10/08/2025
جامعات کا اصل فریضہ — تخلیق، تجزیہ اور حل
تحریر: ڈاکٹر عتیق الرحمن
اکثر لوگ یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں، خصوصاً جامعات سے فارغ التحصیل طلباء وہ مہارتیں نہیں رکھتے جو مارکیٹ کو درکار ہیں۔ یہ شکایت سننے میں تو عام ہے، مگر اس کے پسِ منظر میں ایک گہرا علمی اور پالیسی نوعیت کا مسئلہ پوشیدہ ہے، جسے سمجھنے کے لیے ہمیں "علم" کی نوعیت اور اس کے درجات کو سمجھنا ہوگا۔
________ علم کے درجات — Bloom’s Taxonomy ______
1956 میں ماہر تعلیم بنجامن بلوم Binjamin Bloom نے ماہرین تعلیم کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر علم (Cognition) کے مختلف درجات کی درجہ بندی classification کی ، اس کلاسیفکیشن Bloom's Taxonomy میں علم کے درجات کو یوں ترتیب دیا گیا ہے:
1. معلومات (Information) – محض حقائق یاد رکھنا
(مثلاً: پاکستان کا قیام 1947 میں ہوا)
2. تفہیم (Comprehension) – معلومات کو سمجھنا
(مثلاً: قیامِ پاکستان کے اسباب کا ادراک)
3. اطلاق (Application) – سیکھے گئے علم کو عملی مسائل پر لاگو کرنا
(مثلاً: قانون کے اصولوں کو کیس میں استعمال کرنا)
4. تجزیہ (Analysis) – مختلف اجزاء کا ربط سمجھنا
(مثلاً: کسی معیشت کی زوال پذیری کے اسباب کا تجزیہ)
5. تنقیدی جانچ (Evaluation) – دلائل کا موازنہ اور جانچ کرنا
(مثلاً: پالیسی A بہتر ہے یا پالیسی B؟ کیوں؟)
6. تخلیق (Creation) – بالکل نئے حل، نظریے یا ماڈل پیش کرنا
(مثلاً: مقامی سیاق میں ماحولیاتی بحران کا حل پیش کرنا)
ہر بلند تر درجے پر مہارت رکھنے والے افراد کی تعداد پچھلے درجے سے نسبتاً کم ہوتی ہے، اور ان درجات کی تربیت کے لیے زیادہ علمی تیاری، ذہنی آمادگی اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔
_____ درجات کا خلطِ مبحث ______
یہ شکایت کہ طلباء مارکیٹ کی مہارتوں سے محروم ہیں، دراصل تیسرے درجے (اطلاق) سے متعلق ہے۔ مگر جامعات کا اصل دائرہ کار پانچویں اور چھٹے درجے یعنی "تنقیدی جانچ" اور "تخلیق" پر محیط ہونا چاہیے۔ جب ہم یونیورسٹی سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ مارکیٹ کے لیے تیار شدہ "ورکر" پیدا کرے، تو ہم اس کے اصل مشن سے انحراف کر رہے ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے، یہ انحراف صرف ایک عوامی رویہ ہی نہیں بلکہ ہماری قومی تعلیمی پالیسی میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ بی ایس پروگراموں کا وسیع پھیلاؤ، اور جامعات میں ہزاروں کی تعداد میں داخلے — یہ سب درحقیقت تیسرے اور چوتھے درجے کی مہارتوں کو جامعات کے دائرے میں لا رہے ہیں، جب کہ کالجوں کی سطح پر تحقیق کے نام پر ایم فل و پی ایچ ڈی کا اجراء، تیسرے اور چوتھے درجے کے تعلیمی اداروں کو اگلے درجات کے دائرہ کار میں ملوث کرنے کے مترادف ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ:
• یونیورسٹی کے پاس اعلیٰ درجے کے تحقیقی کام کے لیے نہ وقت بچتا ہے، نہ وسائل،
• اور اگر وقت و وسائل ہوں بھی، تو آزادی اور مواقع میسر نہیں۔
• کالجز کی فیکلٹی کے پاس عموما پانچویں اور چھٹے درجے کی مہارتوں کی تدریس کیلئے افرادی قوت دستیاب نہیں ہوتی اور وہ ایسے گریجویٹ تیار کرتے ہیں جن کا زہنی میلان ریسرچ سے مطابقت نہیں رکھتا
