آج تحصیل و ضلع صوابی کے لیے چونسہ آم کی ایک پیٹی کا آرڈر تھا جو MnP کوریئر کے ذریعے بھجوا دی ہے
اگر کسی اور بھائی کو رحیم یارخان کے چونسہ آم 🥭درکار ہوں تو آرڈر کر سکتا ہے
پورے پاکستان کے لیے ڈیلیوری کی سہولت موجود ہے
رابطہ نمبر 03136688357
Dawat O Tabligh
I'm a marketplace expert and work at Facebook
26/06/2025
VVIP mangoes for sale
21/06/2025
اکرام مسلم کے ذریعے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے اور جڑے ہوؤں کو مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہے آم🥭کا سیزن
اپنے دوستوں یاروں رشتہ داروں اور دور دراز کے پیاروں کو آم کا تحفہ بھیجیں
خوشبو دار، رسیلے اور میٹھے آم 🥭
جہاں معیار اور ذائقہ ملتا ہوتا ہے
🍋🥭 🥭🍋
پاکستان کے اعلیٰ ترین رحیم یار خان کےآم کی تازگی اور مٹھاس اب آپ کی دہلیز پر! یہ آم اپنی باریک چھلکے، رسیلے گودے اور منفرد خوشبو کی وجہ سے سب کی پسندیدہ قسم ہے۔ اگر آپ خالص، تازہ اور اعلیٰ معیار کے آم چاہتے ہیں، تو ابھی آرڈر کریں!🥭🥭
📦 ہوم ڈلیوری پورے پاکستان میں دستیاب 📍 کراچی، لاہور، ملتان، اسلام آباد، راولپنڈی، اور دیگر شہروں میں فراہمی🥭🥭
ایک پیٹی کی قیمت2150 روپے ہے
ڈیلیوری چارجز 350 روپے
اور وزن 10 کلو گرام ہے
ڈلیوری آل اوور پاکستان کے لیے ہے
۔آرڈر بُک کروانے کے لئے اپنا نام ,موبائل نمبر اور مکمل پتہ سینڈ کریں
2 سے 3 دن میں آرڈر موصول ہوتا ہے
📦 آرڈر کے لیے رابطہ کریں:
📲 03136688357
18/06/2025
3 پیٹیاں فیصل آباد کے لیے روانہ کیں آج 🥭♥️🥭♥️🥭
اکرام مسلم کے ذریعے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے اور جڑے ہوؤں کو مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہے آم🥭کا سیزن
اپنے دوستوں یاروں رشتہ داروں اور دور دراز کے پیاروں کو آم کا تحفہ بھیجیں
خوشبو دار، رسیلے اور میٹھے آم 🥭
جہاں معیار اور ذائقہ ملتا ہوتا ہے
🍋🥭 🥭🍋
پاکستان کے اعلیٰ ترین رحیم یار خان کےآم کی تازگی اور مٹھاس اب آپ کی دہلیز پر! یہ آم اپنی باریک چھلکے، رسیلے گودے اور منفرد خوشبو کی وجہ سے سب کی پسندیدہ قسم ہے۔ اگر آپ خالص، تازہ اور اعلیٰ معیار کے آم چاہتے ہیں، تو ابھی آرڈر کریں!🥭🥭
📦 ہوم ڈلیوری پورے پاکستان میں دستیاب 📍 کراچی، لاہور، ملتان، اسلام آباد، راولپنڈی، اور دیگر شہروں میں فراہمی🥭🥭
ایک پیٹی کی قیمت2000 روپے ہے
ڈیلیوری چارجز 350 روپے
اور وزن 10 کلو گرام ہے
ڈلیوری آل اوور پاکستان کے لیے ہے
پہلے پارسل کھول کر مال چیک کریں۔اور بعد میں پیمنٹ کریں۔
ڈلیوری ٹائم پارسل کھول کے چیک کریں پسند آ جائے رکھ لیں نہ پسند آئے ٹی سی ایس والے کو واپس کر دیں اگر ڈلیوری والا کہے پارسل کھول کے چیک نہیں کروانا تو اپ ہماری بات کروا دیں جزاک اللہ
۔آرڈر بُک کروانے کے لئے اپنا نام ,موبائل نمبر اور مکمل پتہ سینڈ کریں
2 سے 3 دن میں آرڈر موصول ہوتا ہے
📦 آرڈر کے لیے رابطہ کریں:
📲 03136688357
17/06/2025
