24/09/2019
*غور سے اور سمجھ کر پڑھیے گا.....*
😢😢😢
رات کواکثر میں گھر سے اس لیے نکل پڑتا ہوں کہ سردیوں کے چاند کو احساس تنہائی نہ ہو۔....
کچھ آگے قبرستان میں ایک سفید لباس پہنے لڑکی جو قریب 22، 24 برس کی تھی....
ایک قبر کو قلاوے میں لیے ہوئے تھی اسکے الفاظوں پہ اسکی ہچکیاں ہاوی تھی.....
""بابا! جب سے آپ گے ہو نا کسی نے میرے سر پہ ہاتھ رکھ کر یہ نہیں کہا بیٹا کچھ چاہیے تو شام کو لیتے آوں گا،
بابا! اماں بیمار رہتی ہیں میں ان سے کیا مانگوں بیٹیوں کی آس تو باپ کے ساتھ ہوتی ہے ناں،
بابا! اب میں گھر پر بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی،
بابا! آپ اکثر کہا کرتے تھے نا تم بڑی ہو گئی ہو بے فکری نہ رہا کرو کہیں آنے جانے کے وقت کسی کو ساتھ لے جایا کرو،
دیکھیں نا بابا! اب میں اپنے آنگن میں بھی اکیلی نہیں جاتی،
بابا! جب غیر مرد مجھ کو نظروں سے زخمی کرتے ہیں نا، تو مجھے آپکا پردہ بہت یاد آتا ہے،
دیکھیں نا بابا آپکی شہزادی کا جوتا 3 دن سے ٹوٹ گیا ہے،
بابا! آپکو پتا ہے نا مجھ سے ننگے پاوں نہیں چلا جاتا،
بابا! آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں چلے گے؟
بابا! آپکو پتا ہے اب میں نوکری کرتی ہوں، میرا مینجر بار بار مجھے دفتر بلاتا ہے اور کاغذات، پینسل کے بہانے میرے ہاتھوں کو چھوتا ہے، اگر میں کچھ کہتی ہوں تو اس کے بعد وہ کام بھی مجھ سے کرواتا ہے جوکل کا ہوتا ہے،
بابا! مجھے نوکری نہیں کرنی، مجھے ان حریص لوگوں کے سامنے اپنی غیرت کو پامال نہیں کرنا،
آپ اللہ پاک جی کے پاس ہیں نا، ان سے کہیں کہ میری بیٹی اکیلی ہے
وہ مردوں کی ہوس بھری نظروں سے زخمی ہوتی ہے
وہ انکی زبردستیوں سے ختم ہو رہی ہے
بابا! مجھے آپکا پردہ محفوظ رکھتا تھا،
اب میرا پردہ چھن چکا ہے اب میں کسی کی نظروں سے محفوظ نہیں رہتی""""
میں درخت کا سہارا لیے خود کو سمبھالنےکی کوشش کر رہا تھا.....
ایک بیٹی اپنے بابا سے معاشرے کی شکایت کر رہی تھی....
"""بابا یہ دنیا اچھی نہیں ہے...."""
میں آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں....خدا کے لیے کسی کی ماں.بہن کو بری نظر سے نہ دیکھا کریں...کیونکہ پتا نہیں ایسی کونسی اور کتنی بڑی پریشانی کی وجہ سے وہ اپنے گھر سے کمانے کے لیے نکلتی ہیں؟.....
