Bukhari online teaching academy

Bukhari online teaching academy

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Bukhari online teaching academy, Tutor/Teacher, jinah colony banth mor, Rawalpindi.

Online Quran Tutors 📖
Qualified Male & Female Teachers
Noorani Qaida | Nazra | Tajweed | Hifz
For Kids & Adults 🌍
Free Trial / Demo Class
Affordable Monthly Fee
Friendly Islamic Environment

14/04/2026

عنوان: ایک غریب کسان کی آخری امید
گاؤں کے کچے راستوں پر دھول اڑتی تھی، اور اسی دھول میں ایک غریب کسان عبدالرحمن اپنی زندگی کے خواب تلاش کرتا تھا۔ اس کے پاس صرف دو ایکڑ زمین تھی، جو اس کے باپ دادا کی نشانی تھی۔ ہر صبح وہ فجر کے بعد کھیتوں میں جاتا، اور شام ڈھلے تھکے قدموں کے ساتھ واپس لوٹتا۔
اس سال بارشیں وقت پر نہ ہوئیں۔ زمین پیاسی رہی، اور فصل سوکھنے لگی۔ عبدالرحمن کی آنکھوں میں پریشانی صاف نظر آتی تھی، کیونکہ اسی فصل سے اس کے بچوں کی روٹی جڑی ہوئی تھی۔
ایک دن اس کا چھوٹا بیٹا علی اس کے پاس آیا اور معصومیت سے پوچھا: “ابو، اس بار عید پر ہمیں نئے کپڑے ملیں گے نا؟”
عبدالرحمن کے دل پر جیسے کسی نے چھری چلادی ہو۔ اس نے مسکرا کر کہا: “ان شاء اللہ بیٹا، اللہ بڑا مہربان ہے۔”
لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ گھر کا راشن پورا کر سکے۔
وہ رات بھر جاگتا رہا، کبھی آسمان کی طرف دیکھتا، کبھی اپنی سوکھی زمین کو۔ آنکھوں سے آنسو بہتے رہے، اور لبوں پر بس ایک دعا تھی: “یا اللہ، میرے بچوں کو بھوکا نہ سونا پڑے…”
اگلے دن اچانک بادل چھا گئے۔ تیز ہوا چلی، اور پھر موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔ عبدالرحمن بارش میں بھیگتا ہوا اپنے کھیت کی طرف بھاگا۔ اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ وہ زمین کو دیکھ کر سجدے میں گر گیا۔
چند ہفتوں بعد اس کی فصل لہلہا رہی تھی۔ سنہری گندم کی بالیاں ہوا میں جھوم رہی تھیں، جیسے اس کی محنت کا صلہ دے رہی ہوں۔
عید آئی، اور اس بار علی کے ہاتھ میں نئے کپڑے تھے۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، اور عبدالرحمن کے چہرے پر سکون۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا: “یا اللہ، تو نے ایک غریب کسان کی لاج رکھ لی…”
سبق:
محنت اور صبر کبھی ضائع نہیں جاتے۔ اللہ اپنے بندوں کی آزمائش لیتا ہے، مگر انہیں اکیلا نہیں چھوڑتا۔

25/03/2026
25/03/2026

دو بہنیں، ایک دل
بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں کھڑکی سے ٹکرا رہی تھیں۔ کمرے کے ایک کونے میں عائشہ بیٹھی تھی، ہاتھ میں اپنی پرانی کتاب تھامے، اور آنکھوں میں چھپے خوابوں کو دیکھ رہی تھی۔ دوسری طرف اس کی چھوٹی بہن مریم، خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
عائشہ ہمیشہ سے پڑھنے میں بہت اچھی تھی، مگر گھر کے حالات اتنے اچھے نہیں تھے کہ دونوں بہنیں اپنی تعلیم جاری رکھ سکتیں۔ ایک دن ابو نے افسوس بھرے لہجے میں کہا،
“بیٹا، ہم صرف ایک کی فیس دے سکتے ہیں…”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
مریم نے فوراً مسکرا کر کہا،
“ابو، عائشہ آپی پڑھیں گی… مجھے تو ویسے بھی گھر کے کام پسند ہیں۔”
عائشہ نے حیرت سے مریم کو دیکھا، “نہیں مریم! تم بھی پڑھو گی، ہم کوئی راستہ نکالیں گے…”
مریم نے آہستہ سے عائشہ کا ہاتھ تھام لیا،
“آپ کے خواب بڑے ہیں آپی… میرے خواب تو آپ کے ساتھ ہی پورے ہو جائیں گے…”
وہ رات دونوں بہنوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر گزاری، آنکھوں میں آنسو تھے مگر دلوں میں محبت۔
سال گزر گئے…
عائشہ نے محنت کی، دن رات پڑھا، اور آخرکار ایک بڑی آفیسر بن گئی۔
ایک دن وہ گھر واپس آئی، ہاتھ میں ایک فائل تھی۔ مریم ابھی بھی وہی سادہ سی لڑکی تھی، جو اب گھر سنبھال رہی تھی۔
عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا،
“مریم، یہ تمہارا ایڈمیشن لیٹر ہے… آج سے تم اپنی پڑھائی شروع کرو گی۔”
مریم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے،
“لیکن آپی… اب میری عمر…”
عائشہ نے اسے گلے لگا لیا،
“خوابوں کی کوئی عمر نہیں ہوتی… اور تم نے میرے لیے جو قربانی دی تھی، اب میری باری ہے…”
بارش پھر سے شروع ہو چکی تھی…
مگر اس بار یہ آنسو نہیں، خوشیوں کی بارش تھی۔
Lesson:
سچی محبت وہ ہوتی ہے جہاں ایک کا خواب، دوسرے کی خوشی بن جاتا ہے ❤️

