آپ ﷺ کے بال مبارک نہ تو بہت زیادہ گھنگریالے اور پیچ دار تھے اور نہ ہی بہت زیادہ کھلے اور سیدھے تھے، بلکہ ان دونوں حالتوں کے بین بین تھے۔
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️
Adil Online Quran Academy
We are teaching Online Quran since 2016
Connecting Hearts with the Qur’an. Learn Qur’an from Home – For Kids & Adults. Online Qur’an Classes Worldwide.
Qur’an • Tajweed • Islamic Studies. Learn Qur’an Anywhere, Anytime. Female Tutors also available.
🌙 Adil Online Quran Academy
📖 Trusted Since 2016 – Learn the Qur’an with Confidence
💼 Experience You Can Trust
With over 9 years of excellence, Adil Online Quran Academy has been dedicated to helping students of all ages around the world learn the Holy Qur’an with proper Tajweed, Hifz, and understanding — from the comfort of home.
✅ Our Services Include:
📘 Qur’an with Tajweed (Correct Pronunciation)
🧠 Hifz-ul-Qur’an (Memorization)
🧒 Noorani Qaida for Beginners & Kids
🌍 Qur’anic Translation & Tafseer
👨🏫 Qualified Male & Female Teachers
⏰ Flexible Timings – 24/7 Worldwide
💬 1-on-1 Live Classes via Zoom/Skype/WhatsApp
🎓 Islamic Studies Courses for All Ages
🎁 Free Trial Class Available!
Come and experience a no-obligation trial class to see the difference.
📞 Contact Us Today
📱 WhatsApp: +923433232486
📧 Email: [email protected]
📍 Serving Students in the USA, UK, Canada, Australia, UAE & Worldwide
🕋 “The best among you are those who learn the Qur’an and teach it.” — Prophet Muhammad ﷺ.
20/08/2025
آج دادا ابو بہت اداس ہیں ،اپنی الگ دنیا بسا کر بیٹهے ہیں .
ہر سال 14 اگست کےدن وہ اسی طرح اپنے کمرے میں سب
سے الگ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں ،کبهی روتے اور کبهی ہنستے ہیں .
آج کے دن انہوں نے اپنے بہت پیارے رشتے کهوئے تهے ،
انہیں اپنی آنکهوں سے آگ میں جلتے ،ریل کی پٹریوں پر کٹتے
اورخون میں نہاتے دیکها تها ،
سارےمناظر ایک فلم کی طرح ان کی آنکهوں کے سامنے گهومتے
ہیں ،وہ اپنے دکھ کسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکتے ،کیونکہ وہ جو محسوس
کرتے ہیں ،اسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے .ہم انہیں ان کی یادوں سے
نکالنے کی کوشش بهی نہیں کرتے .آج کا دن ان پر بہت بهاری گزرتا ہے ،
جب اپنی یادوں سے باہر نکل آتے ہیں تو کئی خوبصورت رنگ ان کی
آنکهوں میں پهیل جاتے ہیں ،
چہرہ خوشی سے دمکنے لگتا ہے یہ سوچ کر کہ جس وطن کی خاطر انہوں نے اپنا
بہت کچھ کهویا ،آج وہ فخر سے سر اٹها کر اسمیں چلتے ہیں ،
لیکن انہیں کون بتائے کہ دادا ابو ! یہ وہ پاکستان نہیں ،جس کے لئے انہوں نے اتنی
قربانیاں دیں ،یہاں تو آج بهی وہی لوٹ مار ،قتل و غارت اور بے راہ روی ہے .
یہاں تو کچهہ بهی نیا نہیں .
