Shaikhul Hadees tafseer Hafiz Fazal Mohammad Barech marhoom

Shaikhul Hadees tafseer Hafiz Fazal Mohammad Barech marhoom

Share

(j u i "nazaryati")

10/05/2020

قائد حریت؛باباے نظریات علامہ حافظ فضل محمد(رح)کی مختصر سرگزشت۔۔۔۔!!!

سن1959 میں پشتون قوم کے بڑیچ قبیلے محمد عیسی کے گھر میں ایک بچہ پیدا ہوا۔والدین کی مشاورت سے نام فضل محمد رکھا گیا،۔جس کو اگے بڑھ کر حافظ القرآن ،حافظ الحدیث، علامہ الکتب ، امام المجاھدین ،شیخ التفسیر،استادالمحدیثین، رھنماۓ سیاست،ولی وقت،قطب زماں ،بخاری عصر،فقیہ دوراں،مسلک حنفی کے روح رواں،محافظ عقاٸد دیوبند، عمرثالث کے باھم مشاورتی،اور بطل حریت،بنناتھا۔
اس لۓ آپ ؒ کی زندگی تین حصوں پر مشتمل کی جاسکتی ھے ،(1)علمی (2)جہادی(3) سیاسی زندگی
(1)علمی زندگی۔
علامہ موصوف نے ابتداٸی تعلیم اپنی والدہ سے حاصل کی ۔یہاں تک کہ حفظ القرآن بھی اپنی والدہ ماجدہ سے کیا۔
اور باقی علم کوٸٹہ اور مضافات کوٸٹہ میں مختلف علما ٕ ٕکرام سے حاصل کیا۔
1983 میں مذید علمی پیاس بجھانے کیلۓ ۔پاکستان کے مشھور شھر کراچی چلےگۓ۔جھاں بین الاقوامی ،دینی، معیاری، تعلیمی درسگاہ ، جامعہ العلوم علامہ محمد یوسف بنوری (ٹاٶن)میں داخلہ لیا ،اسی جامعہ میں دوسال، جبال العلم سے استفادہ کیا،
اور سن 1985میں باقاعدہ رسمی فراغت ہوٸی۔
مولانا فتح اللہ صاحب ، (مھتمم جامعہ افضل العلوم کراچی ۔جوکہ علامہ حافظ فضل صاحب کے دورہ حدیث کے ھمدرس ساتھی ھیں،)نے علامہ حافظ فضل صاحب کے دورہ حدیث کا واقعہ سنایا .کہ ھمارے دورہ حدیث کے سال میں جب کبھی ، حافظ فضل محمدصاحب وضو کے تقاضے سے ، دیر ہوجاتے تو مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی (رح). اس وقت تک ، حدیث کا درس شروع نھیں کرتے ، جب تک حافظ فضل صاحب کلاس میں تشریف نھیں لاتے ، ارو مفتی صاحب حافظ صاحب کی طرف اشارہ کرکے فرماتے تھے ، یہ طالب العم سبق بڑے شوق ، و ادب سے سنتے ھیں۔اس لۓ ھم اس کے قدر کرتے ھیں ۔
فراغت کے بعد، علامہ (رح) نے درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا بھت جلد ھی ، عوام ،وخواص، میں آپ کی علمی قابلیت کاشھرت کاچرچا ہوا۔
آپؒ کی علمی قابلیت کا یہ عالَم ،کہ بسا اوقات، آپؒ دوران درس فرمایا کرتے تھے، اگر دنیاۓ جھاں سے ساری جلالین کی کتابیں ختم کی جاٸی ،تو میں ان شاء اللہ مع الحاشیہ ،سر تا پاجلالین لکھ سکتاہوں،
آپؒ فن نحو میں بھی اعلیٰ درجے پر فاٸز تھے،نحو کی مشھورِزمانہ کتاب ملاّٰ جامی، جب آپؒ پڑھاتے تھے تو اعتراضات کی ایک امبار لگاتے،کبھی ملاجامی کے اغراض بیان کرتے جب علامہ جامی کی عبارت میں غلطی پاتے ، تو آپؒ پشتو میں فرماتے........ (دٸی بہ ھم پہ گَوڈہ پشہ کور تہ ورغلٸ یٸ چاۓ را پوخ کٸ ما کتاب لیک لاٸی دٸی)..
یہ بھی لنگڑے پاٶں گھر جاکے کھتے ، چاۓ پلاو ، میں نے کتاب لکھی ھے۔
اورحضرت علامہ ؒ زندگی کی آخری سال تک 15 شعبان سے 25رمضان المبارک تک دورہ تفسیر پڑھایا کرتے تھے ۔
اور علامہ حافظ فضل محمد ؒ آخری عمر کے چند سال قبل اور آخری سانس تک شیخ الحدیث تھے .
(2) جہادی زندگی ......
علامہ موصوف نے جہاد کے حوالے سے وہ تاریخی کردار سرانجام دیۓ۔جو ناقابل فراموش اور قابل مأخذ سبق ھیں۔جب روس نے پھلے پھل افغانستان پر حملہ کیا تو سب سے پھلے آپ نے اپنے چند شاگردوں سمیت افغانستان پھنچے ۔جب وھاں ، مالی کمزوری دیکھی ، تو آپؒ نے بڑوں کے مشورے سے، واپس پاکستان تشریف لایۓ ۔بلوچستان ودیگر علاقہ جات میں سب سے پھلے ،مجاھدینِ افغانستان کیلٸے چندے کی مھم آپؒ نے چلاٸی ،اور اس کے بعد کٸ بار بنفسِ نفیس جھاد میں شرکت کرتے رہے۔اور ملا محمد عمرمجاہد کے خاص مشاورتی فرد بھی بنے۔
