Zahid Writes

Zahid Writes

Share

Personal Blog

30/08/2025

آسانیاں بانٹیں، نرمی سے پیش آئیں، مسکراہٹ بکھیرنے والے دعائیں سمیٹنے والے بنیں۔
دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کریں. آسانیاں تقسیم کرنے والے بنیں۔

16/04/2025

عشق*
مولانا رومیؒ بازار سے گزر رہے تھے، مولانا صاحب کے سامنے کریانے کی ایک دکان تھی
ایک درمیانی عمر کی خاتون دکان پر کھڑی تھی اور دکاندار وارفتگی کے عالم میں اس خاتون کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
وہ جس چیز کی طرف اشارہ کرتی دکاندار ہاتھ سے اس بوری سے وہ چیز نکالنے لگتا اور اس وقت تک وہ چیز تھیلے میں ڈالتا جاتا جب تک خاتون کی انگلی کسی دوسری بوری کی طرف نہیں جاتی اور دکاندار دوسری بوری سے بھی اندھا دھند چیز نکال کر تھیلے میں ڈالنے لگتا۔۔۔
یہ عجیب منظر تھا دکاندار وارفتگی کے ساتھ گاہک کو دیکھ رہا تھا اور گاہک انگلی کے اشارے سے دکاندار کو پوری دکان میں گھما رہا تھا اور دکاندار اٰلہ دین کے جن کی طرح چپ چاپ اس کے حکم پر عمل کر رہا تھا۔۔۔
خاتون نے آخر میں لمبی سانس لی اور دکاندار کو حکم دیا "چلو بس کرو آج کی خریداری مکمل ہو گئی۔۔۔۔"
دکاندار نے چھوٹی چھوٹی تھیلیوں کے منہ بند کئے یہ تھیلیاں بڑی بوری میں ڈالیں بوری کندھے پر رکھی اور خاتون سے بولا "چلو زبیدہ میں سامان تمہارے گھر چھوڑ آتا ہوں۔۔۔۔"
خاتون نے نخوت سے گردن ہلائی اور پوچھا "کتنا حساب ہوا۔۔۔۔؟"
دکاندار نے جواب دیا "زبیدہ عشق میں حساب نہیں ہوتا۔۔۔۔"
خاتون نے غصے سے اس کی طرف دیکھا واپس مڑی اور گھر کی طرف چل پڑی دکاندار بھی بوری اٹھا کر چپ چاپ اس کے پیچھے چل پڑا۔
مولانا صاحب یہ منظر دیکھ رہے تھے دکاندار خاتون کے ساتھ چلا گیا تو مولانا صاحب دکان کے تھڑے پر بیٹھ گئے اور شاگرد گلی میں کھڑے ہو گئے۔ دکاندار تھوڑی دیر بعد واپس آگیا، مولانا صاحب نے دکاندار کو قریب بلایا اور پوچھا "یہ خاتون کون تھی۔؟"
دکاندار نے ادب سے ہاتھ چومے اور بولا "جناب یہ فلاں امیر خاندان کی نوکرانی ہے۔"
مولانا صاحب نے پوچھا "تم نے اسے بغیر تولے سامان باندھ دیا پھر اس سے رقم بھی نہیں لی کیوں۔؟"
دکاندار نے عرض کیا "مولانا صاحب میں اس کا عاشق ہوں اور انسان جب کسی کے عشق میں مبتلا ہوتا ہے تو پھر اس سے حساب نہیں کر سکتا"
دکاندار کی یہ بات سیدھی مولانا صاحب کے دل پر لگی۔ وہ چکرائے اور بیہوش ہو کر گر پڑے، شاگرد دوڑے مولانا صاحب کو اٹھایا ان کے چہرے پر عرقِ گلاب چھڑکا، ان کی ہتھیلیاں اور پاؤں رگڑے مولانا صاحب نے بڑی مشکل سے آنکھیں کھولیں۔
دکاندار گھبرایا ہوا تھا وہ مولانا صاحب پر جھکا اور ادب سے عرض کیا "جناب اگر مجھ سے غلطی ہو گئی ہو تو معافی چاہتا ہوں۔۔۔"
مولانا صاحب نے فرمایا "تم میرے محسن ہو میرے مرشد ہو کیونکہ تم نے آج مجھے زندگی میں عشق کا سب سے بڑا سبق دیا"
دکاندار نے حیرت سے پوچھا "جناب وہ کیسے۔۔۔؟"
مولانا صاحب نے فرمایا "میں نے جانا تم ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہو کر حساب سے بیگانے ہو جبکہ میں اللہ کی تسبیح بھی گن گن کر کرتا ہوں، نفل بھی گن کر پڑھتا ہوں اور قرآن مجید کی تلاوت بھی اوراق گن کر کرتا ہوں، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالٰی سے عشق کا دعوٰی کرتا ہوں تم کتنے سچے اور میں کس قدر جھوٹا عاشق ہوں۔"
مولانا صاحب وہاں سے اٹھے ۔۔۔ اپنی درگاہ پر واپس آئے اور اپنے استاد حضرت شمس تبریز کے ساتھ مل کر عشق کے چالیس اصول لکھے۔ ان اصولوں میں ایک اصول "بے حساب اطاعت" بھی تھا۔
یہ مولانا صاحب مولانا روم تھے، اور یہ پوری زندگی اپنے شاگردوں کو بتاتے رہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں نعمتیں دیتے ہوئے حساب نہیں کیا، چنانچہ تم بھی اس کا شکر ادا کرتے ہوئے حساب نہ کیا کرو اپنی ہر سانس کی تار اللہ کے شکر سے جوڑ دو اس کا ذکر کرتے وقت کبھی حساب نہ کرو یہ بھی تم سے حساب نہیں مانگے گا اور یہ کُل عشقِ الٰہی ہے۔

