Baloch Students Organization - BSO

Baloch Students Organization - BSO

Share

The Baloch Students Organization (BSO) was founded on 26 November 1967, as a nationalist student org

The Baloch Students Organization (BSO) was founded on 26 November 1967, as a nationalist student organization in the Pakistani part of Balochistan. The main objectives of BSO are to organize and educate Baloch youth politically. BSO has always been struggling with full capacity and potential since decades on surface of the ground, to organize and educate the Baloch youth politically and awareness.

Photos 19/07/2017

22جولائی
بی این پی کاجلسه عام
عوام کی دلچسپی اورزیاده شرکت سےهاکی گراؤنڈ
کےبجائے
شهیدنواب نوروز(ایوب)اسٹیڈیم میں هوگا
جس سے
سرداراخترجان مینگل سمیت دیگرپارٹیوں کےرهنماء خطاب کریں گے

Photos from Baloch Students Organization - BSO's post 20/12/2016
Photos 20/12/2016
Photos 09/12/2016

افغان مہاجرین جو 1979 کوافغانستان سے ہجرت کرکےپناہ کئ تلاش میں بلوچستان سرحد یعنی (کے پی کے)میں اقوام متحدہ ادارہ پناہ گزین کیمپوں میں آباد ہوئے۔جس کا فائدہ حکومت وقت کو بھی ہوا۔ ان کے امدادی اشیاء میں بڑے پیمانے پر کرپشن سے فائدہ اٹھایا۔اب جب افغانستان میں امن ہے۔لیکن بعض عناصر انھیں اپنی سیاسی دوکان میں سجھا کر بلوچستان پرغلبہ حاصل کرنے کی خواب دیکھ کر نہ جانے کس عذاب سے بلوچ اور مقامی پشتون کو گزارنے پر جشن ماتم بچھانے خطاب کے تیر چلا رہے ہیں۔

*بلوچستان میں اس وقت
(چالیس لاکھ40،00000)
سے زائد تعداد میں افغان مہاجرین موجود ہے۔

*ان مہاجرین کو سرکاری اسناد یعنی شناختی کارڈز وغیرہ بھی مہیا کی گئی۔
ان کے کم و بیش(پانچ لاکھ5،00000) شناختی کارڈ نادر نے بلاک کیا جس کے لئے
میر حاصل اور محمود اچکزئی
نے نادرا کے ڈی جی کی تبدیلی کے لئے نواز شریف پر دبائو بھی بڑھایا۔جو کافی حد تک ناکام ہوا لیکن ویریفیکیشن کی شرط سے کچھ مہاجرین جو پیسہ دیکراپنے کو رشتہ دار ظاہر کرکے اسناد حاصل کئے گئے۔جو بعد میں ان ہی کے لئے جائیداد شریک بننے کے جائز حقدار بنیں گے۔
اعداد شمار کی تصدیق محکمہ شماریات نےکی ہے کہ بلوچستان میں چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین موجود ہے۔
گوادر میں آبادکاری اور افغان مہاجرین کی موجودگی اور بلوچستان میں جاری حالات کے پیش نظر مردم شماری و خانہ شماری کون کرے گا۔
جو حکمران جماعت تربت میں تمام تر طاقت کے الیکشن نہ کرا سکے محض 2% ووٹ ڈلوا کر حالات ٹھیک کہنے کی کوشش میں حقیقت پر پردہ ڈالنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
سوال یہ ہے کہ کچھ قوتیں کے پی کے اور بلوچستان میں سیاسی تضادات تذبذب کا شکار ہے۔
بلا کیسے کے پی کے میں افغان مہآجرین دہشت گرد غیر ملکی اور بلوچستان میں آب زمزم سے نہلا پر امن اور مقامی ظاہر کی جا رہی ہے۔تضادات اکیسویں صدی میں سیاسی مقاصد پروعاوی ہی رہینگے۔
بلوچستان میں مردم شماری نہیں مہاجر شماری ہوگی۔جس کسی بھی قوانین میں حق نہیں رکھتے۔
جبکہ بعض عناصر مہاجر کے نام پر چادر میں ہمیشہ ڈھانپ کر رحیم مندوخیل جیسے معذور لوگوں کو بلوچ قوم و بلوچستان کی وقت کو ضیاء کرنے میں سکون تلاش کر رہے ہیں۔
مہاجر۔مہاجر ہے۔چاہے
وہ بلوچ ہوں
افغانی ہوں
ہزارہ ہوں پنجابی ہوں سندھی ہوں
جو بھی بلوچستان میں حق نہیں رکھ سکتے۔
اس پر وقت ضائع کرکے برادرانہ ماحول کو متاثر نہ کیا جائے تو اس میں سب کی امان ہے۔

