Norms & Traditions

Norms & Traditions

Share

Educational and informational page

17/12/2025

The Legal GateWay

⚖️ حقِ معلومات
ہر شہری کو حق ہے کہ وہ معلومات حاصل کرے۔
کسی بھی معاملے میں پوری معلومات حاصل کرنا آپ کا خق ہے۔
!جانیں، پہچانیں اور اپنا حق حاصل کریں

17/12/2025

The Legal GateWay

🔥 آپ کا ڈیجیٹل ڈیٹا کتنا محفوظ ہے؟ 🔥
​آج کل ہر کوئی آن لائن ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے نئے سائبر قوانین آپ کے ڈیٹا کی حفاظت کیسے کرتے ہیں؟ بہت سے لوگ اپنے ڈیجیٹل حقوق سے ناواقف ہیں! 😱
​آپ کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم ترین نکات:
​ڈیٹا پروٹیکشن حقوق: آپ کے ذاتی ڈیٹا کو غلط استعمال سے بچانے کے لیے سخت قوانین موجود ہیں۔ کوئی بھی آپ کی اجازت کے بغیر آپ کی معلومات شیئر نہیں کر سکتا۔
​سائبر کرائم رپورٹ کریں: اگر آپ کو آن لائن ہراساں کیا جاتا ہے یا آپ کے ساتھ کوئی دھوکہ ہوتا ہے، تو اسے فوراً رپورٹ کریں۔ FIA سائبر کرائم ونگ موجود ہے آپ کی مدد کے لیے!
​ہراسانی پر سخت سزائیں: آن لائن ہراسانی، بدنامی، یا دھمکیاں دینے والوں کے لیے قانون میں سخت سزائیں مقرر ہیں۔ چپ رہنا نہیں، آواز اٹھانا آپ کا حق ہے۔
​اپنے ڈیجیٹل حقوق جاننا اتنا ہی ضروری ہے جتنا آف لائن حقوق! اپنی آن لائن زندگی کو محفوظ بنائیں۔
​کیا آپ نے کبھی سائبر کرائم کا سامنا کیا ہے؟ ہمیں کمنٹس
میں بتائیں

​مزید اہم قانونی معلومات اور ڈیجیٹل حقوق کے لیے،
The Law Gateway کو فالو کریں

21/07/2025

غم غزہ 🔥💔
ایک وقت آئے گا انسانیت اس پر شرمندہ ہو گی. قاتل پر تھوکے گی. ایک وقت آئے گا اس ملبے سے پھول کھلیں گے. تب کچھ منافقین وہ ہوں گے جو کہیں گے ہم تو شروع سے ہی اس کے خلاف تھے.

لیکن میرے جیسے لوگ نہیں بھولیں گے کہ کون کس صف میں کھڑا تھا. کون لاتعلق تھا. کون گونگا شیطان تھا. کون طنز اچھال رہا تھا. یہ دکھ ایسا ہی ہے جیسا ذاتی ہو. یہ ہے ہی ذاتی دکھ. معصوم بچوں کے یہ لاشے ایسے ہیں جیسے گھر میں رکھے ہوں. یہ ہیں ہی میرےیچے. زندگی کا عجب دکھ ہے. یہ بیان سے باہرہے.

خدا کی قسم ہم نہیں بھولیں گے. ہم نے لکیر کھینچ رکھی ہے. روح پر بھی اور دل پر بھی.

