Haqeeqi Islam
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Haqeeqi Islam, Education, 3/2 Ahmadabad dhmyal camp, Rawalpindi.
حضرت قاسم کی شادی ⚫
👈 حضرت قاسم کی شادی کربلا کے معروف ترین موضوعات میں سے ہے ۔ملا حسین کاشفی متوفیٰ 910 ہجری قمری نے سب سے پہلے اس واقعے کو اپنی کتاب روضۃ الشہدا میں ذکر کیا ہے ۔اس لحاظ سے قاسم بن حسن کی شادی کا واقعہ نویں صدی کے آخر یا دسویں صدی کے شروع میں مذکور ہوا ہے ۔ بعض مقتل نویسان اس واقعے کو درست مانتے ہیں اور بعض اسے ماننے سے انکاری ہی نہیں بلکہ اسے عاشورا کی تحریفات میں سے سمجھتے ہیں!
⚫ قاسم بن حسن ⚫
👈 قاسم بن حسن حضرت امام حسن کے بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا نام ہے جنہوں نے دسویں محرم کو اپنے چچا حضرت امام حسین ؑ پر جان کو نثارکیا ۔قدیمی تاریخی منابع میں مذکور ہے کہ شہادت کے وقت آپ کا سن حد بلوغ کو نہیں پہنچا تھا !
(↩ حوالہ :- اصفہانی ،مقاتل الطالبین، ص92، طبری ،تاریخ الامم و الملوک ج 5 ص 447 و 448)↪
⚫ شادی کی داستان ⚫
👈حضرت قاسم بن حسن نے عاشورے کے روز حضرت امام حسین ؑ سے میدان جنگ میں جانے کی اجازت طلب کی تو امام نے کم سنی کی وجہ سے آپ کو اذن جہاد نہیں دیا ۔یہ بات قاسم پر بہت گراں گزری ۔اچانک قاسم کو اپنا وہ بازو بند یاد آیا جو ان کے والد ماجد نے انکے بازو پر باندھا تھا اور انہیں وصیت کی تھی کہ جب تم پر غم پر غلبہ زیادہ ہو تو تم اسے کھولنا ۔پس قاسم نے اپنا بازو بند کھولا تو اس بازو بند میں اس کے باپ کی طرف سے لکھا تھا کہ کربلا میں اپنی جان چچا پر نچھاور کرنا۔قاسم خوشی کے عالم میں یہ وصیت نامہ لے کر اپنے چچا کے پاس گئے اور وصیت چچا کو دکھائی ۔ حضرت امام حسن کا خط پڑھ کر حضرت امام حسین نے گریہ کیا اور کہا کہ مجھے بھی ایک وصیت کی تھی کہ میں اپنی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا تم سے عقد کروں۔ لہذا آپ نے عباس ، عون اور زینب کو شادی کی تیاری کا حکم دیا اور اس طرح دسویں محرم کے روز قاسم بن حسن کی شادی ہوئی اور اس کے بعد آپ میدان کار زار میں تشریف لے گئے !
↩ حوالہ :- ↑ ملاں کاشفی،روضۃ الشہدا ص401)↪
⚫ مخالفین کے اقوال ⚫
👈 علامہ مجلسی فرماتے ہے -: میں نے اس واقعہ کو معتبر کتب میں نہیں پایا !
↩ حوالہ :-
مجلسی جلاء العیون ص675 )↪
👈میرزا حسن نوری فرماتے ہے :- شیخ مفید کے زمانے سے لے کر روضۃ الشہداء کے زمانے تک کسی تالیف میں یہ واقعہ نہیں دیکھا گیا ۔کیسے ممکن ہے اتنا عظیم قضیہ اور واضح ،محقق اور مضبوط واقعہ مکمل طور پر کسی ایک تک بھی نہ پہنچا ہو !
↩ حوالہ :-
لؤلؤ و مرجان ص193) ↪
👈 شیخ عباس قمی فرماتے ہے : - کربلا میں قاسم کی حضرت امام حسین ؑ کی بیٹی فاطمہ سے شادی صحیح نہیں ہے !
