Quetta Education

Quetta Education

Share

It's all about Education, We Love to Educate People across the Balochistan. Join Us for Education. Thank you for showing interest in Quetta Education.

Welcome to Quetta Education, the official page dedicated to promoting education in Quetta and the Balochistan region. Our aim is to foster a positive image of Balochistan by sharing views, and educational content, and highlighting the importance of education, especially for girls in Balochistan. Join us as we showcase the shining stars in the field of education and pay tribute to their re

07/05/2026

کاپی کی روایت: ایک مردہ نظام کی زندہ لاش

ہمارے ہاں تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی ایک پرانا منظر دہرایا جاتا ہے — استاد کلاس میں داخل ہوتا ہے، کاپیاں اٹھاتا ہے، گنتا ہے اور جس بچے کی کاپی ادھوری ہو اسے سزا ملتی ہے۔ نہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ بچے نے سمجھا کیا، نہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس نے سوچا کیا — بس کاپی کے صفحے گنے جاتے ہیں۔ یہی ہمارے نظامِ تعلیم کی اصل تصویر ہے۔

کاپی بھرنے کا ایک ہی فائدہ ہے اور وہ ہے ہینڈ رائٹنگ کی مشق۔ اس سے آگے نہ بچے کی سوچ بنتی ہے، نہ اس کی تخلیقی صلاحیت جاگتی ہے، نہ وہ مسئلہ حل کرنا سیکھتا ہے۔ وہ صرف نقل کرنا سیکھتا ہے — کتاب سے کاپی میں، کاپی سے پرچے میں، اور پرچے کے بعد سب کچھ بھول جاتا ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پرائمری سطح کے 73 فیصد بچے وہ متن پڑھ کر اس کا مفہوم بیان کرنے سے قاصر ہیں جو وہ خود لکھتے ہیں — یعنی لکھنا ہو رہا ہے لیکن سیکھنا نہیں۔

دنیا کہاں پہنچ گئی ہے؟ آج گوگل، مائیکروسافٹ اور ایپل جیسی کمپنیاں اپنے ملازمین سے ڈگری تک نہیں مانگتیں — وہ مانگتے ہیں **مہارت، تخلیق اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت۔** دنیا بھر میں Voice-to-Text، AI Writing Tools اور Digital Notebooks نے ہاتھ سے لکھنے کی ضرورت کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2030 تک دنیا کے 85 فیصد پیشوں میں ہاتھ سے لکھنا ایک غیر ضروری مہارت بن جائے گی۔ لیکن ہمارے ہاں آج بھی اسکولوں میں ہر مضمون کی الگ کاپی ہے — سائنس کی کاپی، ریاضی کی کاپی، اسلامیات کی کاپی — اور ہر کاپی مکمل کرنا لازمی ہے۔ اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ ہم بچوں کو اس مہارت کے لیے تیار کر رہے ہیں جس کی آنے والی دنیا کو ضرورت ہی نہیں۔

اب آتے ہیں نصاب 2022-23 کی طرف جسے سنگل نیشنل کریکولم کا نام دیا گیا۔ کتابیں چھپ گئیں، اسکولوں میں پہنچ گئیں، افتتاح ہو گیا — لیکن پھر سوال اٹھا کہ **پڑھائے کون؟** یہ نصاب Bloom's Taxonomy، Competency-Based Education اور Project-Based Learning پر مبنی ہے — یعنی یہ بچے کو رٹانے کی بجائے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ لیکن جس استاد نے ساری زندگی صرف سوال جواب رٹوائے ہوں اسے اچانک یہ کیسے سمجھایا جائے؟ نتیجہ یہ نکلا کہ لوکل پبلشرز نے موقع غنیمت جانا اور نئے نصاب کے نوٹس، خلاصے اور گائیڈز بازار میں اتار دیے جو دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ استاد نے کاپی مکمل کروانی ہے تو بچہ وہی گائیڈ نقل کر رہا ہے — **نیا نصاب، پرانا طریقہ، صفر نتیجہ۔** ASER 2023 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ بلوچستان میں گریڈ 5 کے صرف 32 فیصد بچے اردو کا ایک سادہ پیراگراف پڑھ سکتے ہیں — جبکہ ان سب کی کاپیاں بھری پڑی ہیں۔

