Bano Kabil RYK Official

Bano Kabil RYK Official

Share

Empowering minds, transforming lives! Cutting-edge IT courses, professional training & skill development for success in the digital age.

Learn, grow & thrive with us!

10/08/2025

جامعات کا اصل فریضہ — تخلیق، تجزیہ اور حل

تحریر: ڈاکٹر عتیق الرحمن

اکثر لوگ یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں، خصوصاً جامعات سے فارغ التحصیل طلباء وہ مہارتیں نہیں رکھتے جو مارکیٹ کو درکار ہیں۔ یہ شکایت سننے میں تو عام ہے، مگر اس کے پسِ منظر میں ایک گہرا علمی اور پالیسی نوعیت کا مسئلہ پوشیدہ ہے، جسے سمجھنے کے لیے ہمیں "علم" کی نوعیت اور اس کے درجات کو سمجھنا ہوگا۔

________ علم کے درجات — Bloom’s Taxonomy ______

1956 میں ماہر تعلیم بنجامن بلوم Binjamin Bloom نے ماہرین تعلیم کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر علم (Cognition) کے مختلف درجات کی درجہ بندی classification کی ، اس کلاسیفکیشن Bloom's Taxonomy میں علم کے درجات کو یوں ترتیب دیا گیا ہے:

1. معلومات (Information) – محض حقائق یاد رکھنا
(مثلاً: پاکستان کا قیام 1947 میں ہوا)

2. تفہیم (Comprehension) – معلومات کو سمجھنا
(مثلاً: قیامِ پاکستان کے اسباب کا ادراک)

3. اطلاق (Application) – سیکھے گئے علم کو عملی مسائل پر لاگو کرنا
(مثلاً: قانون کے اصولوں کو کیس میں استعمال کرنا)

4. تجزیہ (Analysis) – مختلف اجزاء کا ربط سمجھنا
(مثلاً: کسی معیشت کی زوال پذیری کے اسباب کا تجزیہ)

5. تنقیدی جانچ (Evaluation) – دلائل کا موازنہ اور جانچ کرنا
(مثلاً: پالیسی A بہتر ہے یا پالیسی B؟ کیوں؟)

6. تخلیق (Creation) – بالکل نئے حل، نظریے یا ماڈل پیش کرنا
(مثلاً: مقامی سیاق میں ماحولیاتی بحران کا حل پیش کرنا)

ہر بلند تر درجے پر مہارت رکھنے والے افراد کی تعداد پچھلے درجے سے نسبتاً کم ہوتی ہے، اور ان درجات کی تربیت کے لیے زیادہ علمی تیاری، ذہنی آمادگی اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔

_____ درجات کا خلطِ مبحث ______

یہ شکایت کہ طلباء مارکیٹ کی مہارتوں سے محروم ہیں، دراصل تیسرے درجے (اطلاق) سے متعلق ہے۔ مگر جامعات کا اصل دائرہ کار پانچویں اور چھٹے درجے یعنی "تنقیدی جانچ" اور "تخلیق" پر محیط ہونا چاہیے۔ جب ہم یونیورسٹی سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ مارکیٹ کے لیے تیار شدہ "ورکر" پیدا کرے، تو ہم اس کے اصل مشن سے انحراف کر رہے ہوتے ہیں۔

بدقسمتی سے، یہ انحراف صرف ایک عوامی رویہ ہی نہیں بلکہ ہماری قومی تعلیمی پالیسی میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ بی ایس پروگراموں کا وسیع پھیلاؤ، اور جامعات میں ہزاروں کی تعداد میں داخلے — یہ سب درحقیقت تیسرے اور چوتھے درجے کی مہارتوں کو جامعات کے دائرے میں لا رہے ہیں، جب کہ کالجوں کی سطح پر تحقیق کے نام پر ایم فل و پی ایچ ڈی کا اجراء، تیسرے اور چوتھے درجے کے تعلیمی اداروں کو اگلے درجات کے دائرہ کار میں ملوث کرنے کے مترادف ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ:

