’’کام انسان کو تین برائیوں سے دور رکھتا ہے بوریت، برائی اور خواہش۔‘‘ . ➖ والٹیئر
Siwan Education
Siwan Education working in different projects, English Language Course, Carrier Counseling program, General studies, and many more......
وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نئیں سُن رہا تھا ، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا ،
ہاں بول کیا کہنا ہے ؟
وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیا
ایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال اچھالا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا ماحول ؟ میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ ! تربیت
جبکہ میں نے اُجلت میں کہا جناب ! ماحول ، ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے
بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی ،
ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاشنے میں لگ گئے ، میں سوچ سوچ کے پاگل ہونے کے قریب تھا مگر کچھ سمجھ میں نئیں آرہا تھا ، کہ 24 دن بعد اچانک میرے ہم منصب وزیر نے میری موت کے پروانے پر دستخط کرتے ہوئے دربار میں اپنے جواب کو عملی طور پر ثابت کرنے کی اجازت چاہی ، اجازت ملنے پر اس نے دربار میں کھڑے ہو کر تالی بجائی تالی بجتے ہی ایک ایسا منظر سامنے آیا کہ بادشاہ سمیت تمام اہلِ دربار کی سانسیں سینہ میں اٹک گئیں، دربار کے ایک دروازے سے 10 بِلیاں منہ میں پلیٹیں لئے جن میں جلتی ہوئی موم بتیاں تھیں ایک قطار میں خراماں خراماں چلتی دربار کے دوسرے دروازے سے نکل گئیں، نہ پلیٹیں گریں اور نہ موم بتیاں بچھیں، دربار تعریف و توصیف کے نعروں سے گونج اٹھا ، میرے ہم منصب نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، حضور ! یہ سب تربیت ہی ہے کہ جس نے جانور تک کو اس درجہ نظم و ضبط کا عادی بنادیا ، بادشاہ نے میری جانب دیکھا
مجھے اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی میں دربار سے نکل آیا تبھی ایک شخص نے آپ کا نام لیا کہ میرے مسئلے کا حل آپ کے پاس ہی ہوسکتا ہے میں 2 دن کی مسافت کے بعد یہاں پہنچا ہوں، دی گئی مدت میں سے 4 دن باقی ہیں اب میرا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے،
فقیر نے سر جھکایا اور آہستہ سے بولا واپس جائو اور بادشاہ سے کہو کہ 30 ویں دن تم بھرے دربار میں ماحول کی افادیت ثابت کرو گے ،
مگر میں تو یہ کبھی نہ کر سکوں گا ۔ وزیر نے لا چارگی سے کہا
اۤخری دن مَیں خود دربار میں آئوں گا۔ فقیر نے سر جھکائے ہوئے کہا
وزیر مایوسی اور پریشانی کی حالت میں واپس دربار چلا آیا
