Islah e Qalb

Islah e Qalb Visiting Faculty Member at International Islamic University Islamabad

15/08/2026

وطن کی محبت
Love for homeland

08/08/2026

مثبت اور منفی سوچ
Positive & Negative Thinking

01/08/2026

قبولیتِ اعمال
Acceptance of Good Deeds

25/07/2026

مراقبے کی اہمیت
Importance of Muraqbah

11/07/2026

صبح کے وقت کی اہمیت کا اندازہ اس دعا سے لگایا جا سکتا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا»
"اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے ابتدائی وقت میں برکت عطا فرما۔"
یہی وہ وقت ہے جسے ہم رات بھر جاگنے کی وجہ سے خود اپنے ہاتھوں سے کھو دیتے ہیں۔
کتنا بڑا خسارہ ہے کہ انسان چند گھنٹوں کی عارضی تفریح کے بدلے اللہ تعالیٰ کی دائمی برکتوں سے محروم ہو جائے۔
رسول اللہ ﷺ کا معمول اس کے بالکل برعکس تھا۔ سیدنا ابو برزہ اسلمیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء سے پہلے سونا اور عشاء کے بعد بلا ضرورت گفتگو کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری)
یہ محض ایک معمول نہیں تھا بلکہ ایک ایسا طرزِ زندگی تھا جو عبادت، صحت، نظم اور برکت کو یکجا کرتا تھا۔
آج سائنس بھی اس حقیقت کی گواہی دے رہی ہے کہ بروقت سونا اور صبح جلد بیدار ہونا انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ جسم کی اندرونی گھڑی، دماغ کی کارکردگی، ہارمونز کا توازن، دل کی صحت، قوتِ مدافعت، ذہنی سکون اور یادداشت سب کا تعلق رات کی بروقت نیند سے ہے۔
گویا جس حقیقت کو اسلام نے چودہ صدیاں پہلے سکھایا تھا، جدید تحقیق آج اس کی تصدیق کر رہی ہے۔
المیہ صرف یہ نہیں کہ ہم راتیں جاگتے ہیں، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے نقصان کو نقصان سمجھتے ہی نہیں۔ اگر چند ہزار روپے ضائع ہو جائیں تو دل بے چین ہو جاتا ہے، مگر اگر فجر قضا ہو جائے، تہجد چھوٹ جائے، قرآن کی تلاوت رہ جائے، صبح کی برکت ہاتھ سے نکل جائے اور صحت تباہ ہونے لگے تو ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔
ہمیں خود سے چند سوال کرنے چاہییں:
کیا موبائل کی چند گھنٹوں کی مصروفیت صبح کی برکت سے زیادہ قیمتی ہے؟
کیا رات کی بے مقصد محفلیں ہماری صحت سے زیادہ اہم ہیں؟
کیا وقتی تفریح اس سکون کا نعم البدل بن سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے رات کی نیند میں رکھا ہے؟
اگر جواب "نہیں" ہے، تو پھر ہمیں اپنی عادتیں بدلنی ہوں گی۔
یاد رکھیے! جو قومیں اپنی صبحیں آباد کرتی ہیں، ان کی تقدیریں بھی سنورتی ہیں، اور جو قومیں اپنی راتیں برباد کرتی ہیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی صحت، اپنی عبادت، اپنی برکت اور اپنی توانائی کھو بیٹھتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم صرف دوسروں کو نصیحت کریں، بلکہ اپنے گھروں میں اس سنت کو زندہ کریں۔ جلد کھانا، جلد سونا، فجر سے پہلے بیدار ہونا، تہجد کی توفیق حاصل کرنا، اور دن کا آغاز اللہ کے نام سے کرنا یہی وہ عادتیں ہیں جو ایک فرد، ایک خاندان اور ایک معاشرے کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔
آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ زندگی کی کامیابی راتوں کو روشن کرنے میں نہیں، بلکہ صبحوں کو آباد کرنے میں ہے۔
اس لیے اگر آپ اپنی صحت، اپنی عبادت، اپنی اولاد، اپنے رزق اور اپنی زندگی میں برکت چاہتے ہیں تو حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی سنتوں کو اپنا لیجئے۔