• یونیورسٹی کے پاس اعلیٰ درجے کے تحقیقی کام کے لیے نہ وقت بچتا ہے، نہ وسائل،

• اور اگر وقت و وسائل ہوں بھی، تو آزادی اور مواقع میسر نہیں۔

• کالجز کی فیکلٹی کے پاس عموما پانچویں اور چھٹے درجے کی مہارتوں کی تدریس کیلئے افرادی قوت دستیاب نہیں ہوتی اور وہ ایسے گریجویٹ تیار کرتے ہیں جن کا زہنی میلان ریسرچ سے مطابقت نہیں رکھتا

_______ یونیورسٹی کا اصل کام — تحقیق اور تخلیق _______

یونیورسٹی کو ان مسائل پر کام کرنا چاہیے جن کے حل معاشرے کو درکار ہیں اور جن کے لیے مقامی حل موجود نہیں۔ مثلاً:

• پاکستان میں پلاسٹک کی آلودگی کا حل کیا ہو سکتا ہے؟
• موسمیاتی تبدیلی سے کیسے نمٹا جائے؟
• بے روزگاری کیسے کم ہو سکتی ہے؟

یونیورسٹی کا کام نہ صرف ان سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہے، بلکہ ایسی افرادی قوت تیار کرنا بھی ہے جو ان جیسے پیچیدہ مسائل کا تنقیدی اور تخلیقی حل نکال سکے۔ جبکہ ان حلوں پر عمل درآمد کے لیے درکار سکل ورکرز اور ٹیکنیکل عملہ تیار کرنا دیگر اداروں، جیسے کالجز، انسٹی ٹیوٹس اور ووکیشنل سنٹرز کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

_______ ذہنی میلان اور مہارت کا درست ربط ______

یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ تمام طلباء ایک جیسے ذہنی رجحان نہیں رکھتے۔ تحقیق، تنقید اور تخلیق کے لیے فطری میلان ضروری ہے۔ مگر ہمارے ہاں بیروزگاری کے خوف نے طلباء کو ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسے اعلیٰ تعلیمی مراحل کی طرف دھکیل دیا ہے، چاہے ان کا جھکاؤ اس طرف نہ ہو۔

لہٰذا ہمیں ایک دو سطحی حکمت عملی اپنانا ہوگی:

1. وہ طلباء جو صرف روزگار چاہتے ہیں — انہیں ایسے تعلیمی پروگرام اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں جو اطلاقی مہارتوں سے لیس ہوں (درجہ 3 و 4)
2. وہ طلباء جو فکری، تنقیدی اور تحقیقی میلان رکھتے ہیں — ان کے لیے تحقیقی تربیت، اسکالرشپس اور رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ وہ معاشرے کے لیے تخلیقی حل پیش کر سکیں۔

________ پالیسی تجویز ________

1. تعلیمی اداروں کی درجہ بندی ان کے علمی درجے (Skill Level) کے مطابق کی جائے:

o کالجز: تیسرے (Application) اور جزوی طور پر چوتھے (Analysis) درجے کی مہارتیں سکھائیں

o جامعات: چوتھے درجے analysis پانچویں (Evaluation) اور چھٹے (Creation) درجے پر کام کریں

2. بی ایس پروگرامز کے پہلے دو سال کو کالجز تک محدود کیا جائے، جب کہ آخری دو سال جن میں چوتھے سے چھٹے درجے کی مہارت سکھانی مطلوب ہے، کو یونیورسٹیوں کے لیے مخصوص کیا جائے۔

3. داخلے کی پالیسی میں ذہنی میلان، تحقیق میں دلچسپی، اور فکری صلاحیت کو مدنظر رکھا جائے نہ کہ صرف امتحانی کارکردگی۔