اب ذرا PITE یعنی صوبائی ادارہ برائے تربیتِ اساتذہ کا ذکر کریں۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کے کندھوں پر استادوں کو جدید تعلیم کے لیے تیار کرنے کی ذمہ داری ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں تربیت دینے والے اکثر خود اسی پرانے دور سے تعلق رکھتے ہیں جسے یہ نصاب بدلنا چاہتا ہے۔ ہر اسکول سے وہی استاد ٹریننگ کے لیے بھیجا جاتا ہے جو سب سے نکما ہو — اس لیے نہیں کہ وہ سیکھے گا بلکہ اس لیے کہ اسکول اسے چند دن کے لیے ہٹانا چاہتا ہے۔ وہ ٹریننگ میں حاضر ہوتا ہے، ڈیلی الاؤنس لیتا ہے، حاضری لگاتا ہے اور واپس آ جاتا ہے — **نہ سیکھا، نہ سکھایا۔** ایک سروے کے مطابق بلوچستان میں ٹریننگ لینے والے 68 فیصد اساتذہ نے تسلیم کیا کہ ٹریننگ کے بعد انہوں نے اپنے کلاس روم طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ یہ اعداد و شمار کسی بھی باضمیر حکام کی نیند اڑا دینے کے لیے کافی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پھر حل کیا ہے؟ اگر حکومت واقعی اس نصاب کو اس کی روح کے مطابق نافذ کرنا چاہتی ہے تو تربیت کا کام ایسے اداروں کو دینا ہوگا جو اس کام کے اہل ہوں — جو جدید pedagogy جانتے ہوں، جو نتائج کے ذمہ دار ہوں اور جن کا احتساب ہو سکے۔ کاپی کی چیکنگ کو معیارِ تعلیم سمجھنا بند کرنا ہوگا۔ بچے نے کاپی بھری یا نہیں — یہ سوال فضول ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ **بچے نے سوچا یا نہیں، سمجھا یا نہیں، بنایا یا نہیں۔**

دنیا آگے جا رہی ہے۔ ہم کاپیوں کے صفحے گن رہے ہیں۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے؟

#اصلاحِ_تعلیم #نظامِ_تعلیم

10/04/2026

گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول ہزار سوسائٹی
گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول یزدان خان
گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول قائد آباد
گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول سردار اسحاق خان
گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول ناصر آباد
گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول پولیس لائن
ان اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد کافی زیادہ اور بچوں کی تعداد کاف کم ہیں۔ اساتذہ اور بچوں کی نسبت نکالی جائے تو فی استاد صرف 7سے 10 بچے بنتے ہیں جبکہ دوسرے اسکولوں میں یہ نسبت 70 سے تجاوز کر جاتی ہیں۔لہذا چیف سیکرٹری ، Haji Laljan jaffar اور وزیر تعلیم ریشنلائزیشن کر کے انھیں ان اسکولوں میں بیجھے جہاں بچوں کی تعداد کم اور بچوں کی تعداد زیادہ ہیں۔

Text Books for 2026_BTBB - Google Drive 10/04/2026

📢 بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابیں اب پی ڈی ایف (PDF) میں دستیاب! 📚✨
​کیا آپ جماعت چہارم (4th) سے نہم (9th) تک کے نئے نصاب (Curriculum 2022-2023) کی کتابیں تلاش کر رہے ہیں؟ اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں!
​بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی تمام اہم درسی کتب اب ایک ہی لنک پر دستیاب ہیں۔ آپ اپنی ضرورت کی کتابیں باآسانی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں اور اپنے موبائل یا کمپیوٹر پر کہیں بھی پڑھ سکتے ہیں۔
​🔗 ڈاؤن لوڈ لنک یہاں ہے: https://drive.google.com/drive/folders/1WUPALeMIFF2PavL7zfpHfm_S6pO0aeWf?usp=sharing
​✅ نمایاں خصوصیات:
🔹 جماعت چہارم سے نہم تک کی تمام کتب۔
🔹 تعلیمی سال 2022-2023 کا تازہ ترین نصاب۔
🔹 بہترین پی ڈی ایف کوالٹی۔
🔹 طلبہ، اساتذہ اور والدین کے لیے بہترین سہولت۔
​اس پوسٹ کو اپنے دوستوں اور دیگر تعلیمی گروپس میں شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں! 🤝✍️

