26/08/2026
03007496224
[8/24, 5:48 PM] null: *والدین بچوں کو اپنی غلطی تسلیم کرنا بھی سکھائیں!*
غلطی کرنا برا نہیں... غلطی چھپانا عادت بن جائے، تو یہ فکر کی بات ہے۔
ہر بچہ کبھی نہ کبھی غلطی کرتا ہے۔ گلاس ٹوٹ جاتا ہے، کھلونا خراب ہو جاتا ہے یا کسی سے سخت بات ہو جاتی ہے۔ ایسے وقت میں اگر بچہ ڈر کی وجہ سے جھوٹ بولنے لگے یا دوسروں پر الزام ڈال دے، تو اسے سزا سے زیادہ رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اپنے بچے کو یہ بھی سکھائیں کہ:
🌸 غلطی ہو جائے تو اسے مان لینے میں شرمندگی نہیں ہوتی۔
🌸"یہ مجھ سے ہوا ہے" کہنا بہادری کی علامت ہے۔
🌸 اپنی غلطی دوسروں پر ڈالنا مسئلہ حل نہیں کرتا۔
🌸 غلطی ماننے کے بعد اسے درست کرنے کی کوشش کرنا اصل کامیابی ہے۔
ایک بات والدین کے لیے بھی سمجھنا ضروری ہے :
اگر ہم خود کبھی بچوں سے یہ کہہ دیں کہ بیٹا! یہ میری غلطی تھی، مجھے معاف کر دو۔
تو ہم صرف ایک جملہ نہیں کہتے، بلکہ بچوں کو زندگی کا بہت بڑا سبق سکھاتے ہیں۔
یاد رکھیے:
جو بچہ اپنی غلطی تسلیم کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ سچا، ذمہ دار اور مضبوط کردار کا مالک بنتا ہے۔ ایسے بچے دوسروں کا اعتماد بھی آسانی سے جیت لیتے ہیں۔
آج اپنے بچے سے صرف ایک بات ضرور کہیے:
غلطی سے مت ڈرو، اسے چھپانے سے ڈرو۔ کیونکہ اچھے لوگ غلطی نہیں چھپاتے، بلکہ اسے مان کر خود کو بہتر بناتے ہیں۔🌹🌷🌹🌷
خوش رہنے کا ایک باوقار اصول
خوش رہنے کے لیے زندگی میں ہر خواہش کا پورا ہونا ضروری نہیں، بلکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے، اسے قدر و شکر کی نگاہ سے دیکھنا ضروری ہے۔
جو کھو گیا، اس پر صبر کیجیے؛
جو مل گیا، اس پر شکر کیجیے؛
جو نہیں ملا، ممکن ہے وہ محض ایک خواب ہو؛
اور جو حاصل ہے، یقیناً وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک بے مثال نعمت ہے۔
انسان اگر اپنی نظر دوسروں کی نعمتوں کے بجائے اللہ کی عطاؤں پر رکھے تو دل شکوے سے نکل کر شکر کی طرف آ جاتا ہے، اور یہی شکر زندگی کو حقیقی سکون عطا کرتا ہے۔
جو ملا، اسے نعمت سمجھیں؛
جو نہ ملا، اسے حکمت سمجھیں؛
اور جو چلا گیا، اسے اللہ کی تقدیر سمجھ کر دل مطمئن رکھیں۔
کیونکہ سکون اُس وقت ملتا ہے جب انسان اپنی خواہشوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر بھروسا کرنا سیکھ لیتا ہے 🌷🌹🌹🌷🌹🌷 *استغفر اللہ کی تسبیح کریں، بہت زیادہ کریں۔ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے کریں۔ زندگی میں اتنی خیر داخل ہو جائے گی، کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔ جو بات سوچیں گے، قبولیت کا ذریعہ بن جائے گا،رُکے کام بننا شروع ہو جائیں گے۔*
استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتوب اليه🌹🌹🌷🌷🌹🌹🌷
[8/26, 6:02 AM] null: ایمان افروز واقعہ
حضرت عبداللہ بن مبارکؒ، جو امت کے عظیم محدث اور سخی بزرگ تھے، ایک بار قافلے کے ساتھ حج کے سفر پر روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک ویران علاقے کے پاس سے گزرتے ہوئے ان کی نظر ایک کوڑے دان پر پڑی، جہاں ایک چھوٹی لڑکی مردار مرغی اٹھا کر اپنے گھر کی طرف جا رہی تھی
عبداللہ بن مبارکؒ کو حیرت ہوئی، انہوں نے قدم روکے اور اس بچی کے پیچھے جا کر اس سے پوچھا: "بیٹی! تم نے کوڑے دان سے یہ مردار مرغی کیوں اٹھائی؟ اسلام میں مردار کھانا حرام ہے۔"
بچی نے معصومیت سے ان کی طرف دیکھا اور ایسی بات کہی جس نے عبداللہ بن مبارکؒ کا دل دہلا دیا:
"اے شیخ! میری اور میرے چھوٹے بھائی کی ماں کا انتقال ہو چکا ہے، اور میرے باپ کو ظلماً شہید کر دیا گیا ہے۔ ہمارے گھر میں تین دن سے کھانے کو ایک لقمہ نہیں ہے۔ ہم بھوک سے مر رہے ہیں۔ یہ مردار کھانا آپ کے لیے حرام ہو سکتا ہے، لیکن ہماری حالتِ اضطرار میں جان بچانے کے لیے حلال ہو چکا ہے۔"
یہ سن کر حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ انہوں نے فوراً اپنے قافلے کو روکا اور خزانچی سے پوچھا: "ہمارے پاس حج کے سفر کے لیے کتنا سامان اور رقم باقی ہے؟"
خزانچی نے جواب دیا: "حضور! ایک ہزار دینار۔"
انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فرمایا: "اس میں سے صرف اتنی رقم رکھ لو جس سے ہم واپس اپنے گھر پہنچ سکیں، اور باقی تمام دینار اور سامان اس بچی کے سپرد کر دو۔ اس مظلوم خاندان کی بھوک مٹانا، آج ہمارے نفل حج سے کہیں زیادہ افضل اور بڑا کام ہے۔"
قافلہ وہیں سے واپس لوٹ گیا۔ اس سال عبداللہ بن مبارکؒ اور ان کے ساتھی حج نہ کر سکے۔ لیکن جب دیگر حاجی حج کر کے واپس آئے، تو جو بھی عبداللہ بن مبارکؒ سے ملتا، وہ کہتا: "مبارک ہو! ہم نے آپ کو مکہ اور عرفات کے میدان میں اپنے ساتھ حج کرتے دیکھا ہے۔"
جب انہوں نے تعجب کا اظہار کیا، تو انہیں خواب میں بشارت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عمل سے خوش ہو کر ایک فرشتہ ان کی شکل میں بھیج دیا تھا جس نے ان کی طرف سے حج ادا کیا، اور ان کے اس ایک صدقے کی برکت سے اس سال کے تمام حاجیوں کا حج قبول فرما لیا۔
یہ واقعہ دل کو ہلا دیتا ہے کہ ظاہری عبادات سے کہیں زیادہ اہمیت انسانیت کی خدمت، مظلوم کی دستگیری اور کسی کا درد بانٹنے
کی ہے🌷🌹🌹🌷🌷🌹🌹🌷🌷🌹