Quetta Education

Quetta Education It's all about Education, We Love to Educate People across the Balochistan. Join Us for Education. Thank you for showing interest in Quetta Education.

Welcome to Quetta Education, the official page dedicated to promoting education in Quetta and the Balochistan region. Our aim is to foster a positive image of Balochistan by sharing views, and educational content, and highlighting the importance of education, especially for girls in Balochistan. Join us as we showcase the shining stars in the field of education and pay tribute to their remarkable achievements. We believe in recognizing and celebrating those who have contributed to the progress of Balochistan. If you believe you have made a positive impact in the field of education in Balochistan, we encourage you to reach out to us. We would love to hear your story and share it with our community. Additionally, we welcome suggestions for educational gurus, individuals who have made significant contributions to education in Balochistan. Your recommendations will help us recognize and promote their valuable work. Together, let's promote education, empower our youth, and shape a brighter future for Balochistan. Stay tuned for inspiring stories, informative content, and the latest updates in the realm of education.

پاکستان پوسٹ نے ڈاک مہنگی کر دی، یکم اکتوبر سے نئے نرخ نافذارجنٹ میل سروس (یو ایم ایس) کے نرخوں میں بھی یکم اکتوبر سے نظ...
26/09/2026

پاکستان پوسٹ نے ڈاک مہنگی کر دی، یکم اکتوبر سے نئے نرخ نافذ
ارجنٹ میل سروس (یو ایم ایس) کے نرخوں میں بھی یکم اکتوبر سے نظرثانی کی گئی ہے

پاکستان پوسٹ نے اندرونِ ملک ڈاک کی مختلف سروسز کے نرخوں میں اضافہ کرتے ہوئے نئے ڈاک ٹیرف کی منظوری دے دی ہے۔ نئے نرخ یکم اکتوبر سے نافذ ہوں گے۔پاکستان پوسٹل سروسز مینجمنٹ بورڈ کی منظور کردہ نئی شرحوں کے مطابق 20 گرام تک عام خط اب 40 روپے، 50 گرام تک 80 روپے، 100 گرام تک 100 روپے، 250 گرام تک 140 روپے، 500 گرام تک 170 روپے اور ایک کلوگرام تک 250 روپے میں ارسال کیا جا سکے گا۔اسی طرح ڈیڑھ کلوگرام تک عام خط کی فیس 320 روپے اور 2 کلوگرام تک 400 روپے مقرر کی گئی ہے۔

رجسٹرڈ خط کی رجسٹریشن فیس 40 روپے ہوگی، جبکہ 20 گرام تک رجسٹرڈ خط 80 روپے، 50 گرام تک 120 روپے، 100 گرام تک 140 روپے، 250 گرام تک 180 روپے، 500 گرام تک 210 روپے، ایک کلوگرام تک 290 روپے، ڈیڑھ کلوگرام تک 360 روپے اور 2 کلوگرام تک 440 روپے میں بھیجا جا سکے گا۔ویلیو پی ایبل لیٹر پر ڈاک اور رجسٹریشن فیس کے علاوہ 20 روپے اضافی وی پی فیس عائد کی گئی ہے۔

رجسٹرڈ پارسل کی رجسٹریشن فیس بڑھا کر 80 روپے کر دی گئی ہے۔ ایک کلوگرام تک رجسٹرڈ پارسل 260 روپے، 3 کلوگرام تک 400 روپے، 5 کلوگرام تک 540 روپے، 10 کلوگرام تک 760 روپے، 15 کلوگرام تک 980 روپے، 20 کلوگرام تک 1210 روپے، 25 کلوگرام تک 1440 روپے اور 30 کلوگرام تک 1660 روپے میں بھیجا جا سکے گا۔ 30 کلوگرام سے زائد پارسل پر ہر اضافی کلوگرام کے لیے 30 روپے چارج ہوگا۔

ویلیو پی ایبل پارسل پر بھی 20 روپے اضافی وی پی فیس مقرر کی گئی ہے۔ وی پی پارسل کے نئے نرخوں کے مطابق ایک کلوگرام تک 280 روپے، 3 کلوگرام تک 420 روپے، 5 کلوگرام تک 560 روپے، 10 کلوگرام تک 780 روپے، 15 کلوگرام تک 1000 روپے، 20 کلوگرام تک 1230 روپے، 25 کلوگرام تک 1460 روپے اور 30 کلوگرام تک 1680 روپے فیس ہوگی۔