آپ نے تو قربانیا ں دے کر پاکستان حاصل کر لیا .لیکن یہ قربانیں تو ہم بهی
دے رہے ہیں ،پچهلے کئی سالوں سے ، دن کو چین ہے نہ رات کو سکون ،
گهروں کے گهر تباہ ہو رہے ہیں ،ماوں کی گودیں اجڑ رہی ہیں ، باپوں کے لخت جگر
جدا ہو رہے ہیں ،
ڈرے ،سہمے ہوئے والدین بچوں کو گهروں سے باہر نہیں نکلنے دیتے بچوں کی سوچ
صرف کتابوں اور کمپیوٹر تک محدود ہوگئی ہے ،باہر کی دنیا ان کے لئے کوئی معنی
نہیں رکهتی .
آپ ہی بتائیں دادا ابو ! ہمارا کیا قصور ہے ؟ ہمیں کس جرم میں یہ سزائیں دی جا
رہی ہیں ، جس کهیتی کو اپنا خون دے کر پروان چڑهاتے ہیں ،جب اس پر پهل لگنے
کا وقت آتا ہے تو صرف ایک بم ،ایک دهماکہ ان کی دنیا اجاڑ دیتا ہے ،
آپ کا پاکستان ہم سے بے پناہ قربانیاں مانگ رہا ہے اور ہم بے دریغ خود کو لٹاتے جا رہے ہیں ،بتائیے دادا ابو !
کیا آپ نے اسی پاکستان کے خواب دیکهے تهے ؟؟؟
تحریر: صبا اختر
اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 2 رن بنائے چھٹی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے...
اسٹوڈنٹس نے شور مچا کر بھرپور خوشی ظاہر کی..
کلاس میں ٹیچر نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اسکی گیند پر آوٹ ہو جاٶں..؟
سب باٶلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے..
ٹیچر ہنس دیئے پوچھا میں کرکٹر کیسا ہوں..؟
سب نے کہا بہت برے..
پوچھا میں ٹیچر کیسا ہوں جواب ملا بہت اچھے..
ٹیچر پھر ہنس دیئے..
صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا اسٹوڈنٹس جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف ہیں گواہی دیتے ہیں کہ میں اچھا ٹیچر ہوں راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا ٹیچر ہوں اتنا اچھا اسٹوڈنٹ نہیں تھا مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بات سمجھنے میں وقت لگا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اسکے باوجود مجھے اچھا ٹیچر کیوں مانا جاتا ہے..؟
سب نے کہا سر آپ بتائیں کیوں..؟
ٹیچر نے کہا ادب...
مجھے اچھی طرح یاد ہے اپنے ٹیچر کے ہاں دعوت کی تیاری میں انکی مدد کر رہا تھا فریزر سے برف نکالی جسے توڑنے کیلئے کمرے میں کوئی شے نہیں تھی استاد کام کیلئے کمرے سے نکلے تو میں نے مکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے آنے سے پہلے جلدی سے ٹوٹی ہوئی برف دیوار پر بھی دے ماری...
استاد کمرے میں آئے تو دیکھا کہ میں نے برف دیوار پر مار کر توڑی ہے انہوں نے مجھے ڈانٹا کہ تمہیں عقل کب آئیگی یوں برف توڑی جاتی ہے میں نے انکی ڈانٹ خاموشی سے سنی بعد میں انہوں نے اس بیوقوفی کا ذکر کئی جگہ کیا میں ہمیشہ بیوقوفوں کی طرح سر ہلا کر انکی ڈانٹ سنتا..
انہیں آج بھی نہیں معلوم کہ برف میں نے مکا مار کر توڑی تھی...
یہ بات میں نے انہیں اسلئے نہیں بتائی کہ وہ ایک ہاتھ سے معذور تھے انکی غیر موجودگی میں میں نے جوانی کے جوش میں مکا مار کر برف توڑ دی لیکن جب انکی معذوری کا خیال آیا تو سوچا کہ میرے طاقت کے مظاہرے سے انہیں احساس کمتری نہ ہو اس لیئے میں نے برف دیوار پر مارنے کی احمقانہ حرکت کی اور لمبے عرصے تک انکی ڈانٹ سنتا رہا...
