27/01/2026
سردی کی شدت میں اضافے کے باعث پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے 31 جنوری تک اسکول صبح 9 بجے تک کھولنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ اسکولز اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس فوری بلاکر نیا تعلیمی کیلنڈر طے کیا جائے۔ چیئرمین آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ وزیرتعلیم سندھ سردی کے باعث 31 جنوری تک اسکولز کھلنے کا وقت صبح 9 بجے برقراررکھیں۔چیئرمین پرائیویٹ اسکولز کی جانب سے نئے داخلے، امتحانی شیڈول اور تعطیلات کے تعین پر فوری غور کی بھی درخواست کی گئی۔
22/12/2025
لاہور کی یونیورسٹی میں کل جو اویس نامی طالب علم کی خود کشی کا واقعہ پیش آیا اس نے بطور ماں میرے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں۔
کلاس میں حاضری کم ہونے کی وجہ سے اویس نامی طالب علم کو ٹیچر نے کلاس سے نکلنے کا کہا۔اویس کے دوستوں کے مطابق وہ ایک عرصے سے ایک پروفیسر کے ذلت آمیز رویے کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ مختلف مواقع پر اسے کلاس میں کمتر ہونے کا احساس دلایا جاتا یہاں تک کہ ایک بار تو پروفیسر نے اسے یہ تک کہا کہ "میں تمہاری ماں کا نوکر نہیں کہ تمہاری حاضری درست کرواؤں۔" خود کشی کے دن بھی ان پروفیسر نے طالب علم کو کلاس سے نکلنے کا کہا۔ اس نے پروفیسر کو اپنے مسائل بتانے کی کوشش کی یہاں تک کہ وہ رویا بھی ، لیکن پروفیسر نے اس کی ایک نہ سنی۔ اہانت کے احساس سے مایوس ہو کر اس نے یونیورسٹی کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگادی۔ زخمی وجود کو ہاسپٹل پہنچایا گیا لیکن کچھ دیر میں ہی آخری سانسیں لے کر وہ دنیا چھوڑ گیا۔
ہمارے ہاں تعلیمی اداروں اور خاص طور پر گورنمنٹ اداروں کا رویہ بچوں اور ان کے والدین کے ساتھ انتہائی بدترین ہے۔ ان کا رویہ بھی بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ سرکاری اسپتال میں نرسنگ اسٹاف اور ڈاکٹرز کا ہوتا ہے۔ ان کی تعلیم انہیں رتی بھر بھی تہذیب نہیں سکھاتی۔ جیسے سرکاری اسپتال کے ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹاف مریضوں یا مریض کے عزیز و اقارب سے بدتمیزی سے پیش آتے ہیں اور کسی بھی سوال کے جواب میں چہرے پر جلادوں والے تاثرات لیے ہمیشہ کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں بالکل ویسے ہی سرکاری تعلیمی اداروں کے بچوں سے اور ان کے والدین سے پیش آیا جاتا ہے۔
مجھے پچھلے دنوں گذرا ایک واقعہ یاد آگیا کہ میری ایک قریبی عزیز کا بیٹا جو شاید دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔اسکول کے ایسے ہی ماحول کی وجہ ہر روز اسکول جانے سے منع کردیتا تھا۔ پہلے تو بچہ سو حیلے بہانے کرتا، اس کے والدین زبردستی کرتے تو واپس آ کر رونے ، چیخنے چلانے لگتا کہ میں خودکشی کرلوں گا ، اپنی جان لے لوں گا خود کو مارلوں گا ورنہ مجھے اس اسکول سے نکال دیں۔ پھر دن بدن بچہ چڑچڑا ، بدتمیز اور پڑھائی سے دور ہونے لگا کیونکہ پڑھائی کرنے میں بالکل دل نہیں لگتا تھا اور اسکول میں ٹیچرز والدین کے کہنے کے باوجود نرمی سے پیش آنے کو تیار نہیں تھے بلکہ ان کا والدین سے بھی اس قدر تلخ رویہ ہوتا کہ آخر کار وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ جو ٹیچرز ہم سے ایسے پیش آتے ہیں وہ بچے سے کیسے پیش آتے ہوں گے۔ بچہ پریشان ہو ہو کر مستقل ذہنی اذیت کا شکار رہنے لگا اور مزید چھٹیاں ہونے لگیں ، مزید چھٹیاں یعنی بچہ اسکول میں مزید مسائل کا سامنا کرنے لگا۔ گھر سے نارمل اسکول جاتا اور اسکول سے آتا تو اس قدر دل بھرا ہوتا کہ آتے بیگ یہاں وہاں پھینک کر رونے لگتا کہ میں آئندہ کبھی اسکول نہیں جاؤں گا۔ اسکول میں یہ بتانے کے باوجود کہ بچہ بیمار ہے ٹیچرز کا رویہ غیر مناسب ہی رہا۔
بچہ اکثر یہ شکایت کرتا کہ ایک ہی کلاس کے کچھ بچوں کو ٹیچر یہ کہتے ہیں کہ " تم مجھے اچھے لگتے ہو اس لیے تمہیں کچھ نہیں کہتا۔" جب کہ دوسری طرف اسی کلاس کے دوسرے بچے کو ڈانٹ ڈپٹ اور تذلیل کے لیے ٹیسٹ دینے سے پہلے کلاس سے نکال دیا جاتا کہ تم باہر بیٹھ کر ٹیسٹ دو ، بیمار ہونے اور اس بیماری کے بارے میں اسکول کو بتانے کے باوجود گھنٹوں کلاس سے نکال کر سزا میں کھڑا کیا جاتا۔ جس کے نتیجے میں بچہ دن بدن مزید بیمار اور پریشان رہنے لگا۔ جب والدین کو احساس ہوا کہ یہ ماحول بچے کو ناصرف تعلیم سے بدظن کررہا ہے بلکہ شاید ذہنی طور پر دباؤ کی وجہ سے بچہ مزید بیمار رہنے لگا ہے تب اس دوران بچے کی والدہ نے مجھ سے بھی رابطہ کیا تھا وہ اسکول اور ٹیچرز کی کمپلین کرنا چاہتی تھیں لیکن پھر اس لیے کہ بچے کے مستقبل پر اثر نہ پڑجائے انہوں نے سوچ سمجھ کر خاموش رہنے کا فیصلہ کیا اور اسکول میں بچے کی میڈیکل رپورٹس دکھا کر بچے کی مستقل چھٹیاں لیں۔ اس کے بعد سے بچے کی ذہنی کیفیت کافی بہتر ہے اور وہ پڑھنے میں دل بھی لگا رہا ہے۔ یہ تو وہ قصہ ہے جہاں والدین کو بچے کا مسئلہ سمجھ آگیا لیکن ایسے کتنے ہی والدین ہیں جو بچے کو گھر سے ٹارچر کر کے اسکول بھیجتے ہیں اور آگے جا کر بھی وہ مزید ٹارچر ہوتا رہتا ہے۔
والدین کو ضرور اس بات کو اہم سمجھنا چاہیے کہ وہ کیا وجہ ہے سے جس کی وجہ سے اتنا بڑا بچہ جس کی دوست بنانے کی عمر ہے اور جسے ان سے روز ملنا اچھا لگنا چاہیے وہ اس کے بجائے اسکول نہیں جانا چاہتا ہے۔ اگر بچہ اسکول سے روزانہ آ کر غیر معمولی پریشان ہے، کسی خاص ٹیچر کی شکایت کرتا ہے یا روزانہ اسکول نہیں جانا چاہتا تو اسے معمولی نہ سمجھیے۔ وہاں کچھ تو ہے جو اسے پسند نہیں آرہا ہے وہ وجہ تلاش کریں۔ صرف یہ کہہ دینا کہ یہ پڑھائی کی وجہ سے اسکول نہیں جانا چاہتا کافی نہیں ہوتا ہے۔ جیسے اپنے بچے کی جسمانی صحت کو اہم سمجھتے ہیں ویسے ہی اس کی ذہنی حالت کا بھی خیال رکھیں۔
