اسلام علیکم۔🤝الحمداللہ
پہلا بیج بری طرح ناکام۔۔رحیم یار خان کے تینوں سینٹر خالی۔۔خان پور لیاقت پور ۔صادق بھی سینٹر خالی👊👊👊👊👊
اکبر عباس ٹیم سینٹرز پر موجود۔۔۔
#جنرل سیکڑی مفتی سیف الرحمن ٹیم اکبر عباس شاہنواز جٹ➡➡
Hamara Rahim Yar Khan
Hamara Rahim Yar Khan
*وہ پانی کا نظام ٹھیک کر کے زراعت میں جدت لا کر آپ کا معیار زندگی بہتر بنا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔*
*وہ ڈیم بنا کر، نہروں پر ٹربائن لگا کر سستی بجلی پیدا کرکے آپکو دے سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں دیتے۔*
*وہ ایران سے سستا تیل و گیس لے کر آپکی مشکلات کم کر سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں کرتے۔*
*وہ لا اینڈ آرڈر ٹھیک کر کے آپ کو پرسکون زندگی دے سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ کر کے نہیں دیتے۔*
*وہ ٹوورزم کو بہتر بنا کر اور امن و امان قائم کر کے فی کس آمدنی بڑھا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں بڑھاتے۔*
*وہ بہتر اور معیاری نظام تعلیم لا کر قوم کا شمار مہذب قوموں میں کرا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔*
*وہ غربت اور جہالت کا خاتمہ کر کے ریاست کو* *خوشحال بنا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں بناتے۔*
*وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟*
*وہ ایسا اس لئے نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کا مقصد ہی نہیں ھے۔*
*ان کا مقصد صرف اور صرف دولت سمیٹنا ھے،*
*جس کے لیے ضروری ھے کہ عوام کو نان نفقہ کا محتاج رکھا جائے،*
*جس میں فی الحال وہ کامیاب ہیں۔*
*انہوں نے ہر قیمت پر تمہیں غلام ہی رکھنا ہے۔*
*اس طرح ہم سب قید میں ہیں۔*
*عوام کو ریلیف کیوں نہیں ملتا؟*
*عوام کی زندگی کیوں نہیں بدلتی؟*
*کیونکہ غلام کے اتنے ہی حقوق ہوتے ہیں جتنے ہمیں مل رہے ہیں۔*
*اس سے زیادہ سہولتیں آزاد قوموں کیلئے ہوتی ہیں۔*
*آپ محنت کرکے اپنا رہن سہن بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو پچھلی پوزیشن پر پہنچا دیتے ہیں۔*
*آپ مزید محنت کرتے ہیں وہ مزید ٹیکس لگاتے ہیں۔*
*آپ کو وہ مصیبتوں سے نکلنے نہیں دیتے بلکہ آئے روز مزید پریشانیاں آپ کی منتظر ہوتی ہیں۔*
*ان سب نکات کو آپ کسی سیاسی جماعت کا سپورٹر بن کر نہیں*
*بلکہ ایک پاکستانی بن کرسوچیں!*
*آپ کو سب کچھ واضع نظر آئے گا*
*یہاں تک کہ غلامی کا وہ طوق بھی جو آپ کے گلے میں ہے مگر آپ کو نظر نہیں آتا۔*
اور اس "وہ" میں وہ سارے شامل ہیں جو ہمارے اوپر حکمرانی کرتے ہیں ۔۔۔
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔
میرے پیارے اساتذہ اکرام ضلع رحیم یارخان ۔
•جاگو• جاگو •جاگو •
رحیم یار خان والوں کی طرف سے ڈینگی کا بائیکاٹ بہت سست ہے۔ 8۔ 10 دن سے بات چل رہی ہے لیکن ہفتے والے دن صرف 134 سکول نے بائیکاٹ کیا۔ جن میں 95 فیمیل سکول ھیڈ نے بائیکاٹ کیا ۔ باقی مرد حضرات کی بہادری چیک کریں ۔ ڈوب مرنے کا مقام ہے میل سکولوں کے ہیڈ اور ڈینگی فوکل پرسنز کے لئے ۔
کل کی رپورٹ کے مطابق لیاقت پور سب سے پہلے نمبر پر ۔
خان پور دوسرے نمبر پر
رحیم یار خان تیسرے نمبر پر اور صادق آباد سب سے کم ۔
میرے پیارے میل و فیمیل اساتذہ اکرام برائے مہربانی اپنے حقوق کی خاطر آواز بلند کریں ۔ یہ نہ صرف ہمارہ بلکہ ہمارے مستقبل کے لیے بہت بڑا نقصان ہے ۔
منجانب ۔
محمد عمران چیمہ
پنجاب ٹیچرز یونین
گرینڈ ٹیچرز الائنس/ پنجاب ٹیچرز الائنس
ضلع رحیم یارخان
*" غیور اساتذہ اکرام تحصیل رحیم یارخان-"*
السلام علیکم!
