Dr Shahid -Urdu Adab

Dr Shahid -Urdu Adab

Share

اردو ادب کا سنجیدہ قاری و معلم
تنقید، تحقیق، فیمینزم
فکشن رائٹر | خواتین افسانہ نگاری پر کام

18/02/2026

"گنگ کھسو کا وجد"
(ریسرچ اسکالر نور فاطمہ بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کی تحقیق کو ایک کہانی کے روپ میں ۔تحریر وترجمعہ : ڈاکٹر شاہد حسین)
شام جب اپنے سرخ اور سیاہی مائل آنچل کو پہاڑوں کی پیشانی پر رکھتی ہے تو وادیوں میں ایک ایسا سکوت اترتا ہے جو محض خاموشی نہیں بلکہ زمانوں کی تھکن کا استعارہ ہوتا ہے۔ انہی بلند و بالا چوٹیوں کے حصار میں ایک گاؤں آباد ہے"بالتی "جو اپنے وجود میں روایت کی وہ نمناکی محفوظ کیے ہوئے ہے جو جدید عہد کی تیز دھوپ میں بھی خشک نہیں ہونے پائی۔
یہ گاؤں محض مکانوں کا مجموعہ نہیں، ایک زندہ روایت کا امین ہے۔ یہاں لوگ برف کو صرف منجمد پانی نہیں سمجھتے، وہ اسے وقت کا ذخیرہ، آسمان کی امانت اور زمین کے سینے میں رکھی ہوئی دعاؤں کا تسلسل کہتے ہیں۔ اسی فہم سے جنم لیتی ہے ایک رسم"گنگ کھسو"یعنی گل جُڑنا۔
گنگ کھسو، برف کے دو مختلف ٹکڑوں کا ملاپ ہے،ایک سرمئ جو کہ "میل" ہے اور دوسرا نیلا جو "فی میل" ہے (جو نسبتاً زیادہ پانی دیتا ہے )مگر دراصل یہ دو عناصر کا اتحاد نہیں بلکہ دو تقدیروں کا عہد ہے۔ گاؤں کے بزرگ کہتے ہیں کہ ہر برف کا ٹکڑا اپنی جداگانہ روح رکھتا ہے.ایک وہ جو شمالی ڈھلوان سے آیا ہو.سخت، سرد اور صبور(میل),دوسرا وہ جو مشرقی رخ سے اترا ہو,نرم، شفاف اور رواں۔ (فی میل )جب یہ دونوں ایک مخصوص رات، ایک مخصوص مقام پر ملا دیے جاتے ہیں تو وہ محض پگھلتے نہیں، ایک نئے چشمے کی تمہید لکھتے ہیں۔
روایت کا پہلا رخ دفاعی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ قدیم زمانوں میں یہی ملاپ پہاڑوں کی غاروں کو دشمن کی نظروں سے اوجھل رکھنے کا ذریعہ بنتا تھا۔ مگر روایت جامد نہیں رہتی ۔وہ زمانے کے ساتھ معنی بدلتی ہے۔ اب جب گلیشیئر تیزی سے تحلیل ہو رہے ہیں اور پانی ایک عالمی اضطراب میں تبدیل ہو چکا ہے، "گنگ کھسو "محض رسم نہیں رہا.یہ مزاحمت ہے، بقا کا استعارہ ہے، فطرت کے ساتھ ایک اخلاقی معاہدہ ہے۔
رات کی سیاہی میں، جب چاندنی پہاڑوں کی کمر پر چاندی کی لکیر کھینچتی ہے، گاؤں کے چند منتخب افراد خاموشی سے روانہ ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں بانس کے بنے تھیلے ہوتے ہیں، جن میں برف کے منتخب ٹکڑے، تھوڑا سا خشک اناج اور پانی کی ایک مختصر سی صراحی۔ یہ سفر جسمانی سے زیادہ روحانی ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ طلوعِ سحر سے پہلے یہ ملاپ مکمل ہونا چاہیے، کیونکہ سورج کی پہلی کرن گواہ بنتی ہے اور گواہی کے بغیر کوئی عہد معتبر نہیں رہتا۔