___

آصف محمود

21/07/2025

Overthinking will kill your peace Pray, and leave it to Allah

14/07/2025
24/06/2025

آج صبح گھر کا بجلی بل آیا
میں فری بیٹھا تھا دیکھا تو 201 یونٹ پر 9508 روپے کا نسخہ بنا ہوا تھا
کچھ مزید غور کیا تو ایسے انکشافات ہوئے کہ میں سوچ میں پڑگیا.
150 سابقہ ریڈنگ ،میٹر کی تصویر پر 345 موجودہ ریڈنگ)345-150=195 یونٹ جبکہ بل میں201 یونٹ ڈال کر ایوریج ریٹ27 روپے کر دیا گیا.
Cost of electricity= 5455
پھر بل 9508 کیوں؟
کس چیز کے4053 ایکسٹرا لیے جارہے؟
اچھا مزید دیکھا تو معلوم ہوا کہ جون کے مہینے کا فیول ایڈجسمنٹ لگا ہوا ہے
مزید غور کیا تو اوپر اپریل (مطلب ایک ماہ پہلے) کا حوالہ دے کر کچھ قیمت لکھی ہوئی تھی
مزید GST , PTV Fee وغیرہ وغیرہ الگ
یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن!
ایک سوال
صرف ایک سوال
میرے دماغ میں کھنک رہا تھا
ہمارا بل9508 آجکل ایک average بل سمجھا جاتا
جب ایک ایوریج میٹر سے آپ 4053 روپے Extra Tex وصول کررہے ہیں
تو
کروڑوں صارفین ہیں بجلی کے
لازمی بات ہے سب کا یہ نسخہ بنا ہوگا
کسی کا اس سے کم، کسی کا زیادہ
پاکستان میں سیکنڑوں ڈیپارٹمنٹ ہیں
صرف ایک واپڈا ایسی calculation لگا کر اربوں نہیں بلکہ کھربوں ماہانہ extra Tex وصول کررہا ہے۔

یہ سب دیکھنے کے بعد بے اختیار سوالات کا سلسلہ ذہن میں شروع ہوگیا
1۔اسکے باوجود پاکستان ڈیفالٹ کیوں ہے؟
2۔ پاکستان قرضوں میں کیوں ڈوبتا جارہا؟
3۔ مہنگائی کیوں بدترین سطح پر ہے...؟

جب سوچ سوچ کر جواب نہ ملا
تو دل کی گہرائیوں سے ایک ہی آہ نکلی
اے میرے اللہ!
اس ملک پر بھیڑیے کی طرح ٹوٹ کر اسکو کھانے والے (چاہے جس مرضی پارٹی سے ہیں) انکو دنیا و آخرت میں تباہ و برباد فرما..آمین

https://whatsapp.com/channel/0029VavgAITDp2QC9ZbMHp2Z

19/06/2025

" مڈل کلاسیا "

رات کے دس بج رہے تھے۔ ساجد ابھی تک دکان پر ہی تھا۔ تھکاوٹ اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی، مگر واپسی کا راستہ ابھی باقی تھا۔ رکشہ لینے کا مطلب تھا روز کے بجٹ میں کٹوتی، اس لیے وہ ہمیشہ کی طرح پیدل ہی چل پڑا۔

ساجد ایک عام مڈل کلاس انسان تھا۔ وہ جو اپنی خواہشات کو مار کر دوسروں کی ضروریات پوری کرتا ہے، جو ہمیشہ "آج نہیں، کل دیکھیں گے" کہہ کر اپنی خوشیوں کو ملتوی کرتا رہتا ہے۔ گھر پہنچا تو بچوں کو سویا پایا۔ بیوی نے دروازہ کھولا، مگر اس کے چہرے پر وہ خوشی نہ تھی جو کسی شوہر کی واپسی پر ہونی چاہیے۔

"بہت دیر کر دی، کھانا رکھ رہی ہوں، ٹھنڈا ہو گیا ہوگا۔" وہ یہ کہہ کر کچن میں چلی گئی۔

ساجد نے ہاتھ دھوئے اور کھانے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ بیوی کی آواز آئی:
"پڑوسن کہہ رہی تھی کہ کل سکول فیس کی آخری تاریخ ہے۔ بچوں کی فیس دی؟"

ساجد کے ہاتھ میں روٹی کا نوالہ رک گیا۔ وہ چپ رہا، جواب میں کیا کہتا؟ پورے مہینے کی جمع پونجی تو کرائے، بجلی کے بل اور راشن میں ختم ہو چکی تھی۔ بیوی اس کی خاموشی سمجھ گئی اور آہستہ سے بولی:
"کوئی انتظام کر لو، ورنہ بچے شرمندہ ہوں گے۔"

ساجد نے اثبات میں سر ہلایا، مگر اس کے دل میں ہزاروں سوال اٹھنے لگے۔ وہ یہ انتظام کہاں سے کرے؟ ہر مہینے یہی کشمکش، یہی جنگ، یہی سمجھوتے۔ مہنگائی بڑھتی جا رہی تھی، مگر آمدنی وہی تھی۔ بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات بھی بوجھ لگنے لگی تھیں۔

