11/05/2026
اہم پیغام: تعلیمی نقصان سے بچاؤ کی اپیل
برائٹ فیوچر پبلک سکول، راولپنڈی کی جانب سے حکومتِ پنجاب کے لیے ایک مخلصانہ درخواست:
تعلیم دشمن طویل چھٹیاں نا منظور!
حکومتِ پنجاب کی جانب سے 22 مئی سے 24 اگست تک موسم گرما کی طویل تعطیلات کا اعلان بچوں کے تعلیمی مستقبل کے لیے تشویشناک ہے۔
موجودہ صورتحال: بچے اور اساتذہ پہلے ہی تعلیمی سطح پر کئی مشکلات اور دباؤ کا شکار ہیں۔
تعلیمی نقصان: اتنی طویل مدت تک سکولوں کی بندش بچوں کے سیکھنے کے تسلسل کو توڑ دے گی اور ان کے تعلیمی گراف میں واضح کمی کا باعث بنے گی۔
ہماری درخواست: ہم اربابِ اختیار سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ خدارا ان چھٹیوں کے دورانیے پر نظرِ ثانی کی جائے۔
"تعطیلات کم کی جائیں تاکہ بچوں کا رجحان دوبارہ تعلیم کی طرف ہو اور ان کا قیمتی سال ضائع ہونے سے بچ سکے۔"
منجانب:
انتظامیہ: برائٹ فیوچر پبلک سکول اینڈ اکیڈمی، راولپنڈی
07/05/2026
پرائیویٹ سکول… جسے لوگ بڑے آرام سے مافیا کہہ دیتے ہیں یا صرف ایک بڑا کاروبار سمجھ لیتے ہیں۔
حقیقت اتنی سادہ نہیں ہے۔
یقیناً پرائیویٹ سکول ایک کاروبار ہے۔ اور کچھ لوگوں کی وجہ سے بدنام بھی ہے
اگر کوئی یہ کہے کہ وہ صرف خدمتِ خلق کے لیے آیا ہے تو یہ بات بھی مکمل سچ نہیں۔
مگر اگر کوئی اپنا حق صحیح طریقے سے ادا کر رہا ہے دیانتداری سے کام کر رہا ہے، بچوں کو تعلیم اور تربیت دے رہا ہے، تو یہ صرف کاروبار نہیں رہتا… یہ ایک ذمہ داری، ایک جدوجہد، بلکہ اس مہنگائی کے دور میں ایک طرح کا جہاد بن جاتا ہے۔
لیکن اس کے ساتھ کچھ تلخ حقیقتیں بھی ہیں جنہیں دیکھنے والا کوئی نہیں۔
ایک سکول کھڑا کرنا مذاق نہیں۔
آدمی اپنی قیمتی جمع پونجی لگا دیتا ہے جس کا اندازہ کوئی پراپرٹی ایڈوائزر ہی لگا سکتا ہے، مزید کہ اپنی جوانی لگا دیتا ہے، اپنے گھر والوں کا وقت اپنے سکول کے کاموں پر قربان کر دیتا ہے۔
نہ اتوار کی چھٹی، نہ رات کا سکون باقی رہتا ہے
(شرط یہ ہے کہ کوئی اسے واقعی میں ذمہ داری سمجھ رہا ہو تو)
جب بچے چھٹی کر کے چلے جاتے ہیں، تب اصل مافیا کا کام شروع ہوتا ہے
صبح کی فکر شروع ہو جاتی ہے
صفائی، بجلی کے مسائل، انتظامات، اگلے دن کی تیاری… تاکہ صبح کوئی شکایت نہ آئے۔
یہ شاید سب سے مشکل کاروبار ہے۔
لوگوں کو صرف پرائیویٹ سکول مالکان کے سفید اور صاف کپڑے، اچھی عمارت اور باہر کی چمک ہی نظر آتی ہے،
مگر یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ اس کے پیچھے ایک شخص روزانہ کن پریشانیوں، دباؤ اور قربانیوں سے گزر رہا ہوتا ہے وہ عوامی بھی ہوتی ہے سرکاری اداروں کی بھی۔
