Arwa International Institute

Arwa International Institute Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Arwa International Institute, Tutor/Teacher, Rawalpindi.

Online Quran Classes Available
Female Teacher ( Ladies & Kids)
Male Teacher (Gents & Boys)
✔ Nazra Quran
✔ Hifz Quran
✔ Tajweed
✔ Tafseer & Translation
✔ Namaz & 6 Kalmas
Flexible Timings
3 Days Free Trial available
Contact on WhatsApp: 03305921904📲

25/05/2026

یومِ عرفہ کو بہترین انداز میں گزارنے کے لیے چند خوبصورت نصیحتیں:

1۔ کوشش کریں کہ رات جلدی سو جائیں، نیت یہ ہو کہ اللہ کی عبادت کے لیے طاقت حاصل ہو، تاکہ سونے پر بھی اجر ملے۔

2۔ فجر سے پہلے سحری کے لیے اٹھیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔

3۔ کم از کم 4 رکعت تہجد پڑھیں، اور سجدوں میں دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیں، روتے ہوئے یا دل نرم کرتے ہوئے دعا کریں۔

4۔ فجر سے پہلے کچھ وقت استغفار میں گزاریں تاکہ آپ “اسحار میں استغفار کرنے والوں” میں شامل ہو جائیں۔

5۔ اذان سے چند منٹ پہلے وضو اور فجر کی تیاری کریں، اور محسوس کریں کہ وضو کے ساتھ گناہ جھڑ رہے ہیں۔

6۔ وضو کے بعد یہ دعا پڑھیں:
“أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله، اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين”
اس کے لیے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

7۔ فجر پڑھ کر اپنی جائے نماز پر سورج نکلنے کے تقریباً 15 منٹ بعد تک بیٹھے رہیں۔

8۔ نماز کے فوراً بعد تکبیر کہنا شروع کریں۔

9۔ اشراق تک قرآن، تسبیح، تہلیل اور اذکارِ صبح میں وقت گزاریں۔

10۔ سورج نکلنے کے بعد دو رکعت اشراق پڑھیں۔

11۔ اگر استطاعت ہو تو پورا دن بیدار رہ کر ذکر و دعا میں گزاریں، اور اللہ کی قبولیت پر یقین رکھیں۔

12۔ یا پھر ایک دو گھنٹے آرام کر لیں، نیت یہ ہو کہ باقی دن عبادت کے لیے طاقت حاصل ہو۔

13۔ اٹھ کر وضو کریں اور کم از کم 4 رکعت چاشت پڑھیں، پھر مختلف عبادات میں مشغول رہیں تاکہ دل تازہ رہے: تکبیر، ذکر، قرآن وغیرہ۔

14۔ ظہر پڑھیں، پھر تکبیر، تسبیح اور قرآن کی تلاوت جاری رکھیں۔

15۔ اس ذکر کی کثرت کریں:
“لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير”
یہ یومِ عرفہ کا بہترین ذکر و دعا ہے۔

16۔ عصر کے بعد اذکارِ شام شروع کریں۔

17۔ مغرب سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے قرآن پڑھیں، پھر عاجزی کے ساتھ دعا کریں، اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں اور فلسطین کو دعا میں ضرور یاد رکھیں۔

18۔ اللہ سے دعا کریں کہ یومِ عرفہ کا سورج اس حال میں غروب ہو کہ آپ جہنم سے آزاد کیے جا چکے ہوں۔

19۔ کبھی یہ گمان نہ کریں کہ آپ اپنی عبادت کی وجہ سے دوسروں سے بہتر ہیں۔ قبولیت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اپنے عمل پر غرور نہ کریں بلکہ قبولیت اور ثابت قدمی مانگیں۔

20۔ مغرب کی اذان کے ساتھ فوراً افطار کریں، کیونکہ روزہ دار کی دعا رد نہیں کی جاتی۔
*اللّٰهُ أَكْبَرُ ❁ اللّٰهُ أَكْبَرُ ❁ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ ❁ اللّٰهُ أَكْبَرُ ❁ وَلِلّٰهِ الْحَمْدِ ❁*
* #عشرة ذي الحجة*

آج ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں گے۔ یہ جملہ پڑھا اور دل جیسے ایک عجیب کیفیت میں ڈوبتا اور ابھرتا رہاآنکھوں کے سامنے ایک منظر...
25/05/2026

