12/01/2021
سابق ڈائریکٹر تعلیم ایوب خان اپنی کتاب "تنگ آمد"میں لکھتے ہیں:
میں ایک تقریب میں بیٹھا تھا اور میرے ساتھ میرا چھوٹا بیٹا جو پرائمری کا طالب علم تھا بھی بیٹھا تھا۔تقریب میں مختلف لوگ آرہے تھے،جن میں محکمہ تعلیم کےضلعی افسران بھی تھے۔ان افسران کی آمد پر میں بیٹھے بیٹھے ان سے ہاتھ ملاتا تھا ۔کچھ دیر بعد ہمارے محلے کا ایک پرائمری سکول ٹیچر آیا۔انہیں دیکھ کر میں کھڑا ہوا اور ان سے ہاتھ ملا کر خیریت دریافت کی۔وہ بھی ایک سائیڈ پر جا کر بیٹھ گئے۔میرے پاس بیٹھے ایک شخص نے مجھ سے پوچھا،ڈائریکثر صاحب! ضلعی آفسران سے بیٹھے بیٹھے ہاتھ ملاتے ہو اور ایک پرائمری استاد کے لیے کھڑے ہو گئے؟تو میں نے اس کے۔کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: محترم! یہ ٹیچر میرے بیٹے کا ٹیچر ہے۔ اگر میں اس سے اٹھ کر نہ ملتا تو میرے ساتھ بیٹھے میرے بیٹے کے دل میں آتا کہ۔میرا ابو میرے استاد سے بڑے افسر ہیں اور میرے خیال میں استاد سے بڑا کوئی افسر نہیں ہوتا۔