21/07/2025
یہ تعلیمی ادارے ہیں یا کسی سرکس کا میدان؟
سات کلاسز، تین استاد؟ یہ استاد ہیں یا کسی جنگلی قبیلے کے سپرمین؟ یا پھر کسی سرکاری مزاح کا حصہ؟ لگتا ہے جیسے ان پالیسی سازوں نے عقل کی چھٹی لے رکھی ہو۔ جنہیں یہ علم ہی نہیں کہ ایک وقت میں ایک استاد صرف ایک کلاس سنبھال سکتا ہے۔
کبھی اِدھر چھلانگ، کبھی اُدھر۔ کیا یہ استاد ہیں یا کسی سرکاری سرکس کے جمپنگ کریکٹر؟ بچوں کی تعلیم تو گئی بھاڑ میں، ان اساتذہ کا دماغی توازن بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
یہ پالیسی ساز کہاں سے پیدا ہو رہے ہیں؟ شاید کسی نکمے اور ناکام فیکٹری کی پیداوار ہیں۔
ایسے تھنک ٹینک تو دشمن بھی نہ دیں، جن کے فیصلے نہ تعلیم کو سمجھتے ہیں نہ انسانیت کو۔ بس بیٹھے ہیں اپنی کرسیوں پر، اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں مصروف۔ زمین پر کیا ہو رہا ہے؟ بچوں کا مستقبل برباد ہو رہا ہے؟ اس کی نہ انہیں فکر ہے نہ پرواہ۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ تعلیم ان حکمرانوں کے نزدیک مذاق بن چکی ہے۔
اساتذہ کی عزت، بچوں کا مستقبل، تعلیم کا معیار۔۔۔ یہ سب دفن کر کے صرف جعلی ترقی کے راگ الاپے جا رہے ہیں۔ نہ نئی بھرتیاں، نہ سہولیات، اور اوپر سے ایسے احمقانہ فیصلے کہ استاد بھی تنگ، بچے بھی برباد، والدین بھی پریشان۔
ایسی پالیسیاں بنانے والے اگر اپنے ضمیر میں جھانکیں تو شاید انہیں شرم سے زمین پھٹتی نظر آئے۔۔۔ مگر افسوس، بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