اور ایک آپ لوگ ہیں کہ ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر ہدایات دے رہے تھے کہ سر کو یارکر مار کر آوٹ کرو..
جیتنا سب کچھ نہیں ہوتا کبھی ہارنے سے زندگی میں جیت کے رستے کھلتے ہیں آپ طاقت میں اپنے ٹیچرز اور والدین سے بے شک بڑھ جاتے ہیں لیکن زندگی میں سب سے جیتنا چاہتے ہیں تو اپنے ٹیچرز اور والدین سے جیتنے کی کوشش نہ کریں آپ کبھی نہیں ہاریں گے...
اللہ پاک آپکو ہر میدان میں سرخرو کرے گا...
منقول
19/05/2025
ﺁﭖ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﻣﺎﮞ ﺑﻌﺾ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺑﺎﻧﭧ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺍَﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ
" ﻣﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮟ ﻧﺎ "!
ﻣﺎﮞ ﯾﮑﺪﻡ ﭼﻮﻧﮑﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﯾﮑﭩﻨﮓ ﮐﺮﮐﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ
" ﺍﭼﮭﺎ ﺗﻢ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ؟ ﻟﻮ ! ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﻟﻮ "!
ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺎﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﺘﯽ، ﺍﮔﺮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ۔ ﻣﺎﮞ ﯾﮧ ﺣﺮﮐﺖ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺧﺎﺹ ﺑﭽﮯ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﺑﮯﻗﺮﺍﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮞ۔ ﻣﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺰﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍﺋﯽ ﺻﻔﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﻦ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺻﻔﺖ " ﮐﺮﯾﻢ " ﮐﺎ ﻋﮑﺲ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﺟﻮ ﻣﺎﮞ ﺑﻌﺾ ﺩﻓﻌﮧ ﺍَﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﺍﺋﯽ ﺻﻔﺖ ﮐﺎ ﻋﮑﺲ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺰﺍﺭﮨﺎ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻦ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﻧﻮﺍﺯ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﺾ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺲ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﺎﺹ ﭼﯿﺰ ﺁﭖ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺩﮮ۔ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﯿﺎﺭ ﺟﺘﺎﯾﺎ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻣﻨﮧ ﻣﺖ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﯿﺎ ﮐﯿﺠﺌﮯ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻗﺎﺩﺭ ﻣﻄﻠﻖ ﺫﺍﺕ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮨﮯ ﺳﻮ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﺫﺭﺍ ﺑﮍﯼ ﺩﮐﮭﺎﻧﯽ ﮨﻮﮔﯽ
منقول
حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہمارے بڑے ممتاز اور نہایت قابل۔احترام سکالر ہیں۔ جس اعتدال،شائستگی اور دلیل سے وہ کلام کرتے ہیں وہ قابل تقلید ہے۔
حضرت کی شخصیت کے حوالے سے مولانا شاد محمد کی پوسٹ میں کچھ باتیں آئی ہیں، ان سے شیخ کے استغنا،شان بے نیازی اور متوازن شخصیت کا پتہ چلتا ہے۔ اللہ پاک ایسے بزرگوں اور علما کا سایہ ہم پر قائم رکھے، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہیں ہمارے اکابر!
