Shakespeare Model School System Rawalakot ph# 05824442248

Shakespeare Model School System Rawalakot ph# 05824442248

Share

Our Quality Education Together with Modern skills incorporated in our syllabus stimulating real life competitive and dynamic situations.

Admission is now open for a limited offer, the Montessori Education System

07/05/2026

malaysian and bangladeshi professor visited the shakespeare school rkt

30/01/2026

سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں ایک استاد اپنی گاڑی چلا رہے تھے کہ..........

زندگی ہمیں ایسے لمحے دکھاتی ہے جہاں قانون صرف قانون نہیں رہتا بلکہ character test بن جاتا ہے۔ اور کبھی ایک معمولی سا جرمانہ انسان کی پوری زندگی کی کمائی کو ہمارے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ واقعہ بھی ایسا ہی ہے، جہاں ایک استاد کو اندازہ ہوا کہ اصل کامیابی تنخواہ نہیں، بلکہ وہ نسل ہے جو آپ کے ہاتھوں پروان چڑھتی ہے۔

سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں ایک استاد اپنی گاڑی چلا رہے تھے کہ ٹریفک پولیس نے انہیں روک لیا۔ افسر نے لائسنس اور گاڑی کے کاغذات مانگے اور سیاہ چشمے کے پیچھے سے ان کے چہرے کو غور سے دیکھتا رہا۔ تمام دستاویزات چیک کرنے کے بعد اس نے پُرسکون مگر پُرعزم لہجے میں کہا کہ آپ نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی تھی۔ استاد نے فوراً اعتراف کیا کہ ہاں، مجھ سے غلطی ہوئی ہے اور میں جرمانے کا مستحق ہوں۔

افسر نے چالان لکھنا شروع کیا، پھر اچانک پوچھا کہ کیا آپ استاد اور تربیت دینے والے ہیں؟ جواب ہاں میں ملا تو اس نے ایک اور سوال کیا: اگر کوئی طالب علم امتحان میں نقل کرے تو کیا آپ اسے معاف کر دیتے ہیں؟ استاد نے کہا نہیں، میں قانون لاگو کرتا ہوں۔ افسر مسکرایا، پرچی تھمائی اور کہا کہ کیا آپ گاڑی سے نیچے اتر سکتے ہیں۔

استاد حیران تھے، مگر نیچے اتر آئے۔ اچانک افسر نے انہیں گلے لگا لیا اور سر پر بوسہ دیا۔ استاد ابھی اس کیفیت کو سمجھ بھی نہ پائے تھے کہ اس نے کہا: استاد! میں آپ کا شاگرد ہوں۔ کیا آپ کو یاد ہے جب میں نے امتحان میں آپ کے بیٹے سے نقل کی تھی؟ آپ نے ہم دونوں کی کاپیاں ضبط کیں، دونوں کو صفر دیا اور قانون اپنے بیٹے پر بھی ویسے ہی لاگو کیا جیسے مجھ پر۔

اس نے کہا کہ اسی دن مجھے سمجھ آیا کہ قانون رشتے نہیں دیکھتا، انصاف equal for all ہوتا ہے۔ میں اس دن آپ کے احترام میں بھی رویا تھا اور اس بات پر بھی کہ آپ نے اپنے بیٹے پر بھی قانون نافذ کیا، لیکن وہی دن میری زندگی کا turning point بن گیا۔ آج میں اسی اصول پر کھڑا ہوں، اور اسی لیے میں آپ پر بھی قانون لاگو کر رہا ہوں۔

استاد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ شاگرد اپنی وردی کی ہیبت برقرار رکھنے کی کوشش میں جذبات ضبط کیے کھڑا تھا۔ پھر اس نے جیب سے رقم نکالی اور کہا: استاد، میں آپ کو قسم دیتا ہوں، یہ رقم میری طرف سے قبول کر لیجیے۔ قانون تو میں نے نافذ کر دیا، لیکن جرمانہ میری طرف سے۔ آپ میرے معلم، میرے باپ اور میری مثال ہیں۔