20/08/2024

"جب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے نفرت سے منہ پھردیا.. "
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا نامہ مبارک کسری' (شاہ ایران) کو پہنچا.. اس نے نہایت تکبر سے اسے پھاڑدیا.. اور اپنے سیکریٹری کو بلوایا اور کہا کہ..
" فورا میرے نائب یمن کے گورنر "باذان" کو لکھو کہ وہ معلوم کرے کہ یہ شخص کون ھے جس نے اتنی بڑی جرات کی ھے کہ مجھے خط لکھا اور میرے نام سے پہلے اپنا نام لکھ دیا.. مزید براں دو مضبوط اور توانا آدمی بھیجو اور اسے گرفتار کرکے میرے سامنے پیش کرو.. "
چنانچہ باذان نے اپنے دو نہایت ھی سمجھ دار آدمی روانہ کردیے جن میں سے ایک اس کا قہرمان (داروغہ) تھا.. اور دوسرے کا نام خرخرہ تھا.. انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو گرفتار کرلائيں..
یہ دونوں یمن سے طائف پہنچے.. یہاں ایک قریشی سے ملے.. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے بارے میں پوچھا.. اس نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم مدینہ میں ھیں..
طائف کے لوگوں کو جب ان کے عزائم کا علم ھوا تو وہ بہت خوش ھوئے کہ مسئلہ حل ھوگیا.. محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو کسری' نے طلب کرلیا ھے.. اب وہ خود ھی ان سے نپٹ لے گا..
قہرمان اور خرخرہ مدینہ پہنچے.. یہ دونوں بڑے ھٹے کٹے تھے.. لمبی لمبی مونچھی رکھی ھوئی تھیں.. داڑھی بالکل منڈائی ھوئی تھی.. یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے پاس پہنچے.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے ان کی ھیت کذائی دیکھی تو منہ پھیرلیا..
قہرزمان نے کہا..
" شہنشاہ کسری' کے حکم پر باذان بادشاہ نے ھمیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ھے.. چنانچہ میں آپ کو لینے آیا ھوں.. اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) میرے ساتھ چلیں تو پھر وہ شہشناہ کسری' کو سفارش کرے گا کہ آپ کو کچھ نہ کہا جائے.. اور آپ کو کچھ عطا بھی کردے.. اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) نے جانے سے انکار کیا تو پھر آپ اسے خوب جانتے ھیں. وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کو اور آپ کی قوم کو تباہ و برباد کردے گا اور آپ کی بستیاں ویران کردے گا..
جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ھے کہ ان کی شکل و صورت دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے شدید نفرت کا اظہار کیا. اور چہرے کی طرف اشارہ کرکے فرمایا..
"تمھارا ستیا ناس ھو.. تمھیں داڑھی منڈانے کا حکم کس نے دیا ھے..؟ "
انہوں نے کہا.. "ھمیں ھمارے رب کسری نے حکم دیا ھے.. "
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے ارشاد فرمایا..
