25/11/2025
زوال کے بعد کا سفر — اب کرنا کیا ہے؟
ایک دوست نے پچھلے کالم پر کمنٹ کیا: “سر، بات تو دل کی کی ہے، مگر اتنا لمبا کون پڑھے گا؟”
اگر ہم آج ترقی یافتہ قوموں کی طرح بیٹھ کر سنجیدگی سے پڑھنے، سمجھنے اور سیکھنے کے قابل ہی نہ رہے، تو ہمارے سامنے حقیقت میں دو ہی راستے بچتے ہیں: زوال… یا مکمل غلامی۔ ابھی تو ہماری معیشت IMF کی فائلوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے، فیصلے ہمارے بجٹ پر اُن کے دستخط سے مشروط ہیں؛ اگر یہی روش چلتی رہی تو کل کو ہمیں عراق اور لیبیا کی طرح کھلی تباہی اور افراتفری میں دھکیلنا کسی کے لیے مشکل نہیں ہو گا۔
ہم روٹی، قورمے، بارات اور ہال کی سجاوٹ پر ہزاروں، لاکھوں لگا سکتے ہیں؛ شادی کی تیاریاں مہینوں چل سکتی ہیں، ہر ہر ڈش، ہر ہر جوڑے پر گھنٹوں مشورے ہو سکتے ہیں۔ لیکن اپنی اور اپنی قوم کی ترقی کے لیے روزانہ آدھا گھنٹہ بھی کتاب، تحقیق، یا کسی سنجیدہ تحریر پر نہیں لگا سکتے۔ پھر ہم چیختے ہیں کہ حکومت چور ہے، نظام ظالم ہے، ملک نہیں چل رہا۔ یاد رکھیں، اگر یہی حال رہا تو نہ یہاں ہماری اپنی فیکٹریاں ہوں گی، نہ باعزت نوکریاں، نہ کوئی قابل آدمی اس ملک میں رہنا چاہے گا؛ سب ہجرت کریں گے — کوئی عرب دنیا میں دوسروں کا کچرا اٹھائے گا، اور کوئی یورپ کی “ڈنکی” لگاتے سمندروں میں ڈوبتا رہے گا۔
سوال یہ نہیں کہ “ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟”
اصل سوال یہ ہے کہ **کیا ہم اتنی سی ہمت بھی نہیں کر سکتے کہ اپنی قسمت کے فیصلے موبائل کی سکرین کے بجائے کتاب کے صفحے سے لکھوانا شروع کریں؟**
اسی ہمت کے سفر کا نام ہے: **زوال کے بعد کا سفر**۔
---
# # # 1) پہلی اینٹ: ذہن بدلنے کا فیصلہ — Victim سے Responsible تک
زوال کے بعد کا پہلا قدم کوئی بڑا منصوبہ نہیں، صرف ایک اندرونی **فیصلہ** ہے: میں اب صرف شکایت نہیں کروں گا، اپنی حد تک ذمہ داری لوں گا۔
ہمیں تین جملے اپنے ذہن سے نکالنے ہوں گے:
1. “یہ ملک کبھی نہیں ٹھیک ہو سکتا۔”
2. “سب چور ہیں، میں اکیلا کیا کر لوں گا؟”
3. “یہ سب تقدیر ہے، کچھ نہیں ہو سکتا۔”
تقدیر کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ڈسپلن، اخلاق اور منصوبہ بندی سے بھاگ جائیں۔ اللہ نے ہمارے اختیار کو بھی اہمیت دی ہے۔
**فیصلہ نمبر 1:**
> جہاں میں ابھی صرف “Victim” بن کر شکایت کرتا ہوں،
> وہاں سے “Responsible” بن کر عمل شروع کروں گا۔
* اگر میں ملازم ہوں، تو صرف “کمپنی خراب ہے” نہیں، یہ بھی دیکھوں گا کہ میں اپنے دائرۂ اختیار میں کیا بہتر کر سکتا ہوں۔
* اگر میں والد/والدہ ہوں تو صرف “نظام تعلیم خراب ہے” نہیں، گھر کا ماحول بھی بہتر بناؤں گا۔
* اگر میں نوجوان ہوں تو صرف “ملک مواقع نہیں دیتا” نہیں، اپنا skill، اپنا network خود بناؤں گا۔
---
# # # 2) انفرادی انقلاب: چھوٹی عادتیں، بڑا فرق
قومیں پہلے **عادتوں** میں بگڑتی ہیں، پھر معیشت اور سیاست میں۔ انقلاب باہر سے نہیں، اندر سے شروع ہوتا ہے۔
# # # # a) وقت کی پابندی – اصل Character Test
* بارات ہو، meeting ہو، کلاس ہو یا نماز — میں خود **وقت پر** پہنچوں گا، چاہے لوگ دیر سے آئیں۔