وہ اپنی زندگی کے 15–20 سال، اپنی تعلیم، اپنی توانائی، حتیٰ کہ اپنے بچوں کا بچپن تک قربان کر چکا ہوتا ہے۔
اور پھر بھی اسے مافیا کہا جاتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے:
اگر ایک سکول میں 500 بچے ہیں، تو اس کا مطلب ہے 500 مختلف مزاج، 500 مختلف ضروریات، اور 500 گھروں کی مختلف توقعات۔
کوئی والدین کہتے پانی ٹھنڈا دینا ہے تو وہیں کئی میسج دن میں آ جاتے بچوں کو ٹھنڈے پانی سے بچائیں۔ ایسے کسی کو پنکھے کی ہوا تیز ضرورت ہے تو کسی کو آہستہ۔۔۔۔۔
ہر بچے کے والدین کی الگ ڈیمانڈ… اور یہ سب آپ نے 8000 یا 9000 روپے ماہانہ فیس میں پورا کرنا ہوتا ہے۔
یعنی ایک بچہ اگر 9000 روپے دیتا ہے، تو روزانہ تقریباً 300 روپے بنتے ہیں۔
اب ذرا خود حساب لگائیں:
اسی 300 روپے میں سکول نے مندرجہ زیل سہولیات فراہم کرنی ہوسکتی ہیں جن میں ایک دن کا خلل بھی آجائے تو انتظامیہ پر والدین کا شدید غم و غصہ موجود ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف اس ملک کی سب سے طاقت ور ہستی حکومت وقت ہوتی ہے لیکن وہ بھی ان تمام سہولیات کو اپنے سرکاری سکول میں فراہم کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔۔۔
سیکیورٹی و آیا جی،
کیمرے،
اچھا کلاس روم،
وایٹ بورڈ اور TV سکرین،
مہیاری فرنیچر،
مہنگی بجلی اور پنکھے،
صاف ستھرا ماحول،
جنریٹر،
فری ورک بکس،
پرنٹنگ مٹریل،
صاف واش روم،
500 بچوں کے پینے اور واش روم استعمال کا پانی،
نگران انتظامیہ،
اور سب سے اہم قابل اساتذہ…
جو سارا دن بچے کی تعلیم اور تربیت پر محنت کریں۔
یہ سب کچھ صرف 300 روپے روزانہ میں۔ جبکہ اس سب کے علاوہ ان پرایوئیٹ سکولوں نے سالانہ بلڈنگ کے کرائے، منٹیننس، پراپرٹی ٹیکس، انکم ٹیکس اور دیگر سرکاری فیس بھی ادا کرنی پڑتی ہیں۔۔۔
دور سے ہر چیز آسان لگتی ہے… دور کے ڈھول سہانے یہاں بھی سچ ہے۔
اگر کوئی واقعی معیار کے ساتھ تعلیم دے رہا ہے، بچوں کی فکر کر رہا ہے، ایک بہتر ماحول فراہم کرنے کی پوری کوشش کررہا ہے،
تو یقین مانیں، یہ آسان نہیں… یہ مسلسل دباؤ، قربانی اور ذمہ داری کا نام ہے۔
تنقید کرنا آسان ہے،
مگر اس میدان میں کھڑے ہو کر ہر دن نبھانا… ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔اور ایسے سکول جہاں یہ سب سہولیات بھی دی جاتی ہیں اور فیس بھی کم ہوتی ہے ذرا سوچیں!!!!!!
وہاں کے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہونگے جہاں والدین معمولی سی فیس وقت پر ادا نہیں کرتے۔۔۔۔۔
معاشرے کے تلخ حقائق کی نشانداہی پر معزرت
27/03/2026
پراٸیویٹ سکول مافیا اور تھڑے کے دانشور!