پرنٹڈ پیپرز کے نرخ بھی تبدیل کیے گئے ہیں۔ 50 گرام تک پرنٹڈ پیپرز 30 روپے، 250 گرام تک 50 روپے، ایک کلوگرام تک 70 روپے اور 2 کلوگرام تک 110 روپے میں بھیجے جا سکیں گے۔درسی کتب کی ترسیل کے نئے نرخوں کے مطابق 250 گرام تک 50 روپے، ایک کلوگرام تک 100 روپے، 2 کلوگرام تک 140 روپے، 3 کلوگرام تک 190 روپے، 4 کلوگرام تک 230 روپے، 5 کلوگرام تک 290 روپے، 6 کلوگرام تک 320 روپے اور 7 کلوگرام تک 360 روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔چھوٹے پیکٹوں کے نرخ بھی تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ 100 گرام تک چھوٹے پیکٹ کی فیس 20 روپے، 250 گرام تک 40 روپے، ایک کلوگرام تک 70 روپے اور 2 کلوگرام تک 80 روپے ہوگی۔ نابینا افراد کے خصوصی لٹریچر کی 7 کلوگرام تک ترسیل بدستور مفت رہے گی۔ارجنٹ میل سروس (یو ایم ایس) کے نرخوں میں بھی یکم اکتوبر سے نظرثانی کی گئی ہے۔ مقامی یو ایم ایس کے لیے 250 گرام تک 100 روپے اور 500 گرام تک 130 روپے فیس ہوگی، جبکہ ہر اضافی 500 گرام پر 50 روپے چارج کیا جائے گا۔

سٹی ٹو سٹی یو ایم ایس کے نرخ 250 گرام تک 170 روپے اور 500 گرام تک 250 روپے مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ ہر اضافی 500 گرام کے لیے 100 روپے فیس ہوگی۔مقامی یو ایم ایس کیش آن ڈیلیوری (سی او ڈی) سروس کے لیے 250 گرام تک 75 روپے، 500 گرام تک 100 روپے اور ہر اضافی 500 گرام پر 25 روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔
سٹی ٹو سٹی یو ایم ایس سی او ڈی کے نئے نرخوں کے مطابق 250 گرام تک 110 روپے، 500 گرام تک 150 روپے جبکہ ہر اضافی 500 گرام کے لیے 50 روپے فیس وصول کی جائے گی۔
پاکستان پوسٹ کے نئے ڈاک ٹیرف کے تحت مذکورہ تمام نظرثانی شدہ نرخ یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہوں گے۔

25/09/2026

Great news for prospective students! The last date to apply for Fall 2026 Admissions at the Virtual University of Pakistan has been extended to September 30, 2026 (for non-merit-based programs).

Apply Today: https://www.vu.edu.pk/Apply/Login.aspx

Helpline: 1288

کیڈٹ کالج خاران۔آخری تاریخ 30 ستمبر 2026
25/09/2026

کیڈٹ کالج خاران۔
آخری تاریخ 30 ستمبر 2026

25/09/2026

Department of Computer Science, IT & AI University of Balochistan, Quetta
Passing marks 50
Interview: 23, 24, 25 Sep

اہم خبر: بلوچستان بورڈ (BBISE) کی جانب سے سالانہ امتحانات 2026ء کے سلیبس میں کمی کا اعلانبلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ...
25/09/2026

