15/12/2025
اک تعلیم یافتہ انجنیئر جن کے انڈر 35 فیکٹریاں تھیں۔
سال 1990ء کے آس پاس ان کی روزانہ ایک لاکھ تنخواہ تھی۔
یہاں تک رپورٹ ہوا ہے کہ وہ ٹیکس بھی ایمانداری سے دیتے تھے۔
(ریفرنس: بیانات پیر صاحب)
پھر وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فقیری کی دنیا میں کیسے چلے گے؟
ایسا کیا تھا کہ پاک و ہند کے ہزاروں علماء ان کی تقلید میں چل دیے۔
پھر علامہ اقبال کا کون سا کلام ان کے دل میں اتر گیا تھا؟
وہ یکم اپریل 1953ء کو جھنگ کھرل خاندان میں پیدا ہوئے۔
گھر میں دین کا ماحول ملا اور ذکر و عبادت عام تھی۔
سال 1972ء میں انہوں نے BSC الیکٹریکل انجیئرنگ کی۔
مزید تعلیم UET Lahore سے حاصل کی تھی۔
چیف انجیئر بننے کے دوران وہ فٹبال،سوئمننگ کے کیپٹن بھی رہے۔
انہوں نے تعلیم و کھیلوں کے میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
(ریفرنس: آن لائن ویب: کمزور شواہد)
کہا جاتا ہے کہ ان کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ لاہور یونیورسٹی تھا۔
جہاں انہوں نے مولانا سید زوار حسین رح اللہ سے ملاقات کی۔
وہیں انہوں نے مجدد الف ثانی کے مکتوبات بھی پڑھے۔
سال 2013/14 میں دنیا بھر کے بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست جاری کی گی۔ ان 500 Most Powerfulمسلم میں پیر صاحب کو بھی ان لسٹ کیا گیا۔
کتاب کے مطابق:
"شیخ صاحب نقشبندی مجددی صوفی سلسلہ کے شیخ ہیں۔
ان کے پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
ان کے بے شمار مریدین میں علماء بھی ہیں۔
پیشے کے لحاظ سے وہ الیکٹریکل انجینئر رہ چکے ہیں۔"
(صفحات نمبر: 133-134)
موجودہ ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 140 سے اوپر کتب لکھی ہیں۔
ان کی چند مشہور تصانیف درج زیل ہیں:
1): خطباتِ فقیر
2): باادب بانصیب
3): تمنائے دل
4): زادِ حرم
5): قرآن مجید کے ادبی اسرار و رموز
جب وہ پلاننگ اینڈ ڈولیپ منٹ کے ڈیپارٹمنٹ کو دیکھ رہے تھے۔
انہوں نے خود سے پرامس کر رکھا تھا۔
جیسے ہی 40 سال کے ہوں گے۔
تو دنیا کی زندگی سے ریٹائرمنٹ لے لینی ہے۔
پھر بغیر کسی حیل و حجت کے اس وعدہ کووفا بھی کیا۔
اک بار اک کمشنر نے مدارس کے طلباء پہ سرزنش کی۔
ان کے مطابق یہ نکمے اور ناکارہ ہوتے ہیں۔
جس پہ پیر صاحب نے کہا: (مفہوم)
"دنیا جہان کے معاملات دیکھ کر جب اللہ اپنی ناراضگی دکھاتے۔
تب کوئی طالبعلم اللہ کا نام لیتا ہے تو رب ِکریم کو پیار آتا ہے۔
یوں ان طلباء کی وجہ سے آپ پہ کرم ہے۔
ان کی قدر کیجیے۔"
اک بیان میں کہتے ہیں کہ علامہ اقبال کا یہ رباعی انتہائی بامعنی ہے۔
(اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا فیورٹ بھی تھا):
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہ مصطفے پنہاں بگیر
ان اشعار کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
اے اللّٰہ بے شک تُو تمام جہانوں سے غنی ہے۔
بے شک میں فقیر ہوں۔
بس تو قیامت والے دن میری ایک درخوست قبول کر لینا۔
اگر وہاں میرا حساب لینا لازمی ہی ہو جائے۔
تو مجھے نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے سامنے رسوا نہ کرنا۔
اور ان کی نظروں سے چھپا کر حساب لینا
اکثر تزکیہِ نفس، وظائف اور عبادات کی تلقین کیا کرتے تھے۔