*خدا کے واسطے ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا کریں*
✍ 🍀خاکسارالحاج میاں ناصرعلی السلام
13/12/2016
آزادی
بھیڑیوں نے بکریوں کے حق میں جلوس نکالا کہ بکریوں کو آزادی دو بکریوں کے حقوق مارے جا رہے ہیں انہیں گھروں میں قید کر رکھا گیا ہے ایک بکری نے جب یہ آواز سنی تو دوسری بکریوں سے کہا کہ سنو سنو ہمارے حق میں جلوس نکالے جا رہے ہیں چلو ہم بھی نکلتے ہیں اور اپنے حقوق کی آواز اٹھاتے ہیں
ایک بوڑھی بکری بولی بیٹی ہوش کے ناخن لو یہ بھیڑئے ہمارے دشمن ہیں ان کی باتوں میں مت آو
مگر نوجوان بکریوں نے اس کی بات نہ مانی کہ جی آپ کا زمانہ اور تھا یہ جدید دور ہے اب کوئی کسی کے حقوق نہیں چھین سکتا یہ بھیڑئے ہمارے دشمن کیسے یہ تو ہمارے حقوق کی بات کر رہے ہیں
بوڑھی بکری سن کر بولی بیٹا یہ تمہیں برباد کرنا چاہتے ہیں ابھی تم محفوظ ہو اگر ان کی باتوں میں آگئی تو یہ تمہیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے
بوڑھی بکری کی یہ بات سن کر جوان بکری غصے میں آگئی اور کہنے لگی کہ اماں تم تو بوڑھی ہوچکی اب ہمیں ہماری زندگی جینے دو تمہیں کیا پتہ آزادی کیا ہوتی ہے باہر خوبصورت کھیت ہونگے ہرے بھرے باغ ہونگے ہر طرف ہریالی ہوگی خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو اب ہم مزید یہ قید برداشت نہیں کرسکتیں یہ کہ کر سب آزادی آزادی کے نعرے لگانے لگیں اور بھوک ہڑتال کردی ریوڑ کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مجبورا انہیں کھول کر آزاد کردیا بکریاں بہت خوش ہوئیں اور نعرے لگاتی چھلانگیں مارتی نکل بھاگیں
مگر یہ کیا؟؟؟؟ بھیڑئیوں نے تو ان پر حملہ کردیا اور معصوم بکریوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا
آج عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے درحقیقت عورتوں تک پہنچنے کی آزادی چاہ رہے ہیں یہ ان معصوموں کے خون کے پیاسے ہیں انہیں عورتوں کے حقوق کی نہیں اپنی غلیظ پیاس کی فکر ہے کاش کہ کوئی سمجھے!!!
06/12/2016
اَلصَّلوُةًً وَالسَّلَامُ عَلَيٌكَ يَا سَيّدًِِي ياَ رَسُولَ اللهﷺ
اَلصَّلوُةًً وَالسَّلَامُ عَلَيٌكَ يَا سَيّدًِِي ياَ حبيب اللهﷺ
05/12/2016
اسی لیے میں اپنی بہنوں سے کہتا ہوں کہ کوئی غیر مرد خواہ کتنا ہی مخلص کیوں نہ ہو، آپ کو اس پر کتنا ہی اعتماد کیوں نہ ہو، اس سے ایسی کوئی بات نہ کریں جس کا سہارا لے کر کل کو وہ آپ پر انگلی اٹھا سکے، آپ کو بے عزت کرنے کی کوشش کرے۔ مجھے ان مردوں پر بھی افسوس ہوتا ہے جو ایک طرف تو ہر حال میں عورت کو احترام دینے کی باتیں کرتے ہیں اور دوسری طرف مخالفت یا کسی اور وجہ سے اس عورت کو بدنام کرتے وقت ذرا سا بھی نہیں ہچکچاتے جس نے ان پر اعتماد کرکے اپنے کچھ راز انہیں دے دیے ہوں۔ شرم آنی چاہیے انہیں اپنے اس عمل پر۔