14/06/2026

جب سيدنا عمر رضى الله عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ رضى الله عنہ كو دودھ پلايا گيا جو پسليوں كى طرف سے نكل گيا۔
طبيب نے كہا:
اے امير المؤمنين! وصيت كر ديجيے اسليے كہ آپ مزيد زندہ نہيں رہ سكتے۔
سيدنا عمر رضى الله عنہ نے اپنے بيٹے عبدالله كو بلايا اور كہا:
ميرے پاس حذيفہ بن يمان كو لاؤ۔ حذيفہ بن يمان وہ صحابى تھے جن كو رسول اللهﷺ نے منافقين كے ناموں كى لسٹ بتائى تھى، جس كو الله، الله كے رسول اور حذيفہ كے علاوہ كوئى نہ جانتا تھا۔۔۔

حذيفہ رضى الله عنہ حاضر ہوئے تو امير المؤمنين سيدنا عمر رضى الله عنہ گويا ہوئے جبكہ خون آپ كى پسليوں سے رس رہا تھا، حذيفہ! ميں تجھے الله كى قسم ديتا ہوں ، كيا رسول اللهﷺ نے ميرا نام منافقين ميں ليا ہے كہ نہيں؟
حذيفہ رضى الله عنہ روتے ہوئے كہنے لگے :
اے امير المؤمنين! يہ ميرے پاس رسول اللهﷺ كا راز ہے، ميں اس كو مرتے دم تك كسى كو نہيں بتا سكتا۔۔۔
سيدنا عمر رضى الله عنہ كہنے لگے: حذيفہ! بلاشبہ يہ رسول اللهﷺ كا راز ہے ، بس مجھے اتنا بتا ديجيے كہ رسول اللهﷺ نے ميرا نام منافقين كے جدول ميں شمار كيا ہے يا نہيں؟
حذيفہ كى ہچكى بندھ گئى ، روتے ہوئے كہنے لگے: اے عمر! ميں صرف آپ كو يہ بتا رہا ہوں اگر آپ كے علاوہ كوئى اور ہوتا تو ميں كبھى بھى اپنى زبان نہ كھولتا، وہ بھى صرف اتنا بتاؤں گا كہ رسول اللهﷺ نے آپ كا نام منافقين كى لسٹ ميں شمار نہيں فرمايا۔

سيدنا عمر رضى اللہ عنہ يہ سن كر اپنے بيٹےعبدالله سے كہنے لگے: عبدالله اب صرف ميرا ايك معاملہ دنيا ميں باقى ہے۔۔۔
پِسر جانثار كہنے لگا: اباجان بتائيے وہ كون سا معاملہ ہے؟
سيدنا عمر رضى الله گويا ہوئے بيٹا، میں رسول الله اور ابوبكر رضى الله عنہ كے پہلو ميں دفن ہونا چاہتا ہوں۔۔۔

اے ميرے بيٹے! ام المؤمنين عائشہ رضى الله عنہا كے پاس جاؤ اور ان سے اجازت طلب كرو كہ عمر اپنے ساتھيوں كے پہلو ميں دفن ہونا چاہتا ہے۔۔۔ اور ہاں بيٹا! عائشہ رضى اللہ عنہا كو يہ نہ كہنا كہ امير المؤمنين كا حكم ہے بلكہ كہنا كہ آپ كا بيٹا عمر آپ سے درخواست گزار ہے۔۔۔
ام المؤمنين عائشہ رضى الله عنہا كہنے لگيں، ميں نے يہ جگہ اپنى قبر كے ليے مختص كر ركھى تھى، ليكن آج ميں عمر كے ليے اس سے دستبردار ہوتى ہوں۔۔۔

عبد الله مطمئن واپس لوٹے اور اپنے اباجان كو اجاز ت کا بتایا، سيدنا عمر رضى الله عنہ يہ سن كر اپنے رخسار كو زمين پر ركھ ديا، آداب فرزندى سے معمور بيٹا آگے بڑھا اور باپ كى چہرے كو اپنے گود ميں ركھ ليا ، باپ نے بيٹے كى طرف ديكھا اور كہا اس پيشانى كو زمين سے كيوں اٹھايا۔۔۔۔
اس چہرے كو زمين پر واپس ركھ دو، ہلاكت ہوگى عمر كے ليے اگر اس كے رب نے اس كو قيامت كے دن معاف نہ كيا۔۔۔ !
رحمك اللہ يا عمر