_________________
استاذ محترم مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اپنی تحریر 'یادیں' کی نئی قسط میں مجمع الفقہ الاسلامی کے سیکرٹری جنرل کے طور پر اپنی تقرری کے حوالے سے لکھتے ہیں:
منظمۃ التعاون الاسلامی ( او آئی سی ) کے سیکریٹری جنرل مصطفی اوگلو کی طرف سے میرے پاس فون آیا کہ او آئی سی کے ایک اعلی سطحی اجلاس نے آپ کو مجمع الفقہ الاسلامی کا سیکریٹری جنرل مقرر کر دیا ہے، انہوں نے مجھے اس تقرر پر مبارکباد بھی دی اور کہا کہ عنقریب آپ کے پاس اس تقرر کے کاغذات پہنچ جائیں گے۔ اس کے ساتھ حضرت شیخ عبداللہ بن صالح بن حمید کا فون آیا، اور انہوں نے مجھے مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ جلد از جلد جدہ پہنچ جائیں، ہم ان شاء اللہ مل جل کر مجمع کے کام کو آگے بڑھائیں گے، اور آپ مطمئن رہیں، میرا پورا تعاون آپ کو حاصل ہوگا۔ میں نے اپنے کچھ اعذار بیان کئے تو انہوں نے فرمایا کہ میں آپ سے ذاتی طور پر یہ فرمائش کرتا ہوں کہ آپ اس پیشکش کو ضرور قبول کر لیں۔
چند دن کے بعد باضابطہ تقرر نامہ بھی میرے پاس آ گیا، جس میں اس منصب کا:
-حق الخدمت چار ہزار ڈالر ماہانہ
-جدہ میں درجہ اول کا مکان
-ڈرائیور سمیت کار
-پرائیویٹ سیکریٹری کے علاوہ ذاتی خادم کی سہولت طے کی گئی تھی ، اور بتایا گیا تھا کہ آپ کا منصب ایک سفیر کے برابر ہوگا، اور کسی بھی ملک کے سفیر کو جو بین الاقوامی حقوق اور رعایتیں حاصل ہوتی ہیں، بیرونی اسفارسمیت وہ تمام مہیا کی جائیں گی۔
میرے لئے یہ پیشکش ایک بڑی آزمائش بن گئی۔ یہ اللہ تبارک و تعالی کا خاص فضل وکرم ہے کہ اس منصب سے جو مالی فوائد متعلق تھے، ان کی وجہ سے تو کوئی خاص کشش پیدانہیں ہوئی، البتہ کئی وجہ سے میرے لئے کشش کے اسباب موجود تھے:
-سب سے پہلی کشش تو حرمین شریفین کے قرب کی تھی اور اس منصب کے
ساتھ وہاں کی حاضری میں جو سہولیات مل سکتی تھیں، وہ بڑی دلفریب معلوم ہوتی تھیں۔
-دوسرے مجمع کا کام میرے ذوق کا بھی تھا، اور اس سے میں اپنی دلی وابستگی کا پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں۔
-تیسرے مجھے یہ خیال تھا کہ مجمع کا انتظامی کام تو زیادہ تر ان دنوں میں ہوتا ہے جب مجمع کا اجلاس منعقد ہو، دوسرے اوقات میں مجھے اپنی تصنیف و تالیف کے لئے بڑا وسیع وقت بھی مل سکے گا، اور جدہ میں رہتے ہوئے اس کے لئے کتابوں کے حصول اور ان کی مراجعت کی سہولیات بھی یہاں سے کہیں زیادہ ہوں گی۔
-چوتھے ایک خیال یہ بھی تھا کہ بین الاقوامی سطح کے اس ادارے میں پاکستان کے ایک طالب علم کی ذمہ دارانہ شمولیت کے نتیجے میں برصغیر کے علماء کا عالم اسلام سے ایک رابطہ قائم ہوگا، اور اپنے بزرگوں کی خدمات کو عالم اسلام میں متعارف کرانے کے مواقع بھی حاصل ہوں گے۔