24/03/2026
22/03/2026

عید کا دوسرا دن تھا…
گاؤں کی گلیوں میں اب وہ پہلی والی رونق کم ہو چکی تھی، مگر بچوں کی ہنسی ابھی بھی فضا میں گونج رہی تھی۔
علی خاموشی سے اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھا تھا۔ کل عید تھی، سب خوش تھے… مگر اس کے چہرے پر آج بھی اداسی تھی۔
اس کی ماں نے آہستہ سے پوچھا:
"بیٹا، کیا ہوا؟ کل بھی تم زیادہ خوش نہیں تھے…"
علی نے نظریں جھکا لیں اور دھیمی آواز میں بولا:
"امی… سب اپنے ابو کے ساتھ عید منا رہے تھے… مجھے بھی ابو یاد آ رہے ہیں…"
یہ کہتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اس کے ابو کو دنیا سے گئے تین سال ہو چکے تھے… مگر عید کے دن وہ کمی اور بھی زیادہ محسوس ہوتی تھی۔
ماں نے فوراً اسے گلے لگا لیا، خود کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں، مگر وہ مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی:
"بیٹا… تمہارے ابو کہیں نہیں گئے، وہ ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں… تمہاری ہر خوشی میں، ہر دعا میں۔"
اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔
علی نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ محلے کے کچھ بچے کھڑے تھے، ہاتھوں میں مٹھائیاں اور کھلونے تھے۔
"علی! چلو ہمارے ساتھ… ہم سب مل کر عید منا رہے ہیں!"
علی نے حیرت سے ماں کی طرف دیکھا۔
ماں نے مسکرا کر سر ہلایا: "جاؤ بیٹا… خوشی بانٹو، تو دکھ کم ہو جاتا ہے۔"
علی آہستہ آہستہ ان بچوں کے ساتھ چل پڑا۔
کچھ ہی دیر میں اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اسے محسوس ہوا…
کہ عید صرف نئے کپڑوں اور پیسوں کا نام نہیں،
بلکہ اپنوں کی محبت، یادوں اور ایک دوسرے کے ساتھ کا نام ہے۔
اور کبھی کبھی…
اداسی کے بیچ بھی ایک چھوٹی سی خوشی راستہ بنا ہی لیتی ہے۔
پیغام:
جو ہمارے پاس نہیں، اس پر غم کرنے کے بجائے…
جو ہمارے پاس ہے، اس کی قدر کریں—
کیونکہ اصل عید دلوں کے جڑنے کا نام ہے 💔✨

18/03/2026

آخری رات کی خاموش دعا
رمضان کی آخری رات تھی…
آسمان پر چاند خاموشی سے چمک رہا تھا،
جیسے وہ بھی اس مہینے کی رخصتی پر اداس ہو۔
مسجد میں ہلکی ہلکی روشنی تھی۔ چند لوگ اب بھی سجدوں میں رو رہے تھے۔ انہی میں ایک نوجوان علی بھی بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں… شاید جاگنے سے نہیں، بلکہ پچھتاوے سے۔
علی نے آہستہ سے ہاتھ اٹھائے:
"یا اللہ… پورا رمضان گزر گیا، مگر میں ویسا نہ بن سکا جیسا بننا چاہتا تھا… میں نے نیتیں کیں، وعدے کیے… مگر پھر بھی غلطیاں کرتا رہا…"
اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ آنسو گالوں پر بہتے ہوئے داڑھی میں گم ہو رہے تھے۔
اچانک اسے پچھلا رمضان یاد آیا…
جب اس کی ماں زندہ تھی۔ وہ سحری میں اسے جگاتی، دعائیں دیتی، اور کہتی:
"بیٹا، رمضان صرف بھوک کا نام نہیں… یہ دل بدلنے کا مہینہ ہے۔"
آج وہ ماں نہیں تھی…
اور علی کو پہلی بار احساس ہوا کہ اس نے کتنی قیمتی نصیحتیں ضائع کر دیں۔
مسجد کے کونے میں بیٹھ کر وہ زار و قطار رونے لگا:
"یا اللہ… اگر تو نے مجھے ایک اور رمضان دیا… تو میں خود کو بدل دوں گا… بس اس بار میری توبہ قبول کر لے…"
اذانِ فجر کی آواز بلند ہوئی…
رمضان ختم ہو چکا تھا۔
لوگ آہستہ آہستہ مسجد سے نکلنے لگے، مگر علی وہیں بیٹھا رہا۔ اس کے دل میں عجیب سی خاموشی تھی… مگر ساتھ ہی ایک امید بھی۔
کیونکہ اسے یاد آیا:
"اللہ آخری رات میں بھی اپنے بندوں کو معاف کر دیتا ہے… اگر وہ سچے دل سے مانگیں۔"
علی نے آنسو صاف کیے…
اور دل ہی دل میں کہا:
"شاید… میری بھی بخشش ہو گئی ہو۔"
سبق:
رمضان کی آخری رات صرف اختتام نہیں، بلکہ ایک نئی شروعات کا موقع ہوتی ہے۔ جو سچے دل سے لوٹ آئے… اللہ اسے کبھی خالی نہیں لوٹاتا۔

