07/05/2026
# کاپی کی روایت: ایک مردہ نظام کی زندہ لاش
---
ہمارے ہاں تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی ایک پرانا منظر دہرایا جاتا ہے — استاد کلاس میں داخل ہوتا ہے، کاپیاں اٹھاتا ہے، گنتا ہے اور جس بچے کی کاپی ادھوری ہو اسے سزا ملتی ہے۔ نہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ بچے نے سمجھا کیا، نہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس نے سوچا کیا — بس کاپی کے صفحے گنے جاتے ہیں۔ یہی ہمارے نظامِ تعلیم کی اصل تصویر ہے۔
کاپی بھرنے کا ایک ہی فائدہ ہے اور وہ ہے ہینڈ رائٹنگ کی مشق۔ اس سے آگے نہ بچے کی سوچ بنتی ہے، نہ اس کی تخلیقی صلاحیت جاگتی ہے، نہ وہ مسئلہ حل کرنا سیکھتا ہے۔ وہ صرف نقل کرنا سیکھتا ہے — کتاب سے کاپی میں، کاپی سے پرچے میں، اور پرچے کے بعد سب کچھ بھول جاتا ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پرائمری سطح کے 73 فیصد بچے وہ متن پڑھ کر اس کا مفہوم بیان کرنے سے قاصر ہیں جو وہ خود لکھتے ہیں — یعنی لکھنا ہو رہا ہے لیکن سیکھنا نہیں۔
---
دنیا کہاں پہنچ گئی ہے؟ آج گوگل، مائیکروسافٹ اور ایپل جیسی کمپنیاں اپنے ملازمین سے ڈگری تک نہیں مانگتیں — وہ مانگتے ہیں **مہارت، تخلیق اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت۔** دنیا بھر میں Voice-to-Text، AI Writing Tools اور Digital Notebooks نے ہاتھ سے لکھنے کی ضرورت کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2030 تک دنیا کے 85 فیصد پیشوں میں ہاتھ سے لکھنا ایک غیر ضروری مہارت بن جائے گی۔ لیکن ہمارے ہاں آج بھی اسکولوں میں ہر مضمون کی الگ کاپی ہے — سائنس کی کاپی، ریاضی کی کاپی، اسلامیات کی کاپی — اور ہر کاپی مکمل کرنا لازمی ہے۔ اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ ہم بچوں کو اس مہارت کے لیے تیار کر رہے ہیں جس کی آنے والی دنیا کو ضرورت ہی نہیں۔
---
اب آتے ہیں نصاب 2022-23 کی طرف جسے سنگل نیشنل کریکولم کا نام دیا گیا۔ کتابیں چھپ گئیں، اسکولوں میں پہنچ گئیں، افتتاح ہو گیا — لیکن پھر سوال اٹھا کہ **پڑھائے کون؟** یہ نصاب Bloom's Taxonomy، Competency-Based Education اور Project-Based Learning پر مبنی ہے — یعنی یہ بچے کو رٹانے کی بجائے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ لیکن جس استاد نے ساری زندگی صرف سوال جواب رٹوائے ہوں اسے اچانک یہ کیسے سمجھایا جائے؟ نتیجہ یہ نکلا کہ لوکل پبلشرز نے موقع غنیمت جانا اور نئے نصاب کے نوٹس، خلاصے اور گائیڈز بازار میں اتار دیے جو دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ استاد نے کاپی مکمل کروانی ہے تو بچہ وہی گائیڈ نقل کر رہا ہے — **نیا نصاب، پرانا طریقہ، صفر نتیجہ۔** ASER 2023 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ بلوچستان میں گریڈ 5 کے صرف 32 فیصد بچے اردو کا ایک سادہ پیراگراف پڑھ سکتے ہیں — جبکہ ان سب کی کاپیاں بھری پڑی ہیں۔
---
اب ذرا PITE یعنی صوبائی ادارہ برائے تربیتِ اساتذہ کا ذکر کریں۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کے کندھوں پر استادوں کو جدید تعلیم کے لیے تیار کرنے کی ذمہ داری ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں تربیت دینے والے اکثر خود اسی پرانے دور سے تعلق رکھتے ہیں جسے یہ نصاب بدلنا چاہتا ہے۔ ہر اسکول سے وہی استاد ٹریننگ کے لیے بھیجا جاتا ہے جو سب سے نکما ہو — اس لیے نہیں کہ وہ سیکھے گا بلکہ اس لیے کہ اسکول اسے چند دن کے لیے ہٹانا چاہتا ہے۔ وہ ٹریننگ میں حاضر ہوتا ہے، ڈیلی الاؤنس لیتا ہے، حاضری لگاتا ہے اور واپس آ جاتا ہے — **نہ سیکھا، نہ سکھایا۔** ایک سروے کے مطابق بلوچستان میں ٹریننگ لینے والے 68 فیصد اساتذہ نے تسلیم کیا کہ ٹریننگ کے بعد انہوں نے اپنے کلاس روم طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ یہ اعداد و شمار کسی بھی باضمیر حکام کی نیند اڑا دینے کے لیے کافی ہیں۔
---
سوال یہ ہے کہ پھر حل کیا ہے؟ اگر حکومت واقعی اس نصاب کو اس کی روح کے مطابق نافذ کرنا چاہتی ہے تو تربیت کا کام ایسے اداروں کو دینا ہوگا جو اس کام کے اہل ہوں — جو جدید pedagogy جانتے ہوں، جو نتائج کے ذمہ دار ہوں اور جن کا احتساب ہو سکے۔ کاپی کی چیکنگ کو معیارِ تعلیم سمجھنا بند کرنا ہوگا۔ بچے نے کاپی بھری یا نہیں — یہ سوال فضول ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ **بچے نے سوچا یا نہیں، سمجھا یا نہیں، بنایا یا نہیں۔**
دنیا آگے جا رہی ہے۔ ہم کاپیوں کے صفحے گن رہے ہیں۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے؟
---
#اصلاحِ_تعلیم #نظامِ_تعلیم