Text Books for 2026_BTBB - Google Drive

10/04/2026

گریڈ 9 اور گریڈ 10 کے لئے ہمارے چینل کی جانب سے تجویز کردہ ان آفیشل سکیم آف سٹڈی یا ہفتہ وار ٹائم ٹیبل۔

نیز یاد رکھیں کہ میڈیا لٹریسی بطور مضمون نہیں بلکہ بطور ایکسٹرا کریکولر ایکٹیویٹی رکھا گیا ہے جسے آپ کسی بھی استاد کو ایکسٹرا پیریڈز میں طلباء کو آگاہی فراہم کرنے کے لئے کہ سکتے ہیں۔

10/04/2026

گریڈ 6, 7 اور گریڈ 8 کے لئے ہمارے چینل کی جانب سے تجویز کردہ ان آفیشل سکیم آف سٹڈی یا ہفتہ وار ٹائم ٹیبل۔

نیز یاد رکھیں کہ میڈیا لٹریسی بطور مضمون نہیں بلکہ بطور ایکسٹرا کریکولر ایکٹیویٹی رکھا گیا ہے جسے آپ کسی بھی استاد کو ایکسٹرا پیریڈز میں طلباء کو آگاہی فراہم کرنے کے لئے کہ سکتے ہیں۔

01/02/2026
01/02/2026

یہ حقیقت جذبات یا نعروں سے نہیں بلکہ اصول، دین اور زمینی سچائی سے سمجھی جانی چاہیے۔ سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ اسلام میں کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل کسی صورت جائز نہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے، اس لیے بسوں سے اتار کر مسافروں کو مارنا، مزدوروں، اساتذہ یا عام شہریوں کو نشانہ بنانا نہ جہاد ہے، نہ مزاحمت اور نہ ہی بلوچ روایات کا حصہ، بلکہ یہ کھلی دہشتگردی ہے جس کی اسلام، اخلاق اور انسانیت تینوں میں کوئی گنجائش نہیں۔
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ بلوچستان پر پنجاب حکومت کرتا ہے۔ بلوچستان میں وزیراعلیٰ، گورنر، ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹر سب بلوچ رہے ہیں، فیصلے صوبائی حکومتوں نے کیے ہیں اور بجٹ بھی انہی نمائندوں نے منظور کیے ہیں۔ اگر صوبہ پسماندہ ہے تو اس کی پوری ذمہ داری پنجاب پر ڈالنا حقیقت سے فرار ہے، اصل سوال ان بلوچ سرداروں، نوابوں اور سیاست دانوں سے ہونا چاہیے جو برسوں اقتدار میں رہے مگر عام بلوچ کے لیے کچھ نہ کر سکے۔
این ایف سی ایوارڈ کے معاملے میں بھی حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کو آبادی کے تناسب سے زیادہ حصہ ملتا ہے اور فی کس فنڈنگ پنجاب سے زیادہ رہی ہے، مگر یہ پیسہ عام بلوچ تک کیوں نہیں پہنچا؟ اس کا جواب کرپشن، بدانتظامی اور گھوسٹ اسکولوں، گھوسٹ اسپتالوں اور جعلی ملازمتوں میں چھپا ہے۔ یہ سب اسلام آباد نہیں بلکہ مقامی طاقتور طبقہ چلاتا ہے، جس کا خمیازہ غریب بلوچ بھگتتا ہے۔
اسمگلنگ، بھتہ خوری، اغوا اور غیر قانونی تجارت کو محرومی کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ نہ اسلام میں حلال ہیں، نہ قانون میں اور نہ بلوچ غیرت میں۔ ترقی بندوق، نفرت اور لاشوں سے نہیں آتی بلکہ تعلیم، محنت، قانون اور خود احتسابی سے آتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر قومیں بنتی ہیں۔
جہاں تک مسلح قیادت کا تعلق ہے تو سوال یہ ہے کہ اللہ نذر بلوچ یا بشیر زیب نے بلوچ عوام کو کیا دیا؟ نہ کوئی اسکول، نہ اسپتال، نہ روزگار۔ انہوں نے صرف لاشیں، خوف اور مزید آپریشن دیے۔ مرنے والا ہمیشہ مزدور اور غریب کا بچہ ہوتا ہے، جبکہ فائدہ وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو محفوظ جگہوں پر بیٹھ کر صرف بیانات دیتے ہیں۔
یہ بات بھی تسلیم شدہ ہے کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت اور فنڈنگ کرتا رہا ہے، جس کے شواہد دنیا کے سامنے ہیں، مگر دشمن وہیں کامیاب ہوتا ہے جہاں اندر سے دراڑیں موجود ہوں۔ ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈال دینا آسان ہے، مگر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف اور اصلاح ہی اصل حل ہے۔ بلوچستان کے بچے بھی ترقی کے اتنے ہی حق دار ہیں جتنا ملک کا کوئی اور بچہ، مگر یہ حق نفرت، تشدد اور الزام تراشی سے نہیں بلکہ سچ ماننے، خود کو ٹھیک کرنے اور قانون کے راستے پر چلنے سے ملے گا۔

