02/01/2022
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میرا آپ سے سوال ہے کہ نماز۔ یا پارہ پڑھتے ہوئے منہ بند کر کے قراءت کرنا کیسا ھے؟ اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ نماز اور قرآن کو ہونٹ ہلائے بغیر پڑھتے ہیں کیا ایسے نماز ہو جاۓ گی؟۔۔۔۔۔۔
_*✧◉➻═══════📚═════➻◉✧۔*_
✪ *وعـلـیـکـم الـســلام ورحـمـتـہ اللہ وبـرڪاتـہ*✪
*الجوابـــــــــــــــــــــ ... !!! بعون الملک الوھاب*
*❁◐••┈┉•••۞═۞═۞═۞═◐•••┉┈••◐❁*
📝مذڪورہ صورت میں قرآن پاڪ پڑھنا نہ ڪہلاۓ گا❗۔۔لہذا نہ نماز ہوئ نہ قرآن پاڪ ڪا پارہ پڑھنا ڪہلایا۔۔منہ بند ڪر ڪےصرف قرآن عظیم ڪو ہل ہل کے دیڪھتی رہی تو صرف دیڪھنے ڪاہی ثواب ملے گا پڑھنے ڪا نہیں۔۔اتنی ڪم آواز سے پڑھا ڪہ اپنے ڪانوں میں آواز نہ آئ تو اصح قول کے مطابق نماز نہ ہوگی۔۔ لہذا آئندہ اس طرف لازمی دھیان رڪھاجاۓ ۔ورنہ نماز نہیں ہوگی۔۔
📗امام ابوعبداللہ محمد بن محمد ڪاشغری حنفی علیہ الرحمہ فرماتےہیں
*” وھی تصحیح الحروف بلسانہ بحیث یسمع نفسہ “*
( قرات ڪہتےہیں حروف ڪو اس طرح صحیح ادا ڪرنا کہ خود سن لے)
📒 *(منیۃالمصلی ص١٧٦ ، دارالقلم دمشق)*
📓حضرت علامہ مولانا تطہیر احمد رضوی بریلوی صاحب اپنی ( ڪتاب غلط فہمیاں اور انڪی اصلاح) صفحہ نمبر ۴۷ پر فرماتے ہیں ڪہ
📌'"ڪچھ لوگ قرآن مجید ڪی تلاوت نماز میںیا نماز ڪے باہر ڪرتےہیں تو صرف ہونٹ ہلاتے ہیں اور آواز بالڪل نہیں نڪالتے انڪا یہ پڑھنا نہیں ہے اور اس طرح پڑھنے سے نماز نہیں ہوگی اور اس طرح قرآن مجید ڪی تلاوت ڪی تو تلاوت ڪا ثواب بھی نہیں پائیں گے۔۔آہستہ پڑھنے ڪا مطلب یہ ہے ڪہ ڪم از ڪم اتنی آواز ضرور نڪلے ڪہ ڪوئی رڪاوٹ نہ ہو تو خود سن لے۔۔صرف ہونٹ ہلنا اور آواز ڪا بالڪل نہ نڪلنا پڑھنا نہیں ہے اس مسئلے ڪا خاص دھیان رڪھنا چاہئے""...
📚بحواله(فتاوی عالمگیری مصری جلد اول صفحہ/٦٥/ خلاصہ قانون شریعت/و بہار شریعت)
📘قراءت کے بارے میں فتاوی رضویہ شریف میں ھے
*"نماز میں قراءت ایسی پڑھے ڪہ اپنے کانوں تڪ( آواز) نہ آۓ وہ قراءت نہ ٹھہرے گی ۔اور اصح مذہب پر نمازنہ ہوگی۔۔بہت سے لوگ اس مسئلہ سے ناواقف ھے*
📚الحواله
(فتاوی رضویہ جلد،10ص،785, رضافاؤنڈیشن لاہور)
📒صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
"' *قراء ت میں اتنی آواز درڪار ہے ڪہ اگر ڪوئی مانع مثلاً ثقل سماعت شور وغل نہ ہو تو خود سُن سڪے، اگر اتنی آواز بھی نہ ہو، تو نماز نه ہوگی۔اھ*""
📚📚بحواله(بہار شریعت ،جلد اول حصہ سوم ، ص 548,/M.s)
🔎جو جو لوگ ایسے نمازیں پڑھتے آئے ان پر فرض ھے ڪہ وہ اپنی عادت بدلے اور اتنی آوازسے پڑھے ڪہ مانع نہ ہونےڪی صورت میں خود سن سڪے ۔۔۔
📔صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتےہیں
*” اور آہستہ پڑھنے میں بھی اتنا ہونا ضرورہےڪہ خود سنے ، اگرحروف ڪی تصحیح توڪی مگر اس قدر آہستہ ڪہ خود نہ سنا اور ڪوئی مانع مثلا شور وغل یا ثقل سماعت بھی نہیں تو نماز نہ ہوئی “*
📚بحواله *(بہارشریعت ج١ص٥١١ ، دعوت اسلامی)*
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
✒️ واللّٰه تعالٰی ﷻاعلم ورسولهﷺ بالصواب
✧◉➻═══════📚══════➻◉✧