گزشتہ کل پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔
نماز جنازہ آج 15 دسمبر دوپہر 2 بجے جھنگ میں ادا کیا گیا۔
آپ کو پیر صاحب سے کیسی نسبت ہے؟
اور ان کی کون سی بات نے انسپائرڈ کیا؟
10/05/2024
إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسْتَعین
Actres # jamilanagudu with and also known as in movie📽📺👈
09/05/2024
پڑھنے کے قابل تحریر
رب کی مانوں یا مولوی کی ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجاب کے کسی دیہات میں ایک خوبرو قادیانی لڑکی شادی کے لئے ایک فوجی آفیسر کو پیش کی گئ
فوجی آفیسر نے شادی کی حامی بھرنے سے پہلے ایک شرط رکھی کہ وہ کبھی بھی قادیانیت قبول نہیں کرے گا
قادیانیوں نے اس کی شرط مان لی اور لڑکی فوجی آفیسر کے ساتھ روانہ کردی
شادی کے بعد رشتے ناطے میں آنا جانا لگا رہا اور نرمی سے فوجی آفیسر کو مائل بھی کیاجاتا رہا ایک دن قادیانیوں کے پوپ تشریف فرما تھے اور انہوں نے فوجی آفیسر سے کہا کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے نہ مانیں لیکن ہماری ایک بات قبول کیجیۓ ، آپ استخارہ کریں کہ آیا نبی اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہے یا نہیں ؟
مرزا غلام احمد قادیانی سچا نبی ہے یا نہیں ؟
فوجی کو زہر پلایا جا رہا تھا مگر اسے پیتے ہوۓ احساس تک نہیں ہوا کہ وہ زہر کا پیالا چڑھا چکا ہے
اس نے استخارہ کرنے کی حامی بھر لی ، رات کو استخارہ کیا تو خواب میں نظر آیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی بنا ہوا ہے اور اس کے آس پاس لوگ جمع ہیں
صبح اٹھا تو اپنے کیے ہوۓ استخارے کے مطابق قادیانیت پر ایمان لے آیا
محض خود ایمان لاتا تو اتنا مسئلہ نہیں تھا اس نے باقاعدہ مرزے کی نبوت کی دعوت دینا شروع کر دی اور اپنے خاندان کو مرزا قادیانی کا امتی بنا ڈالا
سارے علماء بے بس تھے ، جو عالم اسے دعوت دیتا تو وہ کہتا میں نے کسی قادیانی کی دعوت پہ مرزے کو نبی نہیں مانا میں نے باقاعدہ استخارہ کیا ہے اور استخارے میں مجھے قادیانی بطور نبی دکھلایا گیا ہے ۔ مجھے از خود خواب دیکھنے کا موقع ملا ہے
جب کوئی بھی عالم اسے دلیل سے مطمئن نہ کر سکا تو وہ تنگ آکر علماء سے ملنا ہی چھوڑ گیا
بالاخر چناب نگر کے جلسے میں مولانا یوسف لدھیانوی شہید تشریف لاۓ ، ان کا شہرہ تھا اور یہ فوجی آفیسر اس زعم سے ملنے کو تیار ہو گیا کہ ان کے بڑے مولوی کو بھی دیکھ لیتے ہیں
مولانا سے جب فوجی آفیسر نے اپنا قضیہ بیان کیا کہ وہ کسی کی دعوت یا کسی لالچ میں قادیانی نہیں ہوا بلکہ وہ خود دیکھی ہوئی دلیل سے متاثر ہو کر قادیانی ہوا ہے
استخارہ اللہ سے مشورہ ہے ، میں نے رب کے ساتھ مشورہ کیا جس کا حکم اسلام میں ہے تو اللہ نے مجھے مرزا قادیانی کو نبی دکھلا دیا
اب میں اللہ کی مانوں یا مولویوں کی ؟
جو اللہ نے مجھے از خود خواب میں دکھایا وہ چھوڑ کر مولویوں کی کیسے مان لوں ؟
لدھیانوی شہید نے اس کا ہاتھ تھاما اور گویا زبان حال سے کہا فی الحال رب کی نہ مان اس درویش مولوی کی مان ، کہ مولوی ہی بتائے گا اصلی رب کیا کہہ رہا ہے
مولانا گویا ہوۓ اور کہا ، جب تم نبی اکرم ﷺ کی ذات میں شک سے گزرے تو مسلمان ہی نہیں رہے اگر تمہیں یقین کامل ہوتا کہ نبی اکرم ﷺ کی ذات ہی آخری نبی ہیں اور کوئی نبی آ ہی نہیں سکتا تو استخارے کے لیے ہر گز تیار نہ ہوتے