چوٹی کے قریب ایک جگہ مقرر ہے۔نہ بہت نمایاں، نہ مکمل پوشیدہ۔ وہاں ایک پتھر کا قدیم پتیلا رکھا جاتا ہے۔ دونوں برف کے ٹکڑے احترام سے اس میں رکھے جاتے ہیں، جیسے نکاح کے وقت دو ہاتھ ملائے جاتے ہیں۔ بزرگ آہستہ آہستہ دعائیں پڑھتے ہیں۔ جن میں الفاظ کم ہوتے ہیں، خاموشی زیادہ۔ کیونکہ اس عمل میں زبان سے زیادہ نیت کی حرارت کارفرما ہوتی ہے۔
پگھلتی ہوئی برف کا پہلا قطرہ جب پتھر کی سطح سے ٹکراتا ہے تو وہ آواز پیدا ہوتی ہے جو شاید صرف یقین رکھنے والے سن سکتے ہیں۔ یہی "وجد" ہےگنگ کھسو کا وجد"وہ لمحہ جب انسان خود کو فطرت سے جدا نہیں بلکہ اس کے تسلسل میں محسوس کرتا ہے۔
یہ رسم محض پانی پیدا کرنے کا طریقہ نہیں ،یہ یاد دہانی ہے کہ بقا انفرادیت میں نہیں، اتصال میں ہے۔ دو برف کے ٹکڑے، جو اپنی اپنی ڈھلوانوں پر جدا تھے، جب ملتے ہیں تو ایک نئی روانی جنم لیتی ہے۔ یہی تصور گاؤں کے سماجی ڈھانچے میں بھی سرایت کیے ہوئے ہے۔اختلاف، اگر تقدیس کے ساتھ ملے، تو زندگی کا سرچشمہ جاری ہوتا ہے۔
بالتی کے لوگ جانتے ہیں کہ سائنس گلیشیئر کے پگھلنے کی شرح بتا سکتی ہے، مگر پانی کے ساتھ اخلاقی رشتہ قائم نہیں کر سکتی۔ گنگ کھسو اسی خلا کو پُر کرتا ہے۔ یہ انہیں سکھاتا ہے کہ فطرت سے وسائل نہیں، رشتہ لیا جاتا ہےاور رشتہ محض استعمال سے نہیں، احترام سے قائم رہتا ہے۔
شاید باہر سے آنے والا اس رسم کو دیومالائی سمجھے، مگر وادی کے اندر یہ ایک زندہ متن ہے۔ایک ایسا فلسفہ جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ یہاں برف صرف برف نہیں، وقت کی امانت ہے۔ پانی صرف سیال مادہ نہیں، اجتماعی شعور کی روانی ہے۔
گنگ کھسو کاوجد" دراصل اسی ادراک کا نام ہے کہ جب انسان اور فطرت ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ایک ساتھ محو رقص ہوں تو قحط بھی ایک عارضی وقفہ بن جاتا ہے، دائمی سزا نہیں۔
اور یوں، ہر سال، ہر موسمِ سرما کے بعد، یہ رسم ایک بار پھر ادا کی جاتی ہے۔گویا یہ اعلان کہ ابھی رشتہ قائم ہے، ابھی عہد باقی ہے، ابھی زندگی کی داستان مکمل نہیں ہوئی۔

01/02/2026

شعبہ ء اردو و اقبالیات اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور رحیم یار خان کیمپس میں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کلاسز کے لیے داخلے جاری ہیں۔
📣
📍 مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں:
03036584160
ایڈمیشن انچارج : ڈاکٹریوسف نون
استادشعبہ اردو رحیم یارخان کیمپس

01/02/2026

Lecture #8

31/01/2026

Lecture #7

04/01/2026

Lecture #6

03/01/2026

Lecture #5
Social learning theory.

02/01/2026

لیکچر #4 Constructivism

01/01/2026

Lecture.3

30/12/2025

Pedagogy تعارفی لیکچر ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Rahimyar Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Islamia University Bahawalpur
Rahimyar Khan
64200