17/05/2025
Education For All -Zhob
“Education for all” is dedicated to promoting access to quality education in undeserved communities
17/05/2025
17/05/2025
یونین کونسل ھیڑہ کبزئی ضلع ژوب کے لئے ایک اور اعزاز
نہیں ھے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
30سالوں سے بند سکول کا از سر نو شروعات ۔
گاؤں کے بزرگوں اور بچوں و بچیوں کے چہروں پر رونقوں کا سماں ۔
یہ اعزاز ایک غریب اور پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے ۔۔ ایک غریب باپ کے محنتی فرزند ۔ مشکلات اور اذیتیں اٹھانے والے باھمت نوجوان ۔ جہالت کے زنجیریں توڑنے والے دین پرور نوجوان عصر حاضر کے ایک ایماندار استاد محترم عبد الخالق خاطر ابن شیخ اختر شاہ کبزئی نے حال ہی میں حاصل کیا
اور اپنی محنت کے ثمرات لوگوں کو تحفے کی شکل میں دے دیا ۔۔۔۔ اور یہ شجر لازوال تا قیامت اپنے پھول کے شاخیں بچاتے رہیں گے ۔۔۔ انشاء اللہ
ھم جناب عبد الخالق خاطر صاحب کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔
بقلم عبدالرحمن صدیقی
12/05/2025
ڈسٹرکٹ خضدار
*سارونہ احمد وال — 8 مئی 2025*
*غیر فعال اسکول دوبارہ فعال، تعلیمی سرگرمیاں بحال*
گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول احمد والا، سارونہ، جو گزشتہ 10 سال سے غیر فعال تھا، اب دوبارہ تعلیمی سرگرمیوں کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔ نئے تعینات شدہ استاد *محترم ممتاز احمد* نے اپنی تعیناتی کے پہلے دن اہلِ محلہ کے ساتھ ایک اہم میٹنگ منعقد کی۔
اس موقع پر اہلِ محلہ کا جوش و خروش دیدنی تھا، اور تقریباً 70 سے زائد بچے جو عرصے سے تعلیم سے محروم تھے، اسکول میں جمع ہوئے۔ استاد محترم نے تعلیمی عمل کی بحالی کو محنت، نظم و ضبط اور والدین کے تعاون سے آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔
مقامی لوگوں نے حکومتِ بلوچستان اور محکمہ تعلیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے کی بحالی علاقے کے بچوں کے روشن مستقبل کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
08/05/2025
ژوب ضلع کے دیہی علاقوں میں سرکاری سکولوں کی موجودہ حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ محکمہ تعلیم کے افسران اور ڈسٹرکٹ چئیرمین کی جانب سے کیے گئے حالیہ دوروں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہر سے باہر کے بیشتر سکول سالوں سے بند پڑے ہیں۔ ان بند سکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہو رہی ہیں اور فرنیچر و دیگر تعلیمی سازوسامان یا تو غائب ہے یا پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کئی سکولوں میں محکمہ کے دوروں سے صرف ایک گھنٹہ قبل تالے کھولے جاتے ہیں اور غیر حاضر اساتذہ کو فون کرکے موقع پر بلایا جاتا ہے، جبکہ طلباء کو عارضی طور پر اکٹھا کرکے محض دکھاوا کیا جاتا ہے۔
اساتذہ کی غیر حاضری کی شرح انتہائی زیادہ ہے، جس میں سے تقریبا 90 فیصد اساتذہ بلا اجازت غیر حاضر رہتے ہیں۔ موجودہ اساتذہ میں سے اکثر اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے اور تدریسی معیار انتہائی پست سطح پر ہے۔ اس کے باوجود محکمہ تعلیم کی رپورٹس میں حقیقی صورتحال چھپائی جاتی ہے،جہاں بند سکولوں کو فعال ظاہر کیا جاتا ہے اور غیر حاضر اساتذہ کی فہرست میں ہیرا پھیری کی جاتی ہے۔ انتظامیہ کا رویہ بھی تسلی بخش نہیں ہے، اور اعلی حکام کو سب کچھ صیحح کا رپورٹ پیش کرتی ہیں اور نہ شکایات پر کوئی عملی کارروائی نظر نہیں آتی اور مقامی آبادی کی درخواستوں کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔
اس صورت حال کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ دیہی علاقوں کے بچوں کا تعلیمی معیار مسلسل گر رہا ہے، والدین کا سرکاری تعلیمی نظام پر سے اعتماد اٹھ رہا ہے، اور شرح خواندگی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے جن میں تمام بند سکولوں کو فوری طور پر کھولنا، غیر حاضر اساتذہ کو اپنے فرائض پر پابند کرنا ، روزانہ حاضری کا آن لائن نظام متعارف کرانا، مقامی لوگوں پر مشتمل نگرانی کمیٹیاں بنانا، اور ماہانہ کارکردگی رپورٹس عوامی سطح پر جاری کرنا شامل ہیں۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہے اور اس بنیاد کو کمزور کرنا پورے علاقے کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے پر توجہ دے اور تعلیمی نظام کو درست کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔وگرنہ محکمہ تعلیم کے ذمہ دار آفیسران کے خلاف ایک احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا جس میں والدین سمیت تعلیم سے محروم بچوں کو شامل کیا جائے گا
24/04/2025
داخلہ نوٹس
بلوچستان کے طلباء کے لیے مخصوص نشستیں
ملک بھر کے کالجوں میں F.A/F.Sc/ICS پروگراموں کے لیے
ملک بھر کے مختلف کالجوں میں F.A، F.Sc، اور ICS پروگراموں میں مخصوص نشستوں پر داخلے کے لیے بلوچستان کے اہل طلباء سے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔ دلچسپی رکھنے والے امیدواروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ کے اندر درخواست دیں۔
23/04/2025
**ضلع ژوب کے تحصیل ژوب(کبزئی علاقے) میں تعلیمی بحران: بند سکول، غیر حاضر اساتذہ اور سرکاری خاموشی پر شدید برہمی**
ضلع ژوب کے دور دراز علاقے تحصیل کبزئی میں سرکاری سکولوں کی بندش، اساتذہ کی غیر حاضری اور سکول عمارات کے غلط استعمال کے خلاف مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران، بشمول ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور چئیرمین ژوب کے متعدد دوروں کے باوجود یہ مسائل جوں کے توں برقرار ہیں، جس پر متعلقہ افسران اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کی خاموشی نے مزید تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
علاقے کے اکثر سرکاری سکول عرصہ دراز سے بندپڑے ہیں، جبکہ ان کی عمارتوں کو ذاتی مفادات کے تحت گوداموں اور دیگر غیر تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل نہ صرف سرکاری وسائل کی بربادی ہے بلکہ نئی نسل کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی اساتذہ بغیر کسی جواز کے مسلسل غیر حاضر رہتے ہیں، جبکہ انہیں عوامی ٹیکس کی رقم سے تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ مزید برآں، ڈسٹرکٹ اور ڈویژنل ایجوکیشن افسران کی جانب سے ان سنگین خلاف ورزیوں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جو انتظامی لاپروائی اور بدعنوانی کی واضح علامت ہے۔
حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ اس سارے معاملے پر مقامی سیاسی اور سماجی رہنما بھی خاموش ہیں، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ یا تو اس ناانصافی کے ساتھی ہیں یا پھر ان کی ترجیحات میں عوامی مسائل شامل نہیں۔
مقامی آبادی کا مطالبہ ہے کہ:
- تمام بند سکولوں کو فوری طور پر فعال کیا جائے۔
- غیر حاضر اساتذہ کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل یا برطرف کیا جائے۔
- سکول عمارات کو ذاتی استعمال میں لینے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں۔
- ڈسٹرکٹ اور ڈویژنل ایجوکیشن افسران کے خلاف تحقیقات کرکے انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
یہ صورتحال نہ صرف ژوب کے تعلیمی نظام کی زبوں حالی کی عکاس ہے بلکہ سرکاری اداروں میں پھیلی بدعنوانی کی بھی غماز ہے۔ ہم صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ نئی نسل کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیلا جانے سے روکا جا سکے۔
گونمنٹ بوائز پرائمری سکول زہروزئی ژوب
**"کتاب علم کا خزانہ ہے اور قلم اس خزانے کو دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ۔"** Education For All -Zhob @ #
Click here to claim your Sponsored Listing.
08/05/2025