مرکزی قائدین اور ضلعی لیڈرشپ GTA رحیم یارخان کی ہدایات کے عین مطابق
✍🏻 کل مورخہ 14 اکتوبر 2024 بروز سوموار کو تمام اساتذہ کرام (مرد و خواتین) تحصیل رحیم یار خان دن 12 بجے گورنمنٹ کالونی ہائی سکول رحیم یار خان رپورٹ کریں گے.
✍🏻 وہاں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا جائے گا.
✍🏻 سکول حاضری لگا کر 9 بجے سکول کو چھوڑ دیا جائے گا.
✍🏻 کسی قسم کی محکمانہ ڈاک کا جواب نہیں دیا جائے گا
✍🏻 اینٹی ڈینگی ایکٹیوٹیز کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا.
*" منجانب " :*
محمد عمران چیمہ
گرینڈ ٹیچرز الائنس/
پنجاب ٹیچرز الائنس
ضلع رحیم یار خان
پنجاب کو جس وجہ سے پانچ دریاؤں کی سرزمین کہا جاتا ہے ان پانچ دریاؤں میں چناب، ستلج، جہلم اور راوی کے ساتھ دریا سندھ شامل "نہیں" ہے۔
بلکہ پانچواں دریا "دریائے بیاس" ہے۔
یہ پانچ دریا (چناب، جہلم، ستلج، بیاس، راوی) پاکستان اور ہندوستان کے مشترکہ پنجاب کے اندر ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
جیسے دریائے راوی "احمد پور سیال" کے قریب دریائے چناب میں شامل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح دریائے جہلم بھی "تریمو" (جھنگ) کے مقام پر دریائے چناب میں شامل ہوجاتا ہے۔
دریائے چناب اور دریائے جہلم پنجاب کے وہ دو دریا ہیں جو ہندوستانی پنجاب میں داخل نہیں ہوتے۔ جبکہ دریائے راوی اور دریائے ستلج ہندوستانی پنجاب سے پاکستانی پنجاب میں داخل ہوتے ہیں۔
دریائے بیاس پاکستان میں انفرادی طور پر داخل نہیں ہوتا۔ ہندوستانی پنجاب میں ہی دریائے بیاس، دریائے ستلج میں شامل ہوجاتا ہے، اور یہ دریائے ستلج پاکستان میں آتا ہے۔
ستلج اور بیاس کے ملنے کے مقام پر انڈیا نے 1984 میں ایک بڑی سی نہر نکال کر راجھستان کو سیراب کیا تھا (اندرا گاندھی کینال)
تو اب ہمارے پاس دو دریا بچتے ہیں، یعنی دریائے چناب (جس میں راوی اور جہلم کا پانی شامل ہے) اور دریائے ستلج (جس میں دریائے بیاس کا پانی شامل ہے)۔ یہ دونوں دریا "پنجند" کے مقام پر ملتے ہیں، جو "اوچ شریف" کے پاس ہے۔
یہاں پر یہ دونوں دریا (اور پانچ دریاؤں کا پانی) مل کر دریائے پنجند بناتے ہیں۔ یہ دریا بھی 71 کلومیٹر آگے جاکر پنجاب کے ہی شہر "مٹھن کوٹ" کے پاس دریائے سندھ میں اپنا پانی (یعنی پنجاب کے پانچ دریاؤں کا پانی) شامل کردیتا ہے۔
باقی ان پانچوں دریاؤں میں سے ستلج اور روای سال زیادہ عرصے خشک ہی رہتے ہیں۔