* وقت ضائع کرنے کو “چالاکی” نہیں، گناہ اور بے ذمہ داری سمجھوں گا۔
* بچوں کو بار بار یہی جملہ دوں گا:
> “ہم وہ لوگ ہیں جو وقت پر پہنچتے ہیں۔”
# # # # b) صفائی اور کچرا – سڑک بھی ہماری، مسجد بھی ہماری
* گاڑی یا کار سے باہر کچرا پھینکنے سے مستقل انکار۔
* گھر، دکان، دفتر کے باہر روزانہ جھاڑو اور ڈسٹ بن کا اہتمام۔
* مسجد، مدرسہ، دفتر میں “کچرا دان استعمال کریں” کو rule بنانا، صرف board نہیں، خود مثال بننا۔
# # # # c) قطار اور حقِ دوسرے کا احترام
* بینک، بازار، شادی ہال، بس اسٹینڈ — لائن توڑنے والے کو نرمی سے روکنا۔
* بچوں کو سکھانا کہ باری دینا کمزوری نہیں، character ہے۔
**فیصلہ نمبر 2:**
> جہاں بھی ہوں، وقت، صفائی اور قطار کے معاملے میں
> “Minimum” نہیں، “Role Model” بننے کی کوشش کروں گا۔
---
# # # 3) گھر کے اندر انقلاب: تربیت، موبائل اور گفتگو
گھر اصل “School” ہے، باقی تعلیمی ادارے اس کے بعد آتے ہیں۔
# # # # a) موبائل اور Screen کا نظام
* دن کا کم از کم **1–2 گھنٹے Screen-Free**:
* نہ TV، نہ Mobile، نہ Tablets — صرف بات چیت، کتاب، کھیل۔
* بچوں کے سامنے بے معنی چیخ و پکار اور gossip کم، meaningful بات زیادہ۔
# # # # b) گھر کو چھوٹا ادارہ بنائیں
* ہفتے میں ایک بار **Family Meeting**:
1. اس ہفتے کس نے جھوٹ نہیں بولا؟
2. کس نے لائن میں صحیح کھڑے ہو کر اپنا حق لیا؟
3. کس نے کسی کی مدد کی؟
* چھوٹے چیلنجز:
* “اس ہفتے گھر سے باہر کوئی کچرا نہیں پھینکے گا”
* “اس ہفتے سب وقت پر فجر کیلئے اُٹھیں گے”
# # # # c) گفتگو کا Level اوپر کریں
* میز پر ہر وقت صرف سیاستدانوں، رشتے داروں اور “چوروں” کی کہانیاں نہیں،
کبھی کتاب، کبھی سیرت، کبھی کامیاب لوگوں کی struggles بھی موضوع بنائیں۔
**فیصلہ نمبر 3:**
> میرا گھر Complaint Factory نہیں، Character Factory بنے گا۔
---
# # # 4) تعلیم اور Skill: ڈگری نہیں، قابلیت
اب دنیا skills اور problem-solving پر چل رہی ہے، خالی ڈگری پر نہیں۔
# # # # a) نوجوان کیلئے 12 مہینے کا سادہ پلان
1. پہلے 3 مہینے:
* English & Communication بہتر کریں
* basic computer, typing, Google, AI tools استعمال کرنا سیکھیں
2. اگلے 3–6 مہینے:
* ایک high-demand skill:
* SEO، eCommerce، Amazon/eBay
* Web Development / Design
* Video Editing / Content Writing / Social Media
3. اگلے 6–12 مہینے:
* 3–5 چھوٹے clients
* portfolio, LinkedIn, simple website
# # # # b) پڑھنے کی عادت
* ہر مہینے کم از کم **1 اچھی کتاب**:
* biography، history، business، self-discipline وغیرہ۔
**فیصلہ نمبر 4:**
> میں ڈگری کا نہیں، Skill اور Character کا CV بناؤں گا۔
---
# # # 5) اداروں میں چھوٹی اصلاحات: SOP Revolution
جہاں بھی آپ کام کرتے ہیں — دکان، اسکول، دفتر، NGO، مسجد — وہی آپ کا میدان ہے۔
# # # # a) لکھی ہوئی SOPs
* Time, behaviour, complaint handling، honesty کے اصول **لکھ کر** دیوار پر لگائیں اور WhatsApp گروپ میں شیئر کریں۔
* ہر نئے بندے کو join کرتے ہی یہ rules واضح کر دیں۔
# # # # b) Merit-based Hiring
* سفارش صرف تعارف تک، selection ہمیشہ test، interview اور task پر۔
