13/01/2026
طلباء 5 منٹ میں جان لیتے ہیں کہ استاد کوسیریس لینا ہے یا نہیں؟
بچے بہتر اور سنجیدہ استاد کا فیصلہ ایک ماہ بعد نہیں کرتے, ایک ہفتہ بعد بھی نہیں کرتے, ایک دن بعد بھی نہیں کرتے,
استاد اچھا ہے یا بُرا؟
یہ فیصلہ بچے پہلی کلاس کے پہلے پانچ منٹ میں کرلیتے ہیں۔
استاد کا لہجہ۔
استاد کا انداز گفتگو۔
استاد کا اعتماد۔
استاد کتنی وضاحت سے بات کرتا ہے؟
پہلے پانچ منٹ انتہاٸی اہم ہیں۔ اس کے بعد بچے فیصلہ کرلیتے ہیں کہ کلاس میں شرارت کرنی ہے یا خاموشی سے بیٹھنا ہے؟
بہت سے اساتذہ سبق شروع ہونے سے پہلے ہی کلاس کا کنٹرول کھو دیتے ہیں, کیونکہ وہ بچوں سے خاموش رہنے کی بھیک مانگتے ہیں۔
وہ بغیر وجہ کے ہنسنے لگتے ہیں۔
اچھا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
یا پھر!
دھمکیاں دینے لگ جاتے ہیں۔
بلا وجہ ڈرانے لگتے ہیں جبکہ اصل میں وہ خود ڈر رہے ہوتے ہیں۔
چیختے چلاتے ہیں۔
استاد کا چلانا کمزوری ظاہر کرتا ہے, طاقت نہیں۔
آپ کے پہلے دن کے پہلے پانچ منٹ کلاس کی ٹون سیٹ کرتے ہیں۔ باقی سال آپ اسی ٹون کے ساتھ کلاس میں وقت گزارتے ہیں۔
اچھے اساتذہ پہلے 5 منٹ میں چیختے نہیں۔
وہ ماحول بناتے ہیں۔
اپنے لہجے سے ایک پراسرار ٹون سیٹ کرتے ہیں۔
ایک کنیکشن قاٸم کرلیتے ہیں۔
بغیر بتاۓ رولز سیٹ کرتے ہیں۔
اچھے اساتذہ اپنے کلاس کا ماحول خود بناتے ہیں۔ اپنے کلاس کنٹرول کو پہلے پانچ منٹ میں قاٸم کرلیتے ہیں۔ وہ مسکراتے ہیں تو بچے مسکراتے ہیں۔ ان کا موڈ آف ہو تو بچے سمجھ جاتے ہیں۔
ان کی عام سی بات بھی خاص ہوجاتی ہے۔ بچے گھر میں ان کا ذکر کرتے ہیں۔ راستے میں ملیں تو نظریں جھکا لیتے ہیں۔ استاد آرہا ہو تو راستے سے ہٹ جاتے ہیں۔
استاد امید دلاتا ہے۔ کہانیاں سناتا ہے۔ سچی کہانیاں۔ امید بھری کہانیاں۔
خواب دکھاتا ہے۔ اچھے مستقبل کے خواب۔
کبھی ایسا استاد بننے کی کوشش کیجٸے گا۔ ایسی بادشاہت کسی اور جگہ آپ کو نہیں ملے گی۔
ایک دفعہ یہ ٹون پکڑ لیجٸے۔ پھر چاہے آپ کلاس میں ہنسیں, گانے گاٸیں یا کرسی پر بیٹھ کر بچوں کو دیکھتے رہیں۔ کلاس کنٹرول میں رہے گی۔
اور ہاں ایک بات سن لیجٸے!
اپنی ٹیچنگ کو انجواۓ کیجٸے۔
اپنے بچوں کو شیر کی نظر سے دیکھیں لیکن دل میں محبت رکھیں۔ یہ محبت بچوں کو نظرآجاتی ہے۔ شاہ