The Voice of Midh Ranjha

The Voice of Midh Ranjha The Voice of Midh Ranjha

24/07/2026

جامعہ مسجد شکرانی، مِڈھ رانجھا
یہ صرف ایک مسجد نہیں، بلکہ ہماری بستی کی پہچان، بزرگوں کی یادگار اور نسلوں کے ایمان کا روشن چراغ ہے۔ برسوں سے یہاں گونجنے والی اذانیں دلوں کو سکون اور روح کو تازگی بخشتی آ رہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ جامعہ مسجد شکرانی کو ہمیشہ آباد رکھے، اس کی رونقیں قائم رکھے اور ہم سب کو اس سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲

MR. MUHAMAMD AKHTAR  Assistant Commissioner, Kot Momin, is hereby transferred, with immediate effect and posted as Assis...
03/07/2026

MR. MUHAMAMD AKHTAR Assistant Commissioner, Kot Momin, is hereby transferred, with immediate effect and posted as Assistant Commissioner, Rawalpindi (Sadar)

مڈھ رانجھا و مضافات میں سحری و افطار کے اوقات
27/02/2026

مڈھ رانجھا و مضافات میں سحری و افطار کے اوقات





12/01/2026
08/09/2025

"یہ کہانی دو بہنوں کی ہے۔۔۔ جو درد کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب چکی تھیں۔معاشرے کی بے حسی، تنہائی، اور شاید کچھ ان کہے دکھوں نے اُنہیں اُس دہلیز تک پہنچا دیا جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔
اور اُن کے ساتھ۔۔۔ ایک معصوم جان، ایک ننھی سی بچی۔۔۔ جس نے ابھی زندگی کو محسوس بھی نہیں کیا تھا۔۔۔ اُسے بھی دریا کی بے رحم موجوں کے سپرد کر دیا گیا۔
کیا یہ صرف ایک واقعہ ہے؟ یا ہماری خاموشی، ہماری بے خبری، ہمارا جرم؟
خدارا!
بولیے، سنئے، سمجھئے۔
کوئی صدا، کوئی آنسو، کوئی فریاد — کبھی نظر انداز نہ کیجئے۔
کیونکہ کبھی کبھار۔۔۔ خاموشی بھی قتل کر دیتی ہے۔
یہ ویڈیو ایک پیغام ہے — زندگی کی قدر کیجئے، اور دوسروں کو جینے کا حوصلہ دیجئے۔"

01/09/2025

سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ گاؤں اجڑ جاتے ہیں، بستیاں ڈوب جاتی ہیں، بچے یتیم ہو جاتے ہیں، لوگ اپنی چھت اور روزی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اور سب سے دردناک منظر وہ ہے جب قبرستان تک محفوظ نہیں رہتے اور قبریں بھی بیٹھ جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ اتفاق نہیں، یہ ہماری اپنی کوتاہیوں اور نااہلیوں کا نتیجہ ہے۔

صاف بات یہ ہے کہ پاکستان میں سیلاب کا سب سے بڑا اور مستقل حل صرف ڈیمز ہیں۔ اگر بروقت ڈیم تعمیر کیے جاتے تو یہ ریلے ہمارے گاؤں اجاڑنے کے بجائے ان ڈیموں میں محفوظ ہو کر آنے والی نسلوں کے کام آتے۔ آج ہم قیمتی پانی کو ضائع کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنی جانیں اور زمینیں بھی کھو رہے ہیں۔

ہر سال یہی کہانی دہرا دی جاتی ہے: بھارت سے پانی چھوڑا گیا، بارش زیادہ ہوئی، دریاؤں میں طغیانی آ گئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے یہ منظر دیکھتے رہیں گے؟ کب تک لوگ اپنے پیاروں کو کھوتے رہیں گے؟ کب تک معصوم بچے پانی کے ریلوں میں ڈوبتے رہیں گے؟

ڈیم صرف پانی ذخیرہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ یہ ہماری معیشت، ہماری زراعت اور ہماری بقا کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ ڈیم بجلی پیدا کریں گے، زمینیں سیراب کریں گے، اور سیلاب کے ریلوں کو کنٹرول کر کے لاکھوں زندگیاں بچائیں گے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ سیاست، ذاتی مفاد اور اختلافات کو ایک طرف رکھا جائے۔ قوم کو اس نکتے پر ایک ہونا ہوگا کہ ڈیم بنانا صرف آپشن نہیں بلکہ ایک مجبوری ہے۔ اگر آج ہم نے یہ قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

یاد رکھیں، جو قومیں قدرتی وسائل کو سنبھال کر رکھتی ہیں، وہی دنیا میں آگے بڑھتی ہیں۔ اور جو قومیں غفلت کرتی ہیں، وہ تاریخ کے اندھیروں میں کھو جاتی ہیں۔ پاکستان کو اب مزید تاخیر برداشت نہیں۔ ہمیں ڈیم چاہیے، ہمیں محفوظ مستقبل چاہیے۔ یہی ہماری بقا ہے، یہی ہماری نسلوں کا حق ہے۔۔

https://youtu.be/SQbFJGNRiBM
09/08/2025

https://youtu.be/SQbFJGNRiBM

Google is one of the most powerful companies in the world — but how does it make money when almost everything it offers is free?In this detailed video, Sohai...

Address

Midh Ranjha Near Lari Ada
Ranjha

Telephone

+923481569618

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Voice of Midh Ranjha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category