کچھ زخم بھر کر بھی نہیں بھرتے
ان کا زہر روح کو چھلنی کردیتا ہے
کچھ حادثات،حادثے نہیں
قیامت ہوتے ہیں
ڈاکٹر ماہ نور،آپ کی جلد صحت یابی،لمبی زندگی کے لیے ڈھیر ساری دعائیں
ڈاکٹر صاحبہ !دعا ہے کہ آپ جلد علاج سے نکل کر اپنے مریضوں کا علاج کرتی نظر آئیں
دعا ہے کہ آپ ایک بار پھر ہنستی مسکراتی زندگی کی طرف لوٹ آئیں
یوسفی
أدینک
سوال؟
"آئرن لیڈی"
تحریر: یوسفی بلوچ
بلوچستان میں سرکاری ملازمین گزشتہ ڈیڑھ سال سے اپنےحقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔جون میں یہ تحریک ایک بار اٹھنے اور ملازمین کی جانب سے اپنے حقوق کےلیے نعرے بلند ہونے کو ہیں۔بلوچستان گرینڈ الائنس کی اس ڈیڑھ سالہ تحریک میں ہم نےجدوجہد کے بہت سے خوبصورت موڑ اور یادگارلمحے دیکھے۔ایک بہت ہی حوصلہ افزاء اور خوبصورت بات یہ رہی کہ بلوچستان میں ٹریڈ یونین اور ملازمین حقوق کی تحریک و سیاست میں قیادت کے طور پر پر متعدد نئے چہرے ابھرکر سامنے آۓ۔جو بلوچستان میں ٹریڈ یونین کی کی زنگ آلود سیاست کو صاف کرنے اور دم توڑتی سیاست میں ایک نئی روح پھونکنے کے لیے بہت ضروری تھا۔گرینڈ الائنس کے چیف آرگنائزر پروفیسر قدوس کاکڑ خود اس کی ایک مثال ہے وہ ایک نئے لیڈر کےطور پر ابھر کر سامنے آۓ اور ایک توانا آواز ثابت ہوۓ۔۔جبکہ ایک اور مثبت اور اہم تبدیلی یا پیش رفت یہ دیکھنے کو ملی ہے یا کہ اس تحریک میں خواتین ملازمین بہت متحرک ہیں۔بڑی تعداد میں خواتین ملازمین اپنے کولیگز کے ساتھ،اپنے ملازمین بھائیوں کے ساتھ بھرپور طریقے سے اس تحریک میں شامل ہیں اور حقوق اس تحریک کو اپنی جدوجہد،آواز اور نعروں سے توانائی فراہم کررہی ہیں۔اس تحریک کے دوران خواتین ملازمین نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کا سامنا کیا۔کچھ خواتین ملازمین زخمی بھی ہوئیں۔وہ جیل بھرو تحریک کے مرحلے میں گرفتاریاں دینے کے لیے تھانوں میں پہنچ گئیں۔تحریک کا کوئی بھی مرحلہ رہا ریلی،جلسہ،احتجاجی کیمپ،بائیکاٹ،خواتین ملازمین ہر ہر مرحلے اور ہر ہرموقع پر پیش پیش رہیں۔بلکہ کچھ خواتین ملازمین ایسی بھی سامنے آئی ہیں جو قائدانہ صلاحیتوں اور خوبیوں کی مالک ہیں۔بالخصوص ان میں دو نام میڈم زبیدہ ستار اور کامریڈ رشیدہ سمالانی، یہ خواتین رہنما بلوچستان میں ٹریڈ یونین کی سیاست میں ایک توانا اور خوبصورت اضافہ ہیں۔حقوق کی اس جدوجہد اور تحریک میں ان کی موجودگی دیگر خواتین ملازمین کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ان کو گرینڈ الائنس کی تحریک میں لیڈنگ رول میں دیکھ کر دیگر خواتین ملازمین کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ان میں سڑکوں پر نکلنے اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے کی جرات پیدا ہوئی ہے۔تحفظ کا احساس ابھرا ہے۔راقم الحروف کو یاد ہے جب 24جنوری کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے اور گرفتاریاں دینے کا شیڈول جاری کیا گیا۔تو سرکار نے رات کو ہی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے واٹر کیننز اور پرزنرز وین لگادیئے تھے اور بھاری نفری کھڑی کردی گئی تھی۔اس کے باوجود کامریڈ رشیدہ سمالانی اور میڈم زبیدہ ستار کی قیادت میں خواتین ملازمین کوئٹہ پریس کلب پہنچ گئی تھیں۔اور بعد میں سٹی تھانے پہنچ گئی تھیں۔