______ اختتامی کلمات ________

جب ہم تعلیمی اداروں کو ان کے اصل دائرہ کار تک رکھیں گے تو پھر درست سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ کون سے ادارے کی کارکردگی کیا رہی۔ لیکن فی الوقت یونیورسٹی اور کالج کے تربیتی دائرے ایک دوسرے سے بالکل الجھے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی سے ان مہارتوں کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے، جو بنیادی طور پر ان کی ڈومین میں نہیں ہیں، اور کالجز کو بسا اوقات ان دائروں میں گھسیٹا جا رہا ہے جو ان کی استعداد سے باہر ہیں۔ ہمیں نیشنل ایجوکیشن فریم ورک کو دوبارہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے، اور ایک ایسے فریم ورک پر کام کی ضرورت ہے، جس میں ہر ادارے کا کردار واضح ہو۔ بصورت دیگر الجھنیں بڑھی رہیں گی۔

10/08/2025

"مجھے آٹھ بار امریکی ویزا دینے سے انکار کیا گیا… اور آخرکار میں نے دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپس میں سے ایک بنائی۔"

میرا نام ایرک یوان ہے۔ میں چین کے ایک چھوٹے سے کان کنوں کے شہر میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا۔ بچپن سے ہی میری یہ خواہش تھی کہ ایسی ٹیکنالوجی بناؤں جو صرف جدت نہ لائے، بلکہ لوگوں کو قریب کرے۔

میری لمبی دوری والی محبت نے میرے وژن کو شکل دی۔ میں اپنی گرل فرینڈ (جو اب میری بیوی ہے) سے سال میں صرف دو بار مل پاتا تھا۔ یہ دوری کا درد میرے دل میں ایک بیج بو گیا:
"ایک دن میں کچھ ایسا بناؤں گا جو فاصلے کے باوجود لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب محسوس کروائے۔"

میں نے سلیکان ویلی کا خواب دیکھا — مگر امریکا نے میرے ویزا کی درخواست کو آٹھ بار مسترد کر دیا۔ بہت سے لوگ ہار مان لیتے۔ میں نے نہیں مانی۔ میں نے انگریزی سیکھنا جاری رکھا، کوڈنگ سیکھی، اور آگے بڑھتا رہا۔ نویں بار میری ویزا درخواست منظور ہو گئی۔

میں نے WebEx میں بطور انجینئر کام شروع کیا، پھر Cisco میں۔ لیکن اس وقت کے ورچوئل میٹنگ پلیٹ فارم سست اور غیر مؤثر تھے۔ میں نے بہتری کے آئیڈیاز دیے — مگر کسی نے توجہ نہیں دی۔ چنانچہ میں نے نوکری چھوڑ دی۔
میں نے صفر سے آغاز کیا، 40 انجینئرز کے ساتھ جنہوں نے میرے "پاگل پن" بھرے خواب پر یقین کیا۔

اور یوں Zoom پیدا ہوا۔

سرمایہ کاروں نے کہا کہ مارکیٹ پہلے ہی بھری ہوئی ہے، کسی کو دلچسپی نہیں۔ لیکن ہم رکے نہیں — ہم نے مسلسل آزمائش کی، غلطیاں درست کیں، صارفین کی سنی اور بہتری لاتے رہے۔

پھر 2020 آ گیا۔ دنیا بند ہو گئی… اور اچانک Zoom اسکولوں، خاندانوں، دوستوں اور کمپنیوں کے درمیان پُل بن گیا۔

ہر "Join Meeting" بٹن کے پیچھے دس سالوں کے بند دروازے، سخت محنت، اور نہ ہار ماننے والا یقین تھا۔

سبق؟
"نہیں" کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اچھے نہیں۔
کبھی کبھار خواب اور عالمی کامیابی کے درمیان فرق صرف اتنا ہوتا ہے:
وہ شخص جو ہار ماننے سے انکار کرتا ہے۔

ایرک یوان

06/08/2025

بچوں کے لیے آسانیاں پیدا نہ کریں، انہیں ہنر دیں
ہم اکثر والدین اور اساتذہ کی حیثیت سے یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ہر مشکل سے بچے رہیں۔ ہم ان کے راستے کے کانٹے چن لیتے ہیں، ان کے لیے ہر کام آسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم انہیں ناکامی، محنت یا جدوجہد سے بچانا چاہتے ہیں — اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہم نادانستہ طور پر ان کی شخصیت اور صلاحیتوں کے فروغ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