اہم خبر: بلوچستان بورڈ (BBISE) کی جانب سے سالانہ امتحانات 2026ء کے سلیبس میں کمی کا اعلان
بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (کوئٹہ) نے تعلیمی دن کم ہونے کے باعث میٹرک (نہم اور دہم) کے سالانہ امتحانات 2026ء کے سلیبس میں ایک مرتبہ کے لیے رعایت دیتے ہوئے بعض مضامین کے چیپٹرز کم کر دیے ہیں۔
سلیبس میں کی جانے والی تبدیلیاں:
کلاس نہم (9th Grade):
* ریاضی (Mathematics): چیپٹر 3 اور 11 شامل نہیں ہیں۔
* فزکس (Physics): چیپٹر 13 اور 14 شامل نہیں ہیں۔
* کیمسٹری (Chemistry): چیپٹر 15 اور 16 شامل نہیں ہیں۔
* بائیولوجی (Biology): چیپٹر 6 اور 8 شامل نہیں ہیں۔
* اردو، انگلش اور اسلامیات: سلیبس میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔
کلاس دہم (10th Grade):
* ریاضی (Mathematics): چیپٹر 4 اور 12 شامل نہیں ہیں۔
* فزکس (Physics): چیپٹر 16 اور 17 شامل نہیں ہیں۔
* کیمسٹری (Chemistry): چیپٹر 15 اور 16 شامل نہیں ہیں۔
* بائیولوجی (Biology): چیپٹر 17 اور 18 شامل نہیں ہیں۔
* اردو، انگلش، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان: سلیبس میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔
(نوٹ: صرف اوپر بیان کیے گئے چیپٹرز ہی امتحانات سے مستثنیٰ ہیں، باقی تمام سلیبس کا امتحان لیا جائے گا)

12/09/2026

خالص دودھ یا کیمیکل کا زہر؟ کبھی سوچا ہے اتنی فراوانی کہاں سے ہے؟ 🥛⚠️
کوئٹہ کے ہر محلے، ہر گلی اور ہر کونے پر دودھ سے بھرے ٹب سجائے بیٹھے دین دار بیوپاری ہمیں "خالص دیسی دودھ" کا یقین دلاتے ہیں۔ لیکن ایک لمحے کے لیے سوچیں؛ جس وادی میں دودھ دینے والے جانور نام کو بھی نظر نہ آئیں، وہاں ہر دکان پر دودھ کی یہ ندیاں آخر کہاں سے بہہ رہی ہیں؟
یہی وہ بھیانک راز ہے جس کی وجہ سے انتظامیہ اور حکومت کو کوئٹہ شہر میں خشک دودھ (پاؤڈر) کی درآمد اور استعمال پر سخت پابندی لگانی پڑی۔ جانوروں کے نام پر شہریوں کو ڈبے کا زہر اور کیمیکل سے تیار کردہ سفید محلول پلایا جا رہا ہے، جو ہماری اور ہمارے بچوں کی صحت کے ساتھ کھلا کھلواڑ ہے۔
ک کب تک ہم اس ظالمانہ کاروبار کا حصہ بنے رہیں گے؟ وقت آ گیا ہے کہ منافع خوروں کے اس مکروہ دھندے کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس زہر سے بچایا جائے۔

بلوچستان کے سرکاری سکولوں میں تعلیمی زوال، فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹرز (PTI) اور کلریکل سٹاف کی مجرمانہ غفلت بلوچستان کا تعلی...
09/09/2026