آج ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں گے۔ یہ جملہ پڑھا اور دل جیسے ایک عجیب کیفیت میں ڈوبتا اور ابھرتا رہا

آنکھوں کے سامنے ایک منظر ہے
رب کے مہمان
اپنے رب کو راضی کرنے کے سفر پر نکلے ہوئے
وہ سفر جس کے لیے برسوں دعائیں مانگی گئیں،
آنسو بہائے گئے،
اور دلوں نے تڑپ کر انتظار کیا

منیٰ کی روشن راتیں
لبیک اللہم لبیک کی صدائیں
قطار در قطار بسیں
اپنی باری کے انتظار میں کھڑے سفید لباسوں میں لپٹے حاجی…
ہر چہرہ جیسے اک دعا
ہر دل جیسے اپنے رب کی طرف پلٹتا ہوا

یہ حاجی کل
منیٰ میں قیام کے بعد
عرفات کی طرف روانہ ہوں گے
وہ میدان… جہاں کبھی روحوں نے اپنے رب سے عہد کیا تھا

“أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟”
کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟

اور ہم سب نے کہا تھا:
“بَلَىٰ”
کیوں نہیں… آپ ہی ہمارے رب ہیں

اور عرفات کا دن
اسی عہد کی تجدید کا دن ہے
تجدیدِ محبت
تجدیدِ بندگی
تجدیدِ وفا

اے ہمارے رب
ہم وہاں نہیں ہیں
لیکن ہمارے دل
منیٰ کی وادیوں میں ہیں
عرفات کیے میدان میں ہیں
مزدلفہ کی خاموش رات میں ہیں

ہم بھی آج
اپنے دلوں کو تیرے سامنے جھکاتے ہیں
اپنے عہد کی تجدید کرتے ہیں
اپنی محبت کی تجدید کرتے ہیں
اپنی بندگی کی تجدید کرتے ہیں

قبول کیجیے اے رب۔۔

24/05/2026

*یومِ عرفہ کا زندگی بدل دینے والا سبق – ضرور پڑھیں*

ایک بھائی نے یہ دل کو چھو لینے والا واقعہ شیئر کیا:

بالکل ایک سال پہلے، میرے سپرمارکیٹ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگ گئی، جس نے میری دکان کے تین چوتھائی سے زیادہ مال کو جلا کر راکھ کر دیا۔

یہ واقعہ یومِ عرفہ سے صرف دو دن پہلے پیش آیا!

آپ تصور کر سکتے ہیں کہ میری حالت کیا تھی — عیدالاضحی قریب تھی، مگر میری دکان، میرا سامان، میرا کاروبار — سب تباہ ہو چکا تھا۔ نہ کوئی عیدی، نہ خوشی، نہ مسرت — صرف غم، پریشانی، اور قرض کا بوجھ۔

اس وقت میری شادی کو صرف دو ماہ ہوئے تھے۔ جلا ہوا مال تقریباً 15,000 ڈالر کے برابر تھا۔ میں سوچنے لگا: اب کیا کروں؟ کیسے اس نقصان کی تلافی ہو؟ کیا اپنی نئی نویلی دلہن سے کہوں کہ اپنا سونا بیچ دے؟ یا کسی سے قرض لوں؟ لیکن کس سے؟

آخرکار میں نے سوچا کہ دوستوں سے قرض لینا بہتر ہے۔ مگر جب بھی کسی دوست سے بات کی، وہ یہی کہتا، “عید قریب ہے، معاف کرنا — اس وقت مدد نہیں کر سکتا۔”

دو دن اسی حالت میں گزر گئے — ذہنی دباؤ اور مایوسی کے ساتھ۔ بمشکل 800 ڈالر جمع کر پایا — جو میرے نقصان کے مقابلے میں ایک قطرہ بھی نہیں تھے۔

اس رات میں گھر واپس جا رہا تھا تو ایک پڑوسی ملا، کہنے لگا:
“عید مبارک بھائی! کل روزہ نہ بھولنا!”
میں نے دل میں سوچا: روزہ؟ اس حال میں؟ مجھے اکیلا چھوڑ دو...