پچھلے چند دنوں سے سکول کھولنے کے حوالے سے جہاں دوستوں کا ردعمل مثبت رہا وہاں چند ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے سکول کھولنے کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ گالیاں تک دی گٸی۔ ان کا خیال تھا کہ پراٸیویٹ سکولز ایک مافیا ہے اور یہ والدین سے غنڈہ ٹیکس وصول کررہے ہیں۔ ان لوگوں میں اکثریت سرکاری و پراٸیویٹ سکول اساتذہ کی ہے۔
بحیثیت قوم ہم سب کے ساتھ ایک بنیادی مسٸلہ ہے کہ ہم اپنی آمدن بڑھانے کی بجاۓ اس بات پر ہلکان ہورہے ہیں کہ دوسرے لوگ کیوں پیسے کما رہے ہیں؟
اپنے آس پاس کسی دکان کی نُکڑ پر جا کر بیٹھ جاٸیں آپ کو یہی ایک مسٸلہ ڈسکس ہوتا ہوا نظر آۓ گا۔ یہی لوگ اسی تھڑے والی ذہنیت کے ساتھ فیس بک پر وارد ہوۓ ہیں۔ ان کو اپنے گھر کی دال روٹی سے ذیادہ اس بات کا غم کھاۓ جارہا ہے کہ فلاں کے پاس اتنی بڑی گاڑی کیوں ہے؟ ضرور کسی مافیا کا حصہ ہوگا یا سمگلنگ سے پیسہ بنایا ہوگا۔
یہی صورتحال کسی بڑے سکول کے ساتھ والی دکان پر ڈسکس ہورہی ہوگی۔ کسی بڑے ڈاکٹر کے باہر بینچ پر بیٹھے لوگ گِن رہے ہوں گے کہ آج اتنے مریض دیکھ لٸے اور ہر مریض سے دو ہزار روپے لے رہے ہیں تو اس ڈاکٹر کی روزانہ اتنی انکم بن رہی ہے۔ یہاں ان کا کیلکولیٹر ایکٹیو ہوجاتا ہے۔
ان لوگوں کو کون سمجھاۓ کہ ایک بزنس کھڑا کرنے میں کتنی محنت لگتی ہے۔ کتنی راتیں جاگ کر گزارنی پڑتی ہیں۔ کتنے قرض لینے پڑتے ہیں۔ ایک سکول راتوں رات پیسے بٹورنے والی مشین نہیں بنتا۔ میں روزانہ دس سکول مالکان سے بات کرتا ہوں۔ کتنے لوگ حوصلہ ہارنے والے ہوتے ہیں۔ کتنے لوگ امید کھودیتے ہیں۔ میں نے سکول مالکان کو روتے دیکھا ہے۔ کس طرح وہ اِدھر اُدھر سے پیسے جوڑ کر سکول میں جھونک رہے ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے گھر کے راشن سے ذیادہ سٹاف کی تنخواہ اور بلڈنگ رینٹ کی فکر ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر ایک سکول برسوں کی محنت سے تھوڑا بہت کمانے لگتا ہے تو فیس بک پر بیٹھا ایک نکما دانشور معاشی انصاف کی ڈگڈگی بجانے لگتا ہے۔
میرے فیس بک کے پرانے ساتھی گواہ ہیں کہ میں نے جب بھی بات کی اساتذہ کی تنخواہ بڑھانے کی بات کی یا ان کے ساتھ اچھے سلوک کی بات کی تو کسی سکول اونر کے ماتھے پر بل نہیں آیا لیکن جہاں اساتذہ کو اپنے کام کے ساتھ انصاف اور بچوں کا حق ادا کرنے کی بات کی تو طوفان بدتمیزی برپا ہوجاتی ہے۔ ٹریننگ سیشن میں کوٸی ٹیچر پرنسپل کے روٸیے کی شکایت کردیتی ہے تو اسی دن پرنسپل کو بتا دیتا ہوں۔
کسی پرنسپل نے کبھی اعتراض نہیں کیا کہ تم کون ہوتے ہو ہمارے کام میں مداخلت کرنے والے۔
میں نے اپنی 20 سالہ کرٸیر میں سکول مالکان سے ذیادہ فراح دل کسی کو نہیں پایا جبکہ ایسے ہزاروں اساتذہ کو جانتا ہوں جو اندر سے انتہاٸی تنگ نظر اور بددیانت ہوتے ہیں۔ ان کی نظر میں سکول ایک مافیا ہیں جو والدین اور اساتذہ کا استحصال کررہا ہے لیکن کبھی یہ کوشش نہیں کریں گے کہ وہ اپنا سکول کھول کر انصاف کا بول بالا کریں۔