بلوچستان کے سرکاری سکولوں میں تعلیمی زوال، فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹرز (PTI) اور کلریکل سٹاف کی مجرمانہ غفلت
بلوچستان کا تعلیمی بحران: ایک تلخ حقیقت
بلوچستان کا محکمہ سکول ایجوکیشن جو کبھی صوبے کا سب سے زیادہ باوقار، متحرک اور معتبر ادارہ سمجھا جاتا تھا، آج اپنی بنیادی ساکھ کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اگرچہ صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز، پالیسیاں اور دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ اس زوال کی سب سے بڑی وجہ تعلیمی اداروں کا وہ تضاد ہے جہاں ایک طرف دن رات محنت کرنے والا پڑھانے والا استاد ہے، اور دوسری طرف وہ نان ٹیچنگ اور معاون کیڈرز ہیں جو طویل سروس کے باوجود اپنے فرائض سے مکمل طور پر غافل ہیں۔
پی ٹی آئی (فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹر) کا کردار: پندرہ منٹ کی نمائش اور سارا دن غائب
سکولوں کے انتظامی ڈھانچے میں فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹرز (PTI) کا بنیادی مقصد طلباء کی جسمانی صحت، کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد اور سکول کا سخت ڈسپلن چیک کرنا ہے۔ لیکن بلوچستان کے اکثر سکولوں میں ان کی کارکردگی کا حال یہ ہے:
* محدود ترین عمل: ایک پی ٹی آئی کا پورا دن صرف پندرہ منٹ کی صبح کی اسمبلی کروانے تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے ہوا کا جھونکا۔
* ڈسپلن کے نام پر مذاق: سکول میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن کلاسز میں گھوم کر پڑھائی کا ماحول خراب کرنا یا خود سٹاف روم میں چائے کی پیالی پر بیٹھ کر گپ شپ لگانا ان کا معمول بن چکا ہے۔
* سرکاری خزانے پر بوجھ: بغیر کسی تدریسی بوجھ کے یہ طبقہ بھاری تنخواہیں اور الاؤنسز وصول کرتا ہے، جبکہ اساتذہ کو اکیلے ہی پڑھائی اور ڈسپلن دونوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔
کلریکل سٹاف: تیس سال کی سروس اور بنیادی چیزوں سے ناواقفیت
سکولوں کے دفاتر میں بیٹھا کلریکل عملہ جو کہ ریکارڈ کی درستگی، فنڈز کے حساب کتاب اور دفتری خط و کتابت کا ذمہ دار ہے، پاکستان کے اس شعبے کا سب سے بڑا ناسور بن چکا ہے:
* ہڈ حرامی اور کام سے چوری: یہ وہ طبقہ ہے جو کام سے جی چرانے میں تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ بغیر محنت کے تنخواہ وصول کرنے میں ان کا اندازِ کار بعض اوقات اعلیٰ انتظامی سطح پر بیٹھے ذمہ داران کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔
* ڈیجیٹل دور میں پسماندگی: تیس تیس سال کی طویل سروس گزارنے کے باوجود یہ عملہ کمپیوٹر، ایم ایس آفس، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پورٹلز پر کام کرنے سے یکسر قاصر ہے۔ ایک ای میل یا نوٹیفیکیشن نکالنے کے لیے بھی یہ کسی استاد یا باہر کے بندے کی طرف دیکھتے ہیں۔