" مگر میرے رب تعالی نے مجھے داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کٹوانے کا حکم دیا ھے.. "
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا.. " میرے پاس کل آنا.. "
رات کو اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو وحی کے ذریعے بتلادیا کہ فلاں ماہ کی فلاں تاریخ کو رات کے وقت کسری' کے بیٹے "شیرویہ" نے اپنے باپ کو قتل کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا ھے..
اگلے دن وہ دونوں پھر آئے.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے ان کو وحی الہی کے مطابق بتادیا کہ تمھارے شہنشاہ کو اس کے بیٹے نے منگل 10 جمادی اولی 7 ہجری کی رات کو چھہ گھنٹے گزرنے کے بعد قتل کرکے حکومت خود سنبھال لی ھے..
وہ دونوں حیران رہ گئے. بے ساختہ کہنے لگے.. " آپ کو معلوم بھی ھے کہ آپ کیا کہہ رھے ھیں..؟ "
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا.. " میرے رب نے تمہارے رب کو ہلاک کر ڈالا ھے.. "
انہوں نے کہا.. " ھم ابھی بادشاہ باذان کو لکھے دیتے ھیں.. "
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا..
"ھاں ! اس کو میری طرف سے یہ خبر بھی پہنچادو اور لکھ دو.. کہ میرا دین اور میری حکومت وہاں تک پہنچے کر رھے گی جہاں تک کسری' پہنچ چکا ھے.. بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اس جگہ رکے گی جہاں سے آگے اونٹ اور گھوڑے کے قدم جا ھی نہیں سکتے.. (وہاں سے آگے سمندر ھے..)
تم دونوں اس سے (باذان سے) یہ بھی کہہ دینا کہ اگر تم مسلمان ھوجاؤ تو جو کچھ تمہارے زیر اقتدار ھے وہ سب میں تمہارے ھی پاس رھنے دوں.. اور تمہیں تمہار ی قوم کا بادشاہ بنادوں گا.. "
اقتباسات
تاریخ الطبری 3/143
والبدایۃ والنہایۃ 6/485

30/07/2023
28/07/2023

آئیے اپنا محاسبہ کریں______!!
کیا ہمارا دل جھوٹ بولنے سے خوش ہوتا ہے؟
کیا ہم چغلی اور غیبت کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں؟
کیا نماز چھوڑ دینا ہمارے لئے ایک معمولی بات ہے؟
کیا ہماری روح میوزک اور موویز سے سرور پاتی ہے؟
کیا ہمارا ضمیر گالیاں بکنے اور جھوٹ بولنے،سننے پر مطمئن ہے؟
کیا دوسروں پر تنقید برائے تنقید کرنا ہم اپنا حق سمجھتے ہیں؟
کیا دوسروں پر اللّٰہ کی نعمتوں کو دیکھ کر حسد کرتے ہیں؟
اللہ نہ کرے، اگر ان سوالوں کے جوابات مثبت ہیں تو اللہ پاک ہم سے ناراض ہیں۔ آئیے اپنے ربّ کریم کو منا لیں۔آئیے اس کے دربار میں اپنے سابقہ گناہوں کا اعتراف کرکے آئندہ کیلئے گناہ چھوڑنے کا پختہ عزم کریں۔
"یا اللہ ہم واقعی گنہگار ہیں، تہہ دل سے اپنی کوتاہیوں کا اقرار کرتے ہیں، ہمیں معاف فرما۔ ہمیں آئندہ گناہوں سے بچنے پر استقامت عطا فرما۔" آمین یا رب العالمین

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Rawalpindi
44000