اللہ کی بندیوں۔۔ مرد کا کچھ نہیں جائے گا اس معاشرے میں مرد کو سات خون معاف ہیں وہ کچھ بھی کرکے پاک صاف ہی رہتا ہے لیکن آپ نے اگر کسی کمزور لمحے کا شکار ہوکر، اس پر اعتماد کرکے اس سے بات کرلی، اس سے کچھ شیئر کرلیا تو آپ اس کی نظر میں عزت والی نہیں رہی۔ اب اس کو یہ حق حاصل ہوگیا کہ وہ باتوں کا حوالہ دے کر آپ کو بدنام کرسکتا ہے۔ آپ کا مذاق اڑا سکتا ہے۔ آپ کے کردار پر انگلی اٹھا سکتا ہے۔ اور اس سے کوئی نہیں پوچھے گا کہ جس گناہ کی وجہ سے بے چاری عورت تمہارے عتاب کا شکار ہورہی ہے اس میں تم بھی تو برابر کے شریک تھے۔ جو کام اس کے لیے ناجائز تھا اسے تمہارے لیے کس شریعت نے جائز کیا ہے۔
عورت کے احترام کے لمبے لمبے بھاشن دینے والو۔ کیا کوئی عورت تمہاری نظر میں اس لیے قابل احترام نہیں رہی کہ اس نے اپنی کسی غلطی کا اعتراف کرلیا تھا۔ تم کس وجہ سے اسے بے عزت کررہے ہو۔ اس کا ٹھٹھہ اڑا رہے ہو۔ صرف اس لیے کہ تم مرد ہو اور وہ بے چاری عورت۔ تمہیں شاید علم نہیں کہ جس کے قول و فعل میں اس قدر تضاد ہو وہ منافق کہلاتا ہے۔ تو میری نظر میں تم منافق ہو جو کہتے کچھ اور ہو اور کرتے کچھ اور ہو۔
حضرت علی کا قول ھے _
دوست کو اپنے اتنے ہی راز بتاو کبھی دسمنی پر آمادہ ھو تو
تم کو نقصان نہ پہنچائے۔
اللہ پاک سب کی حفاظت کریں اور عمل کی توفیق دیں
اللہ کی توفیق کے بغیر میں کچھ بھی نہیں
03/12/2016
تعلیم گاہیں یا پولٹری فارم ؟
کیا اساتذہ تھے وہ۔ تنخواہ قلیل ہے کہ کثیر، سہولتیں میسر ہیں کہ نہیں، عہدے میں ترقی ہو گی یا نہیں۔ یہ ان کا مسئلہ ہی نہیں تھا۔ ویسے بھی ان باتوں پر غور کرنے کی فرصت ہی کہاں تھی ایسے اساتذہ کے پاس۔ انھیں تو بس یہ فکر لاحق رہتی تھی کہ نالائق شاگرد کچھ پڑھ لکھ لیں، تھوڑی بہت تمیز تہذیب سیکھ لیں۔ اچھائی برائی کا بنیادی فرق جان لیں۔ پچھلوں کے مقابلے میں قدرے بہتر شہری بن جائیں۔
لغویات میں نہ پڑیں اور آج کا کام کل پر مت چھوڑیں۔ بدلے میں ان اساتذہ کو سوائے عزت و احترام اور اس خوشی کے کیا ملتا تھا کہ وہ اپنے سیکڑوں شاگردوں میں سے دو چار کے بارے میں سینہ پھلا کے کہہ سکیں کہ یہ جو آج ڈی سی بنا پھرتا ہے، فلاں جو فضائیہ میں ونگ کمانڈر ہے اور وہ جو ایم این اے ہے۔ یہ سب میرے شاگرد ہیں۔
اور پھر شاگرد بھی کیسے شاگرد تھے۔ ڈی سی صاحب ہوں کہ ونگ کمانڈر کہ ایم این اے۔ استاد کو سامنے سے آتا دیکھ کر گاڑی سے اتر جاتے، جلتی سگریٹ مٹھی میں بند کر لیتے۔ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کے ملتے۔ سر جھکائے کھڑے رہتے اور پھر بہت اٹک اٹک کے پوچھتے ’’سر ہمارے لائق کوئی خدمت، کام، حکم کوئی مشورہ، نصیحت…‘‘۔