مقررہ مدت کا اۤخری دن تھا دربار کھچا کھچ بھرا ہوا تھا وزیر کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا سب کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھتی تھیں کہ اچانک ایک مفلوک الحال سا شخص اپنا مختصر سامان کا تھیلا اٹھائے دربار میں داخل ہوا ، بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، وقت کم ہے میں نے واپس جانا ہے اس وزیر سے کہو تربیت کی افادیت کا ثبوت دوبارہ پیش کرے، تھوڑی دیر بعد ہی دوسرے وزیر نے تالی بجائی اور دوبارہ وہی منظر پلٹا ، دربار کے دروازہ سے 10 بلیاں اسی کیفیت میں چلتی ہوئی سامنے والے دروازے کی طرف بڑھنے لگیں ، سارا مجمع سانس روکے یہ منظر دیکھ رہا تھا وزیر نے امید بھری نگاہوں سے فقیر کی طرف دیکھا ، جب بلیاں عین دربار کے درمیان پہنچیں تو فقیر آگے بڑھا اور ان کے درمیان جا کے اپنا تھیلا اُلٹ دیا ، تھیلے میں سے موٹے تازے چوہے نکلے اور دربار میں ادھر اُدھر بھاگنے لگے، بلیوں کی نظر جیسے ہی چوہوں پر پڑی انہوں نے منہ کھول دیئے پلیٹیں اور موم بتیاں دربار میں بکھر گئیں، ہر طرف بھگدڑ مچ گئی بلیاں چوہوں کے پیچھے لوگوں کی جھولیوں میں گھسنے لگیں، لوگ کرسیوں پر اچھلنے لگے دربار کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا،
فقیر نے بادشاہ کی طرف دیکھا بولا آپ کسی جنس کی جیسی بھی اچھی تربیت کر لیں اگر اس کے ساتھ اسے اچھا ماحول فراہم نہیں کریں گے تو تربیت کہیں نہ کہیں اپنا اثر کھو دے گی ۔ کامیاب کردار کے لئے تربیت کے ساتھ ساتھ بہتر ماحول بے حد ضروری ہے ، اس سے پہلے کہ بادشاہ اسے روکتا فقیر دربار کے دروازے سے نکل گیا تھا۔
ہمارے ہاں ساری ذمے داری استاد کی تربیت پر ڈال دی جاتی ہے گھر وں کا کیا ماحول ہے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی...
کوئی میرا اِمام تھا ہی نہیں
میں کسی کا غلام تھا ہی نہیں
جس قدر شورِ آب و گِل تھا یہاں
اُس قدر اہتمام تھا ہی نہیں
اِس لیے سادھ لی تھی چُپ میں نے
اِس سے بہتر کلام تھا ہی نہیں
ہم نے اُس وقت بھی محبت کی
جب محبت کا نام تھا ہی نہیں
تُو کہاں راستے میں آ گئی ہے ؟
زندگی ! تجھ سے کام تھا ہی نہیں
وقت نے لا کھڑا کیا اُس جا
جو ہمارا مَقام تھا ہی نہیں
اِس لیے خاص کر دِیا گیا عشق
عام لوگوں کا کام تھا ہی نہیں
میری دوسری شادی ہوجائے گی، سوچا بھی نہ تھا۔ دوستوں کو اطلاع بھی نہ کر سکا۔ بس آناً فاناً نکاح ہوا اور رخصتی بھی ہو گئی۔
حیرت یہ ہے کہ بیگم نے خوشدلی سے اپنی سوتن کو بہن بنا لیا۔ بچے تو ماں کہہ کر لپٹ گئے۔ والدہ بھی شاد ہیں۔ میری نئی بیوی بے انتہا خوش اخلاق ثابت ہوئیں اور
انہوں نے بھی سارے گھر کے افراد کو اپنا سمجھا۔ ہماری پہلی ملاقات پہلی بیگم کے ساتھ ہی ایک شاپنگ سینٹر کے کیفے ٹیریا میں ہوئی تھی۔ وہیں ہماری پہلی بیگم نے ان کو ہمارے لیے پسند کیا۔ کب بات شادی تک پہنچ گئی پتہ بھی نہ لگا۔
پہلی بیگم نےانتہائی ضد کر کےہمیں ہنی مون پر بھیجنے کی تیاری کر رکھی ہے اور مصر ہیں کہ آپ دونوں ہنی مون پر جائیں جیسے آپ مجھے لے کر گئے تھے۔ کہتی ہیں کہ اگر پیسے کم پڑے تو وہ دینے کو تیار ہیں کیونکہ ان کی پچھلےدنوں ہی تین لاکھ کی کمیٹی نکلی ہے۔