دریائے سندھ پنجاب کا مخصوص دریا نہیں۔ مگر یہ پاکستان کا قومی دریا ضرور ہے۔ سوائے بلوچستان کے یہ پاکستان کے سب صوبوں اور کشمیر سے گزرتا ہے۔ بلوچستان کے علاؤہ باقی سب صوبوں کے دریا، اسی دریائے سندھ میں شامل ہو جاتے ہیں، اور یہ بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔
29/08/2023
ایشیا کپ 2023 کے میچز کا شیڈول جاری کر دیا گیا
ٹورنامنٹ کا آغاز 30 اگست کو ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان بمقابلہ نیپال کے میچ سے ہوگا
Asia Cup 2023 in 🇵🇰 , 🇱🇰
Matches Schedule Opening Match will be played at Multan
Pakistan vs Nepal
30 August - 17 September
*_🌴کسی بھی طرح کی خوش فہمی سے خود کو بہت دور رکھا کرو، کیونکہ انسان کی خوش فہمی جب غلط فہمی میں بدلتی ہے نا تو چہرے پر ایسا زوردار طمانچہ رسید کرتی ہے کہ اس کے چہرے کے نین نقش ہی بدل جاتے ہیں اور وہ بہت ہی بری طرح منہ کے بل گرتا ہے، بڑا ہی اذیت ناک ہوتا ہے وہ لمحہ، یوں لگتا ہے جیسے ساری دنیا تم پر ہنس رہی ہو، اور سر فہرست تم خود ہوتے ہو، اپنے اوپر ہنسنے والوں میں_*
بٹگرام میں چئر لفٹ میں پھنسے افراد کا بچاؤ
الخدمت فاؤنڈیشن بنی نوع انسان کی خدمت میں پیش پیش ہے ۔ آج بھی بٹگرام کے علاقے میں چئیر لفٹ میں پھنسے ہوئے بچوں کو نکالنے کے لیے جب پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز کو دشواری پیش آئی تو الخدمت کے رضا کاروں کو طلب کیا گیا اور الخدمت کے رضا کار چارپائی کی ڈولی بناکر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اسی رسی کے ذریعے کیبل کار سے معصوم بچوں کو نکالنے کے لیے پہنچ گئے ہیں ۔
الخدمت کے یہ رضاکار شمالی علاقوں میں سیلاب متاثرہ افراد کو اسی طرح سے دریا کی موجوں سے بچا کر لائے تھے ۔
یقیناً یہ رضاکار اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے یہ سب کچھ کررہے ہیں
آج تمام میڈیا الخدمت فاؤنڈیشن کا نام لینے سے کیوں گھبرارہا ہے ؟
وطن کے ان سپوتوں کو جو 6000 فٹ کی بلندی پر رات کے اندھیرے میں جنگل اور سنگلاخ پہاڑوں ،دریا کی روانی اور آکسیجن کی کمی کے باوجود اس قومی خدمت میں مصروف ہیں انہیں سیلوٹ پیش کرنے کو جی چاہتا ہے ۔
اور زبان سے یہ بات نکلے بغیر نہیں رہتی
اے قوم اگر دے تو ساتھ ہمارا
ہم لوگ بدل سکتے ہیں حالات کا دھارا
معروف ماہر تعلیم پروفیسر (ریٹائرڈ ) حافظ ڈاکٹر محمد اقبال آئی۔ای۔آر پنجاب یونیورسٹی لاہور۔
23/08/2023
مین آف دی میچ
Man of the Match
16/08/2023
اللہ کریم کے خصوصی فضل سے اپنی نوعیت کی منفرد کتاب"غیر معمولی تعلیمی قیادت" پرنٹ ہوگئی ہے۔ایڈوانس پے منٹ کرنے والے احباب کو روانہ کر دی گئی ہے۔ آپ بھی اس کتاب کا مطالعہ کر کے سیکڑوں سکولوں کے تجربات میں شریک ہو سکتے ہیں۔