یہ ساری باتیں پرکشش تھیں، لیکن دوسری طرف کئی رکاوٹیں بھی تھیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ تو اپنی افتاد طبع کی تھی، شروع سے مزاج اپنے دارالعلوم میں کام کرنے کی ایسی حلاوت کا عادی ہو چکا ہے کہ اسے چھوڑ کر کہیں جانا طبیعت پر بہت بوجھ معلوم ہوتا ہے، اور اسی لئے اس سے پہلے کئی مواقع پر معذرت کر چکا ہوں۔
دوسرے شروع سے طبیعت اپنے تمام بچوں کے ساتھ رہنے کی عادی ہے، اور جدہ منتقل ہونے کی صورت میں میرے لئے اپنی ساری اولاد کو وہاں لے جانا کم از کم فوری طور سے ممکن نہیں تھا۔
تیسرے مجھے ایک اندیشہ یہ بھی تھا کہ مجمع کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد میں کسی دباؤ کا شکار نہ ہو جاؤں ۔ الحمد للہ میں مجمع کے رکن یا نائب صدر کی حیثیت سے نہ کسی کا ماتحت تھا، نہ کسی خاص پالیسی کا پابند، چنانچہ جس کام کو فیما بینی و بین اللہ بہتر سمجھا پوری آزادی کے ساتھ کرتا رہا ہوں، لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس منصب کو قبول کرنے کے بعد مجھے کس قسم کی پابندیوں سے واسطہ پیش آ سکتا ہے، اور اگر میں اپنا موجودہ نظام زندگی تبدیل کر کے جدہ منتقل ہو جاؤں، پھر کسی موقع پر میرا ضمیر مطمئن نہ ہو، تو اتنی اکھاڑ پچھاڑ کے بعد میرے لئے کیا مسائل پیدا ہوں گے۔
اس کے بعد حضرت نے لکھا کہ کئی علماء، فیملی والوں، بلکہ پاکستان کے وزارت خارجہ کی طرف سے بھی اس ذمہ داری کو قبول کرنے کی سفارش کی گئی کہ یہ پاکستان کے لیے بڑا اعزاز ہوگا، لیکن حضرت نے ان اعذار اور استخارہ کی بنیاد پر معذرت کرلی۔ لکھتے ہیں:
معاملے کو زیادہ ٹالنا مجھے اچھا نہیں لگا، استخارے کا نتیجہ بھی یہی رہا کہ میں یہ ذمہ داری نہ لوں، اور دوسری طرف بیماری بھی ایک مناسب عذر بن گئی۔ آخر کار میں نے ان سے اپنی بیماری، کمزوری اور گھر کے حالات کا عذر پیش کر کے معذرت کر لی۔
یہ ہیں ہمارے اکابر۔ عہدے، مالی فوائد اور دنیوی آرائش ان کے سامنے ہیچ ہیں، لیکن کچھ ناہنجار آج بھی ایسے ہیں یہ کہتے ہیں کہ اسلامی بینک میں حضرت کے شئیرز ہیں یا اسلامی بینکاری کے ساتھ حضرت کے مالی مفادات وابستہ ہیں، اس لیے حضرت اسلامی بینکاری کے جواز کے قائل ہیں۔
ظالمو!
یہ بہتان ہے، اس کا تم سے پوچھا جائےگا۔ ہاں، پوچھا جائےگا۔
شادمحمدشاد
1950 سے 1999 میں پیدا ہونے والے ہم خوش نصیب لوگ ہیں.
کیونکہ ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے مٹی کے بنے گھروں میں بیٹھ کر پریوں کی کہانیاں سنیں۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے بچپن میں محلے کی چھتوں پہ اپنے دوستوں کیساتھ روایتی کھیل کھیلے۔
بارش میں محلے کے دوستوں کے ساتھ سڑکوں پر کرکٹ کھیلی. بسنت کے موسم میں پتنگیں اڑائیں،(گڈے) لٹو بھی چلائے، گلی ڈنڈا بھی کھیلا، ڈیپو گرم بھی کھیلا اور اپنے والدین بہن بھائی اور رشتے داروں کے ساتھ کیرم، لڈو، بھی کھیلا.
ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے محلے کی لڑکیوں کے ساتھ بھی کھیلا جھولے بھی جھولے اور انکی گڑیوں کی شادی میں شرکت بھی کی.