Photos from Balochistan Teacher Forum's post 11/09/2025
11/09/2025

📢 BAEC — تعلیم کے نام پر دھوکہ یا کرپشن کا نیا راستہ؟

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا زینہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ جب کسی ملک کا تعلیمی نظام مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہوتا ہے تو وہاں کے طلبہ نہ صرف قومی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی کامیابیاں سمیٹتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں تعلیم کو سدھارنے کے بجائے اسے کرپشن اور ذاتی مفاد کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے BAEC جسے بظاہر تعلیم میں بہتری کے نام پر قائم کیا گیا، لیکن حقیقت میں اس کا کردار بالکل مختلف ہے۔

کاغذوں پر BAEC کا مقصد طلبہ اور اساتذہ کو سہولت دینا، امتحانات کا معیار بہتر کرنا اور شفافیت لانا بتایا گیا تھا۔ مگر زمینی حقیقت کچھ اور ہی کہانی سناتی ہے۔ یہ ادارہ نہ بچوں کے مستقبل میں کوئی بہتری لا سکا اور نہ ہی اساتذہ کو کسی طرح کا فائدہ پہنچا سکا۔ بلکہ الٹا فنڈز کی بندر بانٹ، سفارشی بھرتیوں اور غیر ضروری اخراجات کا ایک مرکز بن گیا۔ یہاں ہر فیصلہ تعلیم کی بہتری کے بجائے ذاتی مفاد کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ عوام کے ٹیکسوں سے ملنے والے کثیر روپے کہاں جا رہے ہیں، اس کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔

کسی بھی تعلیمی ادارے یا نظام کی کامیابی اس وقت ثابت ہوتی ہے جب طلبہ کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔ مگر BAEC کے تحت طلبہ کو جدید تعلیم یا سہولیات دینے کے بجائے امتحانی فیسوں میں اضافہ کیا گیا۔ امتحانات میں شفافیت کا وعدہ کیا گیا مگر عملی طور پر زیادہ نقل کلچر پروان چڑھا۔ نتیجے کے طور پر طلبہ محنت سے زیادہ شارٹ کٹ اور نقل پر انحصار کرنے لگے۔ اب وہ دن گئے جب صرف میٹرک میں نقل کا رجحان ہوتا تھا۔ آج BAEC کے نظام نے آٹھویں جماعت ہی کو نقل کی تربیت گاہ بنا دیا ہے۔ ایک بچہ ابھی بنیادی تعلیم میں ہوتا ہے کہ اسے یہ سکھا دیا جاتا ہے کہ کامیابی کے لیے محنت نہیں بلکہ نقل ضروری ہے۔