* فائلوں کا اِلتواء اور مسائل: سکول کے فنڈز، سکالرشپس اور پنشن کے کیسز کو لٹکانا، اساتذہ کو پریشان کرنا اور معمولی نوعیت کے دفتری کاموں کے لیے غیر ضروری تاخیر کرنا ان کا شیوہ ہے۔ آڈٹ اعتراضات میں زیادہ تر حصہ اسی کلریکل سٹاف کی نااہلی کا ہوتا ہے، لیکن اس کا خمیازہ بالآخر تعلیمی ادارے کے سربراہ اور بے چارے پڑھانے والے استاد کو بھگتنا پڑتا ہے۔
خیبرپختونخوا کا ماڈل بمقابلہ بلوچستان کی ابتر حالت
پچھلے دنوں خیبرپختونخوا محکمہ تعلیم کا ایک نوٹیفیکیشن اور لیٹر نظر سے گزرا جس میں باقاعدہ طور پر معلم اور کلرک کے فرائض، اختیارات اور دائرہ کار کو واضح کیا تھا تاکہ کوئی بھی کلرک یا نان ٹیچنگ عملہ اساتذہ کے تدریسی کاموں میں مداخلت نہ کرے اور اپنی ڈیوٹی پر فوکس رکھے۔ لیکن اس کے برعکس بلوچستان کے سکولوں میں صورتحال کہیں زیادہ ابتر ہے۔ یہاں کلرک اور پی ٹی آئی اساتذہ پر احسان جتاتے ہیں جبکہ اصل پڑھانے والا استاد کلاس روم میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ سکول کی صفائی، فنڈز کے جھمیلوں اور دفتری رپورٹس کے عذاب سے بھی دوچار رہتا ہے۔
تعلیمی رپورٹس اور انکشافات
مختلف تعلیمی رپورٹس، مانیٹرنگ سیلز کے اعداد و شمار اور زمینی حقائق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ:
* غیر حاضری کے ریکارڈ: محکمہ جاتی مانیٹرنگ رپورٹس میں اکثر یہ بات سامنے آتی ہے کہ سکولوں میں نان ٹیچنگ سٹاف اور پی ٹی آئی کی غیر حاضری کی شرح اساتذہ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔
* فنڈز کی خرد برد: سکولوں کے ترقیاتی اور مرمتی فنڈز کے استعمال میں جو بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں، ان کے پیچھے کلریکل سٹاف اور متعلقہ ڈیلنگ ہینڈز کی ملی بھگت ہوتی ہے۔
* تدریسی نقصان: جہاں ایک طرف استاد کلاس میں موجود ہو کر بھی غیر تدریسی اور دفتری کاموں میں الجھا رہتا ہے، وہیں پی ٹی آئی اور کلریکل سٹاف بغیر کسی تعلیمی بوجھ کے مزے اڑا رہا ہے۔
اصل ہیرو: پڑھانے والا استاد
ان تمام تر نامساعد حالات، وسائل کی کمی اور اس نکمے اور غافل نظام کے باوجود، اصل خراجِ تحسین کے مستحق وہ فرض شناس اساتذہ ہیں جو اپنی ذاتی جبلت، محنت اور فرض شناسی کی بنیاد پر کلاس رومز میں چراغ جلائے ہوئے ہیں۔ یہ وہ اساتذہ ہیں جو بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے نہ صرف خود مشکلات جھیلتے ہیں بلکہ ان کا سارا وقت اس نظام کی خرابیوں کو دور کرنے میں ضائع ہوتا ہے۔
اگر محکمہ سکول ایجوکیشن بلوچستان کو واقعی اپنی ساکھ بچانی ہے اور معیارِ تعلیم کو بہتر کرنا ہے، تو سب سے پہلے اس نان ٹیچنگ، پی ٹی آئی اور کلریکل مافیا کا کڑے احتساب کے ساتھ کلاسروم اور انتظامی امور سے کٹ آف کرنا ہوگا، بصورت دیگر یہ ادارے مکمل طور پر مفلوج ہو جائیں گے۔