اپنی انفرادی زندگی سے ایسے لوگوں کو کب کا نکال چکا ہوں۔ فیس بک پر بھی یہی اصول ہے۔ بلاک لسٹ کا پیٹ بھرتا رہتا ہے۔
منقول
مزمل ساہ
18/02/2026
سخت مزاج استاد کی نفسیات کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر سختی کو اساتذہ کی بے حسی، غصے یا روکھے پن سے جوڑا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں اکثر اس سختی کے پیچھے گہری ذمہ داری اور طالب علموں کی سیکھنے کی فکر چھپی ہوتی ہے۔ نفسیاتی طور پر، سخت اساتذہ کا ماننا ہوتا ہے کہ طالب علم کی نشوونما اور بہتری کے لیے ایک خاص دائرہ کار اور نظم و ضبط (Structure) انتہائی ضروری ہے۔ وہ کلاس میں بنائے گئے سخت اصولوں اور حدود کو قید خانہ نہیں، بلکہ ایک ایسا محفوظ ماحول سمجھتے ہیں جہاں طالب علم یکسوئی کے ساتھ اپنی پڑھائی پر توجہ دے سکیں۔
ان اساتذہ کے نزدیک کلاس میں نظم و ضبط قائم رکھنا اپنی طاقت کا مظاہرہ نہیں ہوتا، بلکہ ان کا مقصد پڑھائی کے قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچانا ہوتا ہے۔ جب کلاس کی روٹین واضح ہو اور بچوں کو معلوم ہو کہ اصول توڑنے کے نتائج کیا ہوں گے، تو وہ غیر یقینی کیفیت کا شکار ہونے کے بجائے تعلیمی سرگرمیوں میں زیادہ دل لگاتے ہیں۔ ان کی سختی دراصل ان کی ان "اونچی امیدوں" (High Expectations) کا عکس ہوتی ہے جو وہ اپنے شاگردوں سے وابستہ کرتے ہیں۔ وہ سختی اس لیے نہیں کرتے کہ بچوں کو دبائیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے طالب علم بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ بچوں کو صرف سکول کے امتحانات کے لیے نہیں، بلکہ عملی زندگی کی سختیوں کے لیے تیار کر رہے ہوتے ہیں جہاں نظم و ضبط اور خود پر قابو پانا کامیابی کی ضمانت ہے۔
سخت اساتذہ اکثر اپنے جذبات کو جان بوجھ کر قابو میں رکھتے ہیں اور طالب علموں سے ایک پیشہ ورانہ فاصلہ برقرار رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک بچے کی فیورٹزم یا طرفداری نہ کریں اور سب کے ساتھ غیر جانبدارانہ انصاف کر سکیں۔ کئی بار ان کا یہ انداز ان کے اپنے ماضی کے تجربات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی اپنی کامیابی کے پیچھے کسی سخت استاد کا ہاتھ ہو، یا پھر ماضی میں زیادہ نرمی برتنے کی وجہ سے انہیں کلاس سنبھالنے میں مشکل پیش آئی ہو، جس نے انہیں یہ سکھایا کہ سختی ہی بہترین حکمت عملی ہے۔
تاہم، سختی تب ہی بہترین نتائج دیتی ہے جب اس میں عزت اور شفقت کی آمیزش ہو۔ جب اصول سختی سے لاگو کیے جائیں لیکن سمجھانے کا انداز منصفانہ ہو، تو طالب علم اس سختی کو "سزا" کے بجائے اپنی "بہتری" سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر سختی میں ہمدردی شامل نہ ہو تو بچہ صرف ڈر کے مارے حکم مانے گا اور جذباتی طور پر پڑھائی سے دور ہو جائے گا۔ مختصراً یہ کہ ایک سخت استاد کی نفسیات کی بنیاد دراصل "فکر اور محبت" پر ہوتی ہے، جس کا اظہار وہ اصولوں اور نظم و ضبط کے ذریعے کرتا ہے تاکہ اس کے شاگرد ایک مضبوط اور ذمہ دار انسان بن سکیں۔
#تعلیم