استاد کے منہ سے سوائے اس کے کچھ نہ نکلتا کہ بس بیٹا یونہی پھلو پھولو اور انسانوں کے کام آؤ۔ اور پھر جب تک استاد کی سائیکل نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی ڈی سی صاحب یا ونگ کمانڈر صاحب یا ایم این اے صاحب اپنی جگہ سے احتراماً ہلتے بھی نہ تھے۔ یہی تو وہ ٹیچر تھے جن کے ہاتھ میں بچے کا ہاتھ دے کر کہا جاتا ’’استاد جی آج سے یہ تمہارے حوالے، گوشت تمہارا ہڈیاں ہماری‘‘ …
اور پھر سب بدل گیا۔ تعلیم کے خیمے میں پیسے، لالچ، رشوت، سفارش کا اونٹ گھس گیا اور اب تو پورا خیمہ ہی اس اونٹ کے کوہان پر ہے۔ جس کو کہیں نوکری نہیں ملتی وہ پرچی اور پیسے کے زور پر کسی سرکاری اسکول میں ٹیچر بھرتی ہو جاتا ہے۔ تنخواہ کو وظیفہِ آسمانی سمجھتا ہے اور مہینے کی پہلی تاریخوں میں اسکول کا چکر لگانے کا بھی تکلف کر لیتا ہے۔ نہ وہ اپنے شاگردوں کی صورت اور نام سے پوری طرح واقف ہوتا ہے اور نہ ہی شاگردوں کو اس کی شکل ٹھیک سے یاد رہتی ہے۔
دن میں اس کا زیادہ دھیان پڑھانے سے زیادہ اس میں اٹکا رہتا ہے کہ کب کسی من پسند جگہ پر تبادلہ ہو۔ کب نیا انکریمنٹ لگے اور کب وہ پانچ برس میں ملنے والی ترقی صرف ڈیڑھ برس میں پا لے۔ شام کو یہی ٹیچر ٹیوشن سینٹر میں اپنے ہی اسکولی شاگردوں کو فی مضمون علیحدہ علیحدہ پیسے لے کر پڑھاتا ہے اور وہی کچھ پڑھاتا ہے جو اصولاً اسے دن میں اسکول میں فرض کے طور پر پڑھانا چاہیے۔
جہاں تک پرائیویٹ سیکٹر کا معاملہ ہے تو اوپر کے مہنگے مہنگے اسکولوں کو چھوڑ کے باقی سب اسکول بس ایک چھوٹے سے گھر پر بڑا سا بورڈ لگا کے انگلش میڈیم ہو جاتے ہیں۔ استاد بھرتی پہلے ہوتا ہے اور انگریزی پڑھانے کا طریقہ بعد میں سیکھتا ہے۔ ان اسکولوں کے اکثر مالکان کا تعلیم کے فروغ سے کوئی لینا دینا نہیں۔
ریسٹورنٹ نہ کھولا، ورکشاپ نہ بنائی، اسکول کھول لیا۔ محض اس لیے کہ آج کل تعلیمی بزنس میں ریسٹورنٹ یا ورکشاپ سے زیادہ کمائی ہے۔ کل اگر منافع میں خسارہ شروع ہو گا اور کچرا فروخت کرنے میں زیادہ منافع نظر آئے گا تو یہی عمارت جس پر آج اسکول کا بورڈ لگا ہے کچرا کنڈی میں بدل جائے گا اور پرسوں یہاں زیور بنانے کا کارخانہ کھل جائے گا اور ترسوں…
استاد اور شاگرد کا رشتہ جانے آج بھی زندگی بھر کا رشتہ ہے کہ نہیں۔ پرانے دور کے سرکاری و مشنری اسکولوں میں جو لوگ پڑھ چکے ہیں۔ انھیں آج پچاس ساٹھ برس بعد بھی اپنے ایک ایک استاد کا نام خوبیوں اور خامیوں اور لطائف سمیت یاد ہے کیونکہ انھوں نے ان اساتذہ کے ساتھ دس دس سال ایک ہی عمارت میں گزارے۔