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے لالٹین (بتی)کی روشنی میں کہانیاں بھی پڑھی۔
جنہوں نے اپنے پیاروں کیلیئے اپنے احساسات کو خط میں لکھ کر بھیجا۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھا۔بلکہ گھر سے بوری ، توڑا لے کر سکول جاتے اور اس پر بیٹھتے۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے بیلوں کو ہل چلاتے دیکھا۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے مٹی کے گھڑوں کا پانی پیا۔بغیر بجلی کے ٹیوب ویل دیکھے نہائے
محلے گاوں کے درخت سے آم اور امرود بھی توڑ کر کھائے.
پڑوس کے بزرگوں سے ڈانٹ بھی کھائی لیکن پلٹ کر کبھی بدمعاشی نہیں دکھائی.
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے عید کا چاند دیکھ کر تالیاں بجائیں۔اور گھر والوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے عید کارڈ بھی اپنے ہاتھوں سے لکھ کر بهیجے.
ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں کیونکہ
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جو محلے کے ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہوئے.
ہم وہ لوگ ہیں جو گلے میں مفلر لٹکا کے خود کو بابو سمجھتے تھے۔
ہم وہ دلفریب لوگ ہیں
جنہوں نے شبنم اور ندیم کی ناکام محبت پہ آنسو بہائے اور انکل سرگم کو دیکھ کے خوش ہوئے ۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے ٹی وی کے انٹینے ٹھیک کیے فلم دیکھنے کے لیے ہفتہ بھر انتظار کرتے تھے
ہم وہ بہترین لوگ ہیں
جنہوں نے تختی لکھنے کی سیاہی گاڑھی کی۔ جنہوں نے سکول کی گھنٹی بجانے کو اعزاز سمجھا۔
ہم وہ خوش نصیب لوگ ہیں
جنہوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی۔ ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں۔
ہم وہ لوگ ہیں جو۔
رات کو چارپائی گھر سے باہر لے جا کر کھلی فضاء زمینوں میں سوئے دن کو سب محلے والے گرمیوں میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر گپیں لگاتے مگر وہ آخری تھے ہم
کبھی وہ بھی زمانے تھے
سب چھت پر سوتے تھے
اینٹوں پر پانی کا
چھڑکاؤ ہوتا تھا
ایک سٹینڈ والا پنکھا
بھی چھت پر ہوتا تھا
لڑنا جھگڑنا سب کا
اس بات پر ہوتا تھا
کہ پنکھے کے سامنے
کس کی منجی نے ہونا تھا
سورجُ کے نکلتے ہی
آنکھ سب کی کھلتی تھی
ڈھیٹ بن کر پھر بھی
سب ہی سوئے رہتے تھے
وہ آدھی رات کو کبھی
بارش جو آتی تھی
پھر اگلے دن بھی منجی
گیلی ہی رہتی تھی
وہ چھت پر سونے کے
سب دور ہی بیت گئے
منجیاں بھی ٹوٹ گئیں
رشتے بھی چھوٹ گئے
بہت خوبصورت خالص رشتوں کا دور لوگ کم پڑھے لکھے اور مخلص ہوتے تھے اب زمانہ پڑھ لکھ گیا تو بے مروت مفادات اور خود غرضی میں کھو گیا۔
منقول
اگر تو نے نیا دین ترک نہیں کیا تو میں کچھ کھاؤں گی نہ پیوں گی ۔ اور اگر بھوک کی وجہ سے میری جان چلی گئی تو میرا خون تیری گردن پر ہوگیا ۔
والدہ سے انکی محبت انتہائی شدت کی تھی ۔ یہ دھمکی سن کر انکےہوش اڑ گئے