لائق نالائق کچھ نہیں ہوتا بس اتنا فرق ہے کہ ایک بچہ جو پانچ منٹ میں یاد کرتا ہے وہی دوسرا بچہ ایک گھنٹے میں یاد کرسکتا ہے یا ایک سبق جو بچہ فورا سمجھ گیا دوسرا وہ تین بار سمجھانے پر سمجھے گا۔ یہ استاد پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کیسے بچے کو سمجھاتا ہے اور پڑھائی کی جانب راغب کرتا ہے۔ وہ دور چلے گئے جب بچہ ڈنڈے کے زور پر پڑھ لیتا تھا اب پڑھائی بچہ صرف تب کرسکتا ہے جب استاد اسے اہمیت دیں ، اس سے ماں باپ کی طرح شفقت سے پیش آئیں اور اسے ڈی گریڈ نہ کریں ورنہ وہ بدظن ہونے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ پڑھائی سے دل اُچاٹ ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے ہم اپنے ماضی میں جھانک کر بھی دیکھ سکتے ہیں کہ جن اساتذہ کا رویہ ہم سے بہت اچھا رہتا ہے ، جو اپنے اور بچے کے درمیان ایسا فاصلہ نہیں رکھتے جہاں بچے کو سوال پوچھنے یا بات کرنے سے پہلے پیٹ میں یا دل میں گھبراہٹ محسوس ہو ، جو بچوں پر غیر ضروری سختی نہیں کرتے اور جو بچوں کو کسی دن سبق یاد نہ کرنے پر بھری کلاس میں شرمندہ نہیں کرتے اس سبجیکٹ میں بچوں کے نمبر بہت اچھے آتے ہیں۔
ہمارے ہاں سرکاری اسکولوں کے استاد ڈگریوں کی بنیاد پر سرکاری نوکری تو حاصل کرلیتے ہیں لیکن بعد میں انہیں یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ ان کا منصب کتنا بڑا ہے۔ خاص طور پر شادی شدہ خواتین ٹیچرز جو شاید گھریلو مسائل کا بار نہیں سہہ پاتی ہیں وہ اپنی ساری فرسٹریشن اسکول ا کر بچوں پر نکال دیتی ہیں۔ (میں سب کی بات نہیں کررہی لیکن عمومی رویہ یہی ہے) والدین کے ساتھ بھی ان اساتذہ کا رویہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کہ کسی افسر کا اپنے پیون سے ہو۔ پنجاب حکومت تعلیم کے نظام کی بہتری کے لیے بہت کچھ کررہی ہے لیکن میرا خیال ہے ان اساتذہ کی ذہنی تربیت بھی بہت ضروری ہے۔ بچوں کی نفسیات کو سمجھنا بہت اہم ہے۔
اگر آپ بچے کو بار بار بھری کلاس میں ذلیل کریں گے ، ٹارگٹ کریں گے یا اسے سب کے سامنے یہ کہیں گے کہ تم کچھ کر ہی نہیں سکتے تو یقین کریں کہ وہ نہیں کرے گا وہ کر ہی نہیں سکتا۔ استاد کی بات اور الفاظ عام بات یا عام سے الفاظ نہیں ہوتے ہیں۔ استاد کے الفاظ میں جادو ہوتا ہے۔ہم نے بھی تعلیم حاصل کی ہے ہم جانتے ہیں کہ استاد کا بچے کو کہا ایک خوبصورت جملہ بچے کو ساری زندگی سرشاد رکھتا ہے۔ آپ ایک دن سبق نہ یاد کرنے والے بچے کو یہ کہہ کر تو دیکھیں کہ تم بہت ذہین ہو ، پڑھنے والے بچے ہو بس تھوڑی سی اور کوشش کرو یا پوری کلاس کے سامنے کہہ دیں کہ یہ بہت ذہین بچہ ہے لیکن وہ توجہ نہیں دے پارہا جو دینی چاہیے، بچے سے پیار سے وعدہ لیں کہ وہ کل یاد کر کے آئے تو دیکھیے گا کہ اگلے دن بچہ یاد کر کے ہی آئے گا اور کسی وجہ سے نہ کرسکے تو اسے مزید موٹیویشن دیں تاکہ اسے پڑھائی کرنا بوجھ نہ لگے ۔ ڈنڈے کے زور پر اور ڈرانے دھمکانے یا بچے کو سمجھے بغیر کوئی بھی اسے نہیں پڑھاسکتا۔
