11/11/2018
آغا گل کی تازہ کتاب ’’بلوچستان میں اُردو فکشن کا تاریخی تناظر‘‘ سے اقتباسات
’’بلوچستانی فکشن نگار نفسیاتی طور پر گہرے احساسِ کم تری میں مبتلا ہیں۔ ہماری منزل اسلام آباد ہے یا پھر یورپ۔ وہ بلوچستان کو نہیں بنانا چاہتے ہیں۔ خود فرار ہونا چاہتے ہیں۔ ادبی رجحان، میلان مغرب سے آتے ہیں۔ حتیٰ کہ ’پلاٹ‘ کے لیے بھی اردو کا لفظ نہیں۔ ادبی و فکری تحریکیں مغرب سے آتی ہیں۔‘‘
’’حانی و شہ مرید کی داستان میں جا بجا اوڈلیسئس اور اجنبی زبانوں کی کہانیوں کے ٹوٹے لگے ہوئے ہیں۔ ہانی و شہ مرید دور دراز دیسوں کی کہانیوں کا ملغوبہ ہے۔ ‘‘
’’بڑا ادب Crisisمیں تخلیق ہوتا ہے۔ اس بہت بڑے انسانی المیے کے باوجود بلوچستان میں کوئی بڑا ادب تخلیق نہ ہوا۔اس شدید بحران، قتلِ عام اور Mass Migrationکا تاثر فکشن میں اتر کر شاہکار پیدا کر سکتا تھا۔ مگر بلوچستانی ادب بالکل خاموش اور گونگا ہی رہا۔‘‘
’’بلوچستان میں مختلف سیاسی تحریکیں ابھریں۔مگر ادبی تحریک نہ چلی۔فکشن کی دنیا میں لکھاریوں کے اپنے اپنے نظریات تھے جو باہم مل کر ایک تحریک نہ بن پائے۔ انفرادی طور پر فکشن رائیٹر بعض تحریکوں کے پرچارک رہے، لیکن وہ ایک تحریک کے طور پر اسے قائم نہ رکھ سکے۔‘‘
’’بلوچستان میں Gender Distinctionبہت زیادہ ہے۔ Male Chauvnismکے باعث خواتین فکشن نگار کرداروں کو چادریں پہنا کر ان کا آدھا دھڑ کاٹ دیتی ہیں۔ بلوچستان کے اکثر افسانے تکنیکی طور پر محض Sentimental Regional Talesکے زمرے میں آتے ہیں۔ ‘‘
’’تقسیم کے بعد ہمارے تمام فکشن کا موضوع ہیرہ منڈی سے نہ ہٹ پایا۔عمامہ اور بوٹ پہ لکھنا گویا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔‘‘
’’بلوچستان میں بھی سرکاری پسند کا فکشن لکھوایا گیا۔ ایسے ادیبوں کو چین کا دورہ، نقد انعامات اور تمغے بخشے جاتے ہیں۔ سرکار دربار میں عزت ملتی ہے، سرپرستی ہوتی ہے۔ ‘‘
’’نت نئے عنوانات، نئی سوچیں، نئے مضامین آزاد شہریوں پہ اترتے ہیں۔ ہمارے ہاں چوں کہ ہیرہ منڈی کا کلچر چھا گیا لہٰذا ہمارے تمام ادیب مرد عورت کے تعلقات پر لکھنے پہ مجبور کیے گئے۔‘‘
’’ بلوچستان میں جب سرکاری سطح پہ یا کسی یونیورسٹی کی ادبی تقاریب ہوتی ہیں تو ان میں بلوچستان کے فکشن رائیٹرز کو مدعو نہیں کیا جاتا۔حکومت جب یہ بتلاتی ہے کہ امن و امان ہے، توفوراسٹار ہوٹل سیرینا میں مشاعرے منعقد کرواتی ہے۔کوئی پینتیس لاکھ کا خرچہ اٹھتا ہے۔سبھی شاعر باہر سے بلوائے جاتے ہیں۔ ان کی مئے نوشی کا خرچہ بھی عوامی ٹیکسوں سے بھرا جاتا ہے۔ تقریب کی تصویریں اسلام آباد کو دکھا کر نوکری پکی کی جاتی ہے۔‘‘
’’ بلوچستان کا جینوئن فکشن رائیٹر ابو ذر غفاری کی روایت پہ چلتا ہے۔ ساری عمر اکیلا ہی رہتا ہے۔ اکیلا ہی چلتا ہے اور ادب کے صحرائے ربذہ میں دفن ہو جاتا ہے۔‘‘
23/04/2017
27/02/2017
19/09/2016
19/09/2016
19/09/2016
23/04/2016
16/04/2016
06/04/2016
25/03/2016
22/03/2016
15/03/2016