* کتاب حاصل کرنے کے لیے نمبر 03008122697 پر رابطہ کیجیے۔
* آپ کتاب کو بک لائین 38 ۔اردو بازار لاہور سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
آپ سے دعاوں کی خصوصی درخواست۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ملک کی بہتری کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)
میں نے ایک خاتون سے پوچھا کہ کیا آپ کو مردوں کے برابر حقوق ملنے چاہیں
تو اس نے ایک حیران کن جواب دیا
اس نے کہا کہ
مجھے برابر کے حقوق نہیں چاہئیں
میں نے تفصیل چاہی تو اس نے کچھ یوں بیان کیا
میرا جائیداد میں
باپ کی طرف سے حصہ ہے
بھائی کی طرف سے حصہ ہے
بیٹے کی طرف سے حصہ ہے
خاوند کی طرف سے حصہ ہے
جب میں مردوں کے برابر آجاوں گی تو میں ان حقوق سے محروم ہو جاوں گی
میں کسی جگہ جاب کرتی ہوں تو مجھے جاب میں سہولت دی جاتی ہے
برابر کے حقوق میں میرا نقصان زیادہ ہے
بنک ہسپتال مارکیٹ ہر جگہ لیڈیز فرسٹ کے اصول پر مجھے رلیف مل جاتا ہے
میں ابو سے ملنے جاؤں تو وہ کھڑے ہو کر ملتے ہیں اور بھائی کو بیٹھے بیٹھے سلام کر لیتے ہیں
ہم شہر سے باہر کہیں جائیں تو مین نے اور بیٹی نے اپنا اپنا ہینڈ بیگ پکڑنا ہوتا ہے، اور بس، باقی سامان بیٹے جانیں اور انکے پاپا۔
ایک بار راستے میں گاڑی رک گئی تھی، تو مجھے سٹیرنگ تھما کر بیٹے اور میاں نے دھکا لگایا، برابر کے حقوق ہوتے تو مجھے بھی دھکا لگانا پڑتا
سبھی بڑے اور بھاری کام خود بخود مردوں پر جا پڑتے ہیں
مجھے کبھی بل ادا کرنے نہیں جانا پڑتا،
کبھی پینٹ والے کے پیچھے نہیں دوڑنا پڑتا،
کبھی الیکٹریشن کے ساتھ دماغ کھپائی نہیں کرنی پڑتی،
کمانے کی ذمہ داری کبھی میری نہیں رہی، میاں نے کمانے کیلیئے نکلنا ہی نکلنا ہے
میں کبھی بھی کہہ دوں آج کچھ نہیں پکایا، گرمی لگ رہی تھی، یا موڈ نہیں تھا تو بازار سے کھانا آ جاتا یے، کوئی زبردستی نہیں ہے،،، لیکن ان کو کام سے چھٹی نہیں ہے
مین انکے کپڑے جوتے بنا بتاۂے کسی کو اٹھوا سکتی ہوں، وہ ایسا نہیں کر سکتے
میاں کی انکم پر مجھے حق حاصل ہے، میری انکم پر صرف میرا
میرا لباس ان سے مہنگا ہوتا ہے، میرے جوتے کپڑون کی تعداد ان سے زیادہ ہوتی ہے،
ایسے بے شمار فایدے مجھے حاصل ہیں،
میں برابر کے حقوق لے کر گھاٹے کا سودا کروں گی؟؟؟
اتنی پاگل لگتی ہوں کیا؟؟؟
Copied
جب تک منہ سے نکلے الفاظ عملی صورت اختیار نہیں کریں گے ` دل بدلے گا نہ دل کی دنیا
Click here to claim your Sponsored Listing.