* 3–7 دن کا **Paid Trial** رکھ سکتے ہیں، پھر final فیصلہ کریں۔
# # # # c) حساب کتاب اور Audit
* ہر کاروبار، چاہے چھوٹا ہو، documentation رکھے:
* روزانہ کی sale
* خرچہ
* profit/loss کا basic حساب
* سال میں کم از کم ایک بار کسی سمجھدار شخص سے accounts review کروائیں۔
**فیصلہ نمبر 5:**
> جس بھی ادارے سے میرا تعلق ہے،
> اسے اپنے دائرے میں “Best Version” بنانے کی کوشش کروں گا۔
---
# # # 6) معیشت اور نوجوان: گریہ نہیں، Gig اور Export
مہنگائی اور بے روزگاری حقیقت ہے، مگر اسی ملک میں لاکھوں نوجوان online کمائی بھی کر رہے ہیں۔ فرق صرف direction کا ہے۔
# # # # a) معاشی جہاد برائے نوجوان
* ایک global skill سیکھیں، 6–12 مہینے پورے focus کے ساتھ۔
* freelancing، remote jobs، eCommerce یا SaaS — جو بھی field ہو، خود کو **Global Market** کیلئے تیار کریں۔
* 2–3 دوست مل کر Micro-Team بنائیں:
* a) کوئی marketing دیکھے
* b) کوئی delivery (service/product)
* c) کوئی operations / finance
# # # # b) Ethical Earning کو فخر بنائیں
* fake products، جھوٹی advertising، scams سے بچیں — short-term فائدہ، long-term تباہی۔
* documented، halal، اور export-oriented income کو اپنا مقصد بنائیں۔
**فیصلہ نمبر 6:**
> میں اپنی earning کو شکایت نہیں، skill اور خدمت کا ذریعہ بناؤں گا۔
---
# # # 7) شہری ذمہ داری: محلے میں چھوٹا انقلاب
ملک “اوپر” سے بھی ٹھیک ہوگا، لیکن **محلہ** واقعی بدل جائے تو ملک کا چہرہ بدل جاتا ہے۔
# # # # a) محلہ کمیٹی
* 3–7 نوجوان مل کر simple committee بنائیں:
* صفائی
* security
* tuition / mentoring
* WhatsApp گروپ بنائیں، ہفتہ وار 1 گھنٹے کی meeting رکھیں۔
# # # # b) Social Hero Culture
* محلے میں ایماندار دکاندار، مددگار استاد، محنتی نوجوان کو public طور پر appreciate کریں۔
* چھوٹے سرٹیفکیٹ، social posts، شکریہ کے Events — تاکہ گنہگار نہیں، خدمتگار رول ماڈل بنیں۔
**فیصلہ نمبر 7:**
> میں اپنے محلے میں Complaint سے زیادہ Contribution بڑھاؤں گا۔
---
# # # 8) میڈیا اور سوشل میڈیا: شور سے شعور تک
سوشل میڈیا پر ہمارا بہت سا وقت صرف شور، memes اور لڑائیوں میں ضائع ہوتا ہے۔
# # # # a) Content Diet بدلیں
* روزانہ 2–3 گھنٹے سکرول کے بجائے
* کم از کم 20–30 منٹ **سیکھنے والے** content پر لگائیں (courses, talks, case studies)۔
# # # # b) خود بھی Constructive بنیں
* صرف forwarding نہیں،
* اپنی چھوٹی case study، تجربہ، lesson، یا حل share کریں۔
**فیصلہ نمبر 8:**
> میں اپنے social media کو complaining نہیں، constructing کا tool بناؤں گا۔
---
# # # 9) روحانی بنیاد: دین کو جذبات سے نکال کر نظام میں لانا
اگر دین صرف جذبات، نعرے اور تقریروں میں رہے، اور ہماری عادتوں اور نظام میں نہ آئے، تو پھر زوال ہی رہے گا۔
# # # # a) عبادت → Character
* نماز → وقت کی پابندی، صف، نظم۔
* روزہ → self-control (غصہ، زبان، خواہشات)۔
* زکوٰۃ/خیرات → structured, productive help (skills, micro-business support)۔