اکرام مسلم کے ذریعے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے اور جڑے ہوؤں کو مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہے آم🥭کا سیزن
اپنے دوستوں یاروں رشتہ داروں اور دور دراز کے پیاروں کو آم کا تحفہ بھیجیں
خوشبو دار، رسیلے اور میٹھے آم 🥭
جہاں معیار اور ذائقہ ملتا ہوتا ہے
🍋🥭 🥭🍋
پاکستان کے اعلیٰ ترین رحیم یار خان کےآم کی تازگی اور مٹھاس اب آپ کی دہلیز پر! یہ آم اپنی باریک چھلکے، رسیلے گودے اور منفرد خوشبو کی وجہ سے سب کی پسندیدہ قسم ہے۔ اگر آپ خالص، تازہ اور اعلیٰ معیار کے آم چاہتے ہیں، تو ابھی آرڈر کریں!🥭🥭
📦 ہوم ڈلیوری پورے پاکستان میں دستیاب 📍 کراچی، لاہور، ملتان، اسلام آباد، راولپنڈی، اور دیگر شہروں میں فراہمی🥭🥭
ایک پیٹی کی قیمت2000 روپے ہے
ڈیلیوری چارجز 350 روپے
اور وزن 10 کلو گرام ہے
ڈلیوری آل اوور پاکستان کے لیے ہے
پہلے پارسل کھول کر مال چیک کریں۔اور بعد میں پیمنٹ کریں۔
ڈلیوری ٹائم پارسل کھول کے چیک کریں پسند آ جائے رکھ لیں نہ پسند آئے ٹی سی ایس والے کو واپس کر دیں اگر ڈلیوری والا کہے پارسل کھول کے چیک نہیں کروانا تو اپ ہماری بات کروا دیں جزاک اللہ
۔آرڈر بُک کروانے کے لئے اپنا نام ,موبائل نمبر اور مکمل پتہ سینڈ کریں
2 سے 3 دن میں آرڈر موصول ہوتا ہے
📦 آرڈر کے لیے رابطہ کریں:
📲 03136688357
5 پیٹیاں لاہور کے لیے روانہ کرتے ہوئے 🥭♥️🥭♥️🥭
گھر کا خراب بستر ہسپتال کے بیڈ سے بہتر ہے اور رزق کی تنگی سانس کی تنگی سے
بہتر ہے لہذا ہر حال میں اللہ تعالی کا شکر ادا کریں
12/06/2025
سیرت سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ
قسط نمبر 2
ماہِ نبوت طلوع ہوا
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ کی آنول نال کٹی ہوئی تھی۔{آنول نال کو بچے پیدا ہونے کے بعد دایہ کاٹتی ہے۔}
آپ ختنہ شدہ پیدا ہوئے۔عبدالمطلب یہ دیکھ کر بےحد حیران ہوئے اور خوش بھی۔وہ کہا کرتے تھے، میرا بیٹا نرالی شان کا ہوگا۔{الہدایہ}
آپ کی پیدائش سے پہلے مکّہ کے لوگ خشک سالی اور قحط کا شکار تھے۔لیکن جونہی آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت قریب آیا۔بارشیں شروع ہوگئیں ، خشک سالی دور ہوگئی۔درخت ہرے بھرے ہوگئے اور پھلوں سے لد گئے۔زمین پر سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا۔
پیدائش کے وقت آپ اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے۔سر آسمان کی طرف تھا۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے۔مطلب یہ کہ سجدے کی سی حالت میں تھے۔{طبقات}
آپ کی مٹھی بند تھی اور شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی تھی۔جیسا کہ ہم نماز میں اٹھاتے ہیں ۔
حضور انور ﷺ فرماتے ہیں :
"جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا۔اس نور سے شام کے محلات جگمگا اٹھے۔" ( طبقات )
آپ ﷺ کی والدہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں :
"محمد( ﷺ )کی پیدائش کے وقت ظاہر ہونے والے نور کی روشنی میں مجھے بصری میں چلنے والے اونٹوں کی گردنیں تک نظر آئیں ۔"
علامہ سہلی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ نے اللہ کی تعریف کی۔ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں :
"اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا ۔
"اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اللہ تعالیٰ کی بےحد تعریف ہے اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ۔"
آپ کی ولادت کس دن ہوئی؟ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ پیر کا دن تھا۔آپ صبح فجر طلوع ہونے کے وقت دنیا میں تشریف لائے۔
تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بہت سے قول ہیں ۔ایک روایت کے مطابق 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ایک روایت 8 ربیع الاول کی ہے، ایک روایت 2 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔اس سلسلے میں اور بھی بہت سی روایات ہیں ۔زیادہ تر مورخین کا خیال ہے کہ آپ 8 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔تقویم کے طریقہ کے حساب سے جب تاریخ نکالی گئی تو 9 ربیع الاول نکلی۔مطلب یہ کہ اس بارے میں بالکل صیح بات کسی کو معلوم نہیں ۔اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مہینہ ربیع الاول کا تھا اور دن پیر کا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو پیر کے دن ہی نبوت ملی۔پیر کے روز ہی آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پیر کے روز ہی آپ کی وفات ہوئی۔
آپ عام الفیل میں پیدا ہوئے۔یعنی ہاتھیوں والے سال میں ۔اس سال کو ہاتھیوں والا سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی۔
آپ کی پیدائش اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد ہوئی تھی -
واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ
ابرہہ یمن کا عیسائی حاکم تھا - حج کے دنوں میں اس نے دیکھا کہ لوگ بیت اللہ کا حج کرنے جاتے ہیں - اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا :
" یہ لوگ کہاں جاتے ہیں "
اسے جواب ملا:
" بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں "
اس نے پوچھا:
" بیت اللہ کس چیز کا بنا ہوا ہے"
اسے بتایا گیا :
" پتھروں کا ہے "
اس نے پوچھا :
" اس کا لباس کیا "
بتایا گیا
" ہمارے ہاں سے جو دھاری دار کپڑا جاتا ہے اس سے اس کی پوشاک تیار ہوتی ہے "
ابرہہ عیسائی تھا - ساری بات سن کر اس نے کہا ":
"مسیح کی قسم! میں تم لوگوں کے لیے اس سے اچھا گھر تعمیر کروں گا "
اس طرح اس نے سرخ " سفید " زرد " اور سیاہ پتھروں سے ایک گھر بنوایا - سونے اور چاندی سے اس کو سجایا اس میں کئی دروازے رکھوائے اس میں سونے کے پترے جڑوائے - اس کے درمیان میں جواہر لگوائے - اس مکان میں ایک بڑا سا یاقوت لگوایا - پردے لگوائے " وہاں خوشبوئیں سلگانے کا انتظام کیا - اس کی دیواروں پر اس قدر مشک ملا جاتا تھا کہ وہ سیاہ رنگ کی ہوگئیں - یہاں تک کہ جواہر بھی نظر نہیں آتے تھے۔