جب تم نے استخارے کی ٹھان لی تو گویا تمہیں شک ہوا کہ سید الابرار ﷺ آخری نبی ہیں بھی یا نہیں ؟
جب نبی اکرم ﷺ کی ذات کے حوالے سے تم شک سے گزرے تو کافر ہو گۓ ، نبی کی ذات میں شک کرنا بھی کھلا کفر ہے ، جونہی تم شک میں مبتلا ہوۓ تو کافر ہو گۓ اور حالت کفر میں تمہیں قادیانی ہی نبی نظر آنا تھا
فوجی آفیسر جھوم اٹھا دلیل سن کر ، اور کھڑا ہو کر مولانا شہید سے لپٹ گیا ، اسی وقت توبہ کی اور پھر سے مسلمان ہوا
تو ذرا سوچیے ابتداء کہاں سے ہوئی ؟ کیسے اسے سید الابرار ﷺ کی ذات کے حوالے سے شک میں ڈالا گیا اور انجام کیا ہوا ؟
امام اعظم ابو حنیفہ نے یہی تو کہا تھا کہ بنا کسی دلیل کے خم نبوت پہ ایمان لے آؤ جو سوال کرے گا وہ کافر ہو جاۓ گا ، سوال شک کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور نبی اکرم ﷺ کی ذات میں شک کھلا کفر ہے
ایک اور وقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ
کچھ دن پہلے ایک محفل میں بیٹھے تھے قادیانیوں کا ذکر چلا تو ایک صاحب بڑے فخر سے بولے کہ میرا ایک قادیانی سے چالیس سال سے تعلق ہے لیکن اس نے تو مجھے کبھی گمراہ کرنے کی کوشش نہیں کی، وہاں ایک بزرگ بھی بیٹھے تھے انہوں نے کہا کہ قادیانی ہو اور کسی مسلمان کا ایمان نہ لوٹے ایسا ممکن نہیں، قادیانیوں کی دشمنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور ان کے امتیوں سے ہے،قادیانی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ بیٹھنے والے مسلمان کا ایمان خرید لے اگر ایسا نہ ہو تو بھی وہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ یہ مسلمان نہ رہے،
جب اس سے پوچھا کہ قادیانی نے کبھی کوئی سوال کیا تو کہنے لگا بہت سال پہلے ایک سوال کیا تھا لیکن اس کا جواب نہ دے سکا ،، جب اس سے پوچھا کہ سوال کیا تھا تو وہ بولا کہ قادیانی نے مجھ سے کہا کہ عیسیٰ علیہ سلام تو تمھارے عقیدے کے مطابق آسمان پر حیات ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرما گئے ہیں تو مجھے بتاؤ کہ ایک غیر افضل نبی اوپر ہے اور افضل نبی نیچے ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
تو وہ بزرگ بولے کہ اس قادیانی نے تیرے دل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں شک ڈال دیا اب مجھے یہ بتا کہ ایمان شک کا نام ہے یا یقین کا نام ہے، تم کہتے ہو اس نے کبھی کچھ کہا ہی نہیں وہ تو تیرا ایمان ہی لوٹ کر لے گیا اور تجھے علم بھی نہ ہوسکا،
تو وہ شخص بولا کہ بزرگو اس کا جواب کیا ہے تو وہ بولے تم نے ترازو دیکھا ہے جو بھاری حصہ ہوتا ہے وہ نیچے ہوتا ہے اور خالی اوپر ہوتا ہے تو پھر وہ بولے کہ فرشتے آسمان پر ہیں تو فرشتے افضل ہیں یا انبیئا افضل ہیں پھر وہ مسکرا کا بولے تو اپنے آپ کو دیکھ تیرے سر پر ٹوپی ہے اب بتا کہ ٹوپی افضل ہے یا دماغ افضل ہے پھر وہ کہنے لگے کہ یہ مت سوچ کون اوپر ہے کون نیچے ہے یہ دیکھ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام کیا ہے وہ زمین پر ہیں لیکن ان کے جسم سے چھونے والی مٹی اللہ کے عرش سے بھی افضل ہے پھر انہوں نے کہا کہ قادیانیوں سے دور رہا کرو یہ ایمان پر ڈاکہ ڈالنے والے لوگ ہیں یہ خود تو جہنم میں جلیں گے اپنے ساتھ تعلق والے مسلمانوں کو بھی جلا دیں گے.