↩ حوالہ :- منتہیٰ الآمال ج 1 ص 574 ) ↪
👈 شعرانی نفس المہموم کے ترجمے میں اس واقعہ(کربلا میں اس شادی) کو ایک اشتباہ کہتا ہے جو کربلا کے راستے میں حسن مثنیٰ بن حسن سے حضرت امام حسین کے اپنی بیٹی سے عقد کرنے واقعے سے پیدا ہوا ہے
↩ حوالہ :- شعرانی،دمع السجوم ص 277 ) ↪
👈 قاضی طباطبائی فرماتے ہے :- قاسم کی شادی کا واقعہ
کوئی اعتبار نہیں رکھتا ہے۔نیز مامقانی کی کتاب تنقیح المقال سے نقل کرتے ہیں:طریحی نے جو قاسم بن حسن کی شادی کا واقعہ نقل کیا ہے میں اور دیگر اہل تحقیق سیرت،تاریخ اور مقاتل کی کتابیں اس کے معتبر ہونے پر مطلع نہیں ہیں۔بہت بعید ہے کہ ایسا واقعہ عاشورا کے روز اتنے سخت حالات اور شدید مصائب میں رونما ہوا ہو۔ایسا لگتا ہے کہ حضرت قاسم کی کم سنی میں شادی کا واقعہ حسن مثنی کی شادی کے واقعہ کے ساتھ مشتبہ ہو گیا اور حسن مثنیٰ کی شادی کا واقعہ اس صورت میں مشہور گیا !
↩ حوالہ :- تحقیق دربارۂ اول اربعین سید الشہداء ص377 ) ↪
👈 شہید مطہری فرماتے ہے :- آپ جانتے ہیں کہ عاشورا کی اس گرمی کے دن میں کسی میں نماز پڑھنے کی سکت نہ تھی ۔امام نے جلدی میں نماز خوف پڑھی اور وہ بھی صحابہ کی ڈھال بنا کر ....لیکن کہتے ہیں ایسے حالات میں امام حسین ؑ نے حکم دیا کہ حجلۂ عروسی بنائیں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ قاسم کی شادی اپنی بیٹیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ کروں ۔۔۔۔۔حضرت قاسم کی نئی دامادی کا قصہ ایک ایسی چیز ہے جو ہمارے تعزیہ خوانوں سے ہر گز جدا نہیں ہو سکتی حالانکہ کسی بھی معتبر تاریخی کتاب میں اس کا ذکر موجود نہیں ہے ۔
↩ حوالہ :-
حماسۂ حسینی ج 1 ص27،28) ↪
👈 ذبیح اللہ محلاتی : تاریخ سامرا اور ریاحین الشریعہ کے مصنف لکھتے ہیں: میں نے بہت سی معتبر کتابوں اور روایات کا مطالعہ کیا ہے لیکن عروسئ قاسم کا کہیں اثر نہیں پایا ۔یہ مطلب مثبت آثار اور معتبر کتابوں میں موجود نہیں اس میں شک نہیں ہے کہ فاطمہ بنت الحسین حسن بن حسن کی زوجہ تھیں اور وہ اور اس کا شوہر کربلا میں حاضر تھے۔ کیسے ممکن ہے کہ یہ واقعہ حقیقت رکھتا ہو جبکہ کربلا میں فاطمہ کے نام سے کوئی اور بیٹی حضرت امام حسین ؑ کی نہیں ہے !
