03/07/2023
For Donate Contact With Us
مدرسہ جامعہ اشاعت القرآن و جامع مسجد عثمان غنی میں قرآن مجید کی تعلیم بالکل مفت دی جاتی ہے۔
03/07/2023
For Donate Contact With Us
بطور مسلمان میں سویڈن میں سرکاری سرپرستی میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف سویڈش حکومت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
میں حکومت پاکستان چیف آف آرمی اسٹاف
چیف جسٹس،
چیئر مین سینیٹ اور
تمام ارباب اختیار
سے سویڈن کے سفیر کو فوری طور پر ملک سے نکالنے اور اپنے پاکستانی سفیر کو واپس بلانے اور حکومت اور تمام علمائے کرام سے سویڈن کے خلاف سخت سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کرتا ہوں۔
محمد امیر ملانی ناظم اعلیٰ مدرسہ جامعہ اشاعت القرآن و جامع مسجد عثمان غنی رحیم یار خان
20/04/2023
عقل والوں کے لیے زبردست مثال ہے - 😍
ھم ”تربوز“ خریدتے ہیں مثلاً پانچ کلو کا ایک دانہ.. جب اسے کھاتے ھیں تو پہلے اس کاموٹا چھلکا اتارتے ھیں.. پانچ کلو میں سے کم ازکم ایک کلو چھلکا نکلتا ہے.. یعنی تقریبا بیس فیصد.. کیا ھمیں افسوس ھوتا ہے؟ کیا ھم پریشان ھوتے ھیں؟ کیا ھم سوچتے ھیں کہ ھم تربوز کو چھلکے کے ساتھ کھا لیں؟..
نہیں بالکل نہیں.. یہی حال کیلے، مالٹے کا ہے..
ھم خوشی سے چھلکا اتار کر کھاتے ھیں.. حالانکہ ھم نے چھلکے سمیت خریدا ھوتا ہے.. مگر چھلکا پھینکتے وقت تکلیف نہیں ھوتی..
ھم مرغی خریدتے ھیں.. زندہ، ثابت.. مگر جب کھانے لگتے ھیں تو اس کے بال، کھال اور پیٹ کی آلائش نکال کر پھینک دیتے ھیں.. کیا اس پر دکھ ہوتا ہے؟.. نہیں..
تو پھر چالیس ہزار میں سے ایک ہزار دینے پر.. ایک لاکھ میں سے ڈھائی ہزار دینے پر کیوں ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے؟.. حالانکہ یہ صرف ڈھائی فیصد بنتا ہے.. یعنی سو روپے میں سے صرف ڈھائی روپے..
یہ تربوز، کیلے، آم اور مالٹے کے چھلکے اور گٹھلی سے کتنا کم ہے.. اسے ”زکوۃ“ فرمایا گیا ہے.. یہ پاکی ہے.. مال بھی پاک.. ایمان بھی پاک.. دل اور جسم بھی پاک اور ماشرہ بھی خوشحال..انشاءاللہ امید ھے میری بات سے اپ متفق ھونگے ...
طالب دعا محمد امیر ملانی ناظم اعلیٰ مدرسہ جامعہ اشاعت القرآن و جامع مسجد عثمان غنی ( رحیم یار خان )
#ماہِ_شعبان اور #شبِ_برات کے حوالے سے چند مشہور سوالات اور ان کے جوابات
کیا شعبان کی 15 تاریخ کو لوگوں کی تقدیروں اور موت حیات وغیرہ کے فیصلے ہوتے ہیں ؟
#جواب:
جی نہیں، قرآن و حدیث سے ایسا کچھ ثابت نہیں ، بلکہ اللّه تعالیٰ نے انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اسکی زندگی اور موت وغیرہ کے فیصلے لکھ دیے ہیں ۔
اللّه تعالیٰ نے فرمایا :
" اللّه کے حکم کے بنا کوئی جاندار نہیں مر سکتا, مقرر شدہ وقت لکھا ہوا ہے."