"بابا، میری سائیکل کا ٹائر پنکچر ہے۔" اگلے دن بیٹا معصومیت سے بولا۔

"بابا، میری جوتی پھٹ گئی ہے، سب مذاق اڑاتے ہیں۔" بیٹی نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

یہ جملے ساجد کے دل میں تیر کی طرح لگے۔ وہ کچھ نہ بولا، بس خاموشی سے باہر نکل گیا۔ گلی میں آ کر گہری سانس لی، خود کو تسلی دی کہ زندگی یونہی چلتی ہے۔ مڈل کلاس کا یہی مقدر ہے، خواہشوں اور حقیقتوں کے بیچ پس جانا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ سب عارضی ہے، مگر یہ عارضی وقت کبھی ختم بھی ہوگا؟

بیوی دروازے کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی۔ وہ ساجد کے خالی ہاتھ اور جھکی نظریں دیکھ چکی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر جتنا کر سکتا ہے، کر رہا ہے۔ مگر کیا کرے؟
"سنیں۔۔۔" وہ دھیرے سے بولی۔

ساجد نے مڑ کر دیکھا، آنکھوں میں بے بسی تھی۔

"میں نے سوچا ہے، کچھ ٹیلرنگ کا کام شروع کر لوں۔ دو چار سلائیاں ہی آتی ہیں، اگر تھوڑا سیکھ لوں تو شاید گزارا آسان ہو جائے۔"

ساجد خاموش رہا۔ اس کی مردانہ انا اسے روک رہی تھی کہ بیوی گھر سے باہر کام کرے، مگر حقیقت نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

"اگر تمہیں اچھا لگے تو کر لو، بس خود کو زیادہ تھکانا مت۔" وہ آہستہ سے بولا۔

بیوی کے چہرے پر ہلکی سی روشنی آ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ اجازت دینا ساجد کے لیے آسان نہیں تھا، مگر اس نے یہ قدم اپنے بچوں کے بہتر کل کے لیے اٹھایا تھا۔

چند لمحے خاموشی رہی، پھر وہ آہستہ سے بولی:
"سنیے، میں ایک بات اور کہنا چاہتی ہوں۔۔۔"

ساجد نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔

"آپ نے قرض اتارنے کے لیے جو بائیک بیچی تھی، وہ تو ہمارے لیے بہت بڑی قربانی تھی، مگر اگر کسی طرح دوبارہ کوئی اچھی چلتی ہوئی بائیک خرید لی جائے تو آپ کے لیے بھی آسانی ہو جائے گی۔ دکان آنے جانے میں وقت بچے گا اور آج کل لوگ آن لائن بائیک بھی چلا رہے ہیں۔ آپ دکان جاتے ہوئے کوئی سواری لے لیا کریں، کم از کم آنے جانے کے پیسوں سے گھر کا خرچ نکل آئے گا۔ باقی میں سلائی سیکھ کر تھوڑی بچت کر لوں گی۔ آخر ہم ایک دوسرے کا سہارا ہیں اور ہمارے بچے بھی۔۔۔ مل جل کر سب سنبھال لیں گے۔"

ساجد غور سے اسے دیکھتا رہا۔ اس کی بیوی اسے کبھی اتنی سمجھدار اور حوصلہ مند نہیں لگی تھی جتنی آج لگ رہی تھی۔ شاید زندگی کی مشکلات نے ہی اسے یہ ہنر سکھایا تھا کہ جب ایک ہاتھ خالی ہو، تو دوسرا ہاتھ تھامنے کے لیے آگے بڑھایا جائے۔

ساجد نے گہرا سانس لیا، جیسے کسی بوجھ سے نجات پا رہا ہو۔
"ٹھیک ہے، میں کل دیکھوں گا کہ کہیں سے اچھی بائیک مل سکتی ہے۔"

بیوی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، جیسے اسے یقین ہو کہ راستہ بن جائے گا۔

ساجد نے پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ بیوی بولی، "رکیں، ایک منٹ۔۔۔"

وہ جلدی سے اندر گئی اور الماری سے کچھ نکال کر واپس آئی۔ ساجد نے دیکھا، یہ اس کی گولڈ کی چوڑی تھی۔

"یہ امی نے مجھے دی تھی، لیکن اب میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے رکھ لیں۔ ضرورت پڑے تو بیچ کر بائیک خرید لیجیے۔"