↩ حوالہ :-
فرسان الہیجاء ج 2 ص 31 )↪
👈 سید عبد الرزاق موسوی مقرم فرماتے ہے :- عروسئ قاسم کے بارے میں جو کہا جاتا ہے وہ نا درست ہے کیونکہ قاسم سن بلوغ کو نہیں پہنچے تھے مؤرخین سے اس کے بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں پہنچی ہے ۔شیخ فخر الدین طریحی کی اس اس عظمت و جلالت کے باوجود امکان نہیں ہے کہ انہوں نے ایسی داستان نقل لکھی ہو اور کسی کیلئے یہ بھی روا نہیں کہ وہ ان کے بارے میں ایسی خرافات کا تصور کرے ۔ان کی کتاب میں تحریف کی گئی اور اس میں اس افسانے کو داخل کیا گیا ہے ؛طریحی کبھی بھی ایسا کرنے والوں کو نہیں بخشیں گے ۔]
↩ حوالہ :- مقتل مقرم ص264 ) ↪
⚫ مخالفین کے دلائل ⚫
▪منابع اولیہ اور اولیہ مقاتل کی کتب میں کہیں اس کا تذکرہ موجود نہیں ہے ۔
👈
1000ویں صدی کے اندر سب سے پہلے ملا واعظ حسین کاشفی نے اسے تذکرۃ الشہداء میں ایک کہانی کے رنگ میں نقل کیا ہے اس کے بعد منتخب طریحی،اکسیر العبادات، محرق القلوب میں وغیرہ میں آیا ہے ۔
👈 قاسم کی عمر :اکثر منابع اولیہ میں قاسم کی کم سنی منقول ہے۔ ↩ حوالہ :- ↑ کامل بہائی۶۴۴؛مجلسی جلاء العیون ص ۶۷۵۔مقتل مقرم۱۷۷) ↪
👈 لہذا وہ شادی کے قابل نہیں تھے !
↩ حوالہ :- تحقیق دربارہ اول اربعین حضرت سید الشہداء ۳۷۸ ↪
👈 شعر سے استناد کرنا:- کاشفی نے اس واقعے کے نقل کیلئے کوئی مستند یا مدرک پیش نہیں کیا بلکہ اپنی کلام میں ابو المفاخر رازی کے ایک شعر کی طرف اشارہ کیا ہے !
↩ حوالہ :- کاشفی، روضۃ الشہداءص ۴۰۱ ↪
⚫ حسن مثنیٰ کے ساتھ اشتباہ ⚫
👈 بعض کا خیال ہے کہ حضرت امام حسین ؑ کے قافلے میں رونما ہونے والا شادی کا واقعہ حسن مثنیٰ سے مربوط ہے ۔وہ حضرت فاطمہ بنت حسین کے شوہر اور حضرت امام حسین ؑ کے دادماد ہیں ! ↩ حوالہ :-
مصعب بنعبداللّه،نسب قریش، ص ۵۱ حسنی، المصابیح، ص ۳۷۹ ) ↪
اس مسئلے میں کسی نے اختلاف نہیں کیا ہے ۔اس کی نسل میں عبد اللہ محض،محمد نفس زکیہ اور ابراہیم بن عبد اللہ معروف باخمر نے خلفای عباسیوں کے خلاف قیام کیا تھا ۔پس حسن بن مثنیٰ کے حضرت امام حسین ؑ کے داماد ہونے کسی قسم کی تردید نہیں ہے ۔
👈 تاریخی منابع میں حسن بن مثنیٰ کی شادی کا واقعہ اس طرح منقول ہے:حسن مثنیٰ نے حضرت امام حسین ؑ سے ان کی ایک بیٹی کا رشتہ طلب کیا۔↩ حوالہ :
المنتظم ج 7 ص 183 ) ↪
👈 امام نے فرمایا : سکینہ اور فاطمہ میں سے جسے چاہو انتخاب کر سکتے ہو۔ حسن نے شرمندگی سے کچھ نہیں کہا ۔امام نے فاطمہ کی شادی حسن سے کر دی کیونہ وہ شکل صورت میں اپنی والدہ سے زیادہ مشابہت رکھتی تھی !
↩ حوالہ :- شیخ مفید ،الارشاد 366 ) ↪
👈 ابن فندق بیہقی کے قول کے مطابق یہ شادی حضرت امام حسین ؑ کی شہادت کے سال انجام پائی !