پھر لوگوں سے کہا:
" اب تمہیں بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جانے کی ضرورت نہیں رہی, میں نے یہیں تمہارے لیے بیت اللہ بنوادیا ہے لہٰذا اب تم اس کا طواف کرو "
اس طرح کچھ قبائل کئی سال تک اس کا حج کرتے رہے - اس میں اعتکاف کرتے رہے - حج والے مناسک بھی یہیں ادا کرتے رہے -
عرب کے ایک شخص نفیل خشمی سے یہ بات برداشت نا ہوسکی - وہ اس مصنوعی خانۂ کعبہ کے خلاف دل ہی دل میں کڑھتا رہا -آخر اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ابرہہ کی اس عمارت کو گندہ کرکے چھوڑے گا -پھر ایک رات اس نے چوری چھپے بہت سی گندگی اس میں ڈال دی -ابرہہ کو معلوم ہوا تو سخت غضب ناک ہوا کہنے لگا :
"یہ کاروائی کسی عرب نے اپنے کعبہ کے لیے کی ہے , میں اسے ڈھادوں گا اس کا ایک ایک پتھر توڑدوں گا "
اس نے شام و حبشہ کو یہ تفصیلات لکھ دیں , اس سے درخواست کی کہ وہ اپنا ہاتھی بھیج دے - اس ہاتھی کا نام محمود تھا - یہ اس قدر بڑا تھا کہ اتنا بڑا ہاتھی روئے زمین پر دیکھنے میں نہیں آیا تھا - جب ہاتھی اس کے پاس پہنچ گیا تو وہ اپنی فوج لیکر نکلا اور مکہ کا رخ کیا - یہ لشکر جب مکہ کے قرب و جوار میں پہنچا تو ابرہہ نے فوج کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے جانور لوٹ لیے جائیں - اس کے حکم پر فوجیوں نے جانور پکڑ لیے - ان میں عبدالمطلِّب کے اونٹ بھی تھے -
نفیل بھی اس لشکر میں ابرہہ کے ساتھ موجود تھا اور یہ عبدالمطلِّب کا دوست تھا - عبدالمطلِّب اس سے ملے - اونٹوں کے سلسلے میں بات کی - نفیل نے ابرہہ سے کہا :
" قریش کا سردار عبدالمطلِّب ملنا چاہتا ہے یہ شخص تمام عرب کا سردار ہے " شرف اور بزرگی اسے حاصل ہے - لوگوں میں اس کا بہت بڑا اثر ہے -لوگوں کو اچھے اچھے گھوڑے دیتا ہے, انہیں عطیات دیتا ہے, کھانا کھلاتا ہے- "
یہ گویا عبدالمطلِّب کا تعارف تھا - ابرہہ نے انہیں ملاقات کے لیے بلالیا - ابرہہ نے ان سے پوچھا
" بتائیے آپ کیا چاہتے ہیں ؟"
انہوں نے جواب دیا :
" میں چاہتا ہوں میرے اونٹ مجھے واپس مل جائیں "
ان کی بات سن کر ابرہہ بہت حیران ہوا - اس نے کہا :
" مجھے تو بتایا گیا تھا کہ آپ عرب کے سردار ہے " بہت عِزّت اور بزرگی کے مالک ہیں " لیکن لگتا ہے مجھ سے غلط بیانی کی گئی ہے- کیونکہ میرا خیال تھا آپ مجھ سے بیت اللہ کے بارے میں بات کریں گے جس کو میں گرانے آیا ہوں اور جس کے ساتھ آپ سب کی عِزّت وابستہ ہے - لیکن آپ نے تو سرے سے اس کی بات ہی نہیں کی اور اپنے اونٹوں کا رونا لیکر بیٹھ گئے - یہ کیا بات ہوئی "
اس کی بات سن کر عبدالمطلِّب بولے
"آپ میرے اونٹ مجھے واپس دے دیں بیت اللہ کے ساتھ جو چاہیں کریں " اس لیے کہ اس گھر کا ایک پروردگار ہے - وہ خود ہی اس کی حفاظت کرے گا - مجھے اس کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں "
ان کی بات سن کر ابرہہ نے حکم دیا :
"ان کے اونٹ واپس دے دیے جائیں "