سہولت وقتی ہے، ہنر زندگی بھر کا سرمایہ

ایک بچہ اگر ہر کام بغیر محنت کے حاصل کرتا ہے، تو وہ زندگی کی اصل حقیقتوں سے ناواقف رہتا ہے۔ لیکن اگر ہم اسے خود کام کرنا سکھائیں، ہنر سکھائیں، چھوٹے چھوٹے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیں، تو ہم اسے خودمختاری، اعتماد، اور مستقبل کی کامیابی کا راستہ دکھا رہے ہوتے ہیں۔

آسانیاں دینا کیوں نقصان دہ ہے؟

1. اعتماد کی کمی: جب بچہ خود کچھ نہیں کرتا، تو وہ اپنی قابلیت پر بھروسا کرنا نہیں سیکھتا۔

2. حل تلاش کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے: اگر ہر مسئلہ والدین یا استاد ہی حل کریں، تو بچہ سیکھتا ہی نہیں کہ مشکل وقت میں کیا کرنا ہے۔

3. محنت کی عادت نہیں بنتی: آسانیاں بچے کو سست اور لاپرواہ بنا دیتی ہیں، جو مستقبل میں اس کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔

بچوں کو ہنر کیسے سکھائیں؟

1. چھوٹے چھوٹے کام خود کرنے دیں — جیسے اپنا بیگ تیار کرنا، بستر صاف کرنا، یا سکول کا ہوم ورک خود مکمل کرنا۔

2. سوچنے کا موقع دیں — سوالات پوچھیں، فوری جواب دینے کی بجائے انہیں سوچنے دیں۔

3. ہنر پر مبنی تعلیم دیں — مثلاً کمپیوٹر چلانا، چھوٹے کاروبار کا آئیڈیا بنانا، کسی پروجیکٹ پر کام کرنا، وغیرہ۔

4. ناکامی کو قبول کرنا سکھائیں — اگر بچہ ناکام ہو تو اسے سنبھالیں، مگر اس کی جگہ فیصلہ نہ کریں۔

والدین اور اساتذہ کا کردار

والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کی رہنمائی کریں، نہ کہ ان کی جگہ کام کریں۔ وہ بچوں کو راستہ دکھائیں، مگر انہیں خود چلنے دیں۔ ہنر وہ طاقت ہے جو بچے کو پوری زندگی میں سہارا دیتی ہے، جبکہ آسانیاں صرف وقتی سکون دیتی ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ایک کامیاب، خودمختار اور باوقار زندگی گزاریں، تو ہمیں ان کے راستے سے رکاوٹیں ہٹانے کی بجائے انہیں ان رکاوٹوں سے نبرد آزما ہونے کا ہنر سکھانا ہوگا۔ یاد رکھیں: بچوں کے لیے آسانیاں پیدا نہ کریں، انہیں ہنر دیں — یہی اصل محبت ہے، یہی اصل تربیت ہے۔

25/07/2025

میٹرک کا رزلٹ آ گیا ہے… دل دھڑکا ہوگا، امیدیں بھی تھیں، ڈر بھی تھا۔
نمبر اچھے آئے ہیں؟ شکر کرو، لیکن یہ شروعات ہے، فائنل جیت ابھی باقی ہے۔
نمبر کم آئے ہیں؟ گھبراؤ مت! زندگی کا فیصلہ آج کے مارکس پر نہیں، کل کے فیصلوں پر ہوگا۔

اصل سوال یہ ہے: آگے کیا کرنا ہے؟
یہ چار بڑے ستون یاد رکھو:

✅ ChatGPT کو دوست بناؤ
اس سے بات کرو، اپنا روڈمیپ بناؤ، سیکھو کہ تمہاری دلچسپیاں اور طاقت کہاں ہیں۔ یہ مفت ہے، 24/7 تمہارے ساتھ ہے۔

✅ ڈیجیٹل سکلز سیکھو
ویب ڈویلپمنٹ، SEO، AI ٹولز، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیٹا اینالیٹکس، فری لانسنگ… ایک نہیں، کئی سکلز آزماؤ۔ ابھی وقت ہے، بعد میں نہیں ہوگا۔

✅ مستقبل کے شعبے چنو
کمپیوٹر سائنس، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، روبوٹکس، بائیوٹیک، ڈیجیٹل فنانس، UX/UI… دنیا بدل رہی ہے، تمہیں بھی بدلنا ہوگا۔

✅ خود کو اپڈیٹ کرتے رہو
ایک بار سکل سیکھ کر سیٹل ہونے کا زمانہ گیا۔ آج کا فارمولہ ہے: لرن، اَن لرن، ری لرن۔

یاد رکھو:
📌 آج نمبر تمہارے ہاتھ میں نہیں تھے، لیکن کل کا راستہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔
📌 جو بچہ آج سکلز سیکھ رہا ہے، وہ کل لیڈر ہوگا۔
📌 آج فیصلہ کر لو: سکرول نہیں، سیکھنا ہے۔

👉 اپنی زندگی کا اگلا لیول آن کرو۔
آگے بڑھو، یہ وقت ہے تمہاری کامیابی کی بنیاد رکھنے کا۔

27/06/2025

🚀 Ready to Launch Your Online Store?
Join the E-Commerce Online Course by KIPS College RYK and master platforms like **Shopify, Amazon & eBay! 🛒💻📈
💡 Learn product research, store design, branding, marketing, and more!
🎯 *Batch Starts 1st July – Register Now!* ✅

📞 0307-0669988
🌐 [www.banokabil.com](http://www.banokabil.com)

📦 💰 🇵🇰
🧠💸
📅

27/06/2025

🚀 Step Into the World of E-Commerce! 🌍
💼 We Are HIRING Interns – Join Our UK-Based Team! 🇬🇧
👉 Learn Product Hunting, Sourcing, Marketing & More!
🛒 Shopify | Amazon | eBay | Etsy | Walmart | AliExpress | Alibaba
📩 Submit your CV now & kickstart your career! 🌟
📞 0307-0669988

** 🚀

19/06/2025

🚀 Unlock Your Potential with 𝗕𝗮𝗻𝗼 𝗞𝗮𝗯𝗶𝗹!�💻
📅 Batch Starting from 1st June
📍 𝗞𝗜𝗣𝗦 𝗖𝗼𝗹𝗹𝗲𝗴𝗲, 𝗥𝗮𝗵𝗶𝗺 𝗬𝗮𝗿 𝗞𝗵𝗮𝗻
Choose your path to 𝒔𝒖𝒄𝒄𝒆𝒔𝒔 :
💻 𝑾𝒆𝒃 𝑫𝒆𝒗𝒆𝒍𝒐𝒑𝒎𝒆𝒏𝒕
📈 𝑫𝒊𝒈𝒊𝒕𝒂𝒍 𝑴𝒂𝒓𝒌𝒆𝒕𝒊𝒏𝒈
🎨 𝑮𝒓𝒂𝒑𝒉𝒊𝒄 𝑫𝒆𝒔𝒊𝒈𝒏𝒊𝒏𝒈
🛒 𝑺𝒉𝒐𝒑𝒊𝒇𝒚 & 𝑨𝒎𝒂𝒛𝒐𝒏
🖥️ 𝑩𝒂𝒔𝒊𝒄 𝑰𝑻
✨ Empower Your Future Today! 𝗘𝗻𝗿𝗼𝗹𝗹 now and take the first step towards a brighter career.
📞 𝟎𝟑𝟎𝟕-𝟎𝟔𝟔𝟗𝟗𝟖𝟖
🌐 𝐰𝐰𝐰.𝐛𝐚𝐧𝐨𝐤𝐚𝐛𝐢𝐥.𝐜𝐨𝐦
📱 𝐅𝐨𝐥𝐥𝐨𝐰 𝐮𝐬: 𝐁𝐚𝐧𝐨𝐤𝐚𝐛𝐢𝐢𝐑𝐘𝐊𝐎𝐟𝐟𝐢𝐜𝐢𝐚𝐥 | bano_kabil
🚀🔥