اساتذہ معاشرے کے معمار ہوتے ہیں۔ اگر انہیں سہولت دی جائے تو وہ نسلوں کو سنوار دیتے ہیں۔ لیکن BAEC کے قیام سے اساتذہ کو ریلیف ملنے کے بجائے مشکلات بڑھ گئیں۔ امتحانی ڈیوٹیوں میں غیر شفافیت عام ہوگئی۔ واجبات کی ادائیگی میں تاخیر روز کا معمول بن گئی۔ فیصلوں میں اساتذہ کی رائے کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ اس ادارے کا مقصد تعلیمی عمل کو بہتر بنانا نہیں بلکہ صرف ایک نیا "بوجھ" ڈالنا ہے۔

پاکستان کے عام شہری دن رات محنت کرتے ہیں، ٹیکس دیتے ہیں تاکہ ان کے بچوں کا مستقبل بہتر ہو۔ مگر جب ان کا پیسہ تعلیم پر لگنے کے بجائے کرپشن کی نذر ہو تو یہ ایک قومی المیہ ہے۔ فنڈز تعلیم پر خرچ ہونے کے بجائے غیر ضروری دوروں، تنخواہوں اور اللّے تللّوں میں ضائع کیے جا رہے ہیں۔ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے جو ادارہ بنایا گیا وہی عوام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیوں عوام کا پیسہ اس طرح ضائع کیا جا رہا ہے؟ کیا یہ قوم صرف تجربوں اور بندر بانٹ کے لیے رہ گئی ہے؟

BAEC کے تحت سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ نقل کو رواج دے دیا گیا۔ جو بچہ پہلے میٹرک میں نقل کرتا تھا، اب آٹھویں جماعت میں ہی اس کی پوری تربیت مکمل ہو جاتی ہے۔ والدین فیسیں بھرتے ہیں، بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں مگر بدلے میں صرف "نقل" ملتی ہے۔ اساتذہ بے بس ہیں کیونکہ نظام ہی کرپٹ ہے۔ بچے محنت کرنے کے بجائے آسان راستہ ڈھونڈنے لگے ہیں۔ یہ سوچنا انتہائی تکلیف دہ ہے کہ جب آٹھویں جماعت سے ہی ایک نسل کو نقل سکھائی جائے گی تو کل کو یہ ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا افسر بن کر قوم کو کیا دے گی؟ یہ المیہ صرف تعلیم تک محدود نہیں بلکہ آنے والے سالوں میں ہماری معیشت، ادارے اور معاشرت سب اس کا خمیازہ بھگتیں گے۔

BAEC جیسے اداروں کا قیام یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا یہ سب ادارے عوام کی خدمت کے لیے ہیں یا چند افراد کے مفاد کے لیے؟ کیا عوام کا پیسہ تعلیم پر لگنے کے بجائے ہمیشہ کرپشن کی نذر ہوتا رہے گا؟ اور کیا ہماری آنے والی نسلیں تعلیم یافتہ ہوں گی یا صرف نقل یافتہ؟ یہ خاموشی اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔ عوام کو جواب چاہیے، وعدے نہیں۔

آخر میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ BAEC جیسا ادارہ صرف ایک اور بوجھ ہے جو نہ طلبہ کو فائدہ دے رہا ہے، نہ اساتذہ کو۔ اصل مقصد صرف فنڈز کی بندر بانٹ ہے۔ اگر اسی طرح عوام کے ٹیکسوں کے پیسے کو ضائع کیا جاتا رہا تو تعلیم کے بجائے کرپشن ہی ہماری اگلی نسلوں کا نصاب بن جائے گا۔ قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو بچانا چاہتے ہیں یا کرپشن کے ہاتھوں گروی رکھنا چاہتے ہیں۔