جب انہیں ان کے اونٹ واپس مل گئے " تو انھوں نے ان کے سموں پر چمڑے چڑھا دیے - ان پر نشان لگادیے - انہیں قربانی کے لیے وقف کرکے حرم میں چھوڑ دیا تاکہ پھر کوئی انہیں پکڑ لے تو حرم کا پروردگار اس پر غضب ناک ہو -
پھر عبدالمطلِّب حِرا پہاڑ پر چڑھ گئے - ان کے ساتھ ان کے کچھ دوست تھے - انہوں نے اللہ سے درخواست کی :
"اے اللہ! انسان اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے، تو اپنے سامان کی حفاظت کر۔"
ادھر سے ابرہہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھا۔وہ خود ہاتھی پر سوار لشکر کے درمیان موجود تھا۔ایسے میں اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ہاتھی بانوں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ اٹھا۔انہوں نے اس کے سر پر ضربیں لگائیں ۔آنکس چبھوئے مگر وہ کھڑا نہ ہوا۔کچھ سوچ کر انہوں نے اس کا رخ یمن کی طرف کیا تو وہ فوراً اس طرف چلنے لگا۔اس کا رخ پھر مکہ کی طرف کیا گیا تو پھر رک گیا۔ہاتھی بانوں نے یہ تجربہ بار بار کیا۔آخر ابرہہ نے حکم دیا، ہاتھی کو شراب پلائی جائے تاکہ نشے میں اسے کچھ ہوش نہ رہ جائے اور ہم اسے مکہ کی طرف آگے بڑھاسکیں ۔چنانچہ اسے شراب پلائی گئی، لیکن اس پر اس کا بھی اثر نہ ہوا۔
ابرہہ کا انجام
ابرہہ کے ہاتھی کو اٹھانے کی مسلسل کوشش جاری تھی کہ اچانک سمندر کی طرف سے ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے ابابیلوں کو بھیج دیا۔وہ ٹڈیوں کے جھنڈ کی طرح آئیں ۔
دوسری طرف عبدالمطلب مکہ میں داخل ہوئے ۔ حرم میں پہنچے اور کعبہ کے دروازے کی زنجیرپکڑ کر ابرہہ اور اس کے لشکر کےے خلاف فتح کی دعا مانگی۔ان کی دعا کے الفاظ یہ تھے۔
"اے اللہ! یہ بندہ اپنے قافلے اور اپنی جماعت کی حفاظت کررہا ہے تو اپنے گھر یعنی بیت اللہ کی حفاظت فرما۔ابرہہ کا لشکر فتح نہ حاصل کرسکے۔ان کی طاقت تیری طاقت کے آگے کچھ بھی نہیں ، آج صلیب کامیاب نہ ہو۔"صلیب کا لفظ اس لیے بولا کہ ابرہہ عیسائی تھا اور صلیب کو عیسائی اپنے نشان کے طور پر ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔
اب انہوں نے اپنی قوم کو ساتھ لیا اور حرا پہاڑ پر چڑھ گئے، کیونکہ ان کا خیال تھا، وہ ابرہہ کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔
اور پھر اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے۔یہ پرندے چڑیا سے قدرے بڑے تھے۔ان میں سے ہر پرندے کی چونچ میں پتھر کے تین تین ٹکڑے تھے۔یہ پتھر پرندوں نے ابرہہ کے لشکر پر گرانے شروع کیے۔جونہی یہ پتھر ان پر گرے، ان کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے، بالکل اسی طرح جیسے آج کسی جگہ اوپر سے بم گرایا جائے تو جسموں کے ٹکڑے اڑ جاتے ہیں ۔ابرہہ کا ہاتھی محمود البتہ ان کنکریوں سے محفوظ رہا۔باقی سب ہاتھی تہس نہس ہوگئے۔ یہ ہاتھی 13 عدد تھے۔سب کے سب کھائے ہوئے نحوست کے مانند ہوگئے۔جیسا کہ سورۃ الفیل میں آتا ہے۔