ساجد چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ حیران تھا، فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کیا کرے۔

بیوی نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا،
"جب آپ نے اپنی بائیک بیچی تھی، تو مجھے بہت دکھ ہوا تھا۔ وہ ایک قربانی تھی جو آپ نے ہمارے لیے دی۔ اب یہ میری قربانی ہوگی۔ جب امی نے مجھے یہ دی تھی، تو بس یہ میری زندگی کا حصہ بن گئی، اور اب میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے اپنی زندگی آسان بنانے کے لیے استعمال کریں۔"

ساجد کی آنکھوں میں جذبات کا ایک طوفان تھا۔ وہ کبھی اپنی بیوی کی طرف دیکھتا، کبھی اس چوڑی کی طرف جو اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے سوچا، یہ وہی چوڑی ہے جو شادی کے بعد پہلی بار اس نے اپنی بیوی کے ہاتھ میں دیکھی تھی، جو ہمیشہ اس کے زیور کا حصہ رہی، جسے وہ کبھی کھونے نہیں دینا چاہتی تھی۔

اور آج؟ آج وہی چوڑی اس کے ہاتھ میں تھی، مگر ایک مختلف مقصد کے لیے۔ بیوی کی باتیں اس کے ذہن میں گونجنے لگیں، "جب آپ نے اپنی بائیک بیچی، تو مجھے دکھ ہوا تھا۔ یہ میری قربانی کا حصہ سمجھیں۔۔۔"

قربانی؟ کیا واقعی؟
اس نے اپنی بائیک بیچی تھی، مگر وہ ایک مجبوری تھی، کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی اس بائیک سے۔ مگر یہ چوڑی؟ یہ تو اس کی بیوی کی یادوں، اس کی ماں کی محبت، اور شاید اس کی آخری قیمتی چیزوں میں سے ایک تھی۔

اس کے دل میں عجیب سی کشمکش ہونے لگی۔ کیا وہ یہ چوڑی رکھ لے؟ کیا وہ اپنی بیوی کی اس قربانی کو قبول کر لے؟ یا پھر وہی کرے جو ایک شوہر کو کرنا چاہیے؟

اس کی انگلیاں چوڑی کو سختی سے تھامے ہوئے تھیں، جیسے وہ اسے کبھی ہاتھ سے گرنے نہیں دینا چاہتا۔ آنکھیں دھندلا گئیں، مگر وہ انہیں جھپک کر صاف کر گیا۔ مڈل کلاس مرد کی زندگی میں آنسو بہانے کی اجازت کہاں ہوتی ہے؟ وہ تو بس ہر چیز کو "ٹھیک ہے" کہہ کر ہضم کر لیتا ہے۔

مگر آج؟ آج دل چاہ رہا تھا کہ وہ کہے، "نہیں، مجھے یہ نہیں چاہیے۔ مجھے تمہارا ساتھ چاہیے، تمہاری ہمت چاہیے، تمہارا یقین چاہیے۔"

مگر وہ کچھ نہ کہہ سکا۔ بس گہری سانس لی، چوڑی کو مٹھی میں دبایا، اور نظریں چرا کر بولا،
"دیکھتا ہوں، کیا ہو سکتا ہے۔"

پھر وہ پلٹ کر کمرے سے باہر آ گیا، لیکن اس کے قدم بوجھل ہو چکے تھے۔

کیا وہ سونے کی چوڑی بیچ پائے گا؟

یہ سوال ساجد کے ذہن میں ہتھوڑے کی طرح بج رہا تھا۔ چوڑی اس کی مٹھی میں تھی، مگر وہ مٹھی کھول نہیں پا رہا تھا۔ یہ صرف ایک زیور نہیں تھا، یہ ایک عورت کی قربانی تھی، اس کی محبت تھی، اس کا یقین تھا۔

کیا وہ اس قربانی کو قبول کر سکتا ہے؟ کیا وہ اپنی بیوی کے خوابوں کا سودا کر سکتا ہے؟ یا پھر کوئی اور راستہ نکالے گا؟

یہی کشمکش تھی… یہی جنگ تھی… جس کا فیصلہ ابھی باقی تھا!