جان سے جانے کا فیصلہ ایک دم نہیں ہوتا۔ اس میں وقت لگتا ہے ، گھریلو مسائل ہوں یا اسکول ،کالج میں اساتذہ کے رویے سے خائف ہو، بچہ ہر دن رویے سہہ کر اس قدر مایوسی کا شکار ہوتا جاتا ہے کہ کسی دن کوئی ایک چھوٹی سی بات اسے زندگی ختم کرنے جیسی انتہا پر لے جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ استادوں سے گذارش ہے کہ بچے کو شعور دیں ، آگہی دیں ، تعلیم دیں لیکن خدارا فرعون بن کر سفاکی نہ دکھائیں۔ آپ جس مقدس فریضے پر بیٹھے ہیں وہاں بیٹھ کر آپ کو بچوں کا مستقبل سنوارنا ہے۔ اگر کوئی بچہ کلاس باقی بچوں کے مقابلے میں زیادہ خائف ہے یا روز روز چھٹیاں کررہا ہے تو ممکن ہے اس کی وجہ صرف نیند یا پڑھائی میں دل لگنا نہ ہو۔ ایک بار اس سے تفصیلی بات کرلیں اس کے مسائل سمجھنے اور اس کے لیے حقیقی استاد بننے کی کوشش کریں بجائے اس کے کہ اسے اس قدر اہانت کا احساس دلائیں کہ وہ خود سے ، تعلیم سے اور درس گاہ سے بدظن ہو کر آپ کی وجہ سے اویس بن جائے اور اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔
اپنے بچے کا مستقبل ضرور بنائیں لیکن اسے ذلت آمیز رویے اور تحقیر آمیز سلوک سہنے کے لیے کسی نفسیاتی استاد کا شکار ہونے سے بچائیں۔
#صباایشل
09/08/2025
لیکچر برائے اسکول کی طالبات
عنوان: تعلیم، اخلاق اور روشن مستقبل
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
پیارے بیٹیو!
آج میں آپ سے ایک نہایت اہم بات شیئر کرنا چاہتا ہوں — آپ کا مستقبل آپ کے آج سے بنتا ہے۔
آپ ہماری قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ آپ ہی وہ روشنی ہیں جو آنے والے کل کو منور کرے گی۔ تعلیم آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایک پڑھا لکھا ذہن صرف امتحان میں اچھے نمبر ہی نہیں لیتا بلکہ زندگی میں صحیح فیصلے کرنا بھی سیکھتا ہے۔
1. تعلیم کی اہمیت
تعلیم ایک چراغ کی مانند ہے جو اندھیروں کو دور کرتی ہے۔ جو بچی آج علم حاصل کرے گی، وہ کل ایک باشعور بیٹی، اچھی بیوی، اور بہترین ماں بنے گی، اور یہ سب کردار معاشرے کو بہتر بناتے ہیں۔
2. اخلاق و کردار
یاد رکھیں، صرف پڑھ لکھ لینا کافی نہیں، بلکہ اچھے اخلاق اور کردار آپ کی اصل پہچان ہیں۔ دوسروں کی عزت کریں، سچ بولیں، اور مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔
3. خواب اور محنت
زندگی میں بڑے خواب دیکھیں اور ان کو حاصل کرنے کے لیے محنت کریں۔ کوئی بھی کامیابی راتوں رات نہیں ملتی، لیکن جو ہمت نہیں ہارتا، وہ ہمیشہ جیتتا ہے۔
اختتامی پیغام:
بیٹیو! ہمیشہ یاد رکھو کہ آپ قیمتی ہیں۔ اپنے وقت کو ضائع نہ کریں، اپنے علم کو دوسروں کے فائدے کے لیے استعمال کریں، اور اپنی دعاوں میں اپنے والدین، اساتذہ اور ملک کو یاد رکھیں۔
اللہ آپ سب کو دنیا و آخرت میں کامیاب کرے۔ آمین
03/01/2024
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ-
یہ پھول اپنی لطافت کا داد پا نہ سکھا ۔😭
کھلا ضرور مگر کھل کے مسکرا نہ سکھا۔۔😭
اللہ پاک بھای کا مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے امین یا رب
29/05/2023
بریکنگ نیوز
صوبہ سندھ میں ٹیچنگ کا معیار بہتر بنانے کیلیے ہر ٹیچر کو تعلیمی ٹیسٹ دیکر ٹیچنگ لائسنس حاصل کرنا لازمی قرار
02/05/2021
میٹرک اور انٹر کے طلبات کے لیے online work...... اب گھر بیٹھے اپنے فون پے کام کر کے روز کے 700 کماۓ... Whatsapp or
Facebook پے کام کرنا بہت
آسان
اگر اپ کرنا چاہتے ہیں تو ابھی
مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں