قرأن ہی اصل سائنس ہے
قیامت کی ٹیکنالوجی
( سوشل میڈیا سے چنیدہ )
بلآخر سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنےٹیک کیا ہم غلط عضو سے (Organ دئیے
سے سوچ رہے ہیں
بات صرف دماغ (Brain)
تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔
ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں
یعنی دماغ کے سیلز
سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔
اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو
قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا
"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"
(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔)
(القرآن، الاعراف: 179)
ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہے
آج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہے
جب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔
یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں
اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہوتی ہے۔
اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں۔
اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔
اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی دم کیوں کرتے ہیں؟
یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟
انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔
حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔
اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا رہا ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔
نا جی
غلط! سراسر غلط!
سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں اور انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہے ہیں، جبکہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکین کر کے آپ کے خیالات کو اسکرین پر دکھا دے گا
آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے اس تھوٹ ٹیکنالوجی کے بارے میں کیا کہا تھا
رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)
(صحیح بخاری: 1)
ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھا
لیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔
عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔
نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔
ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔
جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔
اگر آپ کا عمل بہت بڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک الیکٹریکل دستخط چھوڑ رہی ہیں۔
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔
خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں
قرآن کہتا ہے:
"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔)
(القرآن، ق: 50:18)
اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:
"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"
(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Data بیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)
(القرآن، الجاثیہ: 45:29)
یہ نستنسخ کا لفظ بہت اہم ہے۔
اگر انسان (ٹیسلا اور آج کی AI) ایسی مشین بنا سکتا ہے جو دماغ کی لہروں کو تصویر میں بدل دے، تو کیا اللہ کا نظام آپ کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ نہیں کر رہا۔
قیامت کے دن جب اعمال نامہ پیش ہوگا، تو وہ 4K Video کی طرح آپ کے سامنے چلے گا
"فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ"
(پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔)
(القرآن، الزلزال)
یہاں پڑھنے کا نہیں، دیکھنے (Visualizing) کا ذکر ہے۔ ٹیسلا کی تھوٹ فوٹوگرافی دراصل قیامت کے دن کی ٹیکنالوجی کا ایک ادنیٰ سا ٹریلر ہے۔
کیوں سسٹم چاہتا ہے کہ یہ طاقت صرف ان کے پاس ہو۔
آج ایلون مسک کا Neuralink کیا کر رہا ہے؟
وہ آپ کے دماغ میں چپ لگا کر آپ کی سوچ کو پڑھنا چاہتا ہے۔
یہ دجال کا سب سے بڑا ہتھیار ہوگا
اگر وہ آپ کی سوچ پڑھ سکتے ہیں، تو وہ آپ کی سوچ بدل بھی سکتے ہیں
وہ آپ کو مجرم قرار دے دیں گے اس سے پہلے کہ آپ کوئی جرم کریں جیسا کہ مغرب کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔
یہ ہے وہ فتنہ جس کے لیے ہمیں تیار ہونا تھا۔ لیکن ہمارا نوجوان کیا کر رہا ہے؟
وہ ٹک ٹاک پر ناچ رہا ہے
یہاں میں پھر اپنے گلے سڑے تعلیمی نظام پر افسردہ ہوں
ہمیں اسکولوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؟
رٹہ سسٹم
ڈارون کا بندر
انگریز کی تاریخ
ہمیں یہ کیوں نہیں پڑھایا جاتا کہ انسان ایک ٹرانسمیٹر ہے؟
ہمیں تزکیہ نفس کی سائنس کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟
کیونکہ اگر مسلمان کو پتہ چل گیا کہ اس کی پاکیزہ سوچ لیزر بیم کی طرح طاقتور ہے، تو وہ ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہو جائے گا
صحابہ کرامؓ کی سوچ میں اتنی طاقت تھی کہ حضرت عمرؓ مدینہ میں ممبر پر کھڑے ہو کر میلوں دور ساریہؓ کو فرماتے ہیں
"یا ساریہ الجبل"
(اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہو جاؤ!)