کوئٹہ میں 150 کے قریب سیکنڈری سکول ٹیچرز (SST's) سرپلس ہونے کا انکشاف. باہر والے اپنے اپنے متعلقہ ڈسٹرکٹ جانے کی تیاری ک...
30/08/2026

کوئٹہ میں 150 کے قریب سیکنڈری سکول ٹیچرز (SST's) سرپلس ہونے کا انکشاف.

باہر والے اپنے اپنے متعلقہ ڈسٹرکٹ جانے کی تیاری کرلیں۔

کوئٹہ آنا ہوگا تو اپنے متعلقہ ڈسٹرکٹ سے پوسٹ لانی ہوگی۔

بلوچستان میں تعلیمی انقلاب اور تاریخی اصلاحات: سیکریٹری اسکول ایجوکیشن لعل جان جعفر صاحب کی مدبرانہ قیادتمحکمۂ تعلیم اس...
21/08/2026

بلوچستان میں تعلیمی انقلاب اور تاریخی اصلاحات:
سیکریٹری اسکول ایجوکیشن لعل جان جعفر صاحب کی مدبرانہ قیادت
محکمۂ تعلیم اسکولز بلوچستان اس وقت ایک ایسے تاریخی اور انقلابی موڑ پر کھڑا ہے جہاں دہائیوں سے جمے ہوئے بدعنوانی، غیر منصفانہ سیاسی تعیناتیوں اور تعلیمی استحصال کے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا رہا ہے۔ اس عظیم الشان اور جرأت مندانہ تعلیمی انقلاب کا سہرا سیکریٹری اسکول ایجوکیشن لعل جان جعفر صاحب کے سر جاتا ہے، جن کی انتھک محنت، فولادی عزم اور دور اندیش حکمتِ عملی نے صوبے میں تعلیم کی بقا اور بحالی کی ایک نئی روح پھونک دی ہے۔
لعل جان جعفر صاحب نے نظامِ تعلیم کی بہتری کے لیے جس جرأت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ بلوچستان کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے کسی سیاسی دباؤ، گروہی مفادات یا وقتی ہنگامہ آرائی کی پروا کیے بغیر صرف اور صرف میرٹ، شفافیت اور مظلوم بچوں کے تعلیمی مستقبل کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔ تعلیمی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اساتذہ کی ریشنلائزیشن (Rationalization) کے حوالے سے ان کا یہ فیصلہ ایک ماسٹر اسٹروک ہے جس نے محکمہ تعلیم کو مفاد پرست عناصر کے چنگل سے آزاد کرانے کی بنیاد رکھ دی ہے۔
نااہل اور آسودہ پسند اساتذہ کے لیے لمحۂ فکر
برسوں سے کوئٹہ کے پسندیدہ اور آسائش دہ شہری اسکولوں میں جم کر بیٹھنے والے، صرف اپنی ذات اور سہولت کو مقدم رکھنے والے اساتذہ کے لیے یہ اصلاحات ایک شفاف آئنہ ہیں۔ یہ کیسا تعلیمی انصاف ہے کہ ایک شہری اسکول میں محض 113 بچوں کی موج مستی کے لیے 36 اساتذہ کی فوج ظفر موج تعینات ہو، اور دوسری طرف کوئٹہ ہی کی مضافاتی حدود میں 700 غریب اور بے بس بچوں کا مستقبل سنبھالنے کے لیے صرف 6 اساتذہ سسک رہے ہوں؟
جو اساتذہ اپنی بدلی یا ڈیوٹی کی جگہ کی تبدیلی پر واویلا مچا رہے ہیں، انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا:
* کیا سرکاری ملازمت محض تنخواہ وصول کرنے اور ذاتی آرام کا نام ہے؟
* کیا استاد کا فرض صرف اپنے تبادلے رکوانا ہے یا ان ہزاروں بچوں کو روشنی دینا جو علم کے پیاسے ہیں؟
سرکاری اسکول کسی ایک استاد کی ذاتی جاگیر یا سہولت مرکز نہیں ہیں، بلکہ یہ ان غریب اور متوسط گھرانوں کے بچوں کی امیدوں کا مرکز ہیں جن کے پاس نجی اسکولوں کی بھاری فیسیں دینے کی طاقت نہیں۔ جو اساتذہ اس اصلاحاتی عمل کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ دراصل بلوچستان کی آنے والی نسلوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔
اصلاحات کا سفر اور آئندہ کا لائحہ عمل
لعل جان جعفر صاحب کے اس مجاہدانہ اقدام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر قیادت کے پاس نیت اور وژن ہو تو نظام کو بدلا جا سکتا ہے۔ ہم محترمہ وزیرِ تعلیم اور حکومتِ بلوچستان سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ سیکریٹری تعلیم لعل جان جعفر کے ان تاریخی اقدامات کی مکمل پشت پناہی کی جائے اور کسی بھی سیاسی سفارش یا دباؤ کو اس تعلیمی مشن کے راستے میں نہ آنے دیا جائے۔
یہ وقت وقتی شور و غوغا سے گھبرانے کا نہیں بلکہ مضبوط اعصاب کے ساتھ اس تعلیمی انقلاب کو اس کی منطقی منزل تک پہنچانے کا ہے۔ تعلیمی نظام مضبوط اور متوازن ہوگا تو بلوچستان کا ہر بچہ پڑھے گا اور آگے بڑھے گا۔
خاص رپورٹ و تجزیہ: Team BHE Updates
(ہم بلوچستان کے تعلیمی نظام میں شفافیت، میرٹ اور انقلابی اصلاحات کے ہر اقدام کو سلام پیش کرتے ہیں!)

بلوچستان کا تعلیمی ڈھانچہ: ایک خاموش قتلِ عام یا شعوری بیداری کی ضرورت؟​تحریر: ایک فکر مند شہری​بلوچستان کے تعلیمی نظام ...
09/07/2026