اس دن صبح سے بارش ہورہی تھی اور شدید سردی پڑرہی تھی حکومتی سختیوں کے باوجود درجنوں خواتین ملازمین رشیدہ سمالانی اور میڈم زبیدہ ستار کی قیادت میں سٹی تھانےکے سامنے پہنچ گئیں۔شدید احتجاج اور نعرہ بازی کی گئی۔بعد میں منع کرنے کے باوجود میڈم زبیدہ ستار اور رشیدہ سمالانی دیگر خواتین ساتھیوں سمیت گرفتاری دینے تھانےکے اندر چلی گئیں۔ بالخصوص کامریڈ رشیدہ سمالانی نے گزشتہ ماہ بلوچستان میں غیر یقینی صورت حال اور بدامنی کے باوجود ژوب اور لورالائی جیسے دور دراز علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں ہونے والے گرینڈ الائنس کے ورکرز کنونشن میں شرکت کی اور خواتین ملازمین کو اپنے حق کے لیے نکلنے اور آواز بلند کرنے کےلیے ان کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔کامریڈ رشیدہ سمالانی نے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئن اور نیشنل پارٹی کے ز یر اہتمام رواں سال یکم مئی (یومِ مئی )کےعلیحدہ علیحدہ منعقد ہونے والے جلسوں میں بھی بھر پور شرکت کی اور بلوچستان میں خواتین ملازمین کو درپیش مسائل و مشکلات کو ہائی لائیٹ کیا اور ان کے مطالبات سامنے رکھیں۔ہماری اس کامریڈ نے اپنی جدوجہد،کمٹمنٹ اور اخلاص سے خود کو بلوچستان میں ٹریڈ یونین کی سیاست کا "آئرن لیڈی"۔۔۔۔۔"شیر زال"ثابت کردیا ہے۔وہ بلوچستان میں ٹریڈ یونین کی سیاست میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی ہیں۔اپنی اس بہن(ایڑھ،گوار،ادّی،خور) کی عزم و استقامت اور جہد مسلسل کے لیے ڈھیری ساری نیک دعائیں،نیک تمنائیں
پروفیسر غم خوار حیات شہید
(1975تامئی 2026)
تصاویر بشکریہ فیس بک آئی ڈی "غمخوار حیات"
تیرے قدموں تلے آسمانِ وفا
عاشق ِگل زمیں جاں نثار الوداع
نوشیں قمبرانی
گزشتہ دو روز میں سوشل میڈیا کی درجنوں پوسٹس،ہر پوسٹ میں آپ کی شہادت کا اعلان،واٹس گروپوں میں آپ کی شہادت کی خبر یں اور شہادت کی تصاویر،خود اپنی آنکھوں سے آپ کا آخری دیدار،ایک جمِ غفیر کو آپ کی نماز جنازے میں شرکت کرتا دیکھنے اور آپ کے بیٹوں و بھائیوں،عزیز و اقارب اور قریبی ساتھیوں کو آپ کا جِسد خاکی قبر میں اتارتا دیکھنے اور مٹی ڈالنے اور پھر گزشتہ اڑھائی تین سال میں پہلی مرتبہ صبح سویرے آپ کی طرف سے ،آپ کے نمبر سے"سہب سلامتی"کا میسج نہ آنے کے باوجود یقین نہیں آرہاکہ آپ ہم سے بچھڑ گئے ہیں۔آپ کو ہم سے،آپ کو آپ کے بچوں سے چھین لیا گیا ہے۔آپ شہید کردیئے ہیں۔۔۔۔یقین نہیں آرہا سنگت ۔۔۔۔۔۔۔یوسفی بلوچ۔۔۔۔۔۔تصاویر بشکریہ فیس بک آئی ڈی حیات غمخوار
جب تخت گراۓ جائیں گے
جب تاج اچھالے جائیں گے۔
کوئٹہ یکم مئی 2026:یومِ مئی کے جلسے میں ماسٹر ظفرجی جنابِ فیض احمد فیض کی مشہور انقلابی نظم ترنم سے پڑھ رہے ہیں۔۔۔۔ویڈیو بشکریہ کامریڈ شاہ رخ
کوئٹہ:یکم مئی 2026:پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفننس کمپئن،نیشنل یونینز فیڈریشن،پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن،پاکستان ورکرز فیڈریشن اور کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے زیراہتمام یوم ِ مئی پر کوئٹہ ریلوے اسٹیشن اور ایری گیشن آفس سے پریس کلب تک ریلی اور پریس کلب میں جلسے کی تصویری جھلکیاں۔احوال یوسفی بلوچ،تصاویر بشکریہ فوٹوگرافر رابٹ جیمز اور کامریڈ شاہ رخ
