29/04/2020
*پرائیویٹ سکول مالکان آپکو میرا سلام*
پرائیویٹ سکول مالکان آپ کم ترین فیس میں ملک میں اعلیٰ معیار کی تعلیم مہیا کر رہے ہیں، کیونکہ سرکار اس سے زیادہ (لگ بھگ 6 سے 8 ہزار ماہانہ) ایک طالب علم پر خرچ کرتی ہے پھر بھی معیاری تعلیم دینے سے قاصر ہے.
سکول مالکان آپ ملک بھر کی خواتین کو سب سے بڑا روزگار مہیا کر رہے ہو آپ کو میرا سلام.
سکول مالکان آپکو 70 سالوں میں کبھی حکومتی مدد کی ضرورت نہی پڑی بلکہ ہمیشہ آپ نے حکومت کی مدد کی روزگار، ٹیکس، الیکشن، طبی مہم، سکاؤٹنگ اور سب سے بڑھ کر سسستی اور تعلیمی معیار کی صورت میں
آپ کو میرا سلام
سکول مالکان آپ پاکستان کی سب سے بڑی ریلیف NGO ہیں کیونکہ آپ نے ہمیشہ کم آمدن طلبہ کو اپنے سکولوں میں انسانی ہمدردی پر بلا معاوضہ داخلہ دیا
آپ کو میرا سلام
پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سکول مالکان قابل طلبہ کو آج بھی حکومت سے کئی گنا زیادہ سکالر شپ دے رہے ہیں
آپ کو میرا سلام
آج بھی ہر سال بہت سے والدین سکول کی لاکھوں روپے کی فیس دیے بغیر سکول چھوڑ جاتے ہیں مگر آپ نے کبھی ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہی کی سکول مالکان
آپ کو میرا سلام
آپ کو معافیہ کہنے اور دھمکیوں کے باوجود آپ نے ہمیشہ میڈیا، صحافی، سرکاری ملازمین، افواج پاکستان کے ملازمین، پولیس ملازمین اور وکلاء ان شعبوں کے بچوں کو ہمیشہ رعایت دی
آپ کو میرا سلام
سکول مالکان میں زیادہ تر وہ اساتذہ شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے 40 سے 50 برس اس شعبے میں تدریس میں گزارے
آپ کو میرا سلام
آج سے کچھ عرصہ قبل جب پاکستان کے بہت سے طالبعلم جب O لیول اور A لیول کی پڑھائی کےلیے یورپ اور امریکہ جایا کرتے تھے جس سے کروڑوں ڈالر کا سرمایہ باہر چلا جایا کرتا تھا ایسے وقت میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے پاکستان میں معیاری تعلیمی ادارے قائم کئے اور O, A لیول کو پاکستان میں لاے
آپ کو میرا سلام
پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان نے ملک کے اساتذہ کو ٹریننگ کےلیے باہر کی یونیورسٹیوں کے دورے اور ٹریننگ کے لیے ورکشاپس منعقد کیں بغیر کسی حکومتی تعاون کے
آپ کو میرا سلام
آج ملک یقیناً ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے مگر یہ تعلیمی ادارے اس سے بھی زیادہ مشکلات کا شکار ہیں ایک طرف کرونا کا خوف تو دوسری طرف 2 سال سے حکومتی اداروں کی طرف سے تعاون نہ ہونے کی وجہ سے شدید معاشی مشکلات اور مایوسی کا شکار ہیں.
جہاں والدین سکول فیس دینے کو تیار نہیں، سٹاف کی تنخواہیں، بلڈنگ کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز کہاں سے ادا کریں.
اور کچھ معلوم نہیں کہ ادارے کب تک بند رہیں گے حکومت کے 1200 ارب معاشی پیکج میں سکولوں کو نظر انداز کرنا بڑے دکھ کی بات ہے.
ریاست کو سوچنا ہوگا کہ اگر یہ تعلیمی ادارے بند ہو جاتے ہیں تو یہ معیاری تعلیم حکومت عوام کو 3 گنا مہنگی قیمت میں بھی نہ دے پاے گی.
تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں سے درخواست ہے کہ میرے اس میس..ج کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ ادارے بند ہونے سے بچ جائیں۔