آپؒ کی کوٸی تقریر ایسی نہیں تھی جس میں امارت اسلامی کی حمایت وستاٸش نہ کی ہو۔
آپ کی ایک کتاب پشتو میں جہاد کے متعلق بھی دستیاب ہے۔
(3)سیاسی زندگی ۔۔۔
بچپن سے ہی جھاں والدین انھیں یہ سکھایا کہ بیٹا پانی تین سانس سے پیتے ھیں ۔کھانہ کھانے سے پھلے بسم اللہ پڑھتے ہیں ۔کھانہ داٸیں ھاتھ سے کھاتے ھیں ، تو وہیں والدین نے علامہ حافظ صاحب کو یہ بھی سکھایاتھا ۔کہ بیٹا اسلام کی خاطر اگر آپ کے 7 فٹ بدن قربان کرنے کی ضرورت پڑی ، تو جان کی پرواہ نہ کرنا ، اگر ناموس رسالت پر آپ کی جان جاتی ہے تو جایٸں، لیکن موت کے ڈر سے پیچھے مت ہٹنا، ناموس صحابہ کے دفاع پر اگر آپ کی ایک جان چلی جایۓ ، تو جایٸں ، مگرصحابہ کے دفاع سے ایک قدم بھی پیچھے مت ہٹنا،
علامہ حافظ فضل محمدؒ نے اپنے والدین کی تعلیمات اور ان کی ھدایات کو پیش قدم ، (اور ان پر عمل پیرا ہوتے ہوے کٸ بار جیل کی کال کوٹری میں صعوبتیں برداشت کی)
علامہ صاحب نے سن1986 میں باقاعدہ جمعیت علماۓ اسلام کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا ۔ پھر جمعیت علمإ اسلامی کی طرف سے سنیٹر بھی مقرر ہوۓ ۔
حافظ فضل ؒ ہی وہ اولین شخصیات میں سے ہیں.جس نے جمعیت علمإ اسلامی کی اثر ورسوخ بلوجستان کے سنگ دل لوگوں کے دلوں میں بٹھاٸی ۔
یہ تو الحاج علامہ عبدالغنی صاحب فرمایاکرتے تھے ۔کہ اگر جمعیت میں حافظ فضل نھیں ہوتے تو آج بلوچستان میں جمعیت کے چند گنے چھنے افراد ہوتے ۔
آپ کے روشن کردار سیاست ھی کے نتیجے میں جمعیت علمإ اسلام(نظریاتی) وجود میں آٸی ۔
اور آپ کی خلوص نیت وللاہیت و شبانہ روز جدوجھد سے بھت ھی کم مدت میں جمیعت علما ٕ اسلام نظریاتی پاکستان کی بڑی جماعتوں میں شامل ہونے لگی ۔اور آپؒ کٸ بار صوباٸی وقومی اسمبلی الیکشن میں کھڑے ہوے ۔حتیٰ کہ یوم وفات سے ایک دن قبل الیکشن (2013)والے میں بھی آپ قومی سیٹ پہ محمود خان اچکزٸی کے مقابل الیکشن لڑ رھے تھے ۔مگر کچھ کم ووٹ سے ھار گۓ۔
حافظ صاحبؒ خطابت کے بھی بے تاج بادشاہ تھے ۔
اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ھے کہ ملکی سطح پر اگر جھاں کھیں کوٸی جلسہ منعقد ہوتا ۔تو بلوچستان کے علما ٕ سے آپ نامزد ہوتے، اس کا ایک خاص وجہ آپؒ اردو علی الوجہ البصیرت بولتے تھے ۔ صوبہ پنجاب کے شھر جھنگ میں ”شھداۓ اسلام“ کے عنوان سے ایک بھت بڑا جلسہ منعقد ہوا کرتا تھا (جوکہ آج کل بھی منعقدہوتا ھے)۔
اس جلسے میں حافظ صاحب کو خصوصا خاص مدعو فرماتےتھے۔
اور اس جلسے کی صدرات مولانا اعظم طارق شھید کرتےتھے ۔جوکہ حافظ صاحب کے دورہ حدیث کے ساتھی تهے۔ خوشخبری اور دلچسپی کی کی بات یہ ہے کہ علامہ حافظ فظل محمدبڑیچؒ کے دورہ حدیث کے ھمدرس ساتھی بھی وہ ہیں جن کو دنیا بڑے نام سے یاد کرتی ہے مثلا مولانا اعظم طارق شھید، مولانا غازی عبدالرشید شھید،
مولانا قاری امداداللہ ناظم جامعہ بنوری ٹاون کراچی ،
مولانا فتح اللہ مھتمم جامعہ افضل العلوم کراچی وغیرہ جن کی علمی وسیاسی خدمات کے ایک دنیا معترف ہے۔...
۔۔۔۔اکابر علمإ کی نظر میں۔۔۔۔
شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحبؒ ،جب جمعیت(ف) اور جمعیت (ن) کی اتحاد کے حواکے سے حافظ صاحب سے فرمایا جیسے آپ پھلے جمعیت کے خاص فرد تھے اب بھی آپ سے متحد ہونے کی التماس ھیں ۔اس پر علامہ حافظ صاحبؒ نے جمعیت اور فضل الرحمٰن سے علیحدگی کی ایسی وجوھات بیان کی کہ اجلاس میں موجود علمإ کرام سب ورطہ حیرت میں پڑگے ۔اس کے بعد شیخ سلیم اللہ خان صاحبؒ نے فرمایا اس مولوی کو رھنے دو یہ فقط للاہیت اور خلوصِ نیت کی بناء پرھیں ۔
جب پاکستان سے علمإ کی وفد مولانا مفتی نظام الدین شامزٸی شھیدؒ مولانا مفتی یوسف لدھیانوی شھیدؒ مولانا زاھد راشدی صاحب وغیرہ، افغانستان کے دورے پر ملا عمر سے ملے اورملا صاحب سے گفتگو گفتگو میں پوچھا ، اگر بالفرص وتقدیر پاکستان میں بھی اسلامی نظام نافذ ہوٸی تو آپ کی کیا ، راٸے ہے ،ہم کس کو امیر المومنین منتخب کریں ، (اس وقت حافظ صاحب کی خطابت وعلمیت کا ایک چرچا تھا)..ملا عمرؒ نے برجستہ کہا پاکستان میں اگر امارت کیا مستحق ہیں ، تو حافظ فضل محمد بڑیچ ھیں ۔وفد کا پاکستان پھنچنے کے بعد مولنا مفتی نظام الدین شامزٸی اور مفتی یوسف لدھیانوی صاحبان حافظ صاحب سے ملاقات کی اور حافظ صاحب کو بنوری ٹاٶن میں درس وتدریس کے حوالے سے بات کی مگر آپ ؒ نے ان دونوں حضرات کی بات ٹکراٸی اور کہا بنوری ٹاٶن میں آپ حضرات ھی کافی ھیں ۔
میں اس خوار سے مدرسے میں روزانہ اگر ایک لکیر پڑھاٶں یہ میرے لٸے کافی ہے۔
مولانامفتی زرولی خان صاحب حافظ کے علمیت کے بھت معترف تھے ۔ایک دفعہ آپ حافظ صاحب کی تقریر سنی تو فرمایا مولانا فضل محمد صاحب کی ادھی تقریر قرآن کی ایاتوں سے مزین اور ادھی تقریر احادیث پر مشتمل ہے ۔میں نھیں سمجھتا ہوں اس نے اتنا علم سمویا کہاں ہے؟
مولانا مفتی منظور احمد مینگل صاحب مولانا حافظ فضل محمد بڑیچ صاحب کے بارے میں فرماتے تھے حافظ فضل صاحب بهت ھی قابل عالم ،و مجاہد تھے لیکن جمعیت والے ان کے خلاف بهت بھونکے ۔اللہ ان کی قبر کو منور فرمایٸں۔
مولانا فضل محمد یوسفزٸی بلوچستان خصوصا کوٸٹہ کے طلبہ سے فرمایا کرتےتھے۔میں ان طلبہ کو حیران ھوں جو میرے ھم نام فضل محمد بڑیچ کو چھوڑ کر اس فضل محمد کے پاس آتے ھیں حالانکہ انکی قابلیت علمد مسلم ہے ۔
علامہ حافظ فضل محمد کے وفات کے دن اماارت اسلامی افغانستان کی طرف سے ایک وفد آیا جن کو ملامحمد عمر نے خصوصی بھیجا تھا حضرت کے نماز جنازے کے بعد انھوں نے ملا عمر کاپیغام پورے جنازگاہ والوں کو سنایا ۔۔کہ ھم ملا عمر کی طرف سے آیٸں ہیں۔حافظ صاحب کی رحلت پر نہ صرف مدارس کے طلبہ اور نہ ھی عوام غمزدہ ودلگداز ھیں بلکہ افغانستان کی دھرتی پر سنگر میں بیٹھے ہوٸے مجاھدین بھی غمگین واشکبار ہیں۔
جب حافظ صاحب کو سپر دخاک کیا گیا تو کٸی روز تک قبر مبارک سے مشک و عنبر سے زیادہ خوشبو مھکتی تھی ۔
موت کے ٹھیک چالیس 40 دن بعدالت جب حافظ صاحب کی جسد قبر سے نکالا گیا تو جسد روزِ اول کی طرح بعینہ بال گلے اور بڑے ھوے تھے ناخون بڑے ۔جسم سے خوشبو مھکتی تھی۔
افسوس!!!!!!!! حافظ صاحب سے اگر زندگی وفا کرتی تو آج کے یہ فسق وفساد انکے رعب ودبدبہ سے ھی ختم ھوجاتے ۔لیکن کہا جاتا ہے مٹی کو بھی وہی پسند جو اللہ کو پسند ہوتے ہیں ۔
یوں یہ 54سالہ زندگی بہت سوں کے صد سالہا زندگی سےاچھی وبہتر وباکردار گزاری۔
12 مٸی کو داعی اجل کولبیک کھتے ہوٸے ہزاروں تلامذہ کو روتے ہوٸے چھوڑا۔۔اور لاکھوں کارکنوں کو اشکبار وسرپیٹتے چھوڑ کر داٸمی داغ فراق دیا۔

