Mohsin Ilyas

Mohsin Ilyas

Share

🌍✨ Explore | Empower | Enjoy ✨🌍

I’m Mohsin Ilyas, sharing content on youth empowerment, travel, nature, and adventure.

Let’s explore, grow, and have fun together! 🚀🌿✈️ #Travel #Explore #Empower

06/05/2026

میرے پیارے لوگوں، اگر میں نے یورپ کا رخ کیا ہے تو صرف ایک بہتر زندگی، عزت اور سکون کی تلاش میں کیا ہے۔ آج مجھے یہاں آئے دو برس سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے، اور اس دوران میں نے ایک بات بہت گہرائی سے محسوس کی ہے کہ یہاں لوگ آپ کی شکل نہیں، آپ کے ہنر کی قدر کرتے ہیں۔ یہاں انسان کے وقت کی عزت کی جاتی ہے، اس کی محنت کو سراہا جاتا ہے، اور اسے آگے بڑھنے کے مواقع دیے جاتے ہیں۔

جب میں یہاں بیٹھ کر اپنے ان دوستوں کو یاد کرتا ہوں جو بے حد ہنر مند ہیں، جن کے پاس بہترین سکلز ہیں، جو نہایت ٹیلنٹڈ ہیں، مگر صرف اس وجہ سے پیچھے رہ گئے کہ انہیں ایسا پلیٹ فارم نہیں ملا جہاں ان کی صلاحیتوں کی قدر ہوتی، جہاں وہ اپنا لوہا منوا سکتے، تو دل اداس ہو جاتا ہے۔

کبھی کبھی میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ مجھے موقع ملا، لیکن ساتھ ہی غمگین بھی ہو جاتا ہوں کہ آخر ایسے قابل لوگوں کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیوں ہنر مند لوگ صرف سفارش، نظام کی کمزوری، یا غلط ماحول کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں؟ کیوں محنت کرنے والے لوگ نظر انداز کر دیے جاتے ہیں؟

آپ کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ آپ اپنی قدر پہچانیں، اپنی ویلیو سمجھیں، اور اپنی زندگی کا فیصلہ خود کریں۔ اگر کوئی ماحول آپ کو مسلسل نیچا دکھا رہا ہے، آپ کی ترقی روک رہا ہے، یا آپ کے خوابوں کو توڑ رہا ہے، تو یاد رکھیں دنیا بہت بڑی ہے۔ آپ کسی بہتر جگہ جا سکتے ہیں، نئی شروعات کر سکتے ہیں، اور اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

میں نے بھی یہی فیصلہ کیا، اور آج مطمئن ہوں کہ میں نے اپنے لیے بہتر راستہ چنا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں اپنے وطن سے محبت نہیں کرتا۔ میں اپنے ملک سے بے حد محبت کرتا ہوں، آج بھی اپنے وطن کو سپورٹ کرتا ہوں، اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔

مسئلہ ملک نہیں ہوتا، مسئلہ وہ چند عناصر ہوتے ہیں۔

میرا پیغام صرف اتنا ہے: اپنی عزت کریں، اپنی صلاحیت پر یقین رکھیں، ہنر سیکھیں، محنت کریں، زبان سیکھیں، دنیا کو سمجھیں، اور اگر ضرورت ہو تو دنیا میں کہیں بھی جا کر اپنی پہچان بنائیں۔

دنیا بہت بڑی ہے میرے بھائی، اپنے خوابوں کو محدود مت کریں۔ نکلیں، سیکھیں، آگے بڑھیں، اور چھا جائیں۔

19/04/2026

Guy's If you want to come Portugal🇵🇹 and have any confusion in mind.
let's discuss

19/03/2026

عید مبارک♥️

19/03/2026

میری بیوی نے مجھے تھپڑ مارا اور میں اب اسے طلاق دینے کا سوچ رہا ہوں۔ میں 33 سال کا ہوں، میری شادی کو 3 سال ہو گئے ہیں۔ بیوی 28 سال کی ہے، پی ایچ ڈی سٹوڈنٹ ہے، اور میں ایک بڑے اکاؤنٹنگ فرم کا سینئر پارٹنر ہوں۔

دونوں پریکٹسنگ مسلمان ہیں اور ویلیوز بھی مشابه ہیں۔ ہماری شادی اچھی چل رہی تھی، الحمدللہ۔ فنانشل ذمہ داریاں میں پوری کرتا ہوں، بشمول اس کا یونیورسٹی کا خرچہ اور گھر کا سارا سسٹم، جبکہ وہ گھر کے کام اور ککنگ سنبھالتی ہے۔

ایک رات میری بیوی میری فون پہ کچھ کر رہی تھی (میرا فون ان لاکڈ رہتا ہے)، جب ایک میسج پاپ اپ ہوا “انم” نام کی عورت کا:
“Thank you for everything last night, you were great. Hope to see you soon.”