بلوچستان کا تعلیمی ڈھانچہ: ایک خاموش قتلِ عام یا شعوری بیداری کی ضرورت؟
​تحریر: ایک فکر مند شہری
​بلوچستان کے تعلیمی نظام کے حوالے سے جب بھی بات ہوتی ہے، تو محض عمارتوں اور تنخواہوں کا ذکر ہوتا ہے۔ مگر اصل المیہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو "ڈگری یافتہ" تو ہے مگر "تعلیم یافتہ" نہیں ہے۔
​🏫 پرائمری سطح: جہاں بنیادیں ہی ریت پر رکھی جا رہی ہیں
​بلوچستان میں پرائمری تعلیم کسی 'مذاق' سے کم نہیں۔ ایک پرائمری استاد، جو خود تعلیمی معیار کے سخت امتحان سے نہیں گزرا، وہ بچوں کو کیسے تیار کرے گا؟
​بنیادی مہارتوں کا فقدان: مڈل اور ہائی اسکول کے طلباء کو یہ نہیں معلوم کہ اردو یا انگریزی کا جملہ کیسے بنانا ہے یا ریاضی کا سادہ سوال کیسے حل کرنا ہے۔ جب پرائمری سطح پر استاد خود 'سیکھنے' کے عمل سے غائب ہو، تو بچہ تو ذہنی طور پر بانجھ ہونا ہی ہے۔
​سیاسی رشوت خوری: دہائیوں سے اساتذہ کی بھرتیاں میرٹ پر نہیں بلکہ "سیاسی وفاداری" کے صلے میں ہوئیں۔ جب استاد کا انتخاب ہی قابلیت نہیں، بلکہ کسی سیاسی جماعت کا کارکن ہونا ہو، تو وہ کلاس روم میں علم نہیں، بلکہ اپنی کرسی بچانے کی فکر میں رہتا ہے۔
​🕰️ نو بجے کے سکول: دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی؟
​دنیا بھر میں تعلیمی دن کا آغاز صبح 7 یا 8 بجے ہوتا ہے تاکہ بچوں کی ذہنی صلاحیتیں عروج پر ہوں۔ بلوچستان میں 9 بجے اسکول کھلنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو ایک 'سرکاری نوکری' کا درجہ دے دیا ہے جس کا مقصد صرف وقت گزارنا ہے۔ بچہ سکول جاتا ہے، تھوڑی دیر بیٹھتا ہے، اور واپس آ جاتا ہے۔ یہ تعلیم نہیں، یہ وقت کا ضیاع ہے۔
​📊 اعداد و شمار کی تلخ حقیقت
​آؤٹ آف سکول چلڈرن: سرکاری اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، بلوچستان میں 2.5 ملین سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ تعداد کسی بھی ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
​بجٹ کا ضیاع: بلوچستان کا تعلیمی بجٹ اربوں روپے میں ہے، لیکن اس کا ایک بڑا حصہ (تقریباً 75 فیصد) صرف تنخواہوں اور انتظامی اخراجات میں ختم ہو جاتا ہے۔
​گھوسٹ اسکولز: ریسرچ ڈیٹا بتاتا ہے کہ صوبے میں سینکڑوں ایسے اسکول ہیں جو صرف کاغذات میں زندہ ہیں۔ عمارتیں کھنڈر ہیں، مگر وہاں موجود عملے کی تنخواہیں ہر ماہ باقاعدگی سے جاری ہوتی ہیں۔ یعنی عوام کا ٹیکس، کرپشن کی نذر ہو رہا ہے۔
​👨‍👩‍👧‍👦 والدین کی ذمہ داری اور مجرمانہ غفلت
​ہم صرف حکومت کو قصوروار ٹھہرا کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ والدین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے بعد یہ تک نہیں پوچھتی کہ بچے نے کیا سیکھا۔ بچہ جب گھر آتا ہے تو اسے موبائل فون یا گلیوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تعلیم صرف سکول کی عمارت میں نہیں ہوتی، یہ گھر سے شروع ہوتی ہے۔
​🛠️ کیا تبدیلی ممکن ہے؟ (ہمارا مطالبہ)
​سخت احتساب: تمام سرکاری اسکولوں کا سوشل آڈٹ ہونا چاہیے۔ جو استاد نتائج نہیں دے سکتا، اسے فوری طور پر سروس سے فارغ کیا جائے۔
​میرٹ کی بالادستی: اساتذہ کی بھرتی کے لیے نجی تعلیمی اداروں جیسے معیار کو اپنایا جائے، جہاں قابلیت ہی واحد پیمانہ ہو۔
​اوقاتِ کار: اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی لائی جائے اور اسے صبح سویرے تک محدود کیا جائے تاکہ بچوں کا دن پروڈکٹو ہو۔
​فنڈز کی نگرانی: سکول مینیجمنٹ کمیٹیز (SMCs) کو فعال کیا جائے اور فنڈز کے استعمال کو ہر شہری کے لیے آن لائن شفاف بنایا جائے۔
​نتیجہ:
بلوچستان میں تعلیم ایک "کاروبار" بن چکی ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے بچوں کے نصاب، اساتذہ کی تربیت اور سکول کے ماحول پر سوال نہ اٹھایا، تو آنے والی نسلیں ہماری اس خاموشی کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ہمیں عمارتیں نہیں، ہمیں باشعور استاد اور سیکھنے والے بچے چاہئیں۔
​کیا آپ اس تعلیمی اصلاحات کی مہم کا حصہ بننے کو تیار ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔
​

Address

Archar Road
Quetta
87300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quetta Education posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Quetta Education:

Shortcuts

Share