23/07/2026
فیز IV نصیرآباد کے امیدواروں کی آواز
الحمدللہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن نصیرآباد میں فیز IV کے حوالے سے جاری کیے گئے نئے اشتہار کو بلوچستان ہائی کورٹ نے Suspended & Stayed کر دیا ہے۔ اب ضروری ہے کہ نئی اشتہاری کارروائی کے بجائے پہلے سے مکمل شدہ DRC کے عمل کو بنیاد بنا کر بھرتیوں کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔
فیز IV کی DRC مکمل ہوئے تقریباً 6 ماہ گزر چکے ہیں۔ ایسے میں دوبارہ اشتہار جاری کرنا ان تمام امیدواروں کے ساتھ ناانصافی اور حق تلفی کے مترادف ہے جنہوں نے تمام مراحل مکمل کیے اور اپنے جائز حق کے منتظر ہیں۔
فیز IV سے متعلق کیس کی پیروی حاجی امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ کر رہے ہیں، ۔
ہم بلوچستان ہائی کورٹ، سیکرٹری ایجوکیشن بلوچستان، ڈائریکٹر ایجوکیشن اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پرانی DRC کے تحت کارروائی کو آگے بڑھایا جائے اور تمام حقدار امیدواروں کو جلد از جلد ان کا جائز حق دیا جائے۔
جاری کردہ کانٹریکٹ اساتذہ نصیرآباد
15/06/2026
محکمہ ایجوکیشن کے کانٹریکٹ بیز بھرتیوں کے فیز 4 کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ کا ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی نصیر آباد کو ایک ماہ میں بھرتیوں کے نتائج کا اعلان کرنے کا حکم، معزز عدالت نے امیدواروں کی آئینی درخواست پر تعلیمی اسامیوں کے نتائج جاری کرنے کی ہدایت جاری کی ہے
02/06/2026
*"ڈپٹی کمشنر نصیر آباد اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نصیر آباد کی جانب سے فیز-3 بھرتیوں کے منسوخ کیے گئے احکامات کو عدالتِ عالیہ بلوچستان نے بحال کر دیئے*
*"عدالت نے اس معاملے پر ڈپٹی کمشنر نصیر آباد اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نصیر آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔"*
02/06/2026
حکومتِ بلوچستان نے مالی سال 2025-26 کے لیے نئے اپگریڈ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی کو دیکھتے ہوئے محکمہ اسکول ایجوکیشن میں مزید 1372 اسامیوں کی تخلیق اور انتظامی منظوری دے دی ہے۔
اسامیوں کی تفصیل
نئے پرائمری اسکولوں کے لیے 126 اسامیاں
پرائمری سے مڈل اسکول اپ گریڈیشن کے لیے 561 اسامیاں
اضافی مڈل اسکولوں کے لیے 122 اسامیاں
ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں (بشمول اپ گریڈیشن) کے لیے 519 اسامیاں تخلیق کی گئ۔۔
کل اسامیاں: 1372
یہ اقدام صوبے میں تعلیمی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی فراہم کرے گا۔
28/04/2026
آج وطن ٹیچرز ایسوسی ایشن نصیر آباد کے قائدین کی ڈپٹی کمشنر نصیر آباد سے اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں کنٹرکٹ فیز 1 اور SBK کے اساتذہ کرام کی معیاد مکمل ہونے کے پیش نظر مزید توسیع کے لیے باقاعدہ درخواست پیش کی گئی۔
ڈپٹی کمشنر نصیر آباد نے اساتذہ کے مسائل کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو DEG میٹنگز میں زیرِ غور لایا جائے گا، اور اس سلسلے میں سیکرٹری ایجوکیشن اور ڈائریکٹر آف ایجوکیشن بلوچستان کو باقاعدہ منظوری کے لیے کیس ارسال کیا جائے گا۔
ملاقات میں ضلعی صدر ثناء اللہ صائم، ڈویژنل صدر قمر انجم نیچاری، آرگنائزر شفیع محمد لہڑی، ایپکا نصیر آباد کے صدر عبداللہ بلوچ، اُستاد سید اورنگ شاہ، اُستاد خلیل احمد لہڑی، اُستاد مبارک خان کھوسہ، اُستاد نیاز احمد بگٹی اور اُستاد دھنی بخش بنگزئی شریک تھے۔
18/04/2026
*آل بلوچستان کنٹریکٹ ٹیچرز*
کنٹریکٹ ٹیچرز کی مدت ملازمت میں توسیع ناگزیر ہے اساتذہ کی محنت سے بلوچستان کے 3500 پلس اسکول دوبارہ فعال ہوئے حکومت فوری اقدام کرکے اساتذہ کے مستقبل کو محفوظ بنائے.