اس وقت میں سو رہا تھا۔ اگلے دن مجھے صبح جلدی آفس جانا تھا، تو بنا کسی انیوژول چیز نوٹس کیے نکل گیا۔ پورا دن میرا کافی ہیکٹک تھا، اور میں بیوی سے زیادہ بات نہیں کر پایا۔ اس طرف وہ اس میسج کو لے کر پورا دن ٹارچر سے گزر رہی تھی، اور میرے بغیر کچھ پتا چلے، اس کے اندر غصہ بلڈ ہو رہا تھا۔

رات کو جب گھر آیا تو کیجوللی اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔ مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ وہ آگے آئی، اور بنا کسی وارننگ کے ایک زور کا تھپڑ مارا جو اتنا سٹرانگ تھا کہ میرا سر جا کے کچن کیبنٹ سے ٹکرا گیا۔ میں سٹنڈ رہ گیا۔ پھر اس نے میرا فون اٹھایا اور مجھے وہ میسج دکھایا۔

تھوڑی دیر لگ گئی سمجھنے میں کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے۔ پھر میں نے اس کو کیجوللی سمجھایا کہ انم ایک 65 سال کی کلائنٹ ہے جس کے ٹیکس آڈٹ کا کیس میں نے ہینڈل کیا تھا۔ اس پر ٹیکس فراڈ کا الزام لگا تھا جو بعد میں کلیئر ہو گیا، اور اس کو بہت بڑا ٹیکس ریفنڈ ملا۔ اس کا میسج صرف گریٹیٹیوڈ کا ایکسپریشن تھا۔ کنفرمیشن کے لیے، میں نے فوراً انم کو کال کیا اور سپیکر پہ ڈال دیا۔ اس وقت میری بیوی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ جیسے ہی اس کو اپنی غلطی کا ریئلائزیشن ہوا، وہ رونے لگی اور بار بار معافی مانگنے لگی۔

لیکن اس وقت میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ مجھے لگا کہ اگر وہ ایک بار غصے میں ایسے ری ایکٹ کر سکتی ہے، تو دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر فیوچر میں ہمارے بچے ہوئے، اور کسی دن اس کا ٹمپرامنٹ پھر ایسے ہی لوز ہو گیا تو؟

میں نے اس سے کیجوللی کہا کہ وہ اپنے ماں باپ کے گھر چلی جائے۔ دو مہینے گزر گئے۔ جس دن سے یہ سب ہوا ہے، تب سے میں ایموشنلی نمب ہوں۔ معافی کے میسجز روز آتے ہیں، لیکن میں کسی بھی ری ایکشن دینے سے محسوس نہیں کر رہا۔ اس کے بھائی اور گھر والے، جو میرے قریبی ہیں، وہ بھی بہت اپ سیٹ ہیں لیکن ساتھ ہی مجھے کنونس کر رہے ہیں کہ ایک موقع اور دو۔

رمضان سے پہلے اس نے مجھ سے پھر کانٹیکٹ کیا اور پوچھا کہ کیا میں اب بات کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں نے سیدھا کہہ دیا کہ میں طلاق کا سوچ رہا ہوں۔ یہ سنتے ہی اس کو پینک اٹیک آ گیا اور وہ ہسپتال پہنچ گئی۔ اس کے پیرنٹس، دادا دادی اور بڑا بھائی سب میرے گھر آئے اور مجھ سے معافی مانگنے لگے۔ میں نے ان کو اپنے بروزز دکھائے جو اس دن مجھے آئے تھے، اور سیدھا سوال کیا:
“اگر میں نے ایسا کیا ہوتا، تو کیا آپ مجھے معاف کرتے؟”

پورا روم خاموش ہو گیا۔ بہت ایموشنل بات چیت ہوئی، لیکن کوئی کنکلوژن نہیں نکلا۔ اب کیا کرنا چاہیے؟

مجھے دبئی جانا ہے کام کے سلسلے میں۔ پہلے بیوی بھی ساتھ جانے والی تھی، لیکن اب اوبویئسلی اکیلے جا رہا ہوں۔ میں نے اس کے گھر والوں کو کہہ دیا ہے کہ دبئی سے واپس آ کر فائنل ڈیسیژن دوں گا۔

میں نے استخارہ بھی کیا، لیکن دل اب تک کسی فیصلے پہ نہیں پہنچ سکا۔ اس کی طرف سے لگاتار معافی کے میسجز آ رہے ہیں، لیکن میں اب اس پہ ٹرسٹ نہیں کر پا رہا۔

ایک تھپڑ ہی سہی، لیکن اگر آج یہ ہوا ہے تو کل دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن پھر سوچتا ہوں، شاید میں زیادہ سختی سے کام لے رہا ہوں؟ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ معافی دینی چاہیے یا اپنی سیلف ریسپیکٹ کو پرائیوٹی دینی چاہیے۔ ایسے لگ رہا ہے جیسے دو راستے ہیں اور دونوں مشکل ہیں۔