میں کافی دیر سے یہ سوچ رہا ہوں کہ
آخر وہ کون سے گھر ہوتے ہیں جہاں دوسری شادی کی وجہ سے جھگڑے ہوتے ہیں اور ایک جنگ کا سا ماحول ہوتا ہے۔ اپنے گھر کو دیکھتا ہوں تو جنت لگتا ہے۔ بیگم نے رات گیارہ بجے زبردستی ہم دونوں کو کمرے میں دھکیل کر دروازہ بند کر دیا۔ ساتھ ہی بچوں کو شور شرابے سے سختی سے منع کر دیا۔
آج صبح ناشتہ حجلہ عروسی میں پیش کیا اور اپنی ساتھی (سوتن لکھنے میں مجھے کوفت ہو رہی ہے) کو اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا کر کھلائے۔ ساتھ ہی ساتھ چھیڑنے کے انداز میں کن انکھیوں سے ہم دونوں کو دیکھتی رہیں۔ ایسی بیویاں قسمت والوں کو ملتی ہیں
کل رات ہم ہنی مون پر ترکی نکل جائیں گے
میرا مشورہ ہے کہ آپ سب بھی اپنے گھر میں یہ ماحول بنائیں۔ محبت سے رشتوں کو قائم رکھیں اور اپنی بیوی کو اعتماد میں لیں۔ دیکھیے کہ دوسری بیوی ایک دن بعد ہی کہہ رہی ہے کہ تیسری میں آپ کے لیے خود تلاش کروں گی۔
ناول” بلی کےخواب میں چھچھڑے “سے اقتباس
Angry Birds
احساس
Snooker Techniques
23/05/2020
عید مبارک سب کو
ملکہ برطانیہ الزبتھ زندہ بچی رہی
طاعون سے
چیچک سے
دوسری جنگ عظیم کے دوران
کوریا کے جنگ کے دوران
ویتنام کی جنگ کے دوران
لینڈ رورو اور رینج روور کے بننے والے عرصے کے دوران
کنکورڈ جہاز کے شروع ہونے کے وقت
کنکورڈ کے خاتمے کے بعد
جرمنی میں نازی حکومت کے دوران
برلن کی تباہی کے دوران
برلن کی تقسیم کے وقت
برلن کی یکجائی کے وقت
اسرائیل کی تخلیق کے وقت
فلسطینیوں کی اُن کے علاقوں سے بے دخلی کے وقت
1956 میں تین مغربی قوتوں کے مصر پر حملہ کے وقت
1973 میں ہونے والی جنگ کے دوران
سرد جنگ کےعرصے میں
ایران اور عراق کی جنگ کے دوران
پہلی خلیجی جنگ کے دوران
صدام حسین کے زوال کےوقت
سوویٹ یونین کے خاتمے اور ریاستوں کا شیرازہ بکھرنے کےوقت
برطانیہ کے یورپی یونین شمولیت کے وقت
برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کےوقت
اپالو 1 سے 17 کے درمیانی عرصہ کے دوران
ایشیا اور افریقہ کے ممالک کی آزادی کے وقت
14 برطانوی وزرائے اعظم کی حکومتوں کے دوران
چارلس اور ڈیانا کی ازدواجی زندگی
چارلس اور کامیلا پارکر
اینڈریو اور فیرگی
ہیری اور میگن
14 امریکی صدر
7 سعودی بادشاہ
48 اطالوی وزرائے اعظم
اقوام متحدہ کے 9 سیکریٹری جنرل
تیسری، چوتھی اور پانچویں فرانسیسی ریپبلک
انٹرنیٹ
ایپل ٹی وی
نیٹ فلیکس
کووڈ 19 ( کورونا وائرس)
صرف اس وجہ سے کہ وہ گھر پر رہی۔
آپ بھی گھر رہیں
11/05/2020
ارتغرل
Proud Mother
محنت کریں آپ کی محنت آپ کو بڑا بناتی ہے
https://youtu.be/HaFqpD-IZ08
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Rawalpindi
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 21:00 |
| Tuesday | 09:00 - 21:00 |
| Wednesday | 09:00 - 21:00 |
| Thursday | 09:00 - 21:00 |
| Friday | 09:00 - 21:00 |
| Saturday | 09:00 - 21:00 |