---

یہ کہانی صرف ساجد کی نہیں، یہ کہانی اس ملک کے ہر اُس مڈل کلاس شخص کی ہے جو روز جیتا ہے، روز مرتا ہے، مگر کسی کو اس کی ہار یا جیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس کی جیب میں خواب زیادہ اور نوٹ کم ہوتے ہیں، جس کے پاس خواہشیں تو ہوتی ہیں، مگر ان کو پورا کرنے کے لیے ہمیشہ کسی نہ کسی قربانی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

18/06/2025

ہم خسارے کے سودے کر رہے ہیں۔۔

نہ جانے کیوں ہمارے یہاں کسی کو بھی رات کو جلدی سونے کے لیے کہہ دو تو وہ چڑ جاتا ہے۔ بقول ان کے نو دس بجے سونے والے پینڈو ہوتے ہیں۔ اکثریت یہ کہتی ہے کہ اتنی جلدی بھی کوئی سوتا ہے۔ ہمارے بڑوں نے ہمیشہ کہا کہ دن چڑھے تک سونا نحوست ہوتا ہے، ہم نے کبھی ان چیزوں پر کان نہیں رکھے یہی کہا کہ کیسی نحوست، نیند تو نیند ہوتی ہے۔

ہم سب بڑے شوق سے نحوست earn کرتے ہیں، اور پھر یہ کہتے ہیں کہ یار میرے کام نہیں بنتے، بے چینی سی ہے، کہیں دل نہیں لگتا، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کہیں بھاگ جانے کو دل چاہتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ وہ تمام گھر جہاں دن چڑھے سونے اور رات گئے تک جاگنے کا رواج ہے، میں نے ان میں کئی نفسیاتی بیماریاں، مسائل اور اذیتیں دیکھی ہیں۔ یہ کوئی ایک گھر نہیں ہے،یہ بے شمار خاندان ہیں، بے شمار لوگ ہیں۔ ایک پورے خاندان کو تباہ ہوتے دیکھا ہے، وہ لوگ فخر کرتے تھے کہ ان کے یہاں بارہ بجے سے پہلے ناشتہ نہیں ہوتا۔اکثریت یہ کہتی ہے کہ صبح اٹھ کر کریں کیا، کرنے کے لیے کچھ ہوتا ہی نہیں۔ وہ جو پرانے وقتوں کی خواتین ہوتی تھیں، ان کے پاس کرنے کے لیے کیا ہوتا تھا؟

نہ فون……نہ کہیں آنا جانا……پھر وہ کیوں صبح اٹھتی تھیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ تمام کام ہاتھوں سے کرتی تھیں اور کام بہت ہوتے تھے، اس لیے کہ دن چڑھے تک سونا نحوست مانا جاتا تھا۔
مسلہ یہ نہیں ہے کہ صبح اٹھ کر کرنا کیا ہے، مسلہ یہ ہے کہ دن چڑھے تک سو کر کیا کرنا ہے؟

لوگ آگے سے بہت بحث کرتے ہیں، میں کہتی ہوں کہ جو انسان اللہ کے بتائے ٹائم ٹیبل پر بحث کرے اسے دنیا کا کوئی انسان کچھ نہیں سمجھا سکتا۔ رات گئے تک جاگنے والے اگر ٹین ایجر یا ینگ ہیں تو ان میں بہت جلد نفسیاتی بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں، اگر میچورڈ ایج کے ہیں تو جسمانی بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ ان لوگوں کو خود معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں وہ بیماریاں آچکی ہیں۔ اداسی، بے چینی اور بے کلی تو عام ہوتی ہے۔کبھی سوچا ہے کہ یہ ٹین ایجرز اتنا چڑتے کیوں ہیں؟ ہر وقت لڑنا، سر پکڑکر بیٹھنا، جلدی ہمت ہار دینا۔

آپ موبائل پر ایک ویڈیو دیکھتے ہیں تو موبایل کی بیٹری تیزی سے نیچے گرتی ہے، لیکن گیلری کی تصویریں دیکھتے ہیں تو بیٹری اتنی تیزی سے نہیں گرتی۔ سمجھ لیں رات کا جاگنا آپ کی روحانی، ذہنی، جسمانی بیٹری کو تیزی سے نیچے گرا دیتا ہے۔
٭آپ جلدی بوڑھے ہوں گے……
٭آپ کی یادداشت خراب ہو گی……
٭آپ کا امیون سسٹم کمزور ہو کر خراب ہو جائے گا، آپ جلدی جلدی بیمار ہوں گے، انفیکشن جلدی جلدی ہوں گے۔
٭کسی مشکل،مصیبت پر ہمت کی صلاحیت کم ہو جائے گی، ایک وقت ایسا آئے گا کہ آپ بالکل ہاتھ پیر چھوڑ دیں گے۔