میری بیوی نے میرا دل ہلکا کرنے کے لیے کہا کہ تھوڑی دیر چہل قدمی کرتے ہیں۔ ہم باہر نکلے، مگر میرا دل غم سے بوجھل تھا — میں کسی چیز سے لطف نہیں اٹھا پا رہا تھا۔
جب گھر واپس آئے، تو وہ بولی:
“چلو سحری کی تیاری کرتے ہیں؛ فجر کا وقت قریب ہے۔”

میں نے تلخی سے جواب دیا:
“سحری؟ مجھے تو یاد ہی نہیں رہا کہ کل یومِ عرفہ ہے!
تم اور میں جیسے دو مختلف دنیاؤں میں جی رہے ہیں۔ کیا سحری؟ کیا عرفہ؟ کیا تمہیں ہماری حالت نظر نہیں آ رہی؟”

اس نے نرمی سے کہا:
“اللہ نے ہمارے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔ وہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ لیکن روزہ ضرور رکھو۔”
اس نے اصرار کیا — اور ہم نے نیت کر کے روزہ رکھ لیا۔

افطار کے وقت، وہ بولی:
“اللہ سے دعا مانگو۔”
میں نے کہا:
“کس چیز کی دعا؟”
کہنے لگی:
“جو دل چاہے، مانگو۔”

میں نے طنزیہ انداز میں کہا:
“کیا مانگوں؟ یہ کہ آسمان سے 15,000 ڈالر آ جائیں؟ کیا یہ ممکن ہے؟”
وہ بولی:
“جس نے آسمان بنایا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔”

وہ چپ چاپ نماز پڑھنے لگی اور دعا میں مشغول ہو گئی۔ میں نے بھی دعا کی، مگر دل میں صرف وہی 15,000 ڈالر گھوم رہے تھے — میں چاہتا تھا سب کچھ واپس مل جائے۔
مغرب کے ایک گھنٹے بعد، میرے ایک دوست کا فون آیا:
“کافی شاپ آؤ، تم سے ضروری بات کرنی ہے۔”

میں گیا، تو اس نے کہا:
“میرے ایک جاننے والے نے پیسے جمع کیے ہیں اور وہ کسی کاروبار میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ تم سے بہتر کوئی نہیں لگا مجھے۔”

ہم نے اس شخص کو بلایا — وہ آیا اور کہا:
“میرے پاس 30,000 ڈالر ہیں، اور میں کاروبار میں لگانا چاہتا ہوں۔”
میں نے کہا:
“میری دکان کو 15,000 ڈالر کے مال کی ضرورت ہے۔ کیوں نہ آدھے پیسے مال میں لگاؤ اور آدھے دکان کی تزئین و آرائش میں؟ منافع میں 50/50 کا حصہ ہوگا، جب تک تمہارا اصل سرمایہ پورا واپس نہ ہو جائے۔”

ہم نے معاہدہ کر لیا۔ میں نے دکان دوبارہ بنائی، مال خریدا، اور عید کے بعد دکان کھول دی۔ اس دن میری خوشی کی انتہا نہ تھی۔

اوہ! میں بھول گیا — دکان میں آگ لگنے سے ایک ہفتہ پہلے میری والدہ کو کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ ٹیسٹ کروا لیے تھے، اور نتائج عرفہ کے دن آنے تھے۔
نتیجے آئے — منفی تھے۔ الحمدللہ، وہ مکمل طور پر صحت مند تھیں!
جب امی کو پتہ چلا، تو وہ خوشی سے پورا دن روتی رہیں — اللہ کا شکر ادا کرتی رہیں۔

دکان دوبارہ کھل گئی، امی شفا یاب ہو گئیں، اور پھر میری بیوی نے فون کر کے بتایا کہ اس نے حمل کا ٹیسٹ کیا ہے — وہ حاملہ ہے!

پھر اُس نے مجھ سے کہا:
“اب سمجھ آیا روزہ رکھنے اور عرفہ کے دن دعا مانگنے کی طاقت کیا ہوتی ہے؟”

میں نے دل میں کہا:
سبحان اللہ!
کچھ دن پہلے لگ رہا تھا جیسے پوری دنیا ختم ہو گئی ہے، اور آج صرف ایک مخلص دعا سے سب کچھ پلٹ گیا۔
اس دن میں نے اللہ کے سامنے عاجزی کا وہ سبق سیکھا جو کبھی نہیں بھولوں گا۔

اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
کبھی وہ ہمیں آزماتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف رجوع کریں، توبہ کریں۔