✍️ عوام کو جواب چاہیے، خاموشی نہیں۔

18/08/2025

سریاب روڈ کے قریب نیم آباد گلیوں میں ایک نامعلوم شخص کپڑوں کے اندر فولادی بیلٹ چھپائے ظلالت کے ساتھ بھاگتا دکھائی دیا۔ ایک سادہ سی موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھے دو نوجوان اہلکاروں نے اسے پہلے سایہ سمجھا، پھر خطرہ۔ چند لمحوں کے تعاقب کے بعد وہ شخص ایک پرانی حویلی کی ڈیوڑھی میں دبکا تو دروازہ چرچرا کر بند ہو گیا۔ اہلکاروں نے اندر گھُس کر اسے پکڑا، اور جس بیلٹ کو اس نے اپنے جسم کے گرد باندھ رکھا تھا، وہی بیلٹ اُس رات شہر کی قسمت بدلنے والی تھی۔

گرفتار شخص نے خاموشی اوڑھے رکھی، مگر اس کے فون میں چھپی ہوئی لائنیں خالی مسیجز، نامکمل جی پی ایس پنز، اور ایک فہرست جس میں خون کے گروپس لکھے تھے سب بولتی تھیں۔ ان نشانوں نے انہیں افنان ٹاؤن کی طرف رہنمائی دی جہاں بارہ اگست کی رات، تنگ گلیوں اور پیپل کے پیڑوں کے سائے میں، “آپریشن” کا پہلا دروازہ کھلا۔

وہاں ایک گھر تھا اندر روشن، باہر ساکت۔ دروازہ کھلا تو سامنے ایک کتابوں سے بھرا ہوا کمرہ تھا، دیوار پر “ترقیاتی معاشیات” کے چارٹ لگے ہوئے تھے، اور میز پر ایک چھوٹا سا الیکٹرانک بورڈ جس پر کسی نے باریک مارکر سے لکھ رکھا تھا: “14/08 T 120”. اسی کمرے کے مالک کو لوگ یونیورسٹی میں استاد کہتے تھے ڈاکٹر عثمان قاضی۔ دن میں پڑھانے والا، اور رات میں ایک خفیہ نیٹ ورک کا ناڈ، جس کی رگیں شہر کے جنونیوں تک جاتی تھیں ڈاکٹر عثمان کا لیپ ٹاپ کھلا تو اس کے اندر نومبر 2024 کے ریلوے اسٹیشن حملے کی میپنگ راہداریوں کا گرڈ، کیمروں کے اندھے زاویوں کی علامتیں، اور ایک نام: “RB Phase 2”. اسی فولڈر میں چند میڈیکل رسیدیں بھی تھیں، دو مہینے پُرانی ایک نامعلوم زخمی کے انفیکشن کنٹرول اور خفیہ ٹیکے۔ یہ سب خاموش مگر چیختے ہوئے ثبوت تھے کہ ایک استاد کے کمرے میں تعلیم کے ساتھ تباہی کے مسودے بھی ترتیب پاتے رہے۔