اور ان کی آواز وہاں سنی جاتی ہے۔
یہ ٹیلی پیتھی یا تھوٹ ٹرانسفر تھا جو ایمان کی طاقت سے پیدا ہوتا تھا۔ ہم نے وہ سائنس کھو دی اور آج ہم سمارٹ فون کے غلام بن گئے
میرے مسلمان ساتھیو
آپ کا دماغ کوڑے دان نہیں ہے۔ اس میں جو خیال آتا ہے، وہ ریکارڈ ہو رہا ہے اور اس کا اثر کائنات پر پڑ رہا ہے۔
ٹیسلا کی تھیوری ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ غیب کی دنیا حق ہے۔
اپنی سوچوں کی حفاظت کرو۔
اپنے خیالات کو دجالی میڈیا کے حوالے مت کرو۔
قرآن کو سائنس کی کتاب سمجھ کر پڑھو، تاکہ تم اس آنے والے ذہنی غلامی کے دور میں آزاد رہ سکو۔
اُٹھو! اور اپنی روحانی فریکوئنسی کو اتنا مضبوط کرو کہ کوئی دجالی مشین اسے ہیک نہ کر سکے۔
Digital Skills
Digital Skills courses
ہر فری لانسر کو ایجنسی بنانی ہے اور موٹا پیسہ کمانا ہے
اور جو ایجنسی بنا چکے ہیں وہ الگ سے ماتم کر ہے ہیں کہ کیوں ہیں یہ دکھ
یہ تین جھوٹ جو ایجنسی کلوزنگ کے نام پر ہمیں برسوں سے سنائے جا رہے ہیں
یہ کہانی میں نے لاہور میں سنی تھی،
یہ کہانی میں نے کراچی میں بھی دیکھی،
یہ قصہ میں نے اسلام آباد میں بھی سنا۔
وہاں ایک پچاس سالہ پاکستانی بیٹھا تھا،
بال سفید، آواز میں ٹھہراؤ،
کہنے لگا:
“میں نے زندگی میں دو کام سیکھے ہیں — ایک سیل، دوسرا صبر”
وہ پہلے ایک چھوٹی سی ایجنسی میں اکاؤنٹ ایگزیکٹو تھا۔
کام اچھا تھا، مگر کلوزنگ نہیں ہو رہی تھی۔
مالک روز ایک ہی بات کہتا:
“زیادہ زور مت ڈالو، کلائنٹ خود فیصلہ کرے گا”
یہ پہلا جھوٹ تھا۔
جھوٹ نمبر ایک: کلائنٹ کو چھوڑ دو، وہ خود فیصلہ کر لے گا
یہ جملہ پاکستان میں خاص طور پر بڑا مشہور ہے۔
ہم سمجھتے ہیں
فیصلہ کروانا بدتمیزی ہے۔
حالانکہ دنیا کے بڑے بزنس اس پر ہنستے ہیں۔
جاپان میں گاڑی بیچنے والا سیلز مین
خریدار کو شو روم سے
“سوچ کر جانے” نہیں دیتا،
وہ اسے آپشن دیتا ہے:
آج یا کل؟
cash یا finance؟
کیونکہ وہ جانتا ہے
کنفیوز انسان فیصلہ نہیں کرتا۔
سیدھی: سی بات ہے
کلائنٹ کو آزادی نہیں چاہیے،
کلائنٹ کو وضاحت چاہیے۔
پاکستانی فری لانسر یہی پر ہار جاتا ہے۔
وہ احترام کے نام پر
leadership
چھوڑ دیتا ہے۔
جھوٹ نمبر دو: اچھا کام خود بولتا ہے
یہ بات سننے میں بہت اچھی لگتی ہے۔
لیکن دنیا میں
قبرستان بہترین لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں
جو یہ سوچتے رہے
کہ میرا کام بولے گا۔
ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ تھا۔
کھانا لاجواب،
مالک خاموش۔
سامنے والا عام سا ریسٹورنٹ
لیکن کہانی بیچتا تھا:
اس کا کھانا اسلام آباد میں سب سے مہنگا
نام ہے TkR
“یہ وہ جگہ ہے جہاں شہر کے CEO آتے ہیں”
کون جیتا؟
کہانی والا۔
سچ یہ ہے:
لوگ کام نہیں خریدتے،
لوگ احساسِ تحفظ خریدتے ہیں۔
پاکستانی ایجنسیاں یہی بھول جاتی ہیں۔
وہ portfolio دکھا دیتی ہیں،
لیکن مستقبل نہیں دکھاتیں نہ ویژن دکھاتی ہیں ۔
جھوٹ نمبر تین: زیادہ
pitch
کرو گے تو
desperate لگو گے
یہ سب سے خطرناک سوچ ہے۔
یہ وہ سوچ ہے
جو فری لانسر کو سالوں تک فری لانسر رکھتی ہے۔
دنیا میں کوئی بھی
سرجن یہ نہیں کہتا:
“آپ خود سوچ لیں، آپریشن کرنا ہے یا نہیں”
وہ خطرہ بتاتا ہے،
وہ نقصان بتاتا ہے،
وہ وقت بتاتا ہے۔
کیونکہ وہ جانتا ہے
خاموشی جرم ہے۔
Pitch
کرنا مسئلہ نہیں،
غیر واضح ہونا مسئلہ ہے۔
اب ذرا پاکستان واپس آتے ہیں
یہاں لوگ کہتے ہیں:
“یار market saturated ہے”
نہیں۔
یہاں market confused ہے۔
لوگ ایجنسی ڈھونڈ رہے ہیں
لیکن لیڈر نہیں مل رہا۔
سب سروسز بیچ رہے ہیں،
کوئی فیصلہ نہیں کروا رہا۔
Javed Choudary ایک بات بار بار کہتے ہیں:
“دنیا میں طاقت علم میں نہیں،
