نویدِ سحر Naveed e sehar

نویدِ سحر Naveed e sehar

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from نویدِ سحر Naveed e sehar, Education & Learning, کلرسیداں, Rawalpindi.

16/09/2024
06/09/2024

انتہائی قابل توجہ

27/01/2024

27/01/2024 🔒🔒🔒
تحریر # 5 ✍️✍️✍️

❄️(دوسروں کے لیے جینا عبادت ہے)❄️

🌿خير الناس من ينفع الناس. 🌿 (الحدیث)

💚💚💚لوگوں میں سے سب سے بہترین وہ شخص ہے جو لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے💚💚💚

❤️❤️❤️قارئین کرام ❤️❤️❤️

👍اپنے لیے تو ہر انسان جیتا ہی ہے لیکن حقیقی جینا وہی ہے جو دوسروں کے لیے جیا جائے ۔اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو بہترین قرار دیا ہے.👍

💓اسی مضمون کو حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ایک روایت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانیاں پیدا فرمائے گا.💓
🌿🌿دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والے کی اپنی زندگی آسان اور سہل ہوتی ہے ۔ دوسروں کی آسودگی پر خوش ہونے والے کی اپنی زندگی آسودہ خوشحال اور مطمئن ہوتی ہے.🌿🌿

🌷🌷🌷ایک اچھے انسان کے لیے ضروری ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرے جس چیز کی اپنے لیے خواہش ہو وہی کچھ دوسروں کے لیے بھی ہو جیسا کہ حدیث پاک میں ہے (لایؤمن احدکم حتی یحب لاخيه ما يحب لنفسه) تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ دوسروں کے لیے وہ چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے.🌷🌷🌷

🌻🌻🌻گردش لیل ونہار میں دوسروں کی ریس سے بالاتر ہوکر اپنی چال چلنے والے کبھی پریشان نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں دوسروں کی کامیابی سے کوئی فرق پڑتا ہے بلکہ دوسروں کو اپنا علم اور فن منتقل کرنے والے کے اپنے علم و فن میں برکت اور عزت ہوتی ہے.🌻🌻🌻

🌲🌲🌲یہی وجہ ہے کہ🌲🌲🌲

😌صوفیاء کے نزدیک زندگی میں سب سے بڑا گناہ ہماری وجہ سے کسی کی آنکھوں میں آنسو ہونا ہے اور سب سے بڑی کامیابی کسی کی آنکھوں میں ہمارے لیے آنسو ہونا ہے.😌

💓دنیا میں کوئی بھی چیز اپنے آپ کے لیے نہیں بنی جیسا کہ سمندر اپنا پانی خود نہیں پیتا درخت خود اپنا پھل نہیں کھاتے سورج اپنے لیے حرارت نہیں دیتا پھول اپنی خوشبو اپنے لیے نہیں بکھیرتے لہذا انسانوں میں بھی بہترین انسان وہ ہے جسکا وجود دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو.💓
🌻🌻🌻واللّٰہ ورسوله اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم 🌻🌻🌻

✍️✍️✍️تنویر اقبال المدنی ✍️✍️✍️

⭐⭐⭐مزید اچھی اچھی پوسٹ کے لیے ہمارے پیج نـویـدِ سحر کو لائک فالو اور شیئر کریں.⭐⭐⭐

08/01/2024

حقیقت پر مبنی چند سطریں !
کچھ دکھ معاف تو کئیے جا سکتے ھیں۔لیکن کبھی بھلائے نھیں جاسکتے اور انہیں دینے والا شخص جب کبھی سامنے سے گزرتا ھے یہی دکھ نئے سرے سے ہرے ہونے لگتے ھیں۔شاہد یہی وجہ ھے کہ دل سے اتر جانے والوں کو معاف تو کیا جاسکتا ھے مگر دوبارہ اپنایا نہیں جا سکتا

07/01/2024

حقیقت پر مبنی چند سطریں
کچھ دکھ معاف تو کئیے جا سکتے ھیں۔لیکن کبھی بھلائے نھیں جاسکتے اور انہیں دینے والا شخص جب کبھی سامنے سے گزرتا ھے یہی دکھ نئے سرے سے ہرے ہونے لگتے ھیں۔شاہد یہی وجہ ھے کہ دل سے اتر جانے والوں کو معاف تو کیا جاسکتا ھے مگر دوبارہ اپنایا نہیں جا سکتا
7/1/2024