# # # # b) نیا مذہبی بیانیہ
* منبر، کلاس روم اور سوشل میڈیا پر یہ زبان عام ہو:
> “اچھی نیت + اچھا نظام = امت کا Revival”
**فیصلہ نمبر 9:**
> میں دین کو صرف جذبات نہیں،
> اپنی زندگی کے نظام کا مرکز بنانے کی کوشش کروں گا۔
---
# # # 10) تین سالہ ذاتی عہد — اگر واقعی سنجیدہ ہیں
آخری حصہ صرف اُن کیلئے ہے جو واقعی کچھ بدلنا چاہتے ہیں۔
# # # # سال 1: خود سازی
1. 3 بری عادتیں منتخب کریں (مثلاً جھوٹ، گالی، تاخیر) اور ان پر مسلسل کام کریں۔
2. کم از کم 1 strong skill develop کریں۔
3. 12 اچھی کتابیں پڑھیں۔
# # # # سال 2: خاندان اور ادارہ
1. گھر میں screen-free hour اور ہفتہ وار family meeting شروع کریں۔
2. جس ادارے میں ہیں، وہاں ایک چھوٹی SOP / اصلاحی initiative شروع کریں۔
3. کم از کم 1 نوجوان/بچے کو mentor کریں۔
# # # # سال 3: معاشرہ اور ملک
1. محلے میں کوئی چھوٹا social project (صفائی، تعلیم، mentoring، روزگار) شروع کریں۔
2. اپنی earning کا حصہ skill-based charity / micro-business funding میں لگائیں۔
3. کم از کم 1 ایسا کام کریں جو مرنے کے بعد بھی جاری رہے (علم، institution، صدقۂ جاریہ)۔
**فیصلہ نمبر 10:**
> میں کم از کم 3 سال کیلئے
> سنجیدگی سے اپنے Character، Skill، Family، Institution اور Society پر کام کروں گا۔
---
# # # اختتامی بات: زوال انجام نہیں، موڑ بھی ہو سکتا ہے
تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں جنگوں، غلامی، غربت اور ذلت سے گزر کر بھی اٹھ کھڑی ہوئی ہیں — جب فرد نے فیصلہ کیا کہ وہ **بہانہ نہیں، قدم** اٹھائے گا۔
پاکستان بھی اسی موڑ پر کھڑا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ حکومت کیا کرے گی،
اصل سوال یہ ہے کہ **میں اور آپ کیا کریں گے؟**
اگر آج آپ نے:
* کچرا سڑک پر پھینکنے سے انکار کر دیا،
* وقت کی پابندی کو اصول بنا لیا،
* ایک نئی skill سیکھنے کا عزم کر لیا،
* گھر اور ادارے میں چھوٹا سا نظام بنا لیا،
* اور ایک نوجوان کا ہاتھ تھام لیا —
تو شاید یہ سب لوگوں کو “چھوٹے کام” لگیں،
مگر Revival ہمیشہ ایسے ہی **چھوٹے مگر مسلسل کاموں** سے شروع ہوتا ہے۔
> “میں بہانے نہیں، قدم اٹھاؤں گا —
> اور اللہ سے امید رکھوں گا کہ وہ میرے اس چھوٹے قدم کو
> پوری قوم کے لیے بڑی راہ بنا دے۔”
— عثمان چغتائی copy
𝐋𝐞𝐚𝐫𝐧 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐁𝐲 𝟏𝟎𝟎% 𝐕𝐞𝐫𝐢𝐟𝐢𝐞𝐝 𝐐𝐚𝐫𝐢/𝐐𝐚𝐫𝐢𝐲𝐚Trial Classes Available For All Age Groups Kids & Adults24/7 Services.
𝐑𝐞𝐜𝐢𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨n | 𝐓𝐚𝐣𝐰𝐞𝐞𝐝 | 𝐓𝐚𝐟𝐬𝐞𝐞𝐫 | 𝐀𝐫𝐚𝐛𝐢𝐜,English, Persian & Urdu Spoken Tutors.
📞 +92 332 5522642
Skype: [email protected]
Quran Online zia education system
https://www.facebook.com/ziaeducationsystem?mibextid=ZbWKwL
We Can Teach Your Child By The Efficient Way. They Can Learn Quran With Qerrat,Tajveed,Tafseer,Hadees Ismamic Knowledge And Arabic,English,Farsi,Urdu Languages. It Will Be My Pleasure To Teach Your Child. May ALLAH Bless You A Happy And Islamic Life.