ابرہہ اور اس کے کچھ ساتھی تباہی کا یہ منظر دیکھ کر بری طرح بھاگے۔لیکن پرندوں نے ان کو بھی نہ چھوڑا۔ابرہہ کے بارے میں طبقات میں لکھا ہے کہ اس کے جسم کا ایک ایک عضو الگ ہوکر گرتا چلا گیا۔یعنی وہ بھاگ رہا تھا اور اس کے جسم کا ایک ایک حصہ الگ ہوکر گررہا تھا۔
دوسری طرف عبدالمطلب اس انتظار میں تھے کہ کب حملہ ہوتا ہے، لیکن حملہ آور جب مکہ میں داخل نہ ہوئے تو وہ حالات معلوم کرنے کے لیے نیچے اترے۔مکہ سے باہر نکلے، تب انہوں نے دیکھا، سارا لشکر تباہ ہوچکا ہے۔خوب مال غنیمت ان کے ہاتھ لگا۔بےشمار سامان ہاتھ آیا ، مال میں سونا چاندی بھی بےتحاشا تھا۔
لشکر میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو واپس نہیں بھاگے تھے۔یہ مکہ میں رہ گئے تھے ان میں ابرہہ کے ہاتھی کا مہاوت بھی تھا جو محمود کو آگے لانے میں ناکام رہا تھا۔
ہمارے نبی .حضرت محمد ﷺ اس واقعہ کے چند دن بعد پیدا ہوئے۔آپ جس مکان میں پیدا ہوئے، وہ صفا پہاڑی کے قریب تھا۔.حضرت کعب احبار ؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی پیدائش مکہ میں ہوگی، یہ کعب پہلے یہودی تھے، اس لیے تورات پڑھا کرتے تھے۔
دنیا میں آتے ہی حضور اکرم ﷺ روئے۔.حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی والدہ کہتی ہیں کہ جب .حضرت آمنہ کے ہاں ولادت ہوئی تو میں وہاں موجود تھی۔آپ ﷺ میرے ہاتھوں میں آئے۔یہ غالبآ دایہ تھی۔ان کا نام شفا تھا۔فرماتی ہیں : جب آپ میرے ہاتھوں میں آئے تو روئے۔
آپ کے دادا عبدالمطلب کو آپ کی ولادت کی اطلاع دی گئی۔وہ اس وقت خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے۔اطلاع ملنے پر گھر آئے۔بچے کو گود میں لیا۔اس وقت آپ کی والدہ نے ان سے کہا:
"یہ بچہ عجیب ہے، سجدے کی حالت میں پیدا ہوا ہے، یعنی پیدا ہوتے ہی اس نے پہلے سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھا کر انگلی آسمان کی طرف اٹھائی۔"
عبدالمطلب نے آپ کو دیکھا۔اس کے بعد آپ کو کعبہ میں لے آئے۔آپ کو گود میں لیے رہے اور طواف کرتے رہے۔پھر واپس لاکر حضرت آمنہ کو دیا۔آپ کو عرب کے دستور کے مطابق ایک برتن سے ڈھانپا گیا، لیکن وہ برتن ٹوٹ کر آپ کے اوپر سے ہٹ گیا۔اس وقت آپ اپنا انگوٹھا چوستے نظر آئے۔
اس موقع پر شیطان بری طرح چیخا۔تفسیر ابن مخلد میں ہے کہ شیطان صرف چار مرتبہ چیخا، پہلی بار اس وقت جب اللہ تعالیٰ نے اسے معلون ٹھہرایا، دوسری بار اس وقت جب اسے زمین پر اتارا گیا، تیسری بار اس وقت چیخا جب آنحضرت ﷺ کی پیدائش ہوئی اور چوتھی مرتبہ اس وقت جب نبی کریم ﷺ پر سورہ فاتحہ نازل ہوئی۔
اس موقع پر .حضرت حسان بن ثابت ؓ کہتے ہیں :
"میں آٹھ سال کا تھا، جو کچھ دیکھتا اور سنتا تھا، اس کو سمجھتا تھا ۔ایک صبح میں نے یثرب یعنی مدینہ منورہ میں ایک یہودی کو دیکھا، وہ ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ کر چلا رہا تھا۔لوگ اس یہودی کے گرد جمع ہوگئے اور بولے:
"کیا بات ہے، کیوں چیخ رہے ہو؟ "
یہودی نے جواب دیا:
"احمد کا ستارہ طلوع ہوگیا ہے اور وہ آج رات پیدا ہوگئے ہیں ۔"