عید کے بعد کاروبار اچھا چلنے لگا، اور جلد ہی وہ 30,000 ڈالر واپس ہو گئے۔
میں وہ پیسے واپس دینے گیا مگر تب کہانی میں ایک نیا موڑ آیا۔
اس شخص نے کہا:
“سچ یہ ہے کہ یہ پیسے میرے نہیں تھے۔ کسی شخص نے، جس کی بیوی کینسر سے صحت یاب ہوئی تھی، اللہ کی رضا کے لیے یہ تمہیں دلوائے۔ وہ تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا — گمنام رہ کر۔”
“یہ پیسے تمہارے ہیں — کوئی واپس نہیں مانگے گا۔”

اللہ کی قسم، میں گھر آ کر کمرے میں بند ہو گیا — اور ایک گھنٹہ بچوں کی طرح رویا۔
اللہ کی رحمت اور عنایت پر جو میں نے محسوس کی۔

اب بھی جب یہ واقعہ یاد آتا ہے، آنکھوں سے صرف آنسو نہیں — خون کے آنسو نکلتے ہیں — کہ میں نے رب سے دوری میں وقت گزارا، جب کہ وہ تو ہمیشہ قریب تھا۔
اسی تجربہ نے مجھے یومِ عرفہ، روزہ، دعا، اور اللہ پر اعتماد کا اصل مطلب سکھایا۔
یہ میری زندگی کا نقطۂ آغاز بن گیا — میں نے توبہ کی اور دین سے جُڑ گیا۔

سبق:
> "اللہ کبھی کبھی دینے کے لیئے روکتا ہے، اور روکنے کے لیئے دیتا ہے — یہی اُس کی حکمت ہے۔"

یہ ذوالحجہ کے پہلے دس بابرکت دن ہیں، ہم دعا، توبہ، اور ذکر میں محنت کریں — اور دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کو نہ بھولیں۔

> رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*"جو کسی کو نیکی کی طرف رہنمائی کرے، اُسے بھی وہی اجر ملے گا جو نیکی کرنے والے کو ملتا ہے۔"*
(مسلم)
اس لیئے اس واقعے کو ضرور دوسروں سے شیئر کریں۔
کیا پتہ آپ کے اعمال نامے میں یہ نیکی کی دعوت باقی رہ جائے۔
✏️ ترجمہ:

23/05/2026

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*

*اپنی بیوی کو کسی اور کا محتاج نہ بنائیں*

*اپنی بیوی کو کبھی دوسروں کا محتاج نہ ہونے دیں*
*ہر ماہ اس کے لیے کچھ ذاتی جیب خرچ ضرور مقرر کریں، چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو*
ہمارے معاشرے میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر بیوی شوہر سے چند پیسے مانگ لے تو فوراً جواب ملتا ہے:
تم پیسوں کا کیا کرو گی؟ سب کچھ تو تمہیں مل جاتا ہے۔
جو چاہیے بتا دیا کرو، میں لا دوں گا۔ فضول پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔

پھر لمبی لمبی باتیں شروع ہوجاتی ہیں، مگر چند نوٹ نکال کر بیوی کے ہاتھ میں رکھنے کی نوبت نہیں آتی۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بیچاری کبھی اپنے والدین کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہے، کبھی بہنوں سے مانگتی ہے، کبھی سہیلیوں سے اُدھار لیتی ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک شوہر کو یہ کیسے گوارا ہوسکتا ہے کہ اس کی بیوی اس کے ہوتے ہوئے دوسروں سے پیسے مانگے۔

*بیوی بھی ایک انسان ہے۔*
*اس کی بھی خواہشات ہوتی ہیں، اس کے بھی دل میں کچھ ارمان ہوتے ہیں کبھی دل چاہتا ہوگا کہ اپنی پسند کی کوئی چیز خرید لے۔*
کبھی دل چاہتا ہوگا کہ اپنے والدین، بہن بھائیوں یا کسی سہیلی کو تحفہ دے۔
کبھی کسی غریب کی مدد کرنے یا صدقہ دینے کا دل کرتا ہوگا۔
اور کبھی یہ خواہش بھی ہوتی ہوگی کہ کچھ ے پاس اپنے ہوں، جو کسی ضرورت یا مجبوری میں کام آسکیں۔

یہی وہ عورت ہے جو اپنا گھر، اپنے والدین، اپنے بہن بھائی اور اپنی دنیا چھوڑ کر آپ کے پاس آئی ہے۔
اس نے اپنی زندگی آپ کے حوالے کردی ہے۔
وہ خود کمانے نہیں جاتی، اس لیے اس کی ضروریات پوری کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