09/10/2017

کسی کے پاس حا فظ صاحب کی کو ئی تقر یر اور کوئی تصویر ہے وہ مجھ بھجا دے۔۔۔

Photos 07/08/2017

امام المجاہدین امریکی سامراج کےکیخلاف عالم بغاوت بلندکرنے والے اورجمعیت نظر یاتی کے بانی علامہ حافظ فضل محمدبریج صاحب دوسال اٹہ مہنےکےبعدان کے قبرکشایی ہویی جس میں وہ صحیح سالم نظرارہے ہیں مخالفین توانگریز دوستی کےباوجود جنت اپنے لیے واجب سمجھتے ہیں جنت ایسے بزرگوں کیلیے ہوتی ہے جیسےحافظ صاحب مرحوم

Photos 23/05/2017
Photos from Shaikhul Hadees tafseer Hafiz Fazal Mohammad Barech marhoom's post 23/05/2017

جمعیت علماءاسلام نظریاتی کے قائدین اور کارکن بانی نظریات شیخ المشائخ امام المجاہدین حضرت مولانا حافظ فضل محمد. مجاہدین افغانستان عراق شام برما فلسطین کشمیر اور ملک کے استحقام کلئے قران خوانی کے بعد اجتماعی دعا کر رہے ہیں

Photos 11/05/2017

یہ شخص جو علم کاسمندر اورتقویٰ کاپہاڑتھا مجاہدین کاامام تھاب. دیوبندکاترجمان تھا اور وقت کا ولی کامل تھا حضرت مولانا نظام الدین شامزئ شہید رحمہ اللہ کےشاگرداور بنوری ٹاون کےفاضل2013 ماہ مئی12اور13تاریخ کےدرمیانی شبہ دارفانی سےرحلت فرماگۓ اللہ تعالیٰ جنت میں ان کواعلی سےاعلی مرتبہ عطاءفرمائےآمین ثم آمین

17/03/2017

کون ایجنسی کا ہے حقیقت آپ علامہ حضرت حافظ فضل محمد رحمۃ اللہ علیہ کے زبان مبارک سے خود سنئے

Photos 15/03/2017

نن ديارتصوير په جدايۍ راسره وژړل
شومه چې تنهانوتنهايۍ راسره وژړل
کله چې زما فرياد زماشوګيري وليدې
ستوروپه چرګه سپنې سپوږمۍ راسره وژړل
۔۔۔۔۔شیخ الحدیث حضرت علامہ حافظ فضل محمد صاحب پہ دعاکی یاد ساتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاھین۔۔۔۔۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Quetta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address

مدرس جامعۃ العلوم الاسلامیۃ , شالدرہ, کوئٹہ پاکستا
Quetta