حضرت حسان بن ثابت ؓ بعد میں 60 سال کی عمر میں مسلمان ہوئے تھے۔120 سال کی عمر میں انہوں نے وفات پائی۔گویا ایمان کی حالت میں 60 سال زندہ رہے۔بہت اچھے شاعر تھے۔نبی کریم ﷺ کی اپنے اشعار میں تعریف کیا کرتے تھے اور دشمنوں کی برائی اشعار میں بیان کرتے تھے۔غزوات کے موقع پر اشعار کے ذریعے مسلمانوں کو جوش دلاتے تھے۔اسی بنیاد پر انہیں شاعر رسول کا خطاب ملا تھا۔
حضرت کعب احبار ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ کی ولادت کے وقت کی خبر دے دی تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو اس کی اطلاع دے دی تھی۔اس سلسلے میں انہوں نے فرمایا تھا:
"تمہارے نزدیک جو مشہور چمک دار ستارہ ہے، جب وہ حرکت میں آئے گا، تو وہی وقت رسول اللہ ﷺ کی پیدائش کا ہوگا۔"
یہ خبر بنی اسرائیل کے علماء ایک دوسرے کو دیتے چلے آئے تھے اور اس طرح بنی اسرائیل کو بھی آنحضرت کی ولادت کا وقت یعنی اس کی علامت معلوم تھی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عالم مکہ میں رہتا تھا، جب وہ رات آئی جس میں آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے تو وہ قریش کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اس نے کہا:
"کیا تمہارے ہاں آج کوئی بچہ پیدا ہوا ہے۔"
لوگوں نے کہا:
"ہمیں تو معلوم نہیں ۔"
اس پر اس یہودی نے کہا:
"میں جو کچھ کہتا ہوں ، اسے اچھی طرح سن لو، آج اس امت کا آخری نبی پیدا ہوگیا ہے اور قریش کے لوگوں ! وہ تم میں سے ہے، یعنی وہ قریشی ہے۔اس کے کندھے کے پاس ایک علامت ہے( یعنی مہر نبوت)اس میں بہت زیادہ بال ہیں ۔یعنی گھنے بال ہیں اور یہ نبوت کا نشان ہے۔نبوت کی دلیل ہے۔اس بچے کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ دو رات تک دودھ نہیں پیے گا۔ان باتوں کا ذکر اس کی نبوت کی علامات کے طور پر پرانی کتب میں موجود ہے۔
علامہ ابن حجر نے لکھاہےکہ یہ بات درست ہے، آپ نے دودن تک دودھ نہیں پیاتھا-
یہودی عالم نے جب یہ باتیں بتائیں تولوگ وہاں سے اٹھ گئے-انہیں یہودی کی باتیں سن کر بہت حیرت ہوئی تھی-جب وہ لوگ اپنے گھروں میں پہنچےتوان میں سے ہر ایک نے اس کی باتیں اپنے گھرکےافرادکوبتائیں ، عورتوں کوچونکہ حضرت آمنہ کےہاں بیٹاپیداہونےکی خبرہوچکی تھی، اس لیے انہوں نے اپنےمردوں کوبتایاں :
ذراچل کر مجھے وہ بچہ دکھاؤ-،،
لوگ اسےساتھ لیےحضرت آمنہ کےگھرکےباہرآئے، ان سے بچہ دکھانےکی درخواست کی-آپ نے بچےکوکپڑے سےنکال کرانہیں دےدیا-لوگوں نے آپ کےکندھے پرسے کپڑاہٹایا-یہودی کی نظر جونہی مہرنبوت پر پڑی، وہ فوراًبےہوش ہوکرگر پڑا، اسے ہوش آیاتو لوگوں نے اس سےپوچھا:
تمہیں کیاہوگیاتھا-،،
جواب میں اس نےکہا:
میں اس غم سے بےہوش ہواتھاکہ میری قوم میں سےنبوت ختم ہوگئ..اور اے قریشیو! اللہ کی قسم! یہ بچہ تم پر زبردست غلبہ حاصل کرےگا اور اس کی شہرت مشرق سے مغرب تک پھیل جائےگی-،،
جاری ھے ان شاء اللہ
Click here to claim your Sponsored Listing.