میرٹ پر بھرتی ہزاروں سکولز فعال کرنیوالے اساتذہ تعلیم کی بہتری کی ضمانت ہیں کنٹریکٹ ختم ہونے سے تعلیمی نظام متاثر ہونے کا خدشہ وزیراعلیٰ بلوچستان اساتذہ کو مستقل کرکے بڑا فیصلہ کریں.
کنٹریکٹ ٹیچرز آل بلوچستان کی جانب سے ایک پرخلوص اور دردمندانہ اپیل پیش خدمت ہے کہ موجودہ حکومت بلوچستان نے تعلیم کے شعبے میں جو عملی اقدامات اٹھائے ہیں وہ نہایت قابل ستائش ہیں بالخصوص میر سرفراز بگٹی صاحب کی قیادت میں میرٹ، شفافیت اور بہتری کے اصولوں کو فروغ دیا گیا، جس کے نتیجے میں صوبے بھر میں کنٹریکٹ اساتذہ کی بھرتیاں خالصتا میرٹ کی بنیاد پر ممکن ہوئیں, اسی طرح راحیلہ حمید درانی صاحبہ نے بطور وزیر تعلیم تعلیمی نظام کی بہتری، اساتذہ کی تعیناتی اور اسکولوں کی فعالیت میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ چیف سیکرٹری بلوچستان اور سیکرٹری تعلیم کی نگرانی میں اس پورے عمل کو مؤثر اور منظم انداز میں مکمل کیا گیا, آج یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ انہی کنٹریکٹ ٹیچرز کی محنت، لگن اور قربانیوں کے باعث بلوچستان کے ہزاروں بند اسکول دوبارہ فعال ہوئے، جہاں پہلے ویرانی تھی وہاں اب بچوں کی آوازیں گونج رہی ہیں، دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ روزانہ طویل سفر طے کرکے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، شدید موسمی حالات اور محدود وسائل کے باوجود وہ اپنے عزم میں ڈٹے ہوئے ہیں اور بچوں کو بہترین تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کی کاوشوں کے نتیجے میں نہ صرف داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا بلکہ تعلیمی معیار میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے, اسی تناظر میں ہمدردانہ گزارش ہے کہ کنٹریکٹ فیز ون کے اساتذہ کی مدت ملازمت اب اپنے اختتام کے قریب ہے، جس سے ہزاروں اساتذہ شدید بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں یہ وہ اساتذہ ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے نظام تعلیم کو سہارا دیا اور حکومت کے وژن کو عملی شکل دی لہٰذا گزارش ہے کہ ان کے کنٹریکٹ کی مدت میں فوری توسیع کی جائے تاکہ تعلیمی سلسلہ بلا تعطل جاری رہ سکے اور اساتذہ کو ذہنی سکون حاصل ہو, مزید برآں، حکومت بلوچستان سے پرزور اپیل ہے کہ ان کنٹریکٹ ٹیچرز کے پرمنٹز کے لیے بھی سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں کیونکہ ایک مستحکم استاد ہی بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کی صحیح رہنمائی کر سکتا ہے۔ اگر ان اساتذہ کو مستقل کر دیا جائے تو نہ صرف ان کی زندگیوں میں استحکام آئے گا بلکہ پورے صوبے کا تعلیمی نظام مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگا, ہمیں یقین ہے کہ میر سرفراز بگٹی صاحب اور ان کی ٹیم اس مسئلے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے جلد مثبت فیصلہ کریں گے، تاکہ تعلیم دوست پالیسیوں کا یہ سفر جاری رہے اور بلوچستان کا ہر بچہ علم کی روشنی سے مستفید ہو سکے۔
کانٹریکٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نصیرآباد
11/04/2026
NOTIFICATION For close Schools , Teachers And Students Absence Education Department Nasirabad
District Education Officer Nasirabad HafeezUllah Khosa sahb