طاقت وضاحت میں ہوتی ہے
ایجنسی کلوزنگ کا آسان فارمولا
کوئی جادو نہیں۔
یہ بس اتنا ہے:
مسئلہ صاف بتاؤ
نقصان واضح کرو
حل کو کانفدنس کے ساتھ رکھو
اور آخر میں فیصلہ کراو
یہ ہے انوائیس
دو ایڈوانس
آخری سوال (یہاں کہانی ختم نہیں ہوتی، یہاں فیصلہ شروع ہوتا ہے):
تم وہ پاکستانی ایجنسی بننا چاہتے ہو
جو ہر ہفتے کہتی ہے:
“Lead
اچھی تھی، کلائنٹ خراب نکلا”
یا وہ
جس کے لیے کلائنٹ کہتا ہے:
“آپ بتائیں، ہمیں کیا کرنا چاہیے”
دنیا میں دو ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں:
ایک وہ جو فیصلے کرتے ہیں،
اور ایک وہ جو زندگی بھر انتظار کرتے ہیں۔
اب بتاؤ
تم کس طرف کھڑے ہو؟
اگر میرے پاس 2026 میں کوئی اسکل نہ ہوتی، تو میں ہر ماہ $2000 کمانے کے لیے یہ پلان فالو کرتا:
میں نیچے دی گئی AI اسکلز میں سے ایک چنتا اور اسے سیکھتا:
پہلا: AI آٹومیشن
کاروبار روز مرہ کے دہرائے جانے والے کاموں سے تھک گئے ہیں۔ اگر آپ آسان آٹومیشن بنا سکیں جو وقت بچائے، تو کلائنٹس ہمیشہ موجود ہوں گے۔
دوسرا: AI ویڈیو پروڈکشن
چھوٹی ویڈیوز ہر جگہ ہیں۔ اگر آپ AI ٹولز سے صاف اور پروفیشنل ویڈیوز بنا سکیں، برانڈز اور کریئیٹرز کے لیے، تو تیزی سے کمائی شروع ہو سکتی ہے۔
تیسرا: AI ایجنٹس بنانا
کمپنیز سمارٹ سسٹمز چاہتی ہیں۔ اگر آپ AI ایجنٹ بنا سکیں جو سپورٹ، ڈیٹا، آن بورڈنگ یا آسان ٹاسکس سنبھالے، تو اچھا خاصا پیسہ کما سکتے ہیں۔
چوتھا: پرومپٹ انجینئرنگ
یہ سب کچھ کی بنیاد ہے۔ اگر آپ AI ٹولز سے بہترین نتائج نکالنا جانتے ہیں، تو حقیقی کمائی کا راستہ کھل جائے گا۔
پانچواں: AI ریسرچ اور ڈاکیومنٹیشن
لوگ نئے ٹولز سمجھنے، گائیڈ لکھنے اور پروسیس سمجھانے میں مدد چاہتے ہیں۔ اگر آپ یہ اچھی طرح کر لیں، تو $2K سے $4K تک کمائی ممکن ہے۔
محنت کریں
21/01/2025
🌹°。°。📚°。°。🇸🇦°。°。🌹
*🪔🤲🏻بِســــــــــمِﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ🤲🏻🪔*
*اَلصَّـلٰوةُوَالسَّـلَامُ عَلَیـْكَ یَارَسُـوْلَ اللّٰهﷺ*
*🤝🏻اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُه🤝🏻*
🌹°。°。📚
*🔻🔺 فرمان مصطفیٰ ﷺ 🔺🔻*
🌹°。°。📚°。°。🇸🇦°。°。🌹
فرمانِ سیدنا ابنِ عباس ؓ
مصطفیٰ کریم ﷺ نے فرمایا:
2 نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ دھوکے میں پڑے ہیں۔
تندرستی اور فراغت
*( الصحیح البخاری ، 222/4 ، حدیث 6412 )*
🌹°。°。📚°。°。🇸🇦°。°。🌹
ایک ایک فٹ کے 100 گڑے کھودیں تو پانی نہیں نکلے گا لیکن 100 فٹ کا ایک ہی گڑھا کھودیں تو پانی ضرور نکلے گا اپنی صلاحیت اور قابلیت کو 10 جگہوں پر لگانے کی بجائے ایک ہی جگہ پر لگائیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالٰی وبرکاتہ
جس کی کوئی گارنٹی نہیں اس کا نام زندگی ہے اور جس کی فل گارنٹی ہے اس کا نام موت ہے، زندگی ایک کتاب ہے، پہلا صفحہ پیدائش، آخری صفحہ موت، درمیانی صفحات خالی ہیں، اس میں جو پسند ہو لکھیں، بس ایسا کچھ لکھیں کہ اللہ کو دکھاتے ہوئے شرمندگى محسوس نہ ہو
یا اللہ پاک ہمیں نمازیں باجماعت اور روزانہ قرآن مجید پڑھنے اور سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما
تمام احباب محبت سےذکرالہی کرنے اور درود پاک پڑھنے کو معمول بنا لیں کہ سعادت دارین اور شفاعتِ کبریٰ کا باعث ہے
SEO (Search Engine Optimization) knowledge encompasses various techniques and strategies to improve the visibility and ranking of a website in search engine results pages (SERPs). Here are some key aspects of SEO knowledge:
1. *Keyword research*: Identifying relevant keywords and phrases to optimize website content.
2. *On-page optimization*: Optimizing website elements like titles, descriptions, headings, content, and internal linking.
3. *Technical optimization*: Improving website technical aspects like page speed, mobile responsiveness, and search engine crawlability.
4. *Link building*: Building high-quality backlinks from other websites to increase authority and ranking.
5. *Content creation*: Creating high-quality, engaging, and informative content to attract and retain users.
6. *Local SEO*: Optimizing website for local search by including name, address, and phone number (NAP) consistently across the web.
7. *Analytics and tracking*: Monitoring website traffic, engagement, and ranking using tools like Google Analytics and Search Console.
8. *Algorithm updates*: Staying up-to-date with the latest search engine algorithm updates and adjusting strategies accordingly.
9. *User experience*: Focusing on improving user experience and website usability to increase engagement and ranking.
10. *Content marketing*: Using content to attract and retain users, build brand awareness, and drive conversions.
11. *SEO tools*: Familiarity with various SEO tools like Ahrefs, SEMrush, Moz, and more.
12. *SEO audit*: Conducting regular website audits to identify areas for improvement.
13. *Competitor analysis*: Analyzing competitors' websites to identify gaps and opportunities.
14. *SEO strategy*: Developing a comprehensive SEO strategy aligned with business goals.
15. *Staying up-to-date*: Continuously learning and adapting to the latest SEO trends, best practices, and algorithm updates.
Remember, SEO knowledge is constantly evolving, so it's essential to stay informed and adapt to changes in the field.
*حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کا ابلیس سے مکالمہ*.
ایک دفعہ حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ نے ابلیس کو دیکھنے کی خواہش کی مسجد سے جو باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بوڑھا چلا ا رہا ہے اپ کے قلب مبارک کو اس کی صورت دیکھتے ہی وحشت سی پیدا ہوئی اپ نے جو اس سے پوچھا تو کون ہے بولا کوئی نہیں تمہاری ارزو ہوں اپ نے فورا کہا معلون تجھے کس نے یہ مشورہ دیا تھا کہ ادم کو سجدہ نہ کرنا۔انکساری سے جواب دیا کہ جنید رحمہ اللہ سوچئے تو میں کس طرح اللہ کے سوا دوسرے کو سجدہ کرتا مجھے تو بڑی غیرت ائی کہ اسے چھوڑ کر غیروں کو سجدہ کرو لگتی ہوئی بات تھی اپ یہ جواب سن کر سوچنے لگے کہ یہ بات تو سچ کہتا ہے اسی وقت اسمان سے ندا ائی کہ اس سے کہو کہ ملعون تو جھوٹ بولتا ہے اگر تو بندگی میں کامل ہوتا تو اقا حقیقی کے حکم سے کبھی اعراض کی جرات نہ کرتا ابلیس نے اپ کا یہ جواب سنا تو سٹپٹا گیا چیخیں ماریں اور یہ کہہ کر غائب ہو گیا واللہ اپ نے میرے تن میں اگ لگا دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ پاک ہمیں اپنے بزرگوں کے ہمیشہ زیر سایہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے
*🌹التماسِ دعا🌹*
*🤲یااللہﷻ*
*موت کی تلخی،قبر کی سختی*
*حشر کی شرمندگی،جہنم کی گرمی سے ہماری حفاظت فرما !!*
*معزز قارئین کیا آپ نے آج درود پاک پڑھنے کی سعادت حاصل کی*
*نہیں تو اب پڑھ لیں اللہﷻ پاک آپ کے دل کو منور فرمائے*
*یقیناً درود پاک ذہنی سکون اور نامۀ اعمال میں نیکیوں کے اضافے کا باعث بنتا ہے۔*
۔. . . . . . *پڑھیئے*
*🌹صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم🌹*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Rawalpindi
46000