*ہم دوستوں کے ساتھ ہوٹلوں میں، سیر و تفریح میں، گھومنے پھرنے میں اور دوسری غیر ضروری چیزوں پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں*

*لیکن جب بیوی چند پیسے مانگ لے تو ہمیں بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ رویہ درست نہیں۔*

اس لیے بہتر یہی ہے کہ:
ہر ماہ اپنی آمدنی میں سے بیوی کا جیب خرچ مقرر کر دیں۔
*جب بھی تنخواہ ملے تو گھر آکر اپنی استطاعت کے مطابق دو ہزار، پانچ ہزار یا دس ہزار 50ہزار جو ممکن ہو خوشی سے بیوی کے ہاتھ میں رکھ دیں*

اور یاد رکھیں…
*جب جیب خرچ دے دیا تو پھر اس کا حساب نہ لیں*
یہ نہ پوچھیں کہ کہاں خرچ کیا، کیوں خرچ کیا، کس پر خرچ کیا۔

جیب خرچ کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ انسان اپنی مرضی سے، اپنی خوشی سے جہاں چاہے خرچ کرسکے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ان پر خوش دلی سے عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
آمین۔

23/05/2026

ان دنوں میں بہترین ذکر اللہ سبحانہ و تعالی کی تکبیر بیان کرنا ہے۔
ہم نے قرآن کو جانا اور ایک اور معاملے کو پہچانا جو کہ اللہ عزوجل کی تکبیر ہے۔
اس کے کچھ صیغے ہیں جن میں سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ لفظِ تکبیر دو دو بار لائیں، تین تین بار نہ لائیں۔
چنانچہ آپ کہیں:
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ
(اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں)
یہاں تک کہ یہ بات آئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، جیسا کہ صحیحین میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کثرت سے کی جانے والی دعا یہی تھی:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
(اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہمارے لیے دعا کیجیے۔
تو حضرت انس نے اپنے ہاتھ اٹھائے پھر فرمایا:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
(اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا)
پھر ان سے کہا گیا کہ ہمارے لیے مزید دعا کیجیے۔
انہوں نے فرمایا کہ اس ذکر کے بعد اب کچھ نہیں رہا۔

19/05/2026

یہ عشرہ رمضان کی طرح نہیں ہوتا؛
اس میں شیاطین کو جکڑا نہیں جاتا، نہ وہ خاص روحانی ماحول ہوتا ہے جو رمضان میں لوگوں کے اجتماع، بھری ہوئی مسجدوں اور عبادات کی آسانی سے ملتا ہے۔

ذوالحجہ کے یہ دس دن تو سچے لوگوں کا میدان ہیں، اور اللہ کے مشتاق بندوں کا وقت ہیں۔
ان دنوں میں بندے کی اللہ کے ساتھ سچائی ظاہر ہوتی ہے، کیونکہ وہ ان دنوں میں داخل ہوتا ہے جبکہ شیطان بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے، دنیا بھی اپنے کاموں، فکر و پریشانیوں، اسکولوں اور امتحانات کے ساتھ موجود ہوتی ہے.
پس مبارک ہو اُس شخص کو جس نے ان دنوں کی قدر پہچان لی اور ان کے آنے سے پہلے تیاری کر لی۔
ہر انسان کے لیے ایسے مبارک موسموں کی ایک گنتی لکھی جا چکی ہے، اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری عمر میں سے کتنا باقی ہے، اور آیا اس سال کے بعد ہم دوبارہ انہیں پا بھی سکیں گے یا نہیں..
اے اللہ! ہمیں عشرۂ ذوالحجہ اس حال میں نصیب فرما کہ تو ہم سے راضی ہو، اور ان دنوں میں ہمارے لیے رحمت اور مغفرت کا حصہ لکھ دے۔ آمین۔

18/05/2026

عورتوں کے لیے ایک خاموش فریب
اللهم اكفنا بحلالك عن حرامك " کی دعا نہایت جامع اور اپنے اندر تدبر کے خزانے رکھتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب مظلومیت توجہ اور تعلق کا راستہ بن جائے

جس طرح بعض مرد "مسیحا" بننے کے فریب میں مبتلا ہوتے ہیں، اسی طرح بعض خواتین بھی لاشعوری طور پر ایک ایسے روحانی و نفسیاتی کھیل کا حصہ بن جاتی ہیں جہاں "مظلومیت"، "تنہائی"، "جذباتی ٹوٹ پھوٹ" اور "سمجھے جانے کی خواہش" آہستہ آہستہ فتنہ بن جاتی ہے۔

یہ فتنہ ہمیشہ بے حیائی کے ارادے سے شروع نہیں ہوتا۔

اکثر ایک عورت واقعی دکھی ہوتی ہے۔
شوہر کی بے توجہی،
گھر کے مسائل،
ڈپریشن،
تنہائی،
یا جذباتی خلا…

پھر وہ کسی ایسے مرد سے بات کرنا شروع کرتی ہے جو اسے "سمجھتا" ہو۔
جو تحمل سے سنتا ہو،
جو ہر وقت available ہو،
جو اسے اہم محسوس کرواتا ہو۔

ابتدا میں وہ صرف ایک "بھائی"، "استاد"، "داعی"، "سینئر" یا "اچھا انسان" لگتا ہے۔

پھر شیطان آہستہ آہستہ دل میں یہ خیال ڈالتا ہے:

"دنیا میں پہلی بار کسی نے مجھے واقعی سمجھا ہے۔"

یہیں سے فریب شروع ہوتا ہے۔

قرآن نے صرف مردوں کو نہیں، عورتوں کو بھی حدود کا حکم دیا ہے۔
کیونکہ نفس اور دل دونوں کے اندر کمزوریاں رکھی گئی ہیں۔

شیطان عورت کے سامنے گناہ کو اکثر "محبت"، "توجہ"، "روحانی تعلق"، "احترام" اور "جذباتی سہارا" بنا کر پیش کرتا ہے۔

پھر سفر شروع ہوتا ہے:

1. درد کی نمائش:
ہر بات میں اپنی ٹوٹ پھوٹ، مظلومیت اور جذباتی کیفیت بیان کرنا۔

2. مسلسل رابطہ:
"صرف مشورہ چاہیے تھا" سے بات روزانہ کے میسجز تک پہنچ جاتی ہے۔

3. جذباتی انحصار:
اب دل ہر مسئلے میں اسی شخص کی طرف رجوع کرتا ہے۔
شوہر، والدین یا محرم پیچھے رہ جاتے ہیں۔

4. نرم لہجہ اور خصوصی تعلق:
مذہبی گفتگو، نصیحت، دعاؤں اور caring انداز کے پردے میں دل attach ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

5. حدود کا ٹوٹنا:
پھر وہی ہوتا ہے جو ہمیشہ ہوتا ہے۔
راتوں کی گفتگو،
راز،
تنہائی،
اور پھر ایک ایسا تعلق جسے نام دینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

بعض خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ
"ہم تو صرف دین سیکھ رہے تھے"
یا
"وہ تو میری رہنمائی کر رہے تھے"۔

لیکن یاد رکھیے:
شیطان کبھی ابتدا میں زنا نہیں کرواتا،
وہ پہلے دلوں کے درمیان وہ راستے بناتا ہے جہاں حرام معمولی محسوس ہونے لگتا ہے۔

اسلام عورت کو قید نہیں کرتا،
بلکہ اس کے دل کی حفاظت کرتا ہے۔

ہر آنسو ہر نامحرم کے سامنے بہانے کے لیے نہیں ہوتے۔
ہر جذباتی خلا کسی غیر مرد سے پُر نہیں کیا جا سکتا۔

ایک عورت کی اصل عزت یہ نہیں کہ کتنے مرد اسے "سمجھتے" ہیں،
بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی روح، اپنی حیا اور اپنے دل کی سرحدوں کی حفاظت کتنی کرتی ہے۔

اگر واقعی مدد چاہیے تو:
محرم خواتین،
نیک سہیلیوں،
خاندان،
یا مستند خواتین اسکالرز سے رجوع کریں۔

کسی نامحرم کو اپنی تنہائیوں کا مستقل ساتھی بنانا اکثر روحانی تباہی کی ابتدا بن جاتا ہے۔

اور یاد رکھیں:

جو تعلق اللہ کی حدود توڑ کر بنتا ہے،
وہ کبھی سکون نہیں دیتا۔

کیونکہ سکون تعلق میں نہیں،
اطاعت میں ہوتا ہے۔

لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ

Address

Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arwa International Institute posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category