_______ یونیورسٹی کا اصل کام — تحقیق اور تخلیق _______
یونیورسٹی کو ان مسائل پر کام کرنا چاہیے جن کے حل معاشرے کو درکار ہیں اور جن کے لیے مقامی حل موجود نہیں۔ مثلاً:
• پاکستان میں پلاسٹک کی آلودگی کا حل کیا ہو سکتا ہے؟
• موسمیاتی تبدیلی سے کیسے نمٹا جائے؟
• بے روزگاری کیسے کم ہو سکتی ہے؟
یونیورسٹی کا کام نہ صرف ان سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہے، بلکہ ایسی افرادی قوت تیار کرنا بھی ہے جو ان جیسے پیچیدہ مسائل کا تنقیدی اور تخلیقی حل نکال سکے۔ جبکہ ان حلوں پر عمل درآمد کے لیے درکار سکل ورکرز اور ٹیکنیکل عملہ تیار کرنا دیگر اداروں، جیسے کالجز، انسٹی ٹیوٹس اور ووکیشنل سنٹرز کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
_______ ذہنی میلان اور مہارت کا درست ربط ______
یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ تمام طلباء ایک جیسے ذہنی رجحان نہیں رکھتے۔ تحقیق، تنقید اور تخلیق کے لیے فطری میلان ضروری ہے۔ مگر ہمارے ہاں بیروزگاری کے خوف نے طلباء کو ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسے اعلیٰ تعلیمی مراحل کی طرف دھکیل دیا ہے، چاہے ان کا جھکاؤ اس طرف نہ ہو۔
لہٰذا ہمیں ایک دو سطحی حکمت عملی اپنانا ہوگی:
1. وہ طلباء جو صرف روزگار چاہتے ہیں — انہیں ایسے تعلیمی پروگرام اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں جو اطلاقی مہارتوں سے لیس ہوں (درجہ 3 و 4)
2. وہ طلباء جو فکری، تنقیدی اور تحقیقی میلان رکھتے ہیں — ان کے لیے تحقیقی تربیت، اسکالرشپس اور رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ وہ معاشرے کے لیے تخلیقی حل پیش کر سکیں۔
________ پالیسی تجویز ________
1. تعلیمی اداروں کی درجہ بندی ان کے علمی درجے (Skill Level) کے مطابق کی جائے:
o کالجز: تیسرے (Application) اور جزوی طور پر چوتھے (Analysis) درجے کی مہارتیں سکھائیں
o جامعات: چوتھے درجے analysis پانچویں (Evaluation) اور چھٹے (Creation) درجے پر کام کریں
2. بی ایس پروگرامز کے پہلے دو سال کو کالجز تک محدود کیا جائے، جب کہ آخری دو سال جن میں چوتھے سے چھٹے درجے کی مہارت سکھانی مطلوب ہے، کو یونیورسٹیوں کے لیے مخصوص کیا جائے۔
3. داخلے کی پالیسی میں ذہنی میلان، تحقیق میں دلچسپی، اور فکری صلاحیت کو مدنظر رکھا جائے نہ کہ صرف امتحانی کارکردگی۔
______ اختتامی کلمات ________
جب ہم تعلیمی اداروں کو ان کے اصل دائرہ کار تک رکھیں گے تو پھر درست سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ کون سے ادارے کی کارکردگی کیا رہی۔ لیکن فی الوقت یونیورسٹی اور کالج کے تربیتی دائرے ایک دوسرے سے بالکل الجھے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی سے ان مہارتوں کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے، جو بنیادی طور پر ان کی ڈومین میں نہیں ہیں، اور کالجز کو بسا اوقات ان دائروں میں گھسیٹا جا رہا ہے جو ان کی استعداد سے باہر ہیں۔ ہمیں نیشنل ایجوکیشن فریم ورک کو دوبارہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے، اور ایک ایسے فریم ورک پر کام کی ضرورت ہے، جس میں ہر ادارے کا کردار واضح ہو۔ بصورت دیگر الجھنیں بڑھی رہیں گی۔