letters to society

letters to society Dear Society,Not here to judge. Not here to blame. Just here to write a letter we all needed to read.

It’s not always “overreacting.” Sometimes, it’s simply a teenage brain trying to navigate big emotions while still learn...
23/08/2026

It’s not always “overreacting.” Sometimes, it’s simply a teenage brain trying to navigate big emotions while still learning how to regulate them. 🧠🤍 Understanding what’s happening beneath the behavior can help us replace judgment with empathy. ✨

17/08/2026

17/08/2026

02/07/2026





01/07/2026

Dear Society,
Welcome to Letters to Society.
This is a space for honest conversations about parenting, emotions, relationships, and the silent struggles many people carry but rarely talk about.
These letters are not written to judge anyone. They are written to encourage reflection, empathy, and meaningful conversations.
If even one letter helps one person feel understood or think differently, this page has served its purpose.
Welcome.

01/07/2026

کیا صرف خواہشیں پوری کر دینا ہی اچھی پرورش ہے؟
ہمارے معاشرے میں ایک عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اگر والدین اپنی اولاد کی ہر خواہش پوری کر رہے ہیں تو وہ اپنی ذمہ داری بہترین انداز میں نبھا رہے ہیں، اور ان کا بچہ ایک خوشحال زندگی گزارنے کے لیے تیار ہے۔
لیکن کیا واقعی اچھی پرورش کا مطلب صرف خواہشیں پوری کرنا ہے؟
اگر آپ اس سوال پر تھوڑی دیر غور کریں تو شاید جواب "نہیں" ہوگا۔
ممکن ہے ہمارے والدین نے بھی یہی طرزِ زندگی دیکھی ہو اور وہی ہمیں منتقل کی ہو۔ ہمارے معاشرے میں اکثر نسل در نسل بہت سے رویّے بغیر سوال کیے اپنائے جاتے ہیں۔ ہم یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، کیا وہ واقعی درست تھا؟ اور کیا ہمیں وہی سب کچھ اپنی آنے والی نسلوں تک بھی پہنچانا چاہیے؟
آج کی نسل پہلے کی نسبت اپنے جذبات کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھتی اور ان پر بات کرتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تعلیم، نفسیاتی آگاہی اور سوشل میڈیا پر موجود ایسا مثبت مواد بھی ہے جو احساسات کو سمجھنے اور انہیں صحت مند انداز میں بیان کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
اکثر والدین کا خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم، اچھے کپڑے، پسند کی چیزیں اور ہر سہولت فراہم کر رہے ہیں تو ان کا بچہ ضرور خوش ہوگا۔ مگر بچوں کی نظر میں خوشی کا مطلب صرف سہولتیں نہیں ہوتا۔
ایک بچے کی شخصیت اُس وقت پروان چڑھتی ہے جب اسے اپنے گھر میں جذباتی تحفظ، عزت، انصاف اور اپنی بات کہنے کی آزادی ملتی ہے۔ جب اسے یہ احساس ہو کہ اس کی بات سنی جاتی ہے، اس کے جذبات کی قدر کی جاتی ہے، اور غلطی کی صورت میں اس کی اصلاح کی جاتی ہے، نہ کہ اسے شرمندہ یا بے عزت کیا جاتا ہے۔
والدین اگر صرف ہر خواہش پوری کرنے پر توجہ دیں اور بچے کی جذباتی ضروریات کو نظر انداز کر دیں، تو وہ وقتی خوشی تو دے سکتے ہیں، لیکن ایک مضبوط اور پُراعتماد شخصیت نہیں بنا سکتے۔ اس کے برعکس، اگر بچے کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اسے عزت، صبر، شکر، ہمدردی اور اپنی رائے کا احترام بھی سکھایا جائے، تو وہ زندگی کے نشیب و فراز کا بہتر انداز میں سامنا کرنا سیکھتا ہے۔
اچھی پرورش صرف یہ نہیں کہ بچے کے پاس کیا کچھ ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہی گھر میں خود کو کیسا محسوس کرتا ہے۔
کیونکہ بچے اکثر کھلونوں، تحفوں یا مہنگی چیزوں کو بھول جاتے ہیں، مگر انہیں یہ ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ ان کے والدین نے انہیں کیسا محسوس کروایا تھا۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پرورش کو صرف سہولتوں سے نہیں، بلکہ احساس، احترام اور جذباتی تحفظ سے بھی ناپنا شروع کریں۔

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when letters to society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category