اگر آپ میری جگہ ہوتے، تو کیا کرتے؟



میرا تبصرہ: وہ تمام خواتین جو دن رات کہتی رہتی ہیں کہ مرد ایک بار ہاتھ اٹھا لے تو پھر کبھی نہیں رکتا۔ ۔۔ وہ اس پوسٹ پر اپنی رائے دیں کہ اس بندے کو کیا کرنا چاہیے؟

اپڈیٹ: اس پر جو مرد کہہ رہے ہیں کہ معاف کر دینا چاہیے، یہ وہی مرد ہیں جو عورتوں کو بھی کہتے ہیں گزارا کرو۔ ۔ ۔ تب خواتین کو یہ مرد بہت برے لگتے ہیں۔

18/02/2026

وہ بھی کیا سچے اور کھرے دن تھے…
جب امی جان سحری میں پیار سے جگاتی تھیں۔ کبھی آواز دیتیں، کبھی کمبل ہٹاتیں، اور کبھی ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہتیں: “اُٹھ جاؤ بیٹا، سحری کا وقت ہو گیا ہے۔”
ہم آدھی آنکھ کھولے، نیند میں ڈوبے ہوئے دسترخوان پر آ بیٹھتے… اور امی کے ہاتھ کا گرم گرم پراٹھا اور ٹھنڈی دہی کھاتے ہوئے پھر سے اونگھنے لگتے تھے۔ 🌙✨

آج میں پردیس میں ہوں… یورپ کی اس خاموش فضا میں۔
یہاں سحری کے وقت نہ وہ امی کی آواز ہے، نہ وہ گھر کا شور، نہ وہ برکت والا ماحول۔
بس موبائل کی سکرین ہے، ایک الارم ہے، اور خاموشی سے کیا گیا ناشتہ۔ 📱

سچ تو یہ ہے کہ سحری صرف کھانا نہیں تھی…
وہ امی کی محبت تھی، ان کی دعائیں تھیں، وہ گھر کی رونق تھی۔
یورپ میں سب کچھ ہے — سہولتیں، آزادی، سکون —
مگر امی کے ہاتھ کے پراٹھے جیسا ذائقہ اور ان کی موجودگی جیسی برکت کہیں نہیں۔

کبھی کبھی لگتا ہے رمضان پردیس میں زیادہ احساس دلاتا ہے…
کہ اصل خوشی تو اپنوں کے ساتھ تھی۔ ❤️

آپ کو اپنا بچپن والا سادہ رمضان زیادہ یاد آتا ہے یا آج کا یہ ڈیجیٹل اور پردیسی دور؟
رمضان میں امی جان کی کون سی بات آپ کو سب سے زیادہ یاد آتی ہے؟

نیچے کمنٹس میں اپنی سب سے پیاری یاد ضرور شیئر کریں —
آئیے پردیس میں رہتے ہوئے بھی اپنی یادوں کی محفل سجا لیتے ہیں ✨







11/02/2026

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب پاکستانیوں کو چالیس سال کی عمر میں جا کر یہ سمجھ آتی ہے کہ یورپ یا کینیڈا کیسے جایا جا سکتا ہے، تو ان کے منہ سے ایک جملہ نکلتا ہے:

"اب اس عمر میں وہاں جا کر کیا کریں گے؟"

لیکن یہ حقیقت میں سوال نہیں ہوتا۔
یہ دل کا ڈر ہوتا ہے۔
یہ الجھن ہوتی ہے۔
یہ اُن برسوں کا بوجھ ہوتا ہے جو سوچتے سوچتے گزر گئے۔

ذرا ٹھہر کر سوچیں…

اگر آپ کے اندر آج بھی محنت کرنے کی ہمت ہے،
اگر آپ ہار ماننے والوں میں سے نہیں،
تو یقین کریں — یہی عمر سب سے بہتر ہو سکتی ہے۔

چالیس کے بعد انسان بدل جاتا ہے۔

وہ وقت کی قدر کرنا سیکھ لیتا ہے۔
فضول باتوں اور لوگوں سے دور رہتا ہے۔
کام پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔
اور زندگی کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیتا ہے۔

ماہرین بھی کہتے ہیں کہ 40 سے 50 سال کی عمر زندگی کا پختہ ترین دور ہوتا ہے۔
سوچ سمجھ مضبوط ہوتی ہے، اور فیصلے زیادہ ٹھوس۔

دنیا بہت بڑی ہے۔
اللہ کی زمین کشادہ ہے۔
اور ہر جگہ برے لوگ نہیں ہوتے — اچھے لوگ بھی ملتے ہیں، مواقع بھی ملتے ہیں۔