لیکن اللہ کی محبت اب اس سے بھی بڑھ کر تھی ۔ توحید کا جو جام پیا تھا اس کا نشہ ایسا نہیں تھا کہ جسے ماں اتار دیتی ۔ آپ نے فرمایا ۔"ماں تم مجھے بہت عزیز ہو لیکن تمہارے قالب میں خواہ ہزار جانیں ہوں اور ایک ایک کرکے ہر جان نکل جائے تب بھی میں اسلام کو نہیں چھوڑوں گا ۔ ماں نے کہا کہ تمہارے اللہ نے تم کو ماں باپ کی اطاعت کا حکم دیا ہے تو میں تمہاری ماں ہوں اور تم کو دین اسلام چھوڑنے کا حکم دیتی ہوں اب جب تک تم یہ دین چھوڑ نہیں دیتے میں نہ تم سے کلام کروں گی اور نہ ہی کچھ کھاؤں پیوں گی ۔ تین دن اسی حالت میں گذر گئے ماں بھوک پیاس سے بے حال ہوگئی ۔ ان کا دل کٹ رہا تھا لیکن ماں کی محبت پر اللہ کی محبت غالب تھی اس لیے ثابت قدم رہے ۔ انکے بھائی نے ماں کو پانی پلایا ۔ ماں نے انہیں بددعا دی
بارگاہ الہٰی میں ان کی شان استقلال ایسی مقبول ہوئی کہ عام مسلمانوں کے لیے بھی فرمان خداوندی نازل ہوگیا
" اور اگر ماں باپ تجھے میرے ساتھ شرک پر مجبور کریں جس کی تجھ کو خبر نہیں تو ان کا کہنا مت مان اور انکی اطاعت نہ کر او ر دنیا میں اچھی چیزوں میں ان کا ساتھ دے "
گھر میں جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا تو قبیلے کے دوسرے لوگوں کو بھی علم ہوگیا ۔ اب ان کا گھر سے نکلنا دوبھر ہوگیا ۔ جس طرف سے گزرتے گالیوں اور طعنوں سے ان کا استقبال ہوتا ۔ کل کے دوست آج کے دشمن بن گئے ۔ اب ان پر دو الزام تھے ۔ باپ دادا کے دین سے پھر جانا اور ماں کی نافرمانی کرنا ۔ انہیں اس کی سزا مل رہی تھی لیکن ان کے پائے استقلال کو جنبش نہ ہوئی ۔ اذیتیں سہتے تھے لیکن جادہ حق سے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔ ایک ان پر ہی کیا منحصر جتنے بھی عاشق رسول تھے ان سب کا یہی احوال تھا ۔ جگر چاک کرنے والے مصائب اور شمع رسالت کے یہ پروانے تھے
کفار کی شرانگیزی سے بچنے کےلیے کچھ مسلمانوں نے طے کیا کہ پہاڑوں کی سنسان گھاٹیوں میں جاکر عبادت کرلیا کریں گے۔ اس طرح آپس میں ملاقاتیں بھی ہوجایا کریں گی اور عبادت کا حق بھی ادا ہوجائے گا ۔
مکہ کا محل وقوع ایسا ہے کہ چاروں طرف پہاڑ ہیں ۔ صحابہ کرام ایک پہاڑی منتخب کرکے وادی میں اترگئے۔ شہر کے ہنگاموں سے بے خبر یہاں عبادت کرنے کا لطف ہی کچھ اور تھا ۔ ویران دوپہریں ، ٹھنڈی شامیں اس وادی میں گزرنے لگیں ۔
ایک دن صحابہ کرام اسی ویران گھاٹ میں عبادت کررہے تھے ۔یہ نوجوان صحابی بھی انکے ساتھ تھے کہ چند مشرکین ادھر آنکلے ، انہوں نے جو یہ منظر دیکھا تو مذاق اڑانے کا اچھا موقع مل گیا ۔ انہوں نے آوازیں کسنا شروع کردیں ، گالیاں دینا اور برا بھلا کہنا شروع کردیا ۔ اب میں سے کچھ بدبختوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھی بری کلمات کہنا شروع کیے تو ان سے برداشت نہ ہوا ۔ غیرت دینی نے جوش مارا ۔ نڈر تو تھے ہی ،قریب ہی اونٹ کی ایک بڑی ہڈی پڑی تھی اس ہڈی کو اٹھایا اور مشرکین پر پل پڑے ۔ ایک کا سر پھاڑ دیا ، دوسروں کا بھی یہی حال ہوتا لیکن وہ سب ڈر کے بھاگ گئے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے راہ حق میں جہاد کیا