↩ حوالہ:- ابن فندق ، لباب الانساب 385 ↪
👈 حضرت امام حسین کی شہادت 61 ویں ہجری میں یوئی یوں معلوم ہوتا ہے یہ شادی ہجری کے 60ویں سال کے آخری ایام میں انجام پائی ہو گی پس یہی وجہ ہے کہ حسن مثنیٰ اپنی زوجہ فاطمہ بنت حسین کے ساتھ عاشور کے روز کربلا واقعے میں موجود تھے!
↩ حوالہ :- قاضی، تحقیقی درباره اولین اربعین، ص۳۷۸ ) ↪
🙏طالب دعا ء سید اعظم علی رضوی 🙏
28/07/2018
Ex-PM Abbasi’s vote recount plea in NA-57 rejected - HIDAYAT TV https://bit.ly/2NT3rpA
Ex-PM Abbasi’s vote recount plea in NA-57 rejected - HIDAYAT TV A petition for votes recount by former prime minister and Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) leader Shahid Khaqan Abbasi has been rejected.
29/06/2018
Immediate improvements in airline not possible, PIA tells Supreme Court - HIDAYAT TV https://bit.ly/2N7iHQ1
Immediate improvements in airline not possible, PIA tells Supreme Court - HIDAYAT TV Administration of the Pakistan International Airlines on Friday informed the Supreme Court that bringing immediate improvements to the national carrier was not possible.
18/06/2018
Mamnoon Hussain to visit Tajikistan on official visit - HIDAYAT TV https://bit.ly/2JUKZeI
Mamnoon Hussain to visit Tajikistan on official visit - HIDAYAT TV President Mamnoon Hussian will travel to Tajikistan on an official four-day visit starting June 19, 2018, the Foreign Office said in a statement.
14/04/2018
"میرا جسم میری مرضی"
تحریر : بنتِ حیدر
"چل جلدی کر یار"
"آ رہی ہوں بابا نقاب تو ٹھیک کرنے دو"
"ایک تو تمہارا نقاب اضافی ٹائم لگاتا ہے "
"اور تمہارا میک اپ؟" وہ مسکراتے ہوئے بولی ۔
"خیر چھوڑو اب چلو"
وہ اکٹھی یونیورسٹی جاتی تھیں لیکن دونوں ایک دوسرے کی ضد تھیں۔
ایک مالک کی مرضی والی اور دوسری اپنی مرضی کی مالک۔
زینب کھلے عبایہ کے اوپر نقاب اوڑھے ہوئے اپنی حیاء کی پاسدار بن کر مالک کی مرضی پر عمل پیرا اور عمارہ تنگ کپڑوں اور گلے میں دوپٹہ ڈالے میک اپ میں لدی ہوئی اپنی مرضی کی مالک ۔
"یار یہ بس کب آئے گی۔ مجھ سے نہیں ہوتا بس میں سفر"
"کیوں نہیں ہوتا واہ۔ مجھ سے تو ہوتا ہے" وہ پھر مسکرائی۔
"یار کتنے عجیب لوگ بیٹھے ہوتے ہیں ۔ ایسے گھورتے ہیں جیسے کوئی لڑکی پہلی بار دیکھی ہو"
"مجھے تو نہیں گھورتے"
"تمہیں گھور کر بھی کیا کریں گے" زینب کے نقاب پر ایک طنزیہ نگاہ ڈالتے ہوئے عمارہ بولی۔ ہمیشہ کی طرح۔
"میڈم کہاں جانا ہے؟ بولو تو چھوڑ آئیں " ایک بڑی گاڑی ان کے پاس رکی اور عمارہ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک لڑکے نے جملہ کسا۔ اس کے لہجے میں کمینگی عیاں تھی۔ بنا کچھ جواب سنے گاڑی آگے بڑھ گئی تھی۔
"کتا، کمینہ، اس کو تو میں۔۔۔۔۔ سب مرد ایک جیسے ہی ہوتے ہیں کمینے" وہ آگ بگولہ ہوئی۔
بس آ چکی تھی اور جگہ نہ ہونے کی وجہ سے دو نوجوان لڑکوں نے اپنی سیٹ ان کے لیے خالی کی اور خود تھوڑا آگے کھڑے ہو گئے.
"سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے" زینب نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
_______________________________ء
"مجھے مارکیٹ سے پرنٹ کروانا ہے۔ وہاں سے ہو کر آتے ہیں"
"چلو ٹھیک ہے۔ مجھے بھوک بھی لگی ہے تو کچھ کھا بھی لیں گے"
وہ یونیورسٹی کی درمیانی سڑک پر چلنے لگیں جس کی دونوں طرف یکے بعد دیگرے مختلف ڈیپارٹمنٹس موجود تھے اور اور عموماً اس سڑک پر طلباء و طالبات کا رش زیادہ ہوتا ہے۔
"لڑکی نہیں دیکھی کبھی؟" وہ کافی دور سے اسے تاڑتا ہوا آ رہا تھا اور پاس سے گزرتے ہی عمارہ نے جملہ کسا۔
"ایسی تو نہیں دیکھی" وہ گزرتے ہوئے طنزیہ لہجے میں بولا اور آگے بڑھ گیا۔
"کیا مطلب تھا اس کا کہ ایسی تو نہیں دیکھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کوئی جوکر ہوں ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی کارٹون ہوں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمینہ ۔۔۔۔۔ گھر میں ماں بہن نہیں ان کی کیا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جسے دیکھو منہ اٹھا کہ چلا آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل کرتا ہے ایک لگاوں ایسے کمینوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ زینب سے دو قدم آگے چلتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی کہ زینب نے آواز دی۔
"رکو ذرا اور ادھر آو"
زینب اسے سڑک کے ساتھ ڈیپارٹمنٹل لان میں لے گئی۔
"بیٹھو یہاں"
" تم نے کیا سمجھ رکھا ہے تم اس لباس میں باہر آو گی اور لوگ تمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے؟؟
یہ لباس کس لیے پہنا ہے ؟ کسی کو دکھانے کے لیے؟ یہ میک اپ کس لیے کیا ہے؟ کسی کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے؟ یہ دوپٹہ کیوں گلے میں لٹکایا ہے؟ تاکہ کوئی تمہاری خوبصورتی دیکھ سکے؟ اگر ہاں تو کیوں صبح سے میرا دماغ کھا رہی ہو؟
جب دکھانے کے لیے اتنی محنت کی ہے تو دیکھنے دو سب کو اور جملے کسنے دو. مجھ پر تو کسی نے کمنٹ نہیں کیا صبح سے کیوں کہ میں نہیں دکھا رہی۔ تم جو دکھانا چاہ رہی ہو وہی تو سب دیکھ رہے ہیں" زینب نے اسے سمجھایا۔
"میرا جسم میری مرضی۔ میں جیسے کپڑے بھی پہنوں جو بھی کروں۔ کسی کو کیا؟ ہوس بھری ہیں سب کی آنکھوں میں۔ دل کرتا ہے ان کی آنکھیں نوچ لوں"
اس پر ذرا بھی اثر نہیں ہوا زینب کی بات کا۔
" اچھا تو اگر تمہارا جسم ہے اور تمہاری مرضی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیا وہ اپنی آنکھیں، زبان اور گاڑی فہد مصطفےٰ کے جیتو پاکستان شو سے جیت کر لائے ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُن کی آنکھیں ان کی مرضی کہ جس کو بھی دیکھیں اور جہاں دیکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی زبان ان کی مرضی جو بھی بولیں اور جیسا بھی بولیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی گاڑی ان کی مرضی کہ جہاں چاہیں بریک لگا کر جملہ کسیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا دماغ اب نہیں کھانا ۔۔۔۔۔۔۔ چلو اب "
عمارہ بالکل خاموش زینب کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔
________________________ء
The sun doesn’t lose its beauty when covered by the clouds.
The same way ur beauty doesn’t fade when being covered by Hijab.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Rawalpindi