترین خیالات کا اظہار کیا اور ایک ترقی یافتہ پاکستان کے خواب کی تکمیل کے لیے قیمتی تجاویز پیش کیں، جن کی ہم قدر کرتے ہیں اور سب مضمون نگاروں کی کاوشوں کی تحسین کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس نوعیت کے مقابلوں کی روایت ہے کہ پوزیشن کے تعین کے لیے کوئی معیار مقرر کرنا ہوتا ہے، اور اس کے مطابق مضامین کو جانچنا ہوتا ہے؛ تو منصفین نے اسی روایت کا سہارا لیتے ہوئے پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن کا تعین کیا۔
منصفین کے مرتب کردہ نتائج کے مطابق جناب زید محسن (کراچی) کا مضمون اوّل انعام کا مستحق قرار پایا ہے، جب کہ جناب دانیال حسن چغتائی (کہروڑ پکا، لودھراں) کا مضمون دوسرےانعام کا حق دار ٹھہرا۔تیسرا انعام حاصل کیا ہےمحترمہ تابندہ شاہد (اسلام آباد) اور محترمہ منیبہ عثمان (اسلام آباد) کے مضامین نے۔
اس کے علاوہ جناب محمد سلیم خان (خانیوال)اور محترمہ ہادیہ جنید گابا (کراچی) کے مضامین کو خصوصی طور پر اشاعت کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
ہم افکار، پریس فار پیس فاؤنڈیشن اور تعمیر شخصیت فورم کی جانب سے پوزیشن حاصل کرنے والے مضمون نگاروں اور منتخب مضامین تحریر کرنے والے شرکاء کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
حسب وعدہ، اوّل، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے مضمون نگاروں کو بالترتیب تین ہزار، دو ہزار اور ایک ہزار روپے بطور انعام ارسال کیے جا رہے ہیں۔پوزیشن حاصل کرنے والے مضمون نگاروں سمیت منتخب شرکاء کو کتب کا تحفہ دیا جارہا ہے ۔اس کے ساتھ ہی ان کے مضامین کو "افکار" کی ویب سائٹ https://afkaar.pk/ پر شائع کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ مقابلے میں شریک ہونے والے تمام مضمون نگاروں کو مقابلے میں شرکت کے سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔
جناب زید محسن کے اوّل انعام یافتہ مضمون کا لنک یہ ہے:
https://afkaar.pk/d1pj
جناب دانیال حسن چغتائی کے دوم انعام یافتہ مضمون کا لنک یہ ہے:
https://afkaar.pk/5usb
محترمہ تابندہ شاہد کے سوم انعام یافتہ مضمون کا لنک یہ ہے:
https://afkaar.pk/udkf
محترمہ منیبہ عثمان کے سوم انعام یافتہ مضمون کا لنک یہ ہے:
https://afkaar.pk/wrga
جناب محمد سلیم خان کے خصوصی طور پر اشاعت کے لیے منتخب ہونے والے مضمون کا لنک یہ ہے:
https://afkaar.pk/31op
محترمہ ہادیہ جنید گابا کے خصوصی طور پر اشاعت کے لیے منتخب ہونے والے مضمون کا لنک یہ ہے:
https://afkaar.pk/nqv6
ہمیں امید ہے کہ تمام مضامین میں دی گئی تجاویز ایک ترقی یافتہ پاکستان کی طرف قدم بڑھانے میں ہر سطح پر مدد گارثابت ہوں گی۔
ایک بار پھر مقابلے میں بھرپور شرکت کے لیے سب شرکاء کا شکریہ۔
مخلص،
افکار ٹیم

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Rawalpindi

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 12:00