استاد نے انکار کیا، مگر شاگرد اور اس کے ساتھی افسر نے اصرار کیا۔ آخرکار وہ وہاں سے رخصت ہوئے تو دل میں عجیب سی طمانیت تھی، آنکھوں میں فخر کے آنسو تھے اور دل میں یہ احساس کہ یہ وہ نسل ہے جو ان کے ہاتھوں میں پلی بڑھی، جو نہ ذمہ داری میں خیانت کرتی ہے اور نہ اپنے وطن سے بے وفائی۔

یہی ایک معلم کی اصل دولت ہے۔ اگر استاد اپنے طلبہ کے دلوں میں دیانت، انصاف اور اصول بو دے، تو وہی بیج کل قانون، معاشرہ اور وطن کو مضبوط کرتے ہیں۔ تعلیم اور قانون کا نفاذ کبھی ضائع نہیں جاتا، اس کی قیمت نسلیں ادا کرتی ہیں — عزت کی صورت میں۔
حماد_حمید

17/01/2026
16/01/2026
27/12/2025

اَسۡکِنُوۡہُنَّ مِنۡ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ مِّنۡ وُّجۡدِکُمۡ وَ لَا تُضَآرُّوۡہُنَّ لِتُضَیِّقُوۡا عَلَیۡہِنَّ ؕ وَ اِنۡ کُنَّ اُولَاتِ حَمۡلٍ فَاَنۡفِقُوۡا عَلَیۡہِنَّ حَتّٰی یَضَعۡنَ حَمۡلَہُنَّ ۚ فَاِنۡ اَرۡضَعۡنَ لَکُمۡ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ ۚ وَ اۡتَمِرُوۡا بَیۡنَکُمۡ بِمَعۡرُوۡفٍ ۚ وَ اِنۡ تَعَاسَرۡتُمۡ فَسَتُرۡضِعُ لَہٗۤ اُخۡرٰی ؕ﴿۶﴾
دودھ پلانے کا احکام
۶۔ ان عورتوں کو (زمانہ عدت میں) بقدر امکان وہاں سکونت دو جہاں تم رہتے ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ پہنچاؤ، اگر وہ حاملہ ہوں تو وضع حمل تک انہیں خرچہ دیتے رہو پھر اگر تمہارے کہنے پر وہ دودھ پلائیں تو انہیں (اس کی) اجرت دے دیا کرو اور احسن طریقے سے باہم مشورہ کر لیا کرو اور (اجرت طے کرنے میں) اگر تمہیں آپس میں دشواری پیش آئے تو (ماں کی جگہ) کوئی اور عورت دودھ پلائے گی۔
6۔ مِّنۡ وُّجۡدِکُمۡ: الوجد، الوسع، الطاقۃ ، یعنی بقدر امکان۔ وَ اۡتَمِرُوۡا بَیۡنَکُمۡ باہم مشورہ کرو۔ یعنی طلاق اور اولاد ہونے کی صورت میں ماں سے دودھ پلانے اور ماں کو اجرت دینے کے سلسلے میں پیش آنے والی دشواریوں کے ازالے کے لیے باہمی مشورہ کر لیا کرو کہ کہیں والدین کی جدائی کی وجہ سے بچے پر جسمانی اور نفسیاتی منفی اثرات نہ پڑیں۔ وَ اِنۡ تَعَاسَرۡتُمۡ عسر و حرج اور غیر معمولی دشواری آنے کی صورت میں ماں کے علاوہ کوئی اور عورت دودھ پلائے۔ اس آیت میں ماں کے دودھ کی تاکید ہے۔ باہمی مشورہ سے ماں کے دودھ پلانے میں حائل مشکلات دور کرو۔ صرف عسر و حرج کی صورت میں دوسری عورت دودھ پلائے۔
لِیُنۡفِقۡ ذُوۡ سَعَۃٍ مِّنۡ سَعَتِہٖ ؕ وَ مَنۡ قُدِرَ عَلَیۡہِ رِزۡقُہٗ فَلۡیُنۡفِقۡ مِمَّاۤ اٰتٰىہُ اللّٰہُ ؕ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىہَا ؕ سَیَجۡعَلُ اللّٰہُ بَعۡدَ عُسۡرٍ یُّسۡرًا ٪﴿۷﴾
استطاعت کے مطابق ذمہ داری
۷۔ وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس پر اس کے رزق میں تنگی کی گئی ہو اسے چاہیے کہ جتنا اللہ نے اسے دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرے، اللہ کسی کو اس سے زیادہ مکلف نہیں بناتا جتنا اسے دیا ہے، تنگدستی کے بعد عنقریب اللہ آسانی پیدا کر دے گا۔
7۔ لِیُنۡفِقۡ : اس آیت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہر شخص کی ذمہ داری اس کی استطاعت کے مطابق ہے۔ غریبوں کے لیے اس آیت میں ایک تسلی بھی ہے کہ بَعۡدَ عُسۡرٍ یُّسۡرًا تنگدستی کے بعد اللہ آسانی پیدا کر دے گا۔
وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ عَتَتۡ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہَا وَ رُسُلِہٖ فَحَاسَبۡنٰہَا حِسَابًا شَدِیۡدًا ۙ وَّ عَذَّبۡنٰہَا عَذَابًا نُّـکۡرًا﴿۸﴾
