11/07/2026
صبح کے وقت کی اہمیت کا اندازہ اس دعا سے لگایا جا سکتا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا»
"اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے ابتدائی وقت میں برکت عطا فرما۔"
یہی وہ وقت ہے جسے ہم رات بھر جاگنے کی وجہ سے خود اپنے ہاتھوں سے کھو دیتے ہیں۔
کتنا بڑا خسارہ ہے کہ انسان چند گھنٹوں کی عارضی تفریح کے بدلے اللہ تعالیٰ کی دائمی برکتوں سے محروم ہو جائے۔
رسول اللہ ﷺ کا معمول اس کے بالکل برعکس تھا۔ سیدنا ابو برزہ اسلمیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء سے پہلے سونا اور عشاء کے بعد بلا ضرورت گفتگو کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری)
یہ محض ایک معمول نہیں تھا بلکہ ایک ایسا طرزِ زندگی تھا جو عبادت، صحت، نظم اور برکت کو یکجا کرتا تھا۔
آج سائنس بھی اس حقیقت کی گواہی دے رہی ہے کہ بروقت سونا اور صبح جلد بیدار ہونا انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ جسم کی اندرونی گھڑی، دماغ کی کارکردگی، ہارمونز کا توازن، دل کی صحت، قوتِ مدافعت، ذہنی سکون اور یادداشت سب کا تعلق رات کی بروقت نیند سے ہے۔
گویا جس حقیقت کو اسلام نے چودہ صدیاں پہلے سکھایا تھا، جدید تحقیق آج اس کی تصدیق کر رہی ہے۔
المیہ صرف یہ نہیں کہ ہم راتیں جاگتے ہیں، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے نقصان کو نقصان سمجھتے ہی نہیں۔ اگر چند ہزار روپے ضائع ہو جائیں تو دل بے چین ہو جاتا ہے، مگر اگر فجر قضا ہو جائے، تہجد چھوٹ جائے، قرآن کی تلاوت رہ جائے، صبح کی برکت ہاتھ سے نکل جائے اور صحت تباہ ہونے لگے تو ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔
ہمیں خود سے چند سوال کرنے چاہییں:
کیا موبائل کی چند گھنٹوں کی مصروفیت صبح کی برکت سے زیادہ قیمتی ہے؟
کیا رات کی بے مقصد محفلیں ہماری صحت سے زیادہ اہم ہیں؟
کیا وقتی تفریح اس سکون کا نعم البدل بن سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے رات کی نیند میں رکھا ہے؟
اگر جواب "نہیں" ہے، تو پھر ہمیں اپنی عادتیں بدلنی ہوں گی۔
یاد رکھیے! جو قومیں اپنی صبحیں آباد کرتی ہیں، ان کی تقدیریں بھی سنورتی ہیں، اور جو قومیں اپنی راتیں برباد کرتی ہیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی صحت، اپنی عبادت، اپنی برکت اور اپنی توانائی کھو بیٹھتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم صرف دوسروں کو نصیحت کریں، بلکہ اپنے گھروں میں اس سنت کو زندہ کریں۔ جلد کھانا، جلد سونا، فجر سے پہلے بیدار ہونا، تہجد کی توفیق حاصل کرنا، اور دن کا آغاز اللہ کے نام سے کرنا یہی وہ عادتیں ہیں جو ایک فرد، ایک خاندان اور ایک معاشرے کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔
آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ زندگی کی کامیابی راتوں کو روشن کرنے میں نہیں، بلکہ صبحوں کو آباد کرنے میں ہے۔
اس لیے اگر آپ اپنی صحت، اپنی عبادت، اپنی اولاد، اپنے رزق اور اپنی زندگی میں برکت چاہتے ہیں تو حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی سنتوں کو اپنا لیجئے۔