06/10/2022

07/10/2022
تحریر #4
❄️عـــیــد میـــلاد النبــــی❄️
ماہ ربیع الاول آتے ہی پوری دنیا کے مسلمان جوش و خروش سے آقاۓ دو عالم کی ولادت کی خوشی میں پورے عالم اسلام میں محفل میلاد منعقد کرتے ہیں اور میلاد النبی کی خوشی مناتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا میلاد منانا جائز و مستحب ہے اور محبتِ رسول کی علامت ہے اور اس کی اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے
دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے یہ عظیم خوشی کا دن ہے اسی دن محسنِ انسانیت آقاۓ کائنات فخرِ موجودات نورِ مجسم نبیِ اکرم سرکارِ دو عالم صل اللہ علیہ وسلم عالم دنیا میں جلوہ گر ہوئے آپ کی بعثت اتنی عظیم نعمت ہے کہ جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی نعمت نہیں کر سکتی آپ قاسمِ نعمت ہیں ساری عطائیں آپ کے صدقے میں ملتی ہیں جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے (انــما انا قاســمٌ والــلــہ یعـطــی) یعنی میں تقسیم کرتا ہوں اور اللہ عطا کرتا ہے
❄️مـــیــلاد اور قـــرآن❄️
اس حوالے سے یہ بنیادی نقطہ پیشِ نظر رہے کہ کچھ چیزیں براہ راست قرآن پاک سے ثابت ہوتی ہیں اور کچھ چیزیں قرآن کے دیے ہوئے اصول سے ثابت ہوتی ہیں.. میلاد کی خوشی منانا قرآن مجید کے دیے ہوئے اصول سے ثابت ہے قرآن کا اصول ہے (قـل بفـضل الـلہ وبرحمتہ فبـذالک فلیفرحوا....الــخ) (سورۃ یونس آیت 58) جب اللہ کی طرف سے فضل اور اسکی رحمت تمہیں ملے تو تم خوشیاں مناؤ.. اسی طرح قرآن کا اصول ہے (وامّا بنعمت ربـک فحـدّث) (سورۃ والضحــی آیت 11) جب تمہیں اپنے رب کی طرف سے نعمت ملے تو اسکا چرچا کرو...
سو صحیفہ انقلاب قرآن مجید نے ہمیں ایک اصول دے دیا کہ جب بھی تمہیں اللہ کا فضل اور نعمت ملے تو خوشیاں مناؤ بلکہ چرچا کرو
سو ہمارے نزدیک اس کائنات میں آقاۓ دو جہاں کی دنیا میں تشریف آوری سے بڑھ کر نہ کوئی فضل ہے نہ کوئی رحمت اور نہ کوئی احسان ہے
سو اگر دیانتداری سے سوچا اور سمجھا جائے تو میلاد کی خوشی منانا قرآن کے وضع کردہ اصول سے ثابت ہے.. اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے.(آمین)
❄️مـیـــلاد اور احــادیـث❄️
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی یا رسول اللہ آپ پیر کے دن روزہ کیوں رکھتے ہیں آپ نے فرمایا اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی.. (صحیح مسلم)
حضرت ابو دردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت عامر انصاری کے گھر گیا وہ اپنی اولاد کو نبی کریم کی ولادت کے واقعات سنا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آج کا دن ہے. سیدِ عالم نے اس وقت فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رحمت کا دروازہ کھول دیا اور سب فرشتے تمہارے لیے دعائے مغفرت کر رہے ہیں...
❄️میـــلاد اور سـلـف صـالحـیــن❄️
حضرت سیدنا شیخ عبدالحق محدثِ دہلوی اپنی کتاب ( ما ثبت بالسنۃ) میں فرماتے ہیں کہ بے شک نبی رحمت کی شب ولادت شب قدر سے بھی افضل ہے کیونکہ شب ولادت سرکار کائنات کے اس دنیا میں جلوہ گر ہونے کی رات ہے جبکہ لیلۃ القدر تاجدارِ عرب محبوبِ رب کی عطا کردہ شب ہے اور جو رات اللہ پاک کے پیارے نبی کی ولادت کی وجہ سے عزت والی بنی ہو وہ اس رات سے زیادہ عزت و احترام والی ہے جس نے فرشتوں کے اترنے کی وجہ سے عزت پائی ہے..
یہی شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ سرکار مدینہ کی ولادت کی رات خوشی منانے والوں کی جزاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل و کرم سے جنات النعیم میں داخل فرمائے گا..
مسلمان ہمیشہ سے محفلِ میلاد کرتے آئے ہیں اور ولادت کی خوشی میں دعوتیں دیتے کھانے پکواتے اور خوب صدقہ و خیرات دیتے آئے ہیں.. اور خوب خوشی کا اظہار کرتے.. اور دل کھول کر خرچ کرتے ہیں.. آپ کی ولادت با سعادت کے ذکر کا انتظام کرتے ہیں اور اپنے گھروں کو سجاتے ہیں اور ان تمام نیک کاموں کی برکت سے ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اترتی ہیں
❤️ خــلاصـہ تــحـریـر🗣️
مذکورہ بالا آیات و احادیث و اقوال سلف صالحین سے یہ بات اظہر من الشمس ہو چکی کہ میلاد النبی کی خوشی منانا نہ صرف جائز و مستحسن ہے بلکہ تمام عیدوں کی عید بھی ہے..
اگر یہ عید نہ ہوتی تو نہ ہمارے پاس عید الفطر ہوتی نہ عیدالاضحیٰ ہوتی نہ شب قدر ہوتی بلکہ جو کچھ بھی اللہ نے ہمیں دیا ہے شب ولادتِ مصطفیٰ کے صدقے میں دیا ہے..
❤️وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا.. وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو.. جان ہیں وہ جہان کی..
جان ہے تو جہان ہے.. ❤️
✍️تنویر اقبال المدنی
مزید اچھی اچھی پوسٹ کے لیے ہمارے پیج نـویـدِ سحر کو لائک فالو اور شیئر کریں