کوئٹہ:یکم مئی 2026:کوئٹہ میں ریلی اور جلسہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹنگ،ویڈیوز اورایڈیٹنگ:::یوسفی بلوچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفننس کمپئن(PTUDC)کی میزبانی میں پاکستان یونائیٹڈ ورکز فیڈریشن(PUWF)،پاکستان ورکرز فیڈریشن(PWF)،نیشنل یونینز فیڈریشن(NUF)اور کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان(CCP)نے مشترکہ طور پر یومِ مئی 2026منایا۔اس سلسلے میں کوئٹہ پریس کلب میں ایک جلسہ ہوا۔جس کی صدارت پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئن(PTUDC)کے چیئر مین کامریڈ نذر مینگل نے کی۔جبکہ پاکستان ورکرزفیڈریشن(PWF)کےصدر حاجی عبدالکریم ترین اور پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن(PUWF)کےصدرعلی بخش جمالی مہمان خاص تھے۔اسٹیج پر نیشنل یونینز فیڈریشن کے نائب صدر منظور بلوچ،پاکستان یونائٹڈورکرز فیڈریشن(PUWF)کے پیر محمد کاکڑ،کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان(CCP)کے کامریڈ سلطان اورپاکستان ورکرز فیڈریشن(PWF)کے ثناءاللہ خان بھی اسٹیج پر بیٹھے ہوۓ تھے۔قبل اذیں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن اور ایری گیشن آفس چمن پھاٹک سے دوریلیاں نکالی گیئں۔دونوں ریلیوں کے شرکاء سیکرٹریٹ(عبدالستارایدھی)چوک پر ایک دوسرے سے مل گئے۔اور شہداۓ شکاگوکو خراج تحسین اور اپنے مطالبات و یومِ مئی کی مناسبت سے نعرہ بازی کرتےہوۓ کوئٹہ پریس کلب پہنچے۔جہاں کامریڈ نذر مینگل،حاجی عبدالکریم ترین،علی بخش جمالی،منظور بلوچ،پیرمحمد کاکڑ،کامریڈ سلطان،حافظ عصمت اللہ،محمد حنیف محمدحسنی،شمس خلجی اور نیشنل پروگرام کی محترمہ رشیدہ سمالانی نے خطاب کیا۔جبکہ کامریڈ شکیلہ اور سعید لہڑی نے نظم پیش کی۔پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفننس کمپئن کے یوسفی بلوچ نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔جلسے کے آغاذ سے قبل جلسے شرکاء نے شکاگو کے جان نثاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کھڑے ہوکر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔مقررین نے شہداۓ شکا گو کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ پاکستان میں مزدوروں،محنت کشوں اور چھوٹے سرکاری ملازمین کو درپیش مسائل و مشکلات اور چیلنجز کا ذکر کیا۔وہ اس موقع پرتمام ایسوسی ایشنز،ٹریڈ یونینزاورفیڈریشنزپر مل کر جدوجہد کرنے اور اتحاد و اتفاق پر زور دیتے رہے۔اس موقع پر پیش کی گئی قرار دادوں میں امریکی و اسرائیلی جنگی جنون،فلسطینیوں کی نسل کشی،ایران پر جنگ مسلط کرنے،مظلوم و محکوم طبقات کے استحصالی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوے آئی ایم ایف،ورلڈ بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی پاکستان سے متعلق معاشی پالیسیوں،رائیٹ سائزنگ،پرائیویٹائزیشن، کنٹریکٹ پالیسی،ٹھیکیداری داری نظام،بلوچستان میں 62سے زائد ایسوسی ایشنز پر پابندی،یونین سازی اور اظہار راۓ کی آذادی پر قدغن،پیکا ایکٹ،مہنگائی و بے روزگاری،کم سے کم اجرت ک
ے سرکاری اعلان پر عملدرآمد نہ کرنے اور بلوچستان میں سرکاری ملازمیں کے خلاف حکومتی انتقامی کارروائیوں کی مذمت کی گئی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Quetta
83700