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ عظیم شخصیت کون تھی ۔ یہ وہ واحد صحابی ہیں جن کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔ یہ وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں خود تیر اٹھا ٹھا کردیتے اور دشمنوں پر چلانے کو کہتے ۔ یہ وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں کہلانے کا شرف حاصل تھا
ان کا نام حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہے
اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہوں آپ پر
منقول
ائیر پورٹ پر میں نے اکثر مسافروں کو دیکھا ہے کہ وہ بار بار اپنا پاسپورٹ اور ٹکٹ یا تو ہاتھ میں ہی پکڑے رکھتے ہیں یا پھر کسی جیب یا بیگ میں رکھا ہو تو بار بار چیک کرتے رہتے ہیں کہ موجود ہے نا، کہیں گم تو نہیں ہو گیا کیونکہ سب کو پتہ ہوتا ہے کہ جہاز میں سوار ہونے تک کئی بار چیک ہوتا ہے اور پھر جہاز سے اترتے ہی پھر سے اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر غلطی سے کہیں یہ گم ہو جائیں تو فلائٹ میں سوار نہیں ہو سکیں گے۔
۔۔۔۔۔
ایسا ہی کچھ ہمارے ایمان اور عملِ صالحہ کا حال ہے۔ یہی ہمارے پاسپورٹ اور ٹکٹ ہیں جو جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہیں۔ ہونا تو یہی چاہیے کہ بار بار ہم چیک کرتے رہیں کہ ہمارے ایمان کی کیا صورت حال ہے اور ہمارے اعمال کیسے ہیں۔ خود سے سوال لازمی کیجیے کہ کیا جو فرائض اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذمہ لگائے ہیں وہ ہم پورے کر رہے ہیں، چاہے وہ حقوق اللہ میں سے ہوں یا حقوق العباد میں سے۔ شروعات نماز سے کیجیے کہ قبر میں سب سے پہلے نماز ہی کے بارے سوال ہوگا۔
آخرت کے لیے اپنا پاسپورٹ اور اپنا ٹکٹ آج ہی چیک کیجیے ۔ یہ ایک یاد دیہانی ہے جو سب سے پہلے میرے اپنے لیے ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا ایمان سلامت رکھے اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عدنان خان نیازی
بیوی کا موڈ نہ ہو، طبیعت خراب ہو تو کھانا نہیں بنتا لیکن مرد کو کمانے کے لیے موڈ کو سائیڈ پہ رکھنا پڑتا ہے ، دل چاہے نہ چاہے کمانے کے لیے نکلنا ہی پڑتا ہے۔
عورت کو یہ پتا ہوتا ہے کہ آج کھانا نہ بنا تو شوہر باہر سے لے آئے گا۔۔۔۔ اور مرد کو یہ پتا ہوتا کہ آج کمانے نہ گیا تو مجھے کما کر کوئی لا کر نہیں دے گا۔
باپ، بھائی، بیٹا یا شوہر یہ عظیم الشان نعمت ہوتے ہیں۔ ان کے لیے دلوں میں بغض جمع نہ ہونے دیں۔ یہ اس دنیا کے مسائل کو آپ تک پہنچنے نہیں دیتے، یہ حفاظتی شیلڈ ہوتے ہیں۔
منقول
14/08/2024
*شہیدانِ وطن کے حوصلے تھے دید کے قابل*
*وہاں پر شکر کرتے تھے ،جہاں پر صبر مشکل تھا*
*تمام اہل وطن کو جشن آزادی مبارک ہو.…*
اللّٰہ تبارک و تعالیٰ ہمارے پیارے ملک 🇵🇰کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائے اور ہمیشہ شاد و آباد رکھے ..
*آمین
14Aug2024Independenceday
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Rawalpindi West Ridge