۸۔ اور ایسی کتنی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے بھی ان سے سخت حساب لیا اور انہیں برے عذاب میں ڈال دیا۔
فَذَاقَتۡ وَبَالَ اَمۡرِہَا وَ کَانَ عَاقِبَۃُ اَمۡرِہَا خُسۡرًا﴿۹﴾
۹۔ پھر انہوں نے اپنے اعمال کے وبال کا ذائقہ چکھ لیا اور ان کا انجام خسارے پر منتہی ہوا۔
اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا ۙ فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ ۬ۚۖۛ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ۟ۛ قَدۡ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکُمۡ ذِکۡرًا ﴿ۙ۱۰﴾
۱۰۔ ان کے لیے اللہ نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، پس اے عقل مند ایماندارو! اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ نے تمہاری طرف ایک ذکر نازل کیا ہے۔
10۔ 11 رَسُوۡلًا سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ اور ذِکۡرًا سے مراد بھی رسالتمآب ﷺ ہیں۔ یہاں آپ ﷺ کو رسول ﷺ اور ذکر دونوں القابات کے ساتھ یاد کیا گیا ہے، چونکہ آپ ﷺ ذکر و نصیحت ہی کے لیے مبعوث ہوئے اور آپ ﷺ کا فرض منصبی نصیحت سے ہی عبارت ہے۔
رَّسُوۡلًا یَّتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخۡرِجَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَ مَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَ یَعۡمَلۡ صَالِحًا یُّدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰہُ لَہٗ رِزۡقًا﴿۱۱﴾
۱۱۔ ایک ایسا رسول جو تمہیں اللہ کی واضح آیات پڑھ کر سناتا ہے تاکہ وہ ایمان لانے والوں اور نیک اعمال بجا لانے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے اور جو اللہ پر ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جن میں وہ ابد تک ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق دے رکھا ہے۔
اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَہُنَّ ؕ یَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَیۡنَہُنَّ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ۬ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ قَدۡ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عِلۡمًا ﴿٪۱۲﴾
۱۲۔ وہی اللہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور انہی کی طرح زمین بھی، اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور یہ کہ اللہ نے بلحاظ علم ہر چیز پر احاطہ کیا ہوا ہے۔
12۔ آسمان کی مانند زمین بھی پیدا کی ہے۔ ”مانند“ کہنا تعدد کی دلیل نہیں ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد عناصر تخلیق ہوں کہ آسمانوں کو جن عناصر سے بنایا ہے، زمین بھی انہی سے مرکب ہونے میں آسمان کی مانند ہے۔ و اللہ اعلم بالصواب۔

10/12/2025

Shakespeare Model School & Training Institute Rawalakot Shakespeare Model School System Rawalakot ph # 05824442248 Shakespeare Foundation Rawalakot

Photos from Shakespeare Model School System Rawalakot ph# 05824442248's post 10/12/2025
Want your school to be the top-listed School/college in Rawala Kot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

H# D-144 Near Children Parak Bank Rood Rawalakot
Rawala Kot

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 14:00
Saturday 02:00 - 14:00