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قادیانی فتنے سے محفوظ رکھیں ۔۔
09/05/2024
زندگی کا خلاصہ:
محترم شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سے سوال کیاکہ حضرت زندگی کا خلاصہ کیا ھے؟
-----
حضرت نے یہ 20 نکات ارشاد فرمائے:
(1) ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا کرو۔
(2) کوشش کرو کہ پوری زندگی میں کوئی تمہاری شکایت کسی دوسرے انسان سے نہ کرے۔ پروردگار سے تو بہت دور کی بات ہے۔
(3) خاندان والوں کے ساتھ کبھی مقابلہ مت کرنا۔ نقصان قبول کر لینا ،مگر مقابلہ مت کرنا۔بعد میں نتیجہ خود مل جائے گا۔
(4)کسی بھی جگہ یہ مت کہنا کہ میں عالم ہوں۔ میرے ساتھ رعایت کرنا۔ یہ ایک غیر نامناسب عمل ہے۔کوشش کرو دینے والے بن جاؤ۔
(5) سب سے بہترین دسترخوان گھر کا دسترخوان ہے. جو بھی تمہاری نصیب میں ہوگا بادشاہوں کی طرح کھا لوگے۔
(6) اللہ کے سوا کسی سے امید مت رکھنا۔
(7) ہر آنے والے دن میں اپنی محنت میں مزید اضافہ کرنا۔
(8)مالداروں اور متکبروں کی مجالس سے دوری اختیار کرنا مناسب ہے۔
(9) ہردن صبح کے وقت صدقہ کرنا ،شام کے وقت استغفار کا ورد کرنا۔
(10) اپنی گفتگو میں مٹھاس پیدا کرنا۔
(11)اونچی آواز میں چھوٹے بچے سے بھی بات مت کرنا ۔
(12)جس جگہ سے تمہیں رزق مل رہا ہے اس جگہ کی دل وجان سے عزت کرنا۔جس قدر ادب کروگے ان شاءاللہ رزق میں اضافہ ہوگا۔
(13) کوشش کرو کہ زندگی میں کامیاب لوگوں کی صحبت میں بیٹھا کرو۔ ایک نہ ایک دن ضرور تم بھی اس جماعت کا حصہ بن جاؤگے۔
(14) ہر فیلڈ کےہنر مند کی عزت کرنا ،ان کے ساتھ ادب سے پیش آنا چاہئے ،خواہ وہ کسی بھی فیلڈ کا ھو۔
(15) والدین ،اساتذہ اور رشتے داروں کے ساتھ جس قدر اخلاق کا معاملہ کروگے اس قدر تمہارے رزق اور زندگی میں برکت ھوگی۔
(16)ہر کام میں میانہ روی اختیار کرنا۔
(17) عام لوگوں کے ساتھ بھی تعلق رکھنا اس سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
(18) ایک انسان کی شکایت دوسرے سے مت کرنا، ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شکایت کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔
(19) ھر بات کو مثبت انداز میں پیش کرنا ،اس سے بہت سے مسائل حل ھو جائیں گے۔
(20) بڑوں کی مجلس میں زبان خاموش رکھنا۔
آخر میں درج ذیل دعا سکھائی کہ مشکل وقت میں اہتمام کے ساتھ پڑھا کرو ان شاء الله بہت فائدہ ھوگا:
"رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا"