اُردو اکادمی کوئٹہ

اُردو اکادمی کوئٹہ بلوچستان میں اردو زبان و ادب کی نشر و اشاعت
اہم ادبی متون کی اشاعت ، ادبی سرگرمیاں۔

ڈاکٹر انعام الحق کوثر نے لکھا اہل بلوچستان کے لیے اردو زبان کی طرف مائل ہونا صرف اس زبان کے اساسی مزاج ہی کے باعث آسان ن...
12/12/2024

ڈاکٹر انعام الحق کوثر نے لکھا
اہل بلوچستان کے لیے اردو زبان کی طرف مائل ہونا صرف اس زبان کے اساسی مزاج ہی کے باعث آسان نہ تھا، بلکہ خود اہل بلوچستان کا مزاج بھی لسانی تغیر کے لیے برصغیر میں سب سے زیادہ موزوں تھا۔ یہ خصوصیت صرف اسی خطے کے لوگوں کو حاصل ہے کہ، وہ بیک وقت ذواللسان ہیں۔
قلات ڈویژن میں اکثر لوگ بلوچی اور براہوی دونوں زبانوں پر یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ مغربی بلوچستان میں بلوچی اور پشتو بولنے والے کثیر تعداد میں ملتے ہیں۔ جنوب مشرقی بلوچستان میں سندھی اور براہوی دونوں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ شمالی و مشرقی بلوچستان میں سرائیکی، بلوچی اور پشتو تینوں بولی جاتی ہیں۔

اور کوئٹہ جو بلوچستان کا مرکز ہے، لسانی تنوع کا ایک دلچسپ اور حیرت انگیز منظر پیش کرتا ہے۔ اس میں براہوی، بلوچی اور پشتو کے علاوہ فارسی، اردو، سرائیکی، اور پنجابی بولنے والے افراد بھی خاصی تعداد میں ملتے ہیں۔ اور قریب قریب ہر فرد تین تین، چار چار زبانیں بیک وقت نہایت آسانی اور روانی سے بول سکتا ہے

اہل بلوچستان کی یہ کثیر اللسانی انھیں دیگر اہل پاکستان سے ممیز کرتی ہے اور جہاں ان کی ذہنی اپج اور ذہانت کی مظہر ہے، وہاں پاکستان جیسے مختلف اللسان ملک میں ان کی اہمیت کی بھی غماز ہے۔ لہٰذا اہل بلوچستان کے لیے اردو کو اپنا لینا قطعا مشکل نہ تھا۔
پیش لفظ ، بلوچستان میں اردو 1968ء
پس نوشت۔ آج ڈاکٹر انعام الحق کوثر کی دسویں برسی ہے۔

ایک عمدہ کتاب ،رعایتی بکنگ جاری ہے۔اس کے مصنف عثمان قاضی صاحب ہیں۔دسمبر کے پہلے ہفتے میں یہ قارئین کو دستیاب ہو گی۔عمدہ ...
23/11/2024

ایک عمدہ کتاب ،رعایتی بکنگ جاری ہے۔
اس کے مصنف عثمان قاضی صاحب ہیں۔
دسمبر کے پہلے ہفتے میں یہ قارئین کو دستیاب ہو گی۔
عمدہ کاغذ اور مجلد کتاب کل 424 صفحات پر مشتمل ہے۔ جبکہ چار صفحات نایاب اور اہم تصاویر پر مشتمل ہیں۔
رعایتی قیمت مع ڈاک خرچ 1000 روپے

ایزی پیسہ اکاؤنٹ 03337906791

نیشنل بینک آف پاکستان اکاؤنٹ 01363079161302

دوستوں سے گزارش ہے کہ اس نئے ادارے کی بنیاد رکھنے اور حوصلہ افزائی کے لیے اپنی کاپی بک کریں اور اس پوسٹ کو بھی شئیر کریں۔
کاپی کی بکنگ کی رسید مع اپنے پوسٹل ایڈرس کے اسی نمبر پر واٹس ایپ کی جا سکتی ہے یا ان باکس۔
بہت شکریہ
فیصل ریحان
اُردو اکادمی کوئٹہ، بلوچستان۔

09/11/2024

اقبال کے بارے میں عطا شاد نے لکھا

اقبال ایک ہمہ جہت اور ہمہ جو شاعر ہیں۔ انھوں نے بڑے دل نشین اور فکر انگیز لہجے میں زندگی کے راز ہائے سربستہ سے پردہ اٹھایا ہے۔ انھوں نے بڑی دل نواز لے میں انسان کے منصب، اس کے تشخص اور اس کی عظمت کے نغمے گائے ہیں۔ انھوں نے بڑے حکیمانہ انداز میں اصرار کتاب بیان کر کے پیغام خداوندی کی اصل روح کو اجاگر کیا ہے۔ وہ حیات و کائنات کے شاعر ہیں لیکن ان کے فکر و فن کے ان پہلوؤں کا ادراک مجھے بہت عرصہ بعد ہوا۔ ایک عمر کی کاوش کے بعد مجھے ان سے شناسائی ہوئی، محض شناسائی جو حقا معرفتک کی منزل پر شاید کبھی نہ پہنچ پائے۔ البتہ اقبال کو بلوچستان کے شاعر کی حیثیت سے میں نے اسی وقت پہچان لیا تھا جب میں اپنے شعری ذوق کی ابتدائی منزلوں سے گزر رہا تھا۔ اس وقت شاید میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ بلوچستان کی زندگی اور یہاں کے جذبہ و احساس، یہاں کے بندہ صحرائی، یہاں کے مرد کوہستانی کی بات کرنے والا یہ شاعر بلوچی زبان میں کیوں بات نہیں کرتا۔

خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں
وہ گلستان کے جہاں گھات میں نہ ہو صیاد

یا
کوہ شگاف تیری ضرب تجھ سے کشا د شر ق و غرب
تیغ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر

یا
حدیث بادہ و مینا وجام آتی نہیں مجھ کو
نہ کر خارا شگافوں سے تقاضا شیشہ سازی کا

یہ اور ایسے بے شمار دوسرے اشعار بلاشبہ جہد حیات اور مسلسل تگ و تاز کے بارے میں اقبال کے آفاقی پیغام کا حصہ ہیں۔ لیکن مجھے ہمیشہ ان میں بلوچستان کا دل دھڑکتا سنائی دیتا ہے۔ مجھے ان سے چلتن کے یخ بستہ تختہ بہ تختہ سلوں کے چٹخنے کی صدا اتی ہے۔

عطا شاد کے ایک غیر معروف، غیر مدون مضمون "اقبال اور بلوچستان" سے مقتبس

09/11/2024

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اُردو اکادمی کوئٹہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share