سيدنا عمر رضى الله عنہ بيٹے عبدأللہ كو يہ وصيت كركے اس دار فانى سے كوچ كر گئے کہ جب ميرے جنازے كو اٹھايا جائے اور مسجد نبوى ميں ميرا جنازہ پڑھا جائے، تو حذيفہ پر نظر ركھنا كيونكہ اس نے وعدہ توڑنے ميں تو شايد ميرا حيا كيا ہو، لیکن دھيان ركھنا وہ ميرا جنازہ بھى پڑھتا ہے يا نہيں؟

اگر تو حذيفہ ميرا جنازہ پڑھے تو ميرى ميت كو رسول اللهﷺ كے گھر كى طرف لے كر جانا، اور دروازے پر كھڑے ہو كر كہنا : يا ام المؤمنين! اے مومنوں كى ماں، آپ كے بيٹے عمر كا جسد خاكي آيا ہے۔۔۔ ہاں يہاں بھي ياد ركھنا امير المؤمنين نہ كہنا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا مجھ سے بہت حياء كرتى ہیں۔۔۔ اگر تو عائشہ رضى اللہ عنہا اجازت مرحمت فرما ديں تو ٹھيک، اگر اجازت نہ ملے تو مجھے مسلمانوں كے قبرستان ميں دفنا دينا۔

عبدالله بن عمر رضى الله عنہ كہتے ہيں کہ ابا جان كا جنازہ اٹھايا گيا تو ميرى نظريں حذيفہ پر تھيں، حذيفہ آئے اور انھوں نے اباجان كا جنازہ پڑھا۔۔۔ ميں يہ ديكھ كر مطمئن ہوگيا، اور اباجان كى ميت كو عائشہ رضى الله عنہا كے گھر كى طرف لے كر چلے جہاں اباجان كے دونوں ساتھى آرام فرما تھے۔۔
دروازے پر كھڑے ہو كر ميں نے كہا: يا أمّنا، ولدك عمر في الباب هل تأذنين له؟
اماں جان! آپ كا بيٹا عمر دروازے پر موجود ہے، كيا آپ اس كو دفن كى اجازت ديتى ہيں؟
اماں عائشہ رضى الله عنہا نے كہا: مرحبا ، امير المؤمنين كو اپنے ساتھيوں كے ساتھ دفن ہونے پر مبارك ہو۔ رضى الله عنہم ورضوا عنہ

الله راضى ہو عمر سے جنہوں نے زمين كو عدل كے ساتھ بھر ديا ، پھر بھى الله سے اتنا زيادہ ڈرنے والے، اس كے باوجود كہ رسول اللهﷺ نے عمر كو جنت كى بشارت دى تھی۔۔
سبحان الله

26/05/2026

Day of Arafaat - Special Bayan | Sahibzada Hazrat Maualna Hafiz P*e...

25/05/2026

عباداتِ قلبی :
ہر اچھے کام کے کرنے اور برائی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ضمیر کا احساس بیدار اور دل میں خیر و شر کی تمیز کے لیے خلش ہو، یہ "تقویٰ" ہے۔ پھر اس کام کو خدائے واحد کی رضامندی کے سوا ہر غرض و غایت سے پاک رکھا جائے، یہ "اخلاص" ہے۔ پھر اس کام کے کرنے میں صرف خدا کی نصرت پر بھروسہ رہے، یہ "توکل" ہے۔ اس کام میں رکاوٹیں اور دقتیں پیش آئیں یا نتیجہ مناسب حال برآمد نہ ہو تو دل کو مضبوط رکھا جائے اور خدا سے آس نہ توڑی جائے اور اس راہ میں اپنے برا چاہنے والوں کا بھی برا نہ چاہا جائے، یہ "صبر" ہے اور اگر کامیابی کی نعمت ملے تو اس پر مغرور ہونے کی بجائے اس کو خدا کا فضل و کرم سمجھا جائے اور جسم و جان اور زبان سے اس کا اقرار کیا جائے اور اس قسم کے کاموں کے کرنے میں اور زیادہ انہماک صرف کیا جائے، یہ "شکر" ہے۔

Address

House 723-D-1, F-Block, Satellite Town
Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islah e Qalb posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Islah e Qalb:

Shortcuts

Share

Category