٭آپ کی قوت فیصلہ کمزور ہو جائے گی، غلط فیصلے کرنے لگیں گے۔
انسان جب سوتا ہے تو اس کا لاشعور اس کے لیے بہت کام کرتاہے جو ذہنی وقت بڑھاتا ہے۔ رات کی ایک خوبی ہے، بلکہ رات کی کئی خوبیاں ہیں یہ انسان کو heal کرتی ہے۔ رات کی healing اللہ نے انسان کے لیے رکھی ہے۔ آپ کمرا بند کر کے، لائٹس آف کر کے اللہ والی رات پیدا نہیں کر سکتے۔ یہ اپنے ساتھ ہی ایک کھلا مذاق ہے۔
٭یا آپ جانتے ہیں کہ خودکشی کرنے کا رسک رات کے وقت سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
٭اور کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ یہ رسک…… رات کے پہلے پہر سے رات دو ڈھائی بجے تک سب سے زیادہ ہوتاہے۔

٭اور کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ انہی وقت میں خودکشیاں ہوئی ہیں۔
راہ نور میں طلال کو نیند نہیں آتی، کیونکہ وہ suicidal ہوتا ہے، ڈاکٹر اپنی پوری کوشش سے اسے میڈیسن کے زیر اثر سلاتے ہیں۔ طلال کی آدھی بیماری اس وقت چلی جانی تھی جس وقت وہ قدرتی نیند سو جاتا۔ اور یہ قدرتی نیند اسے کہاں ملتی ہے؟
٭یہ نیند اس بھاء کی حویلی میں ملتی ہے، جب بھاء اس کے ساتھ چند ٹرک کرتاہے۔

نیند صرف نیند نہیں ہے اس کے پیچھے لاشعور کی زبردست قوت موجود ہے۔سائنس دان اور ماہرین لاشعور کی طاقت کو جانتے ہیں، اسی لیے تمام عقل مند لوگ یہ پریکٹس کرتے ہیں کہ وہ رات کے پہلے اور دوسرے پہر کو سو کر گزارتے ہیں۔ ہمارے ذہن کی ایک یونیورسل کلاک ہے، یہ اسی طرح کام کرے گی جیسے اللہ نے اسے سیٹ کیا ہے۔ یہ بحث کرنا کہ اگر لاشعور نیند میں کام کرتا ہے تو پھر دن کی نیند میں کیوں نہیں کرتا۔دن کی نیند نہیں ہوتی صرف قلولہ ہوتا ہے۔
نیند صرف رات کی ہوتی ہے اور وہ ایک بجے والی نہیں ہوتی۔بہت ا ایمانداری سے بتاؤں گی مجھے ان گھروں سے گھبراہٹ ہوتی ہے جہاں دن ایک بجے ناشتہ ہو رہا ہوتا ہے، اور رات گئے تک دن کا ماحول ہوتا ہے۔ یہ کھلم کھلا ضد ہے،خسارے کے سودے ہیں۔
٭آپ کی انگلی پر کٹ لگا، آپ وقت پر سوجائیں، صبح وہ زخم تقریبا بھر چکا ہو گا۔ یہ کام کیسے ہوا؟

یہ کام نیند کے دوران ہو، وہ نیند جو وقت پر لی گئی۔ اب ہمارے زخم بھر کیوں نہیں رہے، اب ہمارے ڈپریشن کیوں بڑھ رہے ہیں۔ اب ہمارے دل توٹتے ہیں تو جلدی جڑتے کیوں نہیں ہیں؟کیونکہ ہمارے لاشعور کا جو ایمرجنسی سسٹم ہے ہم اسے کام کرنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ اس کے پاس جادوئی طاقتیں ہیں، وہ ہمارے لیے بہت کام کر سکتا ہے لیکن ہم اسے ”چانس“ نہیں دیتے۔ ہم اس صدی کی عقل مند ترین جنریشن ہیں اور یہ عقل مند جنریشن سارے خسارے کے سودے کر رہی ہے۔
مجبور اور رات کی ڈیوٹی والوں کا معاملہ اس سے الگ ہے