(سورة آل عمران
آیة : 145)
اور
رسول اللّه صلی اللّه علیہ و سلم نے فرمایا :
" اللّه تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے 50 ہزار سال قبل ہی سب کی تقدیریں لکھ دی تھیں۔"
(صحیح مسلم ، کتاب القدر ، حدیث : 4797)
کیا 15 شعبان کو خاص طور پر اعمال نامہ اللّه کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں ؟
#جواب :
جی نہیں ، ایسی کوئی صحیح حدیث نہیں جس میں صرف 15 شعبان کو اعمال پیش ہونے کا ذکر ہو ۔ بلکہ ہر روز اعمال اللّه کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں ۔
رسول اللّه صلی اللّه علیہ و سلم نے فرمایا :
" رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اللّه کی طرف چڑھتے (پیش ہوتے) ہیں۔"
(صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، حدیث : 447)
کیا اللّه تعالیٰ صرف 15 شعبان کی رات پہلے آسمان (آسمانِ دنیا) پر نزول فرماتا ہے ؟ اور کیا ہمیں صرف 15 شعبان کی رات عبادت کرنی چاہیے ؟
#جواب :
جی نہیں ، کسی بھی صحیح حدیث سے یہ بات ثابت نہیں کہ اللّه تعالیٰ صرف 15 شعبان کی رات دنیا کے آسمان پر نزول فرماتا ہے ، بلکہ اللہ تعالیٰ ہر رات دنیا کے آسمان پر نزول فرماتا ہے ۔
رسول اللّه صلی اللّه علیہ و سلم نے فرمایا :
" ہمارا رب بلند اور برکت والا ہر رات جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو دنیا کے آسمان (پہلے آسمان) کی طرف نزول فرماتا ہے اور پکارتا ہے : "کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تا کہ میں اسکی دعا قبول کروں ، کون ہے جو مجھ سے مانگے تا کہ میں اسے عطا کروں ، کون ہے جو مجھ سے بخشش طالب کرے تا کہ میں اسے معاف کر دوں۔"
(صحیح بخاری ، کتاب التہجد ، حدیث : 1145)
کیا خصوصی طور پر 15 شعبان کو روزہ رکھنا ثابت ہے ؟
#جواب :
جی نہیں ، کسی بھی صحیح حدیث میں صرف 15 شعبان کو روزہ رکھنے کا ذکر نہیں ، بلکہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ و سلم ماہِ شعبان کے اکثر ایام روزے سے گزارتے تھے ۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ مطہرہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں :
"میں نے نبی صلی اللّه علیہ و سلم کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں اتنے (نفلی) روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔"
(صحیح بخاری ، کتاب الصوم ، حدیث : 1969)
کیا 15 شعبان کی رات فوت شدگان کی روحیں گھروں کی طرف لوٹتی ہیں ؟ اور کیا اس رات خصوصی طور پر قبرستان جانا چاہیے ؟
#جواب :
جی نہیں ، جب کوئی بندہ فوت ہو جاتا ہے تو اسکی روح اس دنیا سے عالم ارواح منتقل ہو جاتی ہے اور دنیا سے اسکا رابطہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتا ہے ۔
اللّه تعالیٰ نے فرمایا :
" یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے رب ، مجھے واپس لوٹا دے تاکہ میں اس (دنیا) میں نیک کام کروں جسے میں چھوڑ آیا ہوں ، (اللّه فرماۓ گا) ہرگز نہیں، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ (حسرت سے) کہنے والا ہے ، اور ان سب (روحوں) کے آگے اس دن تک ایک برزخ (آڑ) ہے جس دن وہ (قبروں سے) اُٹھائے جائیں گے۔"
(سورة المومنون آیة : 99 - 100)
اور 15 شعبان کی رات خصوصی طور پر قبرستان جانے کے حوالے سے کوئی صحیح حدیث نہیں ، ویسے بھی قبرستان جانے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ وہاں جا کر صرف اہل قبرستان کے لئے دعا کی جاۓ ، کیوں فوت شدگان کے لئے مغفرت کی دعا تو مسجد میں اور گھر بیٹھ کر بھی کی جا سکتی ہے ، بلکہ قبرستان جانے کا اصل مقصد موت کو یاد کرنا ہوتا ہے ۔
رسول اللّه صلی اللّه علیہ و سلم نے فرمایا :
" قبروں کی زیارت کیا کرو ، یہ موت یاد دلاتی ہیں۔"
(صحیح مسلم ، کتاب الجنائز ، حدیث : 976)