جانور کی اوجھڑی کھانا
مکروہ تحریمی و ناجائز ہے ۔
Sayed Shafiq Attari
🌟 Quran Academy — Nurturing hearts & minds through authentic Qur’anic education.
We teach Qur’an, Tajweed, Memorization (Hifz), and Islamic studies for all ages.
📘 Empowering learners with knowledge, devotion & confidence.
چوری کے جانور کی قربانی کرنا کیسا ہے؟
جس چیز کے بارے میں کنفرم معلوم ہے کہ یہ چیز چوری کی ہے اس کو نہیں خرید سکتے کیونکہ وہ مالک کی ملکیت پر باقی ہے بغیر اس کی اجازت خریدنا جائز نہیں لہذا ایسے جانور کو خرید کر قربانی جیسا اسلامی فریضہ ادا نہیں کر سکتے
اللہ کو گاڈ اوپر والا اور اللہ میاں کہنا کیسا؟
(الف) گاڈ انگریزی کا لفظ ہے، اس کے معنی ہیں محافظ، اس لحاظ سے اللہ تعالی کو گاڈ کہنے میں کوئی حرج نہیں ،لیکن چونکہ خدا کو گاڈ کہنا عیسائیوں کا عرف اور ان کا شعار ہے لہذا مسلمانوں کو اس سے احتراز کرنا چاہیے۔(شارح بخاری ج 1 ص 173)
(ب) اور اللہ تبارک وتعالی کی ذات کے لئے لفظ ''اُوپر والا ''بولنا کُفْر ہے کہ اِس لفْظ سے اسکے لئے جِہَت(یعنی سَمت)کا ثُبُوت ہوتا ہے اور اس کی ذات جِہَت (سَمت)سے پاک ہے جیسا کہ حضرت علامہ سعدُ الدِّین تَفْتازَانِی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:''اللہ تبارک وتعالی مکان میں ہونے سے پاک ہے اور جب وہ مکان میں ہونے سے پاک ہے توجِہَت(یعنی سَمت)سے بھی پاک ہے ، (اِسی طرح )اُوپر اور نِیچے ہونے سے بھی پاک ہے ۔"(شرحُ الْعقائدص60)
حضرتِ علامہ ابنِ نُجَیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نقل فرماتے ہیں :''جواللہ عزوجل کو اُوپر یا نِیچے قرار دے تو اُس پر حکمِ کُفر لگایا جائے گا۔ ''( اَلْبَحْرُ الرَّائِق ج 5 ص 203)
لیکن اگر کوئی شخص یہ جملہ بُلندی و برْتَری کے معنیٰ میں استعمال کرے تو قائِل پر حُکْمِ کفر نہ لگائیں گے مگر اِس قَول کو بُرا ہی کہیں گے اورقائِل کو اِس سے روکیں گے ۔(فتاویٰ فیض الرسول ج1 ،ص2،شبیربرادرز)
(ج) اوراللہ تعالی کو میاں کہنا بھی منع ہے۔ چنانچہ فتاوی شارح بخاری میں ہے:اللہ عزوجل کو میاں کہنا منع ہے ،وجہ یہ ہے کہ میاں کے تین معنی ہیں:مالک ،شوہر،زناکا دلال۔اور جس لفظ کے چند معنی ہوں اور کچھ معنی خبیث ہوں اور وہ لفظ شرع میں وارد نہ ہو تو اس کا اطلاق اللہ عزوجل پر منع ہے۔ (فتاوی شارح بخاری،ج1،ص137،مکتبہ برکات المدینہ)
17/05/2026
*نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ کے لئے دعا*
17/05/2026
*توکل کا مطلب کیا ہے؟*
توکل کا مطلب یہ نہیں کہ تم محنت چھوڑ دو۔
توکل کا مطلب ہے
1. *پہلے اپنی پوری کوش کرو* – جیسے نبی ﷺ نے فرمایا: _"اونٹ کو باندھو، پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔"_
2. *پھر نتیجہ اللہ کے حوالے کر دو* – کیونکہ کامیابی اور ناکامی صرف اسی کے ہاتھ میں ہے
*توکل کے 3 فائدے:*
دل کو سکون ملتا ہے جب تم جان لو کہ سب اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے، فکر کم ہو جاتی ہے۔ *مایوسی دور ہوتی ہے* اگر کوش کے بعد بھی نہ ملے، تو یقین ہوتا ہے کہ اس میں بہتری تھی۔
اللہ کی مدد آتی ہے قرآن میں ہے _جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔"_
15/05/2026
15/05/2026
#
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Telephone
Website
Address
Rahimyar Khan
64180