16/03/2026

15/03/2026

ختمِ قرآن اور امام کی خدمت
رمضان کا آخری عشرہ تھا۔ مسجد میں تراویح کا آخری دن تھا اور آج ختمِ قرآن مجید ہونے والا تھا۔ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ ہر چہرے پر خوشی بھی تھی اور ایک عجیب سی اداسی بھی، کیونکہ رمضان رخصت ہونے والا تھا۔
جب امام صاحب نے قرآن کی آخری آیات پڑھیں تو مسجد میں ایک خاموشی چھا گئی۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھے تو کئی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ہر کوئی اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا تھا۔
دعا ختم ہوئی تو مسجد کی کمیٹی نے اعلان کیا:
“آج ہم اپنے امام صاحب کی خدمت کے لیے ایک چھوٹا سا تحفہ پیش کریں گے۔”
لوگ اپنی استطاعت کے مطابق رقم دینے لگے۔ اسی دوران مسجد کے دروازے کے پاس ایک غریب سا لڑکا کھڑا تھا۔ اس کے کپڑے پرانے تھے اور چہرے پر شرم و حیا تھی۔ وہ آہستہ آہستہ آگے آیا اور امام صاحب کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا لفافہ رکھ دیا۔
امام صاحب نے حیرانی سے پوچھا:
“بیٹا، یہ کیا ہے؟”
لڑکے نے جھکی ہوئی نظروں سے کہا:
“امام صاحب… یہ میری جمع پونجی ہے۔ میں نے پورا رمضان مزدوری کر کے یہ پیسے جمع کیے تھے۔ میں بھی آپ کی خدمت کرنا چاہتا تھا، کیونکہ آپ نے ہمیں پورا قرآن سنایا ہے۔”
یہ سن کر امام صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے لڑکے کو گلے لگا لیا اور کہا:
“بیٹا! تم نے تو آج سب سے بڑا تحفہ دیا ہے، کیونکہ یہ دل سے دیا گیا ہے۔”
مسجد میں موجود لوگ یہ منظر دیکھ کر رو پڑے۔ اس دن سب کو احساس ہوا کہ اللہ کے ہاں تحفے کی قیمت نہیں، بلکہ نیت اور محبت کی قیمت ہوتی ہے۔
اور اس رات مسجد میں ختمِ قرآن کی خوشی کے ساتھ ساتھ ایک غریب لڑکے کی سچی محبت کی کہانی بھی ہمیشہ کے لیے یادگار بن گئی۔ ❤️

14/03/2026

خاموش دروازہ
رمضان کی ایک شام تھی۔ محلے کے ہر گھر سے افطار کی خوشبو آ رہی تھی۔ کہیں سموسے تل رہے تھے، کہیں پکوڑے۔ مگر گلی کے آخر میں ایک چھوٹا سا گھر تھا جس کا دروازہ خاموش تھا۔
اس گھر میں ایک غریب آدمی حامد اپنی بیوی اور چھوٹی بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔ پورا دن مزدوری کی تلاش میں گزارا تھا، مگر آج بھی اسے کام نہیں ملا۔
بیٹی نے آہستہ سے پوچھا:
“ابو… آج افطار میں کیا ہوگا؟”
حامد نے مسکرا کر کہا:
“بیٹا… اللہ بڑا مہربان ہے، کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔”
مگر اس کے دل میں درد تھا۔ گھر میں صرف ایک گلاس پانی اور دو خشک روٹیاں تھیں۔
اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔
حامد نے دروازہ کھولا تو باہر ایک تھیلا رکھا تھا۔ اس میں کھجوریں، روٹیاں، سالن اور کچھ پھل تھے۔ ساتھ ایک چھوٹا سا کاغذ تھا جس پر لکھا تھا:
“اپنے پڑوسی کا خیال رکھنا بھی عبادت ہے۔”
حامد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:
“یا اللہ… تو نے ہمیں بھلایا نہیں۔”
اس دن اس کے گھر میں صرف افطار نہیں ہوئی، بلکہ امید بھی لوٹ آئی۔
سبق:
کبھی کبھی چھوٹی سی مدد کسی کی پوری دنیا بدل دیتی ہے۔
اپنے غریب پڑوسیوں کا خیال رکھنا بہت بڑی نیکی ہے۔ 🌙

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Jinah Colony Banth Mor
Rawalpindi
47670