آج میرا بیٹا بظاہر ایک اچھے ولائیتی انداز کے اسکول میں پڑھ رہا ہے۔ مگر جب بھی وہ اگلے گریڈ میں جاتا ہے اس کے اسکول کی عمارت بدل جاتی ہے۔ کے جی میں کوئی اور بلڈنگ تھی، نرسری میں کوئی اور، پرائمری میں کہیں اور، سیکنڈری میں بہت ہی دور کہیں اور۔ ہر سال نئے اساتذہ کے چہرے اور اگلے برس پھر نئے چہرے۔ میرا بیٹا پڑھ تو جائے گا مگر کس ٹیچر کو کب تک یاد رکھ پائے گا؟
مجھے تو آج کے یہ ماڈرن اسکول درسگاہیں کم اور پولٹری فارم زیادہ لگتے ہیں۔ چوزے ایک سائیڈ پر، یہی چوزے ذرا بڑے ہوئے تو ایک اور شیڈ میں ایک اور کیئرٹیکر کے ساتھ اور پھر مرغی کے سائز کے ہوئے تو کسی اور رکھوالے کے حوالے اور بالاخر زندگی کی قربان گاہ کے حوالے۔
ان تعلیمی مرغی خانوں سے جو پیداوار نکلتی ہے دیکھنے میں تو وہ موٹے تازے خوبرو چکن ہی ہوتے ہیں مگر ان کا گوشت دیسی مرغوں کے برعکس دو آنچ میں ہی گل جاتا ہے۔ سامنے کی مثال سی ایس ایس کے امتحانات میں بیٹھنے والے امیدواروں کی ہے۔ یہ امیدوار اس ملک کی قسمت کے فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ خواہش کرنے یا خواب دیکھنے میں کوئی برائی نہیں مگر کوئی حال اپنا بھی تو ہو۔
ایک انگریزی اخبار کے مطابق اس سال سی ایس ایس کے تحریری امتحان میں نو ہزار چھ سو تینتالیس گریجویٹ (ایم اے، بی اے، بی ایس سی، بی کام وغیرہ) امیدوار بیٹھے۔ ان میں سے صرف دو سو دو امیدوار ہی کامیاب ہو سکے۔ یعنی نتیجہ دو اعشاریہ نو فیصد رہا۔ جب کہ سن دو ہزار گیارہ میں مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے والے نو اعشاریہ پچھتر فیصد امیدوار تحریری امتحان میں کامیاب ہوئے تھے۔
سامنے یہ بات آئی کہ امیدواروں کی اکثریت انگریزی میں ایک اوریجنل پیرا بھی لکھنے سے قاصر ہے۔ وہ گرائمر اور تحریر کے بنیادی قواعد سے خاصے نابلد ہیں اور اگر انھیں لکھنا آتا بھی ہے تو اپنے خیالات کو کسی منطقی انداز میں ڈھالنے سے قاصر ہیں۔
چنانچہ وفاقی پبلک سروس کمیشن ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مشورہ کر رہا ہے کہ اس زبوں حالی کی وجہ کیا ہے؟ اس بات سے مجھے خود پبلک سروس کمیشن کی ذہنی زبوں حالی کا اندازہ ہو سکتا ہے جسے اب تک یہی نہیں معلوم کہ جڑ کمزور ہو تو درخت بھی ٹنڈ منڈ ہوتا ہے۔
اگر کچھ کرنا ہی ہے تو پھر اصل کام یہ ہے کہ ان امیدواروں پر رونے پیٹنے کے بجائے اس تعلیمی مشین کو پرزہ پرزہ کر کے دوبارہ جوڑیں جس نے تعلیم کو صنعتِ مرغ بانی میں بدل دیا ہے۔ ایجوکیشنل پولٹری فارمز سے یہ چوزے نکال کر وہ مرغے جوان کیے جا رہے ہیں جن کا گوشت نہ کھانے کا، نہ کسی کو بھیجنے کا، نہ پھینکنے کا۔
27/11/2016
خانہ کعبہ کا اندرونی 3D منظر ضرور دیکھیں اور یہ زیارت شیئر کر کے سب کو نصیب کروائیں، جزاک الله
↑↑ اوپر انگوٹھے کو دبا کر ہمارا پیج ضرورلائیک کریں