26/03/2025
I am so excited to complete my level
staron ki dunya
26/03/2025
I am so excited to complete my level
25/03/2025
Need 10 followers
11/07/2024
حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ(1845–1901)
حضرت خواجہ غلام فرید کوریجہ 26 نومبر 1845ء بروز منگل کو بہاولپور کے قصبہ چاچڑاں شریف میں پیدا ھوئے۔ آپٌ کے خاندان کا نسلی سلسلہ یا شجرہ نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جا ملتا ھے۔ آپٌ کے خاندان میں ایک شخص، جس کا نام شیخ کوربن، حضرت شیخ پریا تھا اس لیے کور کی وجہ سے لفظ کوریجہ بن گیا۔
آپ کا تاریخی نام خورشید عالم رکھا گیا۔ آپ کے والد کا نام حضرت خواجہ خدا بخش عرف محبوب الہی تھا۔ آپ چار برس کے ھوئے تو آپ کی والدہ کا انتقال ھو گیا اور جب آپ کی عمر آٹھ برس ھوئی تو آپ کے والد بھی اس دنیا سے رخصت ھو گئے۔
آپٌ نے قرآن کی تعلیم میاں صدرالدین آور میاں محمد بخش سے حاصل کی، آپ نے فارسی کی تعلیم میاں حافظ خواجہ جی اور میاں احمد یار خواجہ سے حاصل کی۔
حضرت خواجہ غلام فرید کے بزرگوں کے ایک مرید مٹھن خان جتوئی تھے، جس کے نام سے قصبہ مٹھن کوٹ آباد ھوا۔ جب مٹھن کوٹ پر قابض پنجاب کے سکھ حاکم مسلمانوں کو تنگ کرنے لگے تو آپ کے والد حضرت خواجہ خدا بخش اپنے خاندان کے ساتھ مٹھن کوٹ سے چاچڑاں شریف، ریاست بہاول پور منتقل ھوگئے۔
جب آپ نواب آف بہاول پور جس کا نام نواب فتح محمد جو کہ آپ کے والد کے مرید خاص بھی تھے کے پاس رہائش پذیر تھے تو وھاں پر بھی اساتذہ کرام موجود رھتے تھے جو آپ کو تعلیم دیتے تھے۔ آپ شاھی محل میں تقریباً چار سال رھے۔
جب آپ تیرہ برس کے ھوئے تو آپ نے اپنے بڑے بھائی حضرت فخر جہاں سے بعیت کی۔ جب آپٌ کی عمر 27 برس تھی تو اس وقت آپ کے مرشد آور بڑے بھائی حضرت فخر جہاں کا انتقال ھو گیا۔ پھر آپ سجادہ نشین بنے۔
آپ بڑے سخی تھے، آپ کے لنگر کا روزانہ کا خرچہ 12 من چاول اور 8 من گندم تھا۔ تقریباً 100 سے 500 آدمی ہر وقت آپ کے ساتھ رھتے تھے۔ آپ کے پاس جو کچھ آتا سب شام تک غرباء و مساکین میں بانٹ دیتے تھے۔
جب آپ نواب صاحب کے ہاں دعوت پر جاتے تو نواب صاحب آپ کو آتے وقت پچیس تیس ہزار اور وھاں سے روانہ ھوتے وقت بھی تیس چالیس ہزار پیش کرتے۔ اتنی نذر نیاز حاصل ھوتے ھوئے بھی جب آپ چاچڑاں شریف آتے تو اکثر اوقات خرچ کے لیے قرض لے کر آتے۔
آپ کی جاگیر سے سالانہ آمدنی 35 ہزار روپے تھی، آپ انتہائی سادہ تھے۔ آپ دن میں گندم کی ایک روٹی کھاتے اور رات کو گائے کا دودھ پیتے تھے۔
آپ 18 برس روہی ( چولستان ) میں رھے۔ آپ نے اپنے مرید خاص نواب آف بہاولپور جس کا نام نواب صادق محمد رابع عباسی تھا کو نصیحت کی تھی کہ:
" زیر تھی، زبر نہ بن، متاں پیش آوی "
یعنی نرمی اختیار کرو، سختی نہ کیا کرو، ورنہ اللہ تعالٰی تم پر بھی سختی کر سکتے ھیں۔
آپ نے شاعری بھی کی اور آپ کا زیادہ تر کلام سرائیکی زبان میں ھے۔ جس کا نام "دیوان فرید" ہے اس کے علاوہ اردو، عربی، فارسی، پوربی، سندھی اور ہندی میں شاعری بھی کی ھے آور آپ کا اردو دیوان بھی موجود ھے۔ آپ کے سرائیکی دیوان میں 272 کافیاں ھیں۔
حضرت خواجہ غلام فرید نے وصال کے وقت تین حسرتوں کا اظہار کیا تھا:
(1) کاش کوئی مجھ سے کہتا فرید مجھے راستہ بتاؤ۔
(2) کاش کوئی مجھ سے یکمشت ایک لاکھ روپے طلب کرتا۔
(3) کاش کوئی مجھ سے کہتا فرید مجھے پانی پلاؤ۔
وفات کے وقت کلمہ شہادت سے پہلے حضرت خواجہ غلام فرید نے کافی کا یہ بند پڑھا:
ٔآیا وقت فرید چلن دا
گزریا ویلھا کھلن ہسن دا
اوکھا پیندا یار ملن دا
جان لباں تے آندی اے
آپ کا وصال چاچڑاں شریف میں 24 جولائی 1901ء بروز بدھ ھوا۔ اس وقت آپ کی عمر 56 برس تھی۔
آپ کا ایک بیٹا حضرت خواجہ محمد بخش عرف نازک کریم اور ایک بیٹی بھی تھیں۔
آپ کا مزار مٹھن کوٹ ( ضلع راجن پور ) میں ھے۔