23/05/2016

یه بهی کوئی قصه هے. Wrong number
سیاست کو عبادت کا درجه دیکر اس عبادت کا قبله بنا نے کے لیئے جس طرح طواف اسلام آباد اور رائیونڈ کو دی گئی اور فرشتوں کے هاتهوں حکمرانی پر آسکے تو سمجھ بیٹهے که اب جو چائے کریں یار همارے ساتھ هیں.لیکن یار کی یاری بهی کسی حد تک هو سکتی نه که خود کو بناکر اس کی عزت کا جنازه نکالا جائے.بلوچستان کے حالات کو بهتر بنانے کے دهویدار بی این پی کے پروگراموں کو اپنی کامیابی کهنے والے خود کونسل سیشن سرینا هوٹل میں جبکه تنظیم سازی اسلام آباد پنڈی میں کررهے هیں.جو عوام سے منه چرانے کی دیده دانسته کوشش هے. مستونگ میں بی این پی کے جلسه عام نے ان کی اس تاثر کو خاک میں ملا دیا که فرسوده قبائلیت کے خلاف 90 کی دهائی میں سردار و نواب کے خلاف بول کرمتوسط طبقه کے نام پر قومی تحریک کو تقسیم کیا لیکن تهوک چاٹنے پر خود مثال بن گئے.که سردار نواب قبائلیت علاقائیت کے نام پر خودکو اسلام آبادی بنا دیا قوم کا خداحافظ. اب سردار اختر جان مینگل کے خلاف لب کشائی در حقیقت حاصل بزنجو کی وفاقی وزیر بننے کی شرائط تهے.جو بلوچ کم وفاق پرست زیاده هیں. جو مسخ شده لاشوں کو غیر بلوچستانی کهه کر انسانیت کو بهی اهمیت دینے سے قاصر رهے هیں. بلوچستان کے وسائل جو بهی لوٹنے یا اسے غیروں کے لئے سازگار بنائے وه قوم دشمن هے. اس کا تعلق کسی بهی قوم پارٹی یا علاقےسے هو. وه قومی مجرم هے. نیشنل پاٹی نے کوئی کرپشن نهیں کی. حبیب جالب شهید سے همدردی حاصل کرنے والے ڈاکٹر حئی کے ساتھ کیوں مخاطب هونا پسند نهیں کیا. جسے استعمال کر کر کے بلوچستان نیشنل موومنٹ سے این پی کس طرح بن گئے. وفاقیت کے حصول میں بلوچ شناخت سے روگردانی پر پشیمانی نهیں کیونکه اسلام آباد دبئی میں شوروم پارٹنر شپ حاصل ومالک کے لئے سوال هے. بقول مالک که میں اور جالب شهید میٹنگ کے بعدرکشه کا سکت نهیں رکه رهے تهے تو سوزوکی میں بیٹھ کر10 روپے میں سفر کیا. لیکن کوئٹه سے تربت کے لئے مالک صاحب کے بیٹے کی سامان کے لئے جهاز بهیجنا وی آئی پی نهیں تها.تو. باقی کیا هو گیا هوگا. کیا دبئی شورم میں مالک و حاصل اپنے حصه کا بتا سکیں جو ریکوڈک کے سودا سے حاصل کیا گیا. اس میں اچکزئی کو کس بات کے لئے حصه وار بنایا گیا. وطن ماں هے. اس میں اچکزئی کو حصه دینا مسئله نهیں یه تو بتایا جائے اچکزئی کو اور کس کس چیز میں شریک جرم رکها گیا هے.بی این پی موسمی نهیں بلکه جناب من کبهی کبهی هوش میں آکر یا کئی مهینوں بعد بلوچستان زرغون روڈ پر سے گزر کر شازوناظر بلوچستان سے باخبر رهتے هیں.کیونکه جب بی این پی کے کارکن سراپا احتجاج هوتے هیں تو بهائی لوگ بستر زرو دولت پر زر پرستی میں مدهوش رهتے هیں. جب رات هوتی هے ان دولت کو ٹهکانے لگانے نکلهتے هیں تو انهیں پته نهیں هوتا که کیا هونے جا رها هے.جتنا سردار اختر جان کے خلاف لب کشائی هو گی اتناهی زیاده چاره حاصل و مالک کو ملیگا.
وه کرپشن نهیں هے کمیشن هے. کمیشن لینا جرم نهیں کیونکه اس کے لئے عزت وطن زمین اورغیرت نیلام کیا جاتا هے. کیوں نه کیا جائے.ریکوڈک نه تو مالک کی زمین پر هے اور نه حاصل کی جس طرح مسخ شده لاشیں ان کو بلوچستان کی نهیں لگی اسی طرح ریکوڈک گوادر سیندھک اسکول تعلیم پانی بهی ان کی ضرورت نهیں.حاصل کا مقصد هے حاصل کرنا چائے اس کے لئے قوم کو بیچ دیا جائے یا حسن بازار میں خود کو بے آبروکیا جائے. تکلیف اس کو هوگی جسے هوش هو. عالم مدهوشی میں وطن کیا زمین کیا عزت کیا ننگ ناموس کیا. روایات کیا قوم کیا.یه کوٹے سکے هیں.جو جیب کو باری کر سکتے هیں.وطن سے وفا نهیں.

Photos from Baloch Students Organization - BSO's post 06/03/2016

2 March 2016 Calture day
BSO programme
Balochistan university Quetta.

Want your school to be the top-listed School/college in Quetta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Quetta