بارہ اگست کی رات گزرتی گئی۔ شہر کے دوسری طرف مستونگ میں ایک خشک ندی کے کنارے بنی جھونپڑی سے لوہے کے بکسے نکلے بارہ بندوقیں، سات تیار بیلٹس، اور ایک ڈائری جس کے ہر صفحے کے سر پر حرف “م” لکھا تھا ایک بریگیڈ کی اندرونی علامت۔ خضدار کے ایک ورکشاپ میں تین پک اپ گاڑیاں ملیں جن کے ٹینکوں میں پانی نہیں بلکہ دھماکے کی کیمسٹری تھی؛ گوادر کی ایک خالی گودام میں ٹھنڈے ڈبوں کے پیچھے دو ایسے جیکٹس چھپے جن کے دھاگے سمندر کی نمی سے سخت ہو چکے تھے۔ اور تربت کے مضافات میں ایک کچی آبادی سے جہاں ہر دروازہ ایک سا لگتا ہے چھے نوجوان اٹھائے گئے جن کے بازوؤں پر تازہ سوئیوں کے نشان تھے۔ نقشہ اب صاف ہوتا جا رہا تھا۔ ڈاکٹر عثمان، جسے لوگ “استاد” کہتے تھے، دراصل نوڈ نمبر سترہ تھا ایک ایسا مرکزی جوڑ جہاں سے فوراً پہلے اور فوراً بعد کے لوگ جُڑتے تھے۔ اُس کے فون میں محفوظ ایک چیٹ چینل پر آخری پیغام ٹھہرا ہوا تھا: “T 24: سب یونٹ چُپ۔ ہجوم کے اندر چلنا۔ منزل پر ہی آواز دینا۔” اس ایک لائن نے پورے منصوبے کو کھول دیا: بتیس خودکش بمبار، چار وی بی آئی ای ڈیز، اور ہجوم کے عین وسط میں ایک بیک وقت دھماکوں کا خواب جو اب جاگتی آنکھوں کے سامنے چکناچور ہونا تھا۔ ملی جلی ٹیموں کو شہر در شہر بانٹا گیا۔ کچھ کوئٹہ کے اندر وَرسا گھاٹ سے ارجمند روڈ تک، کچھ نوشکی اور دالبندین کی طرف، اور کچھ حب کے پلوں کے نیچے چھپے راستوں پر۔ ریڈیو فریکوئنسی پر ایک ہی جُملہ بار بار دہرایا جاتا: “شور کم، رفتار زیادہ۔” چاند نے اپنے ٹھنڈے ہاتھ شہر پر رکھے رکھے جب گھڑیاں “T 08” پر آئیں تو پہلی گرفتاری ہوئی: ایک نوجوان، جس نے اپنی جیکٹ کے نیچے قومی پرچم کی قمیض پہن رکھی تھی تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ اُس نے کہا کچھ نہیں، مگر اس کی آنکھوں کے کنارے لرزتے رہے، جیسے کسی نے اس سے زندگی چھین کر موت پہنا دی ہو۔
چودہ اگست کی صبح کے قریب، آخری چھاپہ اُس جھونپڑی میں ہوا جہاں دیوار پر بچوں کی گرفتاری کی تصویریں ٹنگی تھیں، اور فرش پر ٹین کے دو خالی ڈبے پڑے تھے۔ اندر سے جو شخص پکڑا گیا، اس کے ہاتھوں میں کتابیں تھیں: “تدریس کے اصول” اور “ترقی کا پیمانہ” دونوں کتابوں کے درمیان ایک پتلی سی ڈائری دبی ہوئی، جس میں محض خونی گروپس کی فہرستیں، راستوں کے مخففات، اور تین حرفوں والے خفیہ نام لکھے تھے۔ ڈاکٹر عثمان قاضی کو جب لے جایا گیا تو اس کے ہونٹوں پر کوئی وجہ، کوئی نظریہ نہیں تھا صرف خاموشی، جو انسان کو اپنے اندر سے توڑ دیتی ہے۔

14/08/2025

جشنِ آزادی محض جھنڈے لگانے یا باجے بجانے کا دن نہیں،
یہ وہ دن ہے جب ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا خواب حقیقت میں بدلا۔

بدقسمتی سے، 78 برس گزرنے کے باوجود ہم وہ فلاحی ریاست نہ بنا سکے جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اب وقت ہے کہ ہم سب اپنی اپنی ذمہ داری نبھائیں—
⚖ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں
📚 تعلیم، 💼 روزگار، 🏥 صحت، اور 🕊 امن و امان کی سہولیات ہر شہری تک پہنچائیں۔

آئیں عہد کریں کہ ہم پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیانت دار اور مخلص قیادت عطا فرمائے،
چوروں، لٹیروں اور نااہل لوگوں سے نجات دے۔

آمین۔
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

"خدا کرے میری ارضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو" 🌹🇵🇰

Want your school to be the top-listed School/college in Quetta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Archar Road
Quetta
87300