18/06/2025

ﺑﺮﺍﻧﮉﮈ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻣﺎﺭﮐﯿﭩﻨﮓ ﮐﯽ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺟﮭﻮﭦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻧﮑﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺗﻮ ﺍﻣﯿﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮧ ﻧﮑﻠﻮﺍﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻏﺮﯾﺐ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ iPhone ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﮭﺮﻭﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﺠﮭﮯ ﺫﮨﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮭﺪﺍﺭ ﻣﺎﻧﯿﮟ؟
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ McDonald's ﯾﺎ KFC ﮐﮭﺎﺅﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻨﺠﻮﺱ ﮨﻮﮞ؟
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﮏ ﺑﯿﭩﮭﮏ Downtown Cafe ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﺭﺋﯿﺲ ﮨﻮﮞ؟
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ Gucci ,Lacoste, Adidas ﯾﺎ Nike ﮐﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﻮ ﺟﯿﻨﭩﻞ ﻣﯿﻦ ﮐﮩﻼﯾﺎ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ؟
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮐﮯ ﻟﻔﻆ ﭨﮭﻮﻧﺴﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﮩﺬﺏ ﮐﮩﻼﺅﮞ؟

ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ Adele ﯾﺎ Rihanna ﮐﻮ ﺳﻨﻮﮞ ﺗﻮ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ؟
ﻧﮩﯿﮟ'
ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﻋﺎﻡ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﺮﯾﺪﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﮍﮮ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ، ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﭨﮭﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻋﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ، ﺍﭘﻨﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﺎﺩﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﺐ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ لیکن

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ Adidas ﺳﮯ ﺧﺮﯾﺪﯼ ﮔﺌﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﻤﯿﺺ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﮮ ﮨﻔﺘﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺷﻦ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ن
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﮔﺮ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻨﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ

ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺭﺍﺯ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﻓﻮﺭﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ۔ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﺻﻞ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺧﻼﻕ، ﺑﺮﺗﺎﺅ، ﻣﯿﻞ ﺟﻮﻝ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ، ﺻﻠﮧ ﺭﺣﻤﯽ، ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺷﮑﻞ ﻭ ﺻﻮﺭﺕ

16/06/2025

کچھ لوگ دوسروں کو پریشان کرنے کے لئے بڑی محنت کرتے ہیں ، پیسہ ضائع کرتے ہیں اور دوسروں کو پریشان کرتے ہیں - ایسی صورت میں سکون کہاں سے ملے۔

ایک تھا کتا اور ایک تھا بیل - بیل کھرلی سے گھاس کھاتا تھا اور کتا وہاں بیٹھ کر بھوکنے لگ جاتا تھا - کسی نے کتے سے پوچھا یہ گھاس تو تیرے کام کی نہیں ہے ، تو کیوں بھونکتا ہے؟
کہنے لگا جب یہ کھاتا ہے تو مجھے بڑی تکیلف ہوتی ہے ۔

مسلمانوں کا اصل پرابلم یہ ہے کہ خود کھا نہیں سکتے اور دوسرے کے کھانے سے تکلیف ہوتی ہے - سیاست میں زیادہ تر لوگ اس لئے پریشان ہیں کہ سارا مال ہی اس کا مخالف کھا گیا -

بے مقصد قسم کی پریشانی اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے - اگر کوئی مکان بنا لے تو دوسرے خواہ مخواہ پریشان ہو جاتے ہیں حالانکہ ان کا تعلق ہی نہیں ہوتا - کسی نے پوچھا کہ بارش کا فائدہ کیا ہے اور نقصان کیا ہے؟

کہتا ہے بارش کا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمارے کھیت پہ برستا ہے اور نقصان یہ ہے کہ ساتھ والے کے کھیت پہ بھی برستا ہے - بس لوگوں کو اتنی بے سکونی ہے کہ کسی کو سکون میں بھی نہیں دیکھ سکتے۔

لوگ اس لئے کماتے ہیں کہ زندہ رہ سکیں اور اس لئے زندہ ہیں تاکہ کما سکیں۔

گفتگو 14________صفحہ نمبر 56____57

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Rawalpindi