04/10/2022

04/10/2022
تحریر # 3.❄️ سنہری الفاظ❄️

❄️حمایت و مخالفت کی حدود❄️
کسی شخص یا جماعت کی حمایت و مخالفت میں جب نفسانیت شامل ہو جاتی ہے تو نہ حمایت اپنی حدود پر قائم رہتی ہے نہ مخالفت بلکہ ہوتا یہ ہے کہ جس شخص کی حمایت کرنی ہو اسے سراپہ بے داغ اور جس شخص کی مخالفت کرنی ہو اسے اسے سراپہ سیاہ ثابت کرنے سے کم پر بات نہیں ہوتی آج کل حمایت و مخالفت میں اس قسم کے مظاہرے عام ہو چکے ہیں بعض اوقات جب عام فضاء کسی شخص یا جماعت کے خلاف ہو جاتی ہے تو اس کے بارے میں الزام تراشی اور افواہ طرازی کو عموماً عیب نہیں سمجھا جاتا بلکہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اسکے عیوب کی خبریں لانے میں لطف محسوس کیا جاتا ہے اور اس میں تحقیق کی بھی ضرورت نہیں سمجھی جاتی
ہمارے اسلاف ایسے مواقع پر اپنے متعلقین کو اس طرزِ عمل سے سختی سے روکتے اور فرماتے کہ اگر ایک شخص کسی جہت سے برا ہے تو اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ اس کی تمام جہات لازماً بری ہوں گی اور اب اس کی بے وجہ غیبت اور اس کے خلاف بہتان تراشی جائز ہو گئ ہے
بلکہ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص جس زمانے میں منظورِ نظر ہوا تو اس کی ساری غلطیوں پر پردہ ڈال کر اسے تعریف و توصیف کے بانس پر چڑھا دیا گیا اور جب وہی شخص کسی وجہ سے زیرِ عتاب آ گیا تو اس کی ساری خوبیاں ملیا میٹ ہو گئیں اور اس میں نا قابلِ اصلاح کیڑے پڑ گۓ
ہمارے اسلاف اس طرزِ فکر کے سخت مخالف تھے اور فرمایا کرتے تھے اول تو یہ طریقہ حق و انصاف کے خلاف ہے اس کے علاوہ اس حد سے گزری ہوئی حمایت و مخالفت کے نتیجے میں بسا اوقات انسان کو دنیا میں ہی شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے
ہمارے اسلاف کی نگاہیں دشمنوں اور مخالفین میں بھی اچھائیوں کو تلاش کر لیتی تھیں اور ان کی خوبیوں کے برملا اظہار میں بھی وہ کبھی عار محسوس نہیں کرتے تھے
اس حوالے سے فقیہ العصر مفتی محمد امین صاحب رحمتہ اللہ علیہ ایک واقعہ نقل فرماتے ھیں۔کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے صحابی رسول عبداللہ بن عمر کے سامنے حجاج بن یوسف پر کوئی الزام لگایا اس پر انہوں نے فرمایا کہ یہ مت سمجھو کہ اگر حجاج بن یوسف ظالم ہے تو اس کی آبرو تمہارے لیے حلال ہو گئ یاد رکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ حشر کے دن حجاج بن یوسف سے اس کے مظالم کا حساب لے گا تو تم سے اس نا جائز بہتان کا بھی حساب لے گا جو تم نے اس کے خلاف لگایا
🗣️خلاصتہ التحریر🗣️
کسی کی مخالفت یا حمایت میں بے لگام گھوڑا نھیں دوڑانا چاھیئے ۔
کیونکہ یہ طرز عمل جھاں قرآن و حدیث کے منافی ہے وھاں دنیا و آخرت میں رسوائی کا باعث بھی ھو ہے
✍️تنویر اقبال المدنی۔
❤️مزید اچھی اچھی پوسٹ کے لیے پیج کو فالو اور شیئر کریں👍🏻

01/10/2022

❤️ مؤرخہ 01/10/2022
تحریر # 2
[عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں]
ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی ،نوکری کی طلب کے لئے حاضر ہوا، قابلیت پوچھی گئی تو اس نے کہا،سیاسی ہوں۔(عربی میں سیاسی،افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ہیں) بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھرمار تھی، اسے خاص ” گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج ” بنا لیا جو حال ہی میں فوت ہو چکا تھا۔

چند دن بعد بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا،اس نے کہا ”نسلی نہیں ہے”بادشاہ کو تعجب ہوا اس نے جنگل سے سائیس کو بلاکر دریافت کیا،اس نے بتایا، گھوڑا نسلی ہے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مر گئی تھی، یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ہے۔ مسؤل کو بلایا گیا، تم کو کیسے پتا چلا، اصیل نہیں ہے۔۔۔؟ اس نے کہا، جب یہ گھاس کھاتا ہے تو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے ،جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لیکر سر اٹھا لیتا ہے۔ بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ہوا، مسؤل کے گھر اناج،گھی،بھنے دنبے،اور پرندوں کا اعلیٰ گوشت بطور انعام بھجوایا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا- چند دنوں بعد بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے رائے مانگی،اس نے کہا.طور و اطوار تو ملکہ جیسے ہیں لیکن ”شہزادی نہیں ہے، بادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، حواس بحال کئے،ساس کو بلاوا بھیجا، معاملہ اس کے گوش گزار کیا اس نے کہا۔

حقیقت یہ ہے تمہارے باپ نے میرے خاوند سے ہماری بیٹی کی پیدائش پر ہی رشتہ مانگ لیا تھا، لیکن ہماری بیٹی 6 ماہ ہی میں فوت ہو گئی تھی، چنانچہ ہم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے کسی کی بچی کو اپنی بیٹی بنا لیا۔ بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا، ”تم کو کیسے علم ہوا،”اس نے کہا، اس کا ”خادموں کے ساتھ سلوک” جاہلوں سے بدتر ہے، بادشاہ اس کی فراست سے خاصا متاثر ہوا، ”بہت سا اناج، بھیڑ بکریاں” بطور انعام دیں۔ ساتھ ہی اسے اپنے دربار میں متعین کر دیا – کچھ وقت گزرا”مصاحب کو بلایا””اپنے بارے دریافت کیا،” مصاحب نے کہا،جان کی امان بادشاہ نے وعدہ کیا، اس نے کہا:”نہ تو تم بادشاہ زادے ہو نہ تمہارا چلن بادشاہوں والا ہے”بادشاہ کو تاؤ آیا، مگر جان کی امان دے چکا تھا،سیدھا والدہ کے محل پہنچا، ”والدہ نے کہا یہ سچ ہے”تم ایک چرواہے کے بیٹے ہو،ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا۔ بادشاہ نے مصاحب کو بلایا پوچھا، بتا”تجھے کیسے علم ہوا”۔۔۔؟اس نے کہا”بادشاہ” جب کسی کو ”انعام و اکرام” دیا کرتے ہیں تو ”ہیرے موتی، جواہرات” کی شکل میں دیتے ہیں۔ لیکن آپ”بھیڑ، بکریاں، کھانے پینے کی چیزیں” عنایت کرتے ہیں”یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں ”کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ہو سکتا ہے۔ عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں۔۔۔ ’’عادات، اخلاق اور طرز عمل۔۔۔ خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ہیں۔
✍️.. تنویر اقبال المدنی
مزید اچھی اچھی پوسٹ کے لیے پیج کو لائیک اور شئیر کجیئے

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

کلرسیداں
Rawalpindi
47450