اگر آپ خود قدم نہیں اٹھا سکتے تو کم از کم اپنے بچوں کے لیے وقت پر سوچیں۔

بچوں کو میٹرک کے بعد باہر بھیجنا آسان لگتا ہے،
مگر اس کی تیاری کئی سال پہلے سے شروع کرنی پڑتی ہے۔

اور اگر مالی حالات کمزور ہیں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

دنیا کے درجنوں ممالک ایسے ہیں جو پاکستانی بچوں کو اسکالرشپس دیتے ہیں۔
وہ وہاں مفت یا کم خرچ میں تعلیم حاصل کر کے اپنی زندگی بدل سکتے ہیں۔

ایک اور سچ بھی سن لیں…

اگر آپ کی زمین، پلاٹ یا جائیداد آپ کی زندگی آسان نہیں بنا رہی،
تو صرف رکھنے کا فائدہ کیا ہے؟

یہ سب نعمتیں صرف دکھانے کے لیے نہیں ہوتیں۔
اگر بیچنے سے آپ اور آپ کے بچوں کا مستقبل بہتر ہو سکتا ہے،
تو اس پر سنجیدگی سے غور ضرور کریں۔

پیسہ ساتھ نہیں جاتا۔
لیکن صحیح وقت پر استعمال ہو جائے تو زندگی بدل دیتا ہے۔

دس سال بعد افسوس کرنے سے بہتر ہے آج ایک قدم اٹھا لیا جائے۔

اللہ آسانیاں پیدا فرمائے،
صحیح راستے دکھائے،
اور جہاں بھی جائیں، اچھے لوگوں کا ساتھ نصیب کرے۔ آمین 🤍

11/02/2026

01/01/2026

Good by 2025
Let's welcome 2026 with best wishes 🎊✨

01/01/2026

New year celebrations in Algarve Portugal 🎉✨
Welcome 2026
Best wishes for everyone

26/10/2025

میں ہمیشہ سے ایک ایسا انسان رہا ہوں
جو مستقبل کے خوف میں جکڑا ہوا تھا۔
ہمیشہ سوچتا تھا کہ “کل کیا ہوگا؟”
“میں یہ کیسے کروں گا؟”
اور انہی وسوسوں میں اپنا آج گنوا بیٹھتا تھا۔

پھر ایک دن احساس ہوا کہ
زندگی رکنے سے نہیں سنبھلتی —
یہ اُن کے لیے آسان ہوتی ہے
جو ہمت کر کے پہلا قدم اٹھاتے ہیں۔

اسی سوچ کے ساتھ میں نے ہجرت کی۔
مغرب کی طرف سفر شروع کیا۔
جہاں زندگی کی رفتار سمندر کی لہروں جیسی تیز تھی،
کبھی نرم و نازک، کبھی طوفانی،
اور میں اُن لہروں کے بیچ خود کو سنبھالنا سیکھ گیا۔

شروع میں ہر لہر مجھے گرانے کی کوشش کرتی رہی،
لیکن ہر گرنے کے بعد
میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر اٹھتا رہا۔
اب سمجھ آیا کہ
سمندر کی ہر لہر ہمیں یہ سکھاتی ہے
کہ گرنا ہار نہیں —
بلکہ اگلی لہر کے لیے خود کو تیار کرنا ہے۔

اجنبی زمین، اجنبی چہرے، اجنبی زبان —
سب کچھ نیا تھا،
مگر انہی اجنبی لہجوں اور فضاؤں میں
میں نے خود کو پہچان لیا۔

اب میں وہ انسان نہیں رہا
جو خوف میں جیتا تھا۔
میں وہ ہوں جو خوف پر قابو پاتا ہے۔
میں نے سیکھا کہ ہجرت صرف زمین کی نہیں ہوتی،
یہ دل، سوچ اور احساس کی بھی ہوتی ہے۔

آج جب ساحل پر کھڑا
ان لہروں کو دیکھتا ہوں،
تو لگتا ہے جیسے وہ مجھ سے کہہ رہی ہوں —
“بس چلتے رہو، تھمتے نہیں، رکتے نہیں۔
زندگی بھی ہم جیسی ہے —
کبھی پر سکون، کبھی طوفانی،
مگر ہمیشہ آگے بڑھنے والی۔” 🌊

اب مغرب کی تیز رفتار زندگی میں
میں نے وقت کے ساتھ دوڑنا سیکھ لیا ہے۔
مشکلات اب ڈراتی نہیں —
وہ صرف یاد دلاتی ہیں کہ
میں وہی انسان ہوں
جو ڈر سے اوپر اٹھ چکا ہے۔

🌅
سمندر کی لہروں نے مجھے سکھایا —
کہ گہرائی میں اُترے بغیر
زندگی کا اصل سکون نہیں ملتا۔

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Rawalpindi