16/06/2025

💼 Master Office Skills & Boost Your Career! 💼

📢 BANO KABIL SHORT COURSES presents:
🖥️ Office Management / Basic IT Course
"Learn Today, Lead Tomorrow!"✨

🔹 Course Highlights:
✅ MS Office (Word, Excel, PowerPoint)
✅ File & Data Management
✅ Professional Email Writing & Communication
✅ Time Management & Task Scheduling
✅ Basic IT Troubleshooting & Support
✅ Online Collaboration Tools (Zoom, Teams)
✅ CV Writing & Interview Preparation
✅ Certificate & Job Assistance

⏳ Duration: 3 months
📞 Contact: 0307-0669988
📍 Location: Bano Kabil Office, 2-A Abu Dhabi Palace Road, Rahim Yar Khan

🚀 Equip Yourself with Essential Skills for the Modern Workplace!🌟

15/06/2025

📚 Unlock Your English Potential! 🌍

📢 BANO KABIL SHORT COURSES presents:
🗣️ English Spoken (IELTS, TOEFL) & Grammar Mastery
"Learn Today, Lead Tomorrow!" ✨

🔹 Course Highlights:
✅ Vocabulary Building & Daily Speaking Practice
✅ Grammar Essentials & Sentence Structure
✅ Pronunciation, Accent & Fluency Training
✅ IELTS & TOEFL Exam Format Overview
✅ Interview Preparation & Presentation Skills
✅ Speaking Mock Tests & Feedback Sessions
✅ Confidence Building & Public Speaking
✅ Certificate & Global Exam Readiness

⏳ Duration: 3 Months
📞 Contact: 0307-0669988
📍 Location: Bano Kabil Office, 2-A Abu Dhabi Palace Road, Rahim Yar Khan

🚀 Speak Confidently, Succeed Globally!🎤💫

14/06/2025

🎨 Unleash Your Creativity with Graphic Design! 🎨

📢 BANO KABIL SHORT COURSES presents:
🖌️ Graphic Designing Mastery
"Learn Today, Lead Tomorrow!" ✨

🔹 Course Highlights:
✅ Introduction to Graphic Design Principles
✅ Adobe Photoshop & Illustrator Basics
✅ Logo, Banner & Social Media Post Design
✅ Color Theory & Typography
✅ Branding & Visual Identity Design
✅ Real-World Projects & Portfolio Building
✅ Freelancing on Fiverr & Upwork
✅ Certificate & Job/Freelance Support

⏳ Duration: 3 Months
📞 Contact: 0307-0669988
📍 Location: Bano Kabil Office, 2-A Abu Dhabi Palace Road, Rahim Yar Khan

🚀 Turn Your Passion into a Career! 💡💰

13/06/2025

🚀 Exciting E-Commerce Course Alert! 🚀

📢 BANO KABIL SHORT COURSES presents:
💻 E-Commerce Mastery (Amazon, Shopify, eBay)
"Learn Today, Lead Tomorrow!" 🌟

🔹 Course Highlights:
✅ Introduction to Amazon, Shopify & eBay
✅ Product Research & Validation
✅ Amazon FBA/FBM Setup & Listing Optimization
✅ Shopify Store Creation & Customization
✅ eBay Selling Strategies
✅ Facebook & Google Ads for Products
✅ Hands-on Projects & Demo Store
✅ Certificate & Job/Freelance Support

⏳ Duration: 3 Months
📞 Contact: 0307-0669988

🔥 Empower Your Future! 💼✨

13/06/2025

📚✨ Blessed with wisdom and faith at KIPS College RYK & Juma Mubarak from Bano Kabil! 🌿📖 🙏💫

📲🎓📚 ✨ 🌿
and 😊

Want your school to be the top-listed School/college in Rahimyar